ایک زمانہ تھا جب میں صبح پانچ بجے اٹھنا تصوّر بھی نہیں کر سکتا تھا، لیکن اب میری آنکھ پانچ بجے سے بھی پہلے کھل جاتی ہے۔ اور میں بستر میں پڑا پانچ بجنے کا انتظار کرتا رہتا ہوں۔ میری کھڑکی کے باہر کالا گھپ اندھیرا ہوتا ہے۔ مجھے اپنے بستر میں لیٹے لیٹے محسوس ہوتا رہتا ہے کہ باہر کا یہ اندھیرا کتنا سرد ہوگا۔ میں اس اندھیرے کو تکتا رہتا ہوں، مجھے اس میں طرح طرح کے کالی لکیروں سے کھینچے ہوے نقش و نگار اُبھرتے مٹتے نظر آتے رہتے ہیں۔ جیسے کوئی کالا جال بنتا ہو، اور پھر اس جال کو کالی انگلیوں سے چھیڑتا ہو۔
یوں کھڑکی سے باہر تکتے تکتے میں بستر سے اٹھ جاتا ہوں، اور دفتر جانے کے لئے تیار ہونے کے غیر دلچسپ کام میں ازخود جُت جاتا ہوں۔ میرا دماغ ایک بار پھر سونے چلا جاتا ہے۔
صبح چھے بجے کے لگ بھگ میں اپنی گاڑی کار پارکنگ میں کھڑی کرتا ہوں جو کہ ٹرین اسٹیشن سے بارہ تیرہ منٹ کے فاصلے پر ہے۔ جہاں سے میں نیویارک شہر جانے والی زمین دوز ٹرین پکڑتا ہوں۔ مجھے صبح سات بجے سے پہلے دفتر پہنچنا ہوتا ہے۔ اپنی کار سے اتر کر پیدل چلتا ہوا میں ٹرین اسٹیشن کی طرف آتا ہوں۔ اس وقت میرے دماغ میں طرح طرح کے خیالات ہوتے ہیں، یہ موسم اور حالات کے حساب سے بدلتے رہتے ہیں۔ میری نگاہیں نیویارک کی اسکائی لائین (skyline) پر ہوتی ہیں۔ اس اسکائی لائین میں کچھ عرصہ پہلے تک ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاور خاصے نمایاں تھے، لیکن ابھی چند ہفتے قبل وہ دونوں منہدم ہو چکے ہیں۔ انکی جگہ پیدا ہونے والا خلا اب خاصا نمایاں ہے، لیکن میری نگاہیں اس خلا پہ نہیں ٹہرتیں۔
ٹرین اسٹیشن کے پاس پہنچ کر مجھے وہ لڑکی نظر آتی ہے جو اخبار بیچ رہی ہوتی ہے۔ وہ مجھے دیکھ کر سر کو ہلکے سے جھٹکا دے کر ہیلو کہتی ہے اور اس کے بعد مسکراتی ہے۔ میں اپنے نرم ترین لہجے میں اُسے جواب دیتا ہوں اور اس سے پہلے کے تمام خیالات بھول جاتا ہوں۔
یہ تقریباً روز صبح کا معمول ہے۔ اس لڑکی کا تعلق جنوبی امریکہ کے کسی ملک سے ہے۔ اور وہ اسپانوی زبان بولتی ہے۔ میں نے ایک آدھ بار رک کر اس سے بات کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن وہ بہت کم انگریزی جانتی ہے۔ بس اتنی کہ اخبار بیچ لے۔ مجبور ہو کر مجھے اسٹیشن کی طرف دوڑنا پڑا ہے، کیونکہ ٹرین چھوٹ جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایک دفہ اس نے مجھے روک کر وقت پوچھنے کی کوشش کی، لیکن میں اسُ کو انگریزی میں بہ مشکل وقت بتا سکا، آخر لا چار ہو کر میں نے اپنی کلائی اسکی طرف بڑھا دی۔ اس نے میری کلائی پکڑ کر، اس پر بندھی ہوئی گھڑی سیدھی کی تاکہ وقت دیکھ پائے۔ پھر اس نے اپنی زبان میں کہا۔ ’’گراسیاس․․․‘‘۔
میں نے بھی نہایت میٹھے لہجے میں اسکا شکریہ ادا کرتے ہوئے ’’ تھینک یو ․․․‘‘ کہا۔ اور پھر نیویارک شہر جانے والی ٹرین کے زیرِزمین پلیٹ فارم کی جانب سرعت کے ساتھ بڑھ گیا۔
اب سے کچھ عرصہ پہلے تک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر جانے والی ٹرین لیتا تھا، جو مجھے دس منٹ میں وہاں پہنچا دیا کرتی تھی۔ لیکن اب مجھے 34th اسٹریٹ جانے والی ٹرین پکڑنی پڑتی ہے، جس میں بیس پچیس منٹ لگ جاتے ہیں۔ یہ ٹرین پہلے کی نسبت بہت ذیادہ بھری ہوئی ہوتی ہے، اور یہ مجھ کو اپنے دفتر سے ذیادہ دور بھی اتارتی ہے۔
ٹرین سرنگ میں دوڑتی چلی جاتی ہے، اور میں اس میں کھڑا اپنی بدنصیبی کو کوستا رہتا ہوں، کہ اب میرا سفر ذیادہ لمبا اور دشوار ہو گیا ہے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاوروں کو گرانے والا جو شخص بھی ہے، چاہے وہ اوسامہ بن لادن ہے یا کوئی اور، یقینً وہ بہت خبیث انسان ہے۔ اور اس کو اپنے کئے کی سزا ملنی چاہئے۔ شروع شروع میں جب وہ ٹاور گرے تھے تو مجھے ان میں مرنے والوں پر بہت افسوس تھا۔ ان کی تعداد کم از کم کئی ہزار ہو گی اور وہ بلا کسی قصور کے مارے گئے۔ ایک لمحے ایک اسٹاک بروکر عمارت کے پچھترویں (75th) منزل پر بیٹھا اپنے اسکرین کو دیکھ رہا ہو گا۔ دوسرے ہی لمحے اس نے حیران ہو کر چاروں طرف آگ دیکھی ہو گی۔ اور پھر وہ مر گیا ہو گا۔ اتنی جلدی کہ اسے تکلیف کا احساس بھی نہیں ہو پایا ہو گا۔ اگر موت کے بعد ذندگی واقعی کوئی چیز ہے تو اسے بڑا عجیب لگا ہو گا کی ایکدم سے مر کے دوبارہ کیسے ذندہ ہو گیا؟
شروع میں مجھے ان لوگوں کا اس طرح مر جانے پر بہت افسوس تھا، اور انکے گھر والوں سے بڑی ہمدردی۔ لیکن اب اس ہمدردی کا دائرہ خاصا وسیع ہو گیا ہے۔
تقریباً پونے سات بجے میں زیر ِزمین اسٹیشن سے باہر آتا ہوں اور اپنے دفتر کی طرف چلنا شروع کرتا ہوں۔ اب سردیاں آ چلی ہیں۔ اس لئے اس وقت پوری روشنی نہیں ہوتی۔ سڑکیں خالی ہوتی ہیں۔ اور اکا دُکا لوگ اپنے اورکوٹوں میں دبکے فٹ پاتھ پر نظر آتے ہیں۔ سڑکوں کے بیچ و بیچ مین ہول کورز (manhole covers) سے نکلتی ہوئی زیر ِزمین بوائیلرز (boilers) کی بھانپ ایک عجیب پراسرار سماں پیدا کرتی ہے۔ کہ جیسے زمین اندر سے سلہگ رہی ہو۔
اس منظر میں ایک ویرانی سی ویرانی ہوتی ہے، اسے محسوس کرنے والا شخص اپنے آپ کو بے انتہا تنہا پاتا ہے۔ میرے لئے یہ روز کی بات ہے۔ صبح کے سایوں میں لپٹی ہوی نیویارک کی عمارتیں باہر سے بے حد سرد نظر آتی ہیں۔ لیکن ان کی اس سردی سے میں پوری طرح آشنا ہوں، اس شہر کی پوری فضا کچھ ایسی ہے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے سانحے کے بعد میرا خیال تھا کہ یہاں کی فضا میں کچھ گرمی آ جائے گی۔ مگر میرا یہ خیال غلط نکلا، اب یہاں کی فضا تو پہلے سے بھی ذیادہ سرد ہو گئی ہے۔ پھر جب ذیادہ سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ شاید میرا یہ خیال بھی غلط ہو۔
دفتر پہنچ کر میں اپنے کاموں کے ہجوم میں گم ہو جاتا ہوں، اور اپنے آپ کو بھول جاتا ہوں۔ وہاں کا کچھ حساب کتاب ایسا ہے۔ وہاں تمام رشتے کاموں کی بنیاد پر بگڑتے یا سنورتے ہیں، انسانیت کے تقاضوں کی مداخلت خاصی کم ہے۔ یوں سوچتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ وہاں کام کرنے والے انسان کم اور انسان نما مشینیں ذیادہ ہیں۔ جن کو کسی ماہر انجینیر نے بنایا ہے، اور ان کی تمام حرکات و سکنات پہلے سے پروگرام کی جا چکی ہیں۔
یہاں اتنے عرصے سے کام کرتے ہوئے اب مجھے لگتا ہے کہ جیسے کسی غیر مرئی طاقت نے میری بھی پروگرامنگ کر دی ہے۔ کیونکہ مختلف چیزوں کے بارے میں میں اپنا ردِ عمل بھی مشینی پاتا ہوں۔ کام سے فارغ ہو کر جب دفتر سے نکلتا ہوں تو اکثر اس بات پر غور کرتا رہتا ہوں کہ کیا اب میرے اندر کا مشینی آدمی سونے چلا گیا ہے، یا وہ ابھی تک جاگ رہا ہے؟ اور کیا اب بھی میرے جذبات اور خواہشات کسی کمپیوٹر پروگرام کے اختیار میں ہیں؟
ایسے میں مجھے وہ لڑکی یاد آتی ہے۔ جو روز صبح اسٹیشن پر اخبار بیچتی ہے۔ روزآنہ ایک ہی کام کو دہرانا ایک مشینی عمل ہے۔ تو کیا روز صبح اسکا مجھے دیکھ کر مسکرانا بھی ایک مشینی عمل ہے؟ میں نے اس بات پر خاصا غور کیا ہے، مگر مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہے۔ کیونکہ اس کی آنکھوں کی چمک واقعی بہت پرُکشش اور بے ساختہ ہوتی ہے۔ اور کبھی جب وہ گم سم سی کھڑی ہو تو مجھے دیکھ کر مسکرانا بھول بھی جاتی ہے، جو کہ ایک عین انسانی بات ہے۔
یہ سب دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ اس کے وجہ شاید یہ ہے کہ اسکا پیشہ ادنیٰ درجے کا ہے یا شاید وہ بہت کم کماتی ہے۔ کیونکہ وہ نہیں سمجھ سکتی کہ ایک مشینی انداز کام میں کتنا فائدہ مند ہوتا ہے․․․․ لیکن ایسا ضروری بھی نہیں۔ ایک ادنیٰ پیشے کا کم پیسے کمانے والا شخص جو کہ ایک مشینی انداز سے کام کرتا ہو پوری ذندگی ان ہی حالات میں پڑا رہتا ہے۔ اس لئے کوئی ضروری نہیں کے ایسا ہو۔
دفتر سے فارغ ہو کر میں اپنی مخصوص بار میں جا کر دم لیتا ہوں۔ اور بئیر آڈر کرتا ہوں۔ یہاں اینجلینا (Angelina) کام کرتی ہے۔ اس سے میری اچھی خاصی واقفیت ہے۔ اصل میں شروع میں اسکی دوستی میری گرل فرینڈ مونیکا (Monica) سے تھی۔ لیکن آجکل موینکا میرے ساتھ نہیں ہوتی۔ مجھے بار میں اکیلا دیکھ کر اینجلینا ایک ہی سوال کرتی ہے کہ میری گرل فرینڈ کہاں ہے۔ اور میں اسے یہ ہی جواب دیتا ہوں کہ لاٹویا (Latvia) سے اسکی ماں آئی ہوئی ہے۔ اور وہ اپنی ماں کے ساتھ مصروف ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اینجلینا یہ سمجھتی ہے کہ میری مونیکا کے ساتھ کوئی انَ بنَ ہو گئی ہے، یا ہمارا تعلق منقطع ہو گیا ہے۔ لیکن ایسا نہیں۔
مونیکا کی جاب پر آجکل دو تین بڑے بڑے پراجیکٹ آئے ہوئے ہیں۔ شام تک دفتر سے فارغ ہوتے ہوتے اسے دیر بہت ہو جاتی ہے اور تھک بھی بہت جاتی ہے۔ اور پھر اسکی ماں بھی آئی ہوئی ہے۔ اس لئے وہ میرے ساتھ آ کر بار میں نہیں بیٹھتی۔ ہماری ملاقات اب کبھی کبھار کسی ویک اینڈ پر ہوتی ہے۔
اب میں بار میں اکیلا بیٹھ کر بئیر پیتا ہوں۔ یہاں پر آنے والی دوسری لڑکیوں کے ساتھ اپنا دل بہلاتا ہوں۔ میری لڑکیوں سے دوستی بہت جلدی ہو جاتی ہے۔ وہ میرے ساتھ گھل مل جاتی ہیں اور مجھے اپنی ذندگی کے بارے میں بتانے لگتی ہیں۔ میں بھی انھیں اپنے بارے میں بتاتا ہوں۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ میری پانچ بہنیں ہیں، وہ سب یورپ کے مختلف ملکوں میں رہتی ہیں۔ میں اپنی بہنوں کا اکلوتا بھائی ہوں اور وہ مجھے بہت چاہتی ہیں۔ پھر میں انھیں بتانے لگ جاتا ہوں کہ میں نے یورپ میں کہاں کہاں کی سیر کی ہے۔ وہ میری باتوں میں محو ہو کر دلکش انداز میں مسکراتی رہتی ہیں۔
اینجلینا یہ سمجتی ہے کہ مونیکا سے میرا تعلق اب ٹوٹ گیا ہے۔ اور میں ہر آنے جانے والی لڑکی پر ٹرائیاں مارتا رہتا ہوں۔ لیکن یہ بات اینجلینا کی خالی کھوپڑی کی ایک فضول ایجاد ہے۔ شاید وہ یہ چاہتی ہے کہ میں ان لڑکیوں کو چھوڑ کر اسکے ساتھ باتیں کروں۔ لیکن وہ تو میرے بارے میں سب کچھ جانتی ہے، اسکے ساتھ میں کیا خاک باتیں کروں گا۔ اور پھر ان لڑکیوں کے ساتھ گپ شپ تو میں ان دنوں میں بھی کرتا تھا جب مونیکا میرے ساتھ ہوتی تھی۔ میں ان کے ساتھ طرح طرح کی دلچسپ باتیں کرتا ہوں۔ اس طرح وقت بہت اچھا گزر جاتا ہے۔ اسکے آگے میری کوئی مراد نہیں ہوتی۔ نہ میں ان لڑکیوں کے ساتھ سونا چاہتا ہوں نہ ہی دیر تک بستر میں انکے برابر لیٹے رہنا چاہتا ہوں۔ مونیکا میری ان عادات سے اچھی طرح واقف ہے۔
اگر مجھے اسپانوی زبان آتی ہوتی تو میں ٹرین اسٹیشن کے باہر اخبار بیچنے والی لڑکی سے پوچھتا کہ اسکا تعلق کس ملک سے ہے۔ لیکن پھر میں اس سے یہ نہیں کہتا کہ حال ہی میں اسکے ملک کے کسی خوبصورت علاقے میں میری بہہن شفٹ ہو کر گئی ہے۔ بلکہ جو بات بھی کرتا اسکی بنیاد سچ پر ہوتی، یوں اس سے دوستی کا آغاز کرتا۔
نیویارک شہر کی کسی گمنام بار میں بیٹھے لڑکیوں کے ساتھ گپ مارتے مارتے میں اُکتا جاتا ہوں۔ ان لڑکیوں سے میری دوستی جلدی تو ہو جاتی ہے، لیکن انکے ساتھ ذیادہ وقت گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ کہانیاں گڑھ گڑھ کر سناتے سناتے میں خود بور ہو جاتا ہوں۔ اس شہر میں سچ کی بنیاد پر دوستیاں شاز و نادر ہوتی ہیں۔ اس لئے میں ان دوستیوں کو ایسے ہی کسی گمنام مے خانے میں چھوڑ جاتا ہوں۔ یہاں سے باہر مجھے ان کا خیال نہیں آتا۔
میں جب بار سے نکلتا ہوں تو الکوحل کا اثر مجھ پر اتنا ذیادہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ میں عادتاً ذیادہ نہیں پیتا۔ جب مونیکا میرے ساتھ ہوتی تھی تو وہ اکثر اپنے گھر کی راہ پر ہو لیتی تھی۔ اور میں اکیلا نیویارک کی اونچی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی عمارتوں کے درمیان بہت دیر تک ٹہلتا رہتا۔ اور تنہائی کا احساس عجیب طرح سے شکل بدل لیتا۔ مجھے لگتا کہ میں تنہا نہیں بلکہ یہ تمام پتھر اور سیمنٹ کی عمارتیں میری ہمراہ ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میں انسانوں سے باتیں کرتا ہوں، اور یہ آسمانوں سے۔ صبح ہوتے ہی طرح طرح کے انسان ان عمارتوں کے کمروں میں آ وارد ہوتے ہیں، اور دن بھر کے کاموں کے بعد شام کو انہیں خالی چھوڑ کر اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ میرے دن اور رات کی کہانی بھی کچھ ان جیسی ہے۔ فرق اتنا ہے کہ میرے دن کے مکین رات کو جاتے ہیں، اور رات کے مکین صبح سے پہلے چلے جاتے ہیں۔
اکثر رات کو سڑکوں پر آوارہ پھرتے پھرتے میں ان عمارتوں کے چند ایسے کمروں میں پہنچ جاتا ہوں جن کے بارے میں بہت کم لوگوں کو علم ہے۔ یہاں مئیر جولییانی (mayor juliani) کے ریاکارانہ اور غریب دشمن قوانین کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ جب میں کمرے میں داخل ہوتا ہوں تو مجھے بہت سی ایسی عورتیں نظر آتی ہیں جنہیں اس معاشرے نے صرف ایک کام کرنے پر مجبور کیا تھا، اور اب ان سے یہ پیشہ بھی چھینا جا رہا ہے۔
یہاں کی بھی کئی عورتوں سے اب میری دوستی ہو چلی ہے۔ یہ میرے ساتھ لیپ ڈانس (lap dance) کرتی ہیں۔ میں دیوار کے ساتھ لگی کسی کرسی پر بیٹھ جاتا ہوں۔ اور ایک عورت میری گود میں آ کر بیٹھتی ہے۔ دھیرے دھیرے وہ برہنہ ہوتی جاتی ہے۔ اور میں دیر تک اسکے جسم کے مختلف گوشوں سے لظف اندوز ہوتا رہتا ہوں، اور اس سے باتیں کرتا ہوں۔ لیکن یہ باتیں ان باتوں سے مختلف ہوتی ہیں جو میں بار میں لڑکیوں سے کرتا ہوں۔ ان سے میں سیاست پر باتیں کرتا ہوں، تاریخی واقعات، جنگوں یا کبھی کبھار کتابوں اور فلموں پر باتیں کرتا ہوں۔ مگر ان سے یہ دریافت نہیں کرتا کہ وہ یہ کام کیوں کرتی ہیں، یا کن واقعات نے انہیں اس کام پر مجبور کیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مجھے ان میں سے کوئی بھی ذیادہ تعلیم یافتہ یا انٹیلیکچول قسم کی نہیں لگتی، جسے پڑھنے لکھنے سے شغف ہو۔ لیکن اس کے باوجود وہ میری باتیں بڑی دلچسپی سے سنتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ انکے پیشے نے انھیں سکھایا ہے، انہیں ایک مرد کو وقتی طور پر راحت پہنچانے کے تمام گرُ آتے ہیں۔
لیکن اکثر، یہاں سے باہر نکلنے کے بعد مجھے اسی لڑکی کا خیال آجاتا ہے، وہی جو روز صبح ٹرین اسٹیشن کے باہر اخبار بیچتی ہے۔ اور میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ آخر وہ لڑکی مجھے بار بار اس طرح کیوں یاد آتی ہے۔ شاید اس لئے کہ میں اسکی زبان نہیں جانتا ہوں اس لئے اس سے باتیں نہیں کر سکتا ہوں۔ یا شاید اس لئے کہ صبح کے وقت سردی بہت ہوتی ہے اور مستقل باہر کھڑے ہونے کے لئے اسے اپنے جسم کو موٹے موٹے جیکٹوں یا اورکوٹوں میں چھپانا پڑتا ہے۔ اور مجھے صرف اسکی دلکش مسکراہٹ نظر آتی ہے جو تمام وقت میرے خیالوں پر چھائی رہتی ہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنی دلکش مسکراہٹ اور موٹے اورکوٹ کے پیچھے وہ ایک عام سی محنت کش لڑکی ہو۔ جسکے دو بچے ہوں اور اسکا شوہر صبح سات بجے سے رات گیارہ بجے تک نیویارک سٹی کے کسی رستوران کے کچن میں برتن صاف کرتا ہو۔ میری رنگت دیکھ کر اسے اپنے ہی ملک کا کوئی نوجوان یاد آتا ہو۔ اور شاید وہ اس لئے مسکرا دیتی ہو کہ مجھے اندازہ نہیں ہو پائے کہ ذندہ رہنے کے لئے اسے کتنی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ شاید اسکی یہ جدوجہد اسکے لباس اور مسکراہٹ دونوں میں عبارت ہو اور مجھ میں اسکی خاطر ایک گہرا احترام پیدا ہو جاتا ہو۔
ُُ’’․․․شاید․․․․․‘‘ میں سوچتے ہوئے مسکراتا ہوں۔
ورلڈ ٹروڈ سینٹر کے ٹاور جب گرے تھے تو وہ مجھے کئی دنوں تک نظر نہیں آئی تھی۔ اسکے بعد جب اسنے آنا شروع کیا تھا تو وہ کئی دنوں تک نہیں مسکرائی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ مرنے والوں میں اس کے جاننے والے ہوں جو کسی رستوران، نیوزاسٹینڈ یا کسی کافی شاپ میں کام کرتے ہوں․․․․․․ ۔
اس حادثے کے بعد جب حالات تھوڑے معمول پر آئے تھے، اور میں نے اپنی معمول کی جگہوں پر دوبارہ جانا شروع کیا تھا تو کئی دنوں تک میری اپنے دوستوں سے کسی اور موضوع پر بات نہیں ہوئی تھی۔ بار میں آنے والی لڑکیاں مجھے بتاتیں کہ وہ اس وقت کہاں تھیں اور ان پر کیا بیتی۔ اور وہ ان لوگوں کا ذکر کرتی تھیں جو اس واقعے کے بعد لاپتہ ہوگئے۔
لیپ ڈانس کے دوراں وہ عورتیں تھوڑی سرد ہوتی تھیں، میں انکے جسموں میں وہ لطافت نہیں پاتا تھا۔ پھر جب افغانستان میں جنگ شروع ہوئی تو ان کی یہ ہچکچاہٹ کم ہونے لگی جیسے کہ دوا نے ان پر اثر دکھانا شروع کر دیا ہو۔ ان کا یہ ردِعمل میں سمجھتا ہوں، وہ اپنے معاشرے اور تجربے کی اسیر ہیں۔
مونیکا سے میرا تعلق ختم ہو جائے تو چند دن کے بعد میں اسے بھول جاؤں گا۔ بار کی وہ لڑکیاں اگر مجھ سے بات کرنا چھوڑ دیں تو میں کسی اور بار میں دوستیاں کر لوں گا۔ کیونکہ یہ ہی اس معاشرے میں جینے کا اصول ہے۔
لیکن اگر اسٹیشن کے باہر اخبار بیچنے والی لڑکی نے آنا چھوڑ دیا تو میرے خیالات کے تسلسل میں ایک خلا پیدا ہو جائے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاوروں کے گرنے سے نیویارک شہر کے آسمان میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔ پھر اس خلا کو پر کرنے کے لئے شاید مجھے بھی کسی سے جنگ چھیڑنے کی ضرورت پڑ جائے ۔
منگل، 16 دسمبر، 2014
وہ لڑکی جو اخبار بیچتی ہے
ایک کیڑا
ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے نیچے زمین کی طے میں کئی سو فٹ نیچے ایک ٹرین آکر رکتی ہے اور اس میں سے ایک کیڑا باہر نکلتا ہے۔ لوگوں کے ہجوم میں گھرا ہوا۔ بازو سے بازو اور کہنیوں سے کہنیاں ٹکراتی ہیں۔ لیکن تمام کہنیوں پر موٹے کوٹوں کی کئی تہیں چڑھی ہوئی ہیں۔ کیڑا اپنے ساتھ چلتی ہوئی کسی گوری عورت کی نرم اور ملائم جلد کو چھوکر محسوس نہیں کرسکتا۔ اس بات کا اسے افسوس ہے۔
مگر اپنے طور پر کیڑا بہت جوش میں ہے۔ اس سے کہیں بڑی بھیڑ اور ہجوم اس نے اپنی زندگی میں کئی بار دیکھے ہیں۔ ’’یہ تو بچوں کی بات ہے……‘‘ کیڑا سوچتا ہے۔ اور وہ دھکے دیتا ہوا اس ہجوم میں آگے بڑھتا ہے…… اس کے ساتھ چلتے ہوئے لوگ ایسے دھکوں کے عادی نہیں۔ اسے جگہ دے دیتے ہیں یوں وہ آگے بڑھتا جاتا ہے۔ یہ ہی اس کی جیت ہے، یہیں پر اس کی فتح ہے۔ فخر سے اس کا دل اور تیز دھڑکنے لگتا ہے اور کیڑے کو زندگی بھر دھکے کھانے کا پھل ملتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔
کچھ دیر میں وہ عمارت سے باہر آجاتا ہے۔ تیز چلتی ہوئی ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی خنجر اس کے چہرے کو چیر رہا ہو۔ کیڑے کو ایک لمحے کے لئے تکلیف کا شدید احساس ہوتا ہے۔ وہ اپنے دائیں بائیں دیکھتا ہے۔ اسے عمارت سے باہر نکلتی ہوئی کئی خوبصورت عورتیں نظر آتی ہیں۔ وہ سب تیزی سے اپنی اپنی منزلوں کی طرف جا رہی ہیں۔ کیڑا کچھ دیر انہیں یوں جاتا ہوا دیکھتا ہے،پھر وہ بھی تکلیف کو بھولتا ہوا اپنی راہ پر ہونے لگتا ہے۔
اب اس کا ذہن تمام خیالات سے خالی ہے سوائے خوش قسمتی کے ایک احساس کے کہ وہ وہاں، اس جگہ موجود ہے۔ اس کے اطراف کی دنیا میں کتنی روانی ہے، کتنی ہم آہنگی ہے۔ پھر اس کی توجہ اسٹاک مارکیٹ کی طرف مبذول ہوجاتی ہے، اور وہ راتوں رات کروڑ پتی ہونے کے خواب دیکھنے لگتا ہے۔
نیویارک شہر میں رہنے والا یہ ہے صرف ایک کیڑا۔ جس کے ہونے یا نہ ہونے سے شہر کی آب و تاب پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن اس کیڑے کو ان باتوں کا احساس نہیں۔ دن کے کوئی گیارہ بجے ہیں۔ کیڑا اپنی کرسی پر بیٹھا کام میں بے انتہا مصروف ہے۔ اس کی میز پر رکھے ہوئے کمپیوٹر کے اسکرین پر متعدد اعداد و شمار نظر آرہے ہیں جو لمحے لمحے پر تبدیل ہوتے ہیں۔ کیڑے کو ان پر مستقل نظر رکھنی پڑتی ہے۔ اس کے ڈیسک پر رکھا ہوا ٹیلی فون متواتر بجتا رہتا ہے۔ اکثر اوقات بہ یک وقت اُسے کئی کام کرنے پڑتے ہیں۔ آس پاس کام کرنے والوں کا حال بھی یہ ہی ہے۔ کسی کے پاس رکنے کی مہلت نہیں۔ کام کے بے حد دباؤ کی وجہ سے چہروں پر سنجیدگی اور گہرا تناؤ ہے۔ کیڑے کے چہرے سے بھی یہ ہی تاثرات عیاں ہو رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اک برابری محسوس کرتا ہے۔ ایک لمحے کے لئے نظر اٹھا کر اپنے آگے بیٹھی ہوئی لڑکی کو تکتا ہے پھر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوجاتا ہے۔
کیڑا اپنے کام میں ماہر ہے۔ اس کے ساتھ کام کرنے والے یہ بات جانتے ہیں۔ کچھ دیر میں آگے بیٹھی ہوئی لڑکی پاس آتی ہے اور کوئی سوال پوچھتی ہے۔
اب کیڑا اپنا تما م کام چھوڑ دیتا ہے اور اس کے سوال کا جواب دینے میں مگن ہوجاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنی قابلیت کو استعمال کرتے ہوئے اس پر ڈورے ڈالے۔ لیکن وہ لڑکی سوال کا جواب پاتے ہی اپنے کام کی طرف لوٹ جاتی ہے اور کیڑے کے ذہن میں پیدا ہونے والے کئی سوالات بن کھلے مرجھا جاتے ہیں۔
کچھ دیر بعد کیڑا اٹھتا ہے، کافی کا کپ ہاتھ میں لئے اس لڑکی کی جانب بڑھتا ہے۔ لیکن وہ لڑکی کام میں بے انتہا مشغول ہے۔ وہ اس کی طرف نہیں پلٹتی۔ کچھ دیر انتظار کرکے کیڑا اپنے دل میں اُسے ایک موٹی سی گالی دیتا ہے، اور یہ سوچتا ہوا کہ وہ اس لڑکی سے زیادہ پیسے کماتا ہے دوبارہ کام میں مشغول ہونے کی کوشش کرتا ہے۔
اب لنچ کا وقفہ ہے۔
کیڑا عمارت سے باہر نکلتا ہے۔ سورج نکل آیا ہے لیکن سردی اب بھی خاصی ہے۔ ٹھنڈ کے ایک تندتھپیڑے سے اس کی آنکھیں چمکتی ہیں اور جسم سکڑتا ہے۔ سڑک پر کچھ آگے ایک ریستوران نظر آتا ہے۔ اس میں کام کرنے والے اس ہی کے ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہاں کے متعلق خیال آتے ہی کیڑے کے ذہن میں پرانے احساسات جاگ اٹھتے ہیں۔’’ …… فحش ملک تھا وہ …… اور فحش ہوتے ہیں وہاں کے رہنے والے……‘‘ وہ غصےّ میں سوچتا ہے۔’’…… میں وہاں نہیں جاؤں گا……‘‘ کچھ آگے بڑھ کر وہ ایک سستے سے ٹھیلے سے اپنے واسطے کھانا خریدتا ہے اورتیزی سے اپنی ڈیسک کی طرف پلٹتا ہے۔ ڈیسک پر تنہا بیٹھ کر کھانا کھانے میں اُسے تحفّظ کا احساس ہوتا ہے۔ پھر اپنے وطن کے خیالات اس کے ذہن میں دوبارہ آنے لگتے ہیں۔ وہ ان میں گھر کر کچھ دیر کے لئے بے بس ہوجاتا ہے۔ وہاں کی تنگ اور پتلی گلیاں، چھوٹے چھوٹے کوارٹر، اور ان میں بسنے والے لاتعداد لوگ کچھ دیر تک اس کے تحفظ کے احساس پر تابڑ توڑ حملے کرتے رہتے ہیں۔ اور وہ اپنے آپ کو اس نئی دنیا میں بالکل تنہا اور بے بس محسوس کرتا ہے۔ پھر یکایک اس کے کمپیوٹر کے اسکرین پر بہت ہی غیر متوقع اعداد و شمار نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں اور ایک بار پھر اس کی تمام توجہ ان اعداد و شمار میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کی لہروں میں تھپیڑے کھانے لگتی ہے۔
یوں وہ دن تمام ہوتا ہے۔ رات آٹھ بجے کیڑا اپنے کام سے فارغ ہوگیا ہے۔ آج کا دن اچھا گزرا۔ اس نے اپنے مالکوں کے واسطے بہت سود مند بیوپار کیا۔ اس بات کی اسے خوشی ہے۔ یہ سال اب تک اچھا گزر رہا ہے۔ کیڑا بہت اطمینان سے ہے۔ شاید اس سال وہ تھوڑے زیادہ پیسے بنا پائے۔ اس خیال نے تمام دن کی تھکن دور کر دی ہے۔ اب وہ اپنے آپ کو عیش و عشرت میں کھونا چاہتا ہے۔’’…… یہ ہے مزا یہاں کی زندگی کا……‘‘ وہ سوچتا ہے۔
اس رات کلب میں رش خاصا ہے۔ کمر سے کمر اور سینے سے سینہ ٹکراتا ہے۔ کیڑا ڈانس فلور پر رقص کرنے میں مگن ہے۔ کبھی وہ ایک لڑکی کے ساتھ رقص کرتا ہے کبھی دوسری۔ لیکن آج کوئی لڑکی بھی اس کے ساتھ ٹک نہیں رہی۔ ’’کیا آج میں کسی کو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو پاؤں گا؟…… ‘‘ کیڑا سوچ رہا ہے۔
پھر کوئی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہے۔ کیڑا پلٹ کر دیکھتا ہے کہ ایک مرد ہے۔ کیڑے کو اس کی حرکت بھلی نہیں محسوس ہوتی۔ وہ اس کا ہاتھ ہٹا کر ڈانس فلور پر اس سے دور ہٹ جاتا ہے۔ مگر کچھ دیر میں وہ شخص پھر اس کے قریب موجود ہوتا ہے۔ کیڑے کو اس سے سخت وحشت ہوئی ہے۔ وہ پھر دور ہٹنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ شخص پیچھا نہیں چھوڑتا۔ کیڑے نے آج شراب بہت پی ہوئی ہے نشے اور کوفت سے کیڑا اس شخص کو پیچھے دھکا دیتا ہے۔ وہ شخص بھی اُسے دھکا دیتا ہے۔ چند لمحوں میں وہ دونوں ڈانس فلور پر گتھم گتھا ہوئے لڑ رہے ہوتے ہیں۔
فلور پر بھگدڑ مچ جاتی ہے۔ لوگ ادھر اُدھر بھاگتے ہیں۔ کلب کے محافظ ان کو الگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جلد ہی ان پر قابو پالیتے ہیں۔ کیڑے کو دو لحیم شحیم آدمیوں نے جکڑا ہوا ہے۔ وہ اسے کھینچتے ہوئے دروازے کی طرف لے جا رہے ہیں۔ کیڑا چیختا ہے شور مچاتا ہے لیکن وہ اس کی نہیں سنتے۔ تھوڑی دیر بعد وہ اُسے کلب کے دروازے کے باہر دھکا دے دیتے ہیں۔
اب کیڑا باہر سڑک پر اکیلا کھڑا ہے۔ رات کافی گزر چکی ہے۔ جاڑے کی ٹھنڈی ہوا اس کی ہڈیوں کے گودے کو جما رہی ہے۔ لیکن کیڑے کا دماغ ابھی بھی غصے سے گرم ہے۔’’…… بدمعاش کہیں کے……‘‘ وہ سوچ رہا ہے۔ پر دوسری طرف اسے اب بھی ایک اطمینان ہے کہ آج اس نے اپنے مالکوں کے واسطے بہت پیسے بنائے۔ وہ اپنے بھاری قدم اٹھاتا ہوا ایک ٹرین اسٹیشن کی طرف بڑھ رہا ہے۔
آگے سڑک کے کونے پر ایک عورت کھڑی ہے۔ کیڑا جب اس کے قریب پہنچتا ہے تو وہ عورت اسے دیکھ کر مسکراتی ہے اور ہلکے خرام میں اس کی طرف بڑھتی ہے۔ کیڑا ٹہر جاتا ہے۔
تھوڑی دیر میں کیڑا اس عورت کے ساتھ ایک کمرے میں موجود ہوتا ہے۔ اُسے یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے وہ وقت کا بادشاہ ہے، اور کسی وقت بھی بڑی سے بڑی عیاشی کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔’’ اسے کہتے ہیں زندگی…… اور یہ ہے عیاشی…… ‘‘ وہ سوچ رہا ہے۔
وہاں سے فارغ ہوکر وہ گھر کی طرف نکلتا ہے۔
اس وقت وہ ٹرین میں سفر کر رہا ہے۔ رات کی اندھیری گہرائیوں میں اتر چکنے کے بعد اب نہ جانے کہاں گم ہوچکی ہے۔ ٹرین کے ڈبے میں اس کے علاوہ کوئی شخص موجود نہیں۔ ٹرین ایک اسٹیشن پر رکتی ہے، اور ڈبے میں ایک دیوہیکل شخص چڑھتاہے۔ کیڑے کو ڈبے میں اکیلا پاکر اس کی چہرے پر ایک مہیب مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے۔کیڑا اُسے دیکھ کر سر سے پیر تک کانپ جاتا ہے۔ اس کی نگاہیں راہِ فرار کی تلاش میں ادھر سے ادھر پھڑ پھڑائی ہیں۔ لیکن کوئی ایسا راستہ اب موجود نہیں۔
نیو یارک شہر کی سطح زمین سے کئی سوفٹ نیچے سفر کرنے والی اس ٹرین میں یہ ہے ایک کیڑا۔ صرف ایک کیڑا۔
جمعرات، 16 اکتوبر، 2014
جب وقت رک گیا
(۱)
روشن دان سے کچھ نیچے دیوار میں ایک دراڑ ہے۔ یہاں سے یہ چیونٹیاں نکلتی ہیں۔ اور پھر نیچے آکر زمین کے قریب ایک اور سوراخ میں غائب ہوجاتی ہیں۔
میرا قد کوئی پانچ فٹ آٹھ انچ ہے ، ہاتھ اٹھاؤں تو تقریباً پونے سات فٹ کی اونچائی تک پہنچتا ہے ، لیکن یہ دراڑ میری پہنچ سے بھی کوئی فٹ بھر اونچی ہے۔ روشن دان سے کوئی چھ انچ نیچے میں نے حساب لگایا ہے کہ اوپر سے نیچے تک یہ چیونٹیاں کوئی آٹھ فٹ کا سفر طے کرتی ہیں۔
وقت کا اندازہ لگانے کے لئے میرے پاس کوئی چیزنہیں جس سے معلوم ہو پائے کہ ایک چیونٹی کی اوسط رفتار کیاہوتی ہے۔ لیکن میرااندازہ ہے کہ انہیں اوپر سے نیچے تک پہنچنے میں کوئی دس منٹ لگتے ہوں گے۔ پھر سوچتا ہوں کہ ہوسکتا ہے کہ پانچ منٹ ہی لگتے ہوں ، پانچ یا دس کیا فرق پڑتا ہے۔ وقت کی اہمیت کہاں ہے۔
اگر وقت ڈوری کی طرح کی چیزہوتی تو میں اس کولمبا بچھا دیتا اور دوھرا کر کے اس کے کئی حصے کردیتا۔ جو حصے پسند آتے انہیں رکھتا باقی تمام پھینک دیتا۔ لیکن یہاں تو وقت ناپنے کے لئے گھڑی چاہیے یا کوئی ایسا آلہ جو ایک مستقل رفتار کے ساتھ چلے۔ ایسا کوئی آلہ میرے پاس موجود نہیں۔ کبھی کبھی میں اپنا ہاتھ ڈھیلا لٹکاکر گھڑی کے پنڈولم کی طرح ہلانے کی کوشش کرتا ہوں کہ اس سے وقت کا کوئی اندازہ ہوسکے لیکن پھر جلد ہی تھک جاتا ہوں اور وقت کے گزرنے پر اپنے ہاتھ کے پنڈولم کی پابندی ہٹا لیتا ہوں اور اسے آزاد چھوڑ دیتا ہوں۔ ’’میں آزاد نہیں تو کیا ،میں نے وقت کو توآزاد چھوڑا ہوا ہے ‘‘ میں سوچتا ہوں۔
کبھی کبھی اپنے ہاتھ کے پنڈولم کی مدد سے میں نے چیونٹیوں کی رفتار ناپنے کی کوشش کی ہے لیکن ہمیشہ یاتو چیونٹی پر سے نظراٹھ جاتی ہے یا پھر ہاتھ کی گنتی بھول گیا۔ صرف دو دفعہ یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ مکمل کر پایا ہوں۔ ایک بار 745بار میں ایک چیونٹی نیچے تک پہنچی تھی اور دوسری با ر 650 مرتبہ میں۔
اب میں نہیں کہہ سکتا کہ میرے ہاتھ کی رفتار بدل گئی تھی یا چیونٹیوں کی رفتار بدلتی رہتی ہے۔
چیونٹیاں اوپر سے نیچے تک ایک ہی قطار میں آتی ہیں۔ مجال ہے کہ کوئی اس سے نکل کر ادھر ادھر ہوجائے ، ان کو لائن میں رکھنے کے لئے نہ سپاہیوں کی ضرورت ہے اور نہ وارڈن کی کسی دھمکی کی۔ ایک جگہ سے ایک چیونٹی گزر جائے تو لازم ہے کہ باقی بھی ادھر ہی سے گزریں۔ یہ بات میں نے کئی دن کے مشاہدے کے بعد دریافت کی ہے۔
اب میں اس فکر میں لگا ہوں کہ اندازہ کر پاؤں کہ ایک وقت میں اس قطار میں کتنی چیونٹیاں آتی ہیں لیکن یہ بھی آسان کام نہیں۔ میرا خیال ہے کہ ایک انچ میں کوئی دس یا بارہ چیونٹیاں آتی ہیں۔ اس عدد کی بنیاد پر میں صرف اندازہ ہی لگا سکتا ہوں کہ پوری قطار میں کتنی آتی ہوں گی۔
یہ چیونٹیوں کی سائنس بھی کیا خوب علم ہے، اس کا اندازہ مجھے ابھی چند روز پہلے ہی ہوا ہے۔ میں اس علم کی جستجو میں اس کوٹھری کے تمام عذاب بھول گیا ہوں۔ بلکہ اب سوچتا ہوں کہ باقی کی قید بھی اسی کوٹھری میں گزرجائے تو مجھ پہ کتنارحم ہوگا۔
میں قیدی نمبر 1212 ہوں۔ مجھے اس جیل خانے میں اب کوئی بارہ سال ہونے کو آئے ہیں ، تین ہفتے پہلے میری مست آرائیں سے لڑائی ہوگئی تھی اور میں نے اسے چاقو لگا دیا تھا۔ اس کی سزا میں وارڈن نے مجھے چالیس دن کے لئے اس اندھیری کوٹھری میں بند کردیا۔ میرے حساب کے مطابق آج شاید 2 3واں دن ہے۔
ویسے تو میں کب کا دن گننا چھوڑ دیتا لیکن ان چیونٹیوں نے میرے تمام احساسات کو بے حد حساس بنا دیا ہے۔ یہ چیونٹیاں رکتی نہیں۔ یہاں تک کہ رات کے گھپ اندھیرے میں بھی میں نے دیوار پر ہاتھ رکھ کرمحسوس کیا تو یہ چیونٹیاں مجھے اپنی قطار میں چلتی ہوئی محسوس ہوئی ہیں۔ پھر میں اپنے ہاتھ کو وہیں چھوڑ دیتاہوں۔ اندھیرے میں ان کے راستے میں ایک ناگزیر رکاوٹ حائل ہوجاتی ہے۔ پر میں نے محسوس کیا ہے کہ کچھ میرے ہاتھ کے اوپر سے کچھ اطراف سے ہوتی ہوئی نیچے پہنچی ہیں اور ایک قطار کی صورت میں اپناسفر دوبارہ شروع کردیا ہے۔ اس سے مجھے پتہ چلا ہے کہ یہ اندھیرے میں نہ صرف دیکھ سکتی ہیں بلکہ قطار بھی بنا سکتی ہیں۔ ان کی یہ صلاحیت معلوم کرکے میں دنگ رہ گیا ہوں۔
انسانوں میں فوج کے سپاہیوں کے علاوہ شاید ہی کسی اور میں اتنا نظم و ضبط دیکھا گیاہے۔ لیکن فوجیوں میں بھی کیا نظم و ضبط ہوتاہے ان کے ہاتھوں سے بندوقیں لے لو پھر دیکھو کہ کون کس کا کہا مانتا ہے۔
میں نے پچھلے تین ہفتوں میں چیونٹیوں سے جتنا کچھ سیکھا ہے شاید ہی زندگی میں کسی اور چیز سے سیکھا ہوگا۔ جب اس کوٹھری سے باہر نکلوں گا تو ضرور ایک بدلا ہوا انسان ہوں گا۔ دوسرے اس بات کو تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن مجھے پکا یقین ہے۔
وقت ناپنے کے لئے ایک مستقل رفتار سے ہلتی ہوئی چیز چاہئے۔ یہ بات میں نے ان چند ہفتوں میں دریافت کی ہے۔ اس کوٹھری میں ایک مستقل رفتار سے چلتی ہوئی چیز صرف یہ چیونٹیوں کی قطار ہے۔ اگر یہ رک گئی تو وقت رک جائے گا۔ پھر اس کوٹھری میں تمام چیزیں ساکت ہوجائیں گی۔ سوائے میرے ، میں وقت کو اپنی مرضی پر چلاؤں گا۔ جب میں ہلوں گا تو وقت چلے گا نہیں تو ساکت ہوجائے گا۔
روشن دان کے قریب سے نیچے آنے والی چیونٹیاں ایک مستقل رفتار کے ساتھ چلتی ہیں ان کی اس رفتار کے ساتھ میری زندگی کا نظم و ضبط وابستہ ہے۔ یہ زندگی کی علامت ہیں۔ جب میں صبح اٹھتا ہوں توکہتا ہوں کہ رات بھر میں اس قطار میں بارہ ہزار چیونٹیاں گزر گئی ہیں۔ کیونکہ میں نے پیمانہ بنایا ہے کہ ایک گھنٹے میں ایک ہزار چیونٹیاں گزرنی چاہئیں۔ جب میں سمجھتا ہوں کہ ایک ہزار چیونٹیاں گزر گئیں ہیں تو کہتا ہوں کہ ایک گھنٹہ گزر گیا۔ یا جب میں سمجھتا ہوں کہ ایک گھنٹہ گزر گیا ہے تو کہتا ہوں کہ دیوار پر ایک ہزار چیونٹیاں گزر گئیں ہیں۔
جب دیوار پر سے بارہ ہزار چیونٹیاں گزر جاتی ہیں تو میری کوٹھری کا دروازہ کھلتا ہے اور مجھے کھانا ڈالا جاتا ہے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ اسے ان چیونٹیوں نے ہی کھانا لانے کے لئے تعینات کیا ہے۔ کبھی یوں لگتا ہے کہ یہ چیونٹیاں ہی باہر کی دنیا کا نظام چلاتی ہیں اور میں اس کائنات میں ان کا واحد پجاری ہوں اور باقی انسانیت تک پیغام پہنچانے والا ہوں۔
اب میں سوچتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں پیدا ہی اس پیغام کو پہنچانے کے لئے ہوا تھا کیونکہ بچپن ہی سے مجھے اپنے زندگی کا کوئی مصرف نظر نہیں آتا تھا۔ کبھی اپنے آپ کو ایک کام میں مگن پاتا تھا کبھی دوسرے۔ اسی طرح ایک بار میں کسی آزادی کے کام میں شامل ہوگیا تھا۔ نا جانے یہ آزادی کیا چیز ہوتی تھی۔ سارے وقت آزادی ، آزادی کہتا رہتا تھا اور چند اور لوگوں کے گروہ کے ساتھ گھوما کرتا تھا۔ آزادی کے علاوہ ہم دو لفظ اور استعمال کیا کرتے تھے...اب میں بھول رہا ہوں انہیں ... ہاں... حقوق اور دوسرا ... ہاں... جمہوریت ... پتہ نہیں کیا مطلب ہوا کرتا تھا ان سب لفظوں کا لیکن اس زمانے میں مجھے خوب یاد تھا اور بڑے زوروں میں ان کے استعمال میں مگن رہتا تھا۔
پھر ایک روز ہم کسی ہوٹل میں چائے پی رہے تھے کہ چند سادہ کپڑے والے لوگوں نے اپنے ساتھ چلنے کو کہا ، اس طرح میں جیل میں پہنچا۔ آج سے پورے بارہ سال پہلے۔ کس مصرف کے لئے یہ میں اس وقت بالکل نہیں جانتا تھا۔
اب جو سوچتا ہوں تو سمجھ میں آتا ہے کہ یہ سب کچھ ان چیونٹیوں نے کروایا۔ وہ سب آزادی ، جمہوریت وغیرہ کی باتیں ... اس لئے کہ میں جیل آؤں اور پھر جیل میں مجھے بارہ سال رکھا گیا تاکہ میں اس عظیم کام کے لئے تیار ہوجاؤں۔ پچھلے بارہ سال مجھے احساس رہتا تھا کہ میں کوئی عظیم کام کرنے والا ہوں ، اب سمجھ میں آیا کہ وہ عظیم کام کیا تھا۔ بارہ سال کی تیاری کے بعد میں اس کوٹھری میں لایا گیا تاکہ باقی انسانیت کے لئے سمجھ پاؤں کہ وقت کی اصل اہمیت کیا ہے اور اس کابہاؤ کن اصولوں پر مبنی ہے۔
اور پھر میں سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ بارہ سال کا عدد بہت مقدس ہے کیونکہ بارہ ہزار چیونٹیاں گزرتی ہیں تو دن سے رات ہوتی ہے اور رات سے دن ، چیونٹیوں کا علم سیکھنے سے پہلے مجھ سے بارہ سال تیاری کرائی گئی ، اور پھر مجھے کیوں چنا گیا اس عظیم کام کے واسطے …… اس لئے کہ میرا نمبر 1212 تھا اور ہاں گھڑی میں بارہ گھنٹے ہوتے ہیں …… یہ کس لئے ؟ اب سوچتا ہوں تو سمجھ میں آتا ہے۔
(۲)
اس رات خبر آئی کہ جیل کا انسپکشن ہونے والا ہے ، وارڈن نے راتوں رات تمام جیل کی صفائی کے آرڈر دیئے ، سپاہی قیدی نمبر 1212 کی کوٹھری میں بھی آئے اور پانی اور لمبے لمبے برشوں کی مدد سے تمام دیواریں اور فرش صاف کردیا۔
اگلے روز قیدی نمبر1212 کی کوٹھری سے آوازیں آئیں۔ ’’ وقت رک گیا ہے۔ ہا ...ہا...ہا... وقت رک گیا ہے... اب میں وقت چلاؤں گا ... اب... میں وقت چلاؤں گا... ہا... ہا ... ہا... یہ دیکھو وقت چلا... چلنا شروع ہوجاؤ... یہ دیکھو رک گیا... رک جاؤ... ‘‘
پھر شام کو دوبارہ آوازیں آئیں۔ ’’اب تک صرف دس ہزار چیونٹیاں گزری ہیں... ابھی دو ہزار باقی ہیں ... ابھی دو ہزار باقی ہیں... یہ چیونٹیاں رک کیسے گئیں ... چیونٹیاں رک کیسے گئیں۔‘‘
پھر اندر سے آوازیں آتی رہیں جیسے کوئی چیز دیوار سے ٹکرا رہی ہو۔ اور قیدی کہہ رہا تھا ’’ وقت چل رہا ہے ... چیونٹیاں چل رہی ہیں ... چیونٹیاں چل رہی ہیں ... وقت چالو ہوگیا ہے ... اب چیونٹیوں کی قطار نہیں ہے دھار ہے ... دھار ہے... ‘‘
رات کو جب سپاہی اس کو کھانا دینے گیا تو قیدی کا مردہ جسم زمین پر پڑا پایا اس کے سر سے بہت سا خون بہہ چکا تھا۔
بعد میں جب قیدی نمبر 1212 کی فائل لائی گئی تو پتہ چلا کہ یہ قیدی آزادی و جمہوریت کی کسی تحریک کے دوران پکڑا گیا تھا، اور تقریباً سولہ سال سے بغیر کسی کیس کے جیل میں قید تھا... قانون کے دفاع میں اخباروں میں کچھ خبریں آئیں کہ یہ وہ بدقسمت شخص تھا جسے وقت بھول گیا۔
اتوار، 14 ستمبر، 2014
الہ دین پارک میں فحاشی
خلق سیر و تفریح کے واسطے اپنی راہ خود نکال لیتی ہے۔ اور اس راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو بخوبی عبور کرلیتی ہے۔ اس بات کا میں قائل ہوگیا ہوں۔ کراچی میں جب الہ دین پارک کھلا تو اس کو صرف ’’ فیملیز ‘‘ کے لئے مخصوص کردیا گیا۔ یعنی صرف فیملی والے اس میں داخل ہوسکتے تھے۔ باقی سب کے لئے داخلہ ممنوع۔ گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آپ اپنے گھر کی خواتین کو یہاں لا سکتے ہیں کوئی ان کے ساتھ بدتمیزی نہیں کرے گا۔ غالباً یہ اشارہ اس مفروضے پر مبنی تھا کہ جو مرد اپنے گھر کی عورتوں کے ساتھ آئیں گے، کسی دوسرے کی عورتوں کے ساتھ بدتمیزی نہیں کریں گے۔
عورتیں بغیر مردوں کے آسکتی تھیں۔ ان کو ’’فیملی‘‘ تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن مرد عورتوں کو ساتھ لئے بغیر اندر داخل نہیں ہوسکتے تھے کیونکہ وہ فیملی نہ تھے۔ لہذا لڑکوں کے گروہ اور ایسے مرد جو دوسروں کی ’’فیملی‘‘ کے ساتھ میل جول قائم کرناچاہتے تھے باہرگیٹ پر کھڑے تماشا دیکھتے رہ جاتے۔ میں بھی ان میں سے ایک تھا۔ میں نے بھی کئی بار تماشا دیکھا تھا اور دل ہار کر اخبار کے دفتر کی راہ لی تھی۔ گیٹ والے کمبخت پریس کارڈ بھی تسلیم نہیں کرتے تھے۔
پھر ہماری قوم کی خواتین نے خوب اختراع نکالی۔ یہ بات مجھے دوستوں نے بتائی کہ وہاں چند لڑکیوں کے گروہ لڑکوں سے پیسے لے کر ان کو اندر لے جانے لگے ہیں۔ میں نے صرف اتنی ہی بات سنی۔ پھر میرے تخیل نے اس پر کام کرنا شروع کیا۔ اور طرح طرح کے مناظر تصور کئے۔ ضرو ر یہ چالو قسم کی لڑکیاں ہوں گی۔ ان خیالات کی روشنی میں میرا تخیل کئی دن تک جاگتا رہا۔ لیکن موقع نہیں مل پایا کہ جاکر خود بھی کچھ دیکھ پاؤں۔ اورنہیں تو اخبار کے لئے اچھی اسٹوری ہی بن سکتی تھی۔
پھر ایک روز شام کو کچھ وقت نکال کر میں نے الہ دین پارک کے گیٹ کا رخ کیا۔ میری نظریں زرا کم یا چست کپڑوں میں ملبوس لڑکیوں کے گروہوں کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ یا ہوسکتا ہے کہ کوئی ایسی لڑکی اکیلی ہی لڑکوں کے کسی گروپ سے بھاؤ تاؤ کرتی نظر آجائے۔ یا پھرطوائفوں کے انداز میں کولہے فحش طرح نکالے کھڑی ہو۔
لیکن ایسا کچھ نظر نہیں آیا۔ جو ایسی چند خواتین نظر بھی آئیں عموماً ان کے ساتھ بچے اور دوسرے گھر والے تھے۔ میرے خیال میں کوئی پیشہ ور عورت اس حد تک نہیں جاتی اس لئے میں نے ان عورتوں کو کسی فیملی کا رکن قرار دے دیا۔ اور مطلوبہ عورتوں یا لڑکیوں کے حلیہ کے متعلق اپنے قیاس پر نظر ثانی کرنے لگا۔
پھر مجھے تین لڑکیاں نظر آئیں۔ شکل و صورت کافی معمولی ، میک اپ بھی کچھ دبا دبا سا۔ عام سے کپڑوں میں ملبوس جن کے اطراف انہوں نے چادریں لپیٹی ہوئی تھیں یہ چادریں اگر ٹائٹ لپیٹی ہوتیں تو کچھ پتہ بھی چلتا، لیکن جس طرح انہوں نے چادریں لپیٹی ہوئی تھیں اس سے ان کے جسم کے خدوخال چھپے ہوئے تھے۔ پر چہروں سے کچھ عیاری اور مکاری ٹپک رہی تھی جس کو یہ چادریں نہیں چھپا پائی تھیں۔ جن چار لڑکوں سے وہ بات کررہی تھیں وہ ان کے تیوروں سے کچھ ڈرے سہمے لگتے تھے۔ انداز ان لڑکوں کا سنجیدہ تھا اور ایک دوسرے کو یوں دیکھتے تھے کہ جیسے بات چیت میں کمزور پڑ رہے ہوں۔ مجھے ان لوگوں کو دیکھ کر شبہ سا ہوا۔ جس چیز کو میں ڈھونڈ رہا تھا یہ لوگ اس سانچے میں تو نہیں بیٹھتے تھے لیکن مجھے تجسس ہوا اور میں ان کے کچھ قریب ہوگیا۔ پر جب ان کی باتیں کانوں میں آئیں تو آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔
ایک لڑکی کہہ رہی تھی ’’ ہمارے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے ... اگر چلنا ہے تو ہم سب کا ٹکٹ لینا ہوگا ... سب کو ایک ایک بوتل اور برگر اور دو سو روپے ... چلناہو تو چلو ... نہیں تو اور مل جائیں گے ہمیں لے جانے والے ... وقت برباد نہ کرو ‘‘
وہ لڑکے آپس میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ، پھر ایک نے کہا ’’ایک منٹ رکو ... ‘‘ وہ چاروں ایک طرف کو ہوگئے اور آپس میں گفت و شنید کرنے لگے ، پھر ان میں سے ایک پلٹا اورکہنے لگا ’’ دیکھو دو سو روپے لے لو ... لیکن برگر اور پیپسی کا ہم بندوبست نہیں کرسکتے۔ ‘‘
’’ نہیں کرسکتے ... تو ہم بھی تم کو اندر لے کر نہیں چل سکتے ‘‘ ایک سادہ سا جواب ملا۔ اور وہ لڑکیاں پلٹ کر جانے لگیں۔
’’ اچھا ، اچھا ... رکو ‘‘ اس لڑکے کے چہرے پر ایسی لا چاری اور آواز میں وہ مظلومیت تھی کہ مجھے بھی ترس آگیا۔
’ روپیہ یہاں باہر ... پہلے ... دیناہوں گے۔ ‘‘ حکم آیا۔ وہ لڑکیاں لین دین کھرے پیشہ وراندازمیں کررہی تھیں۔ صرف شکل و صورت اور حلیہ ہی پیشہ ور نہیں تھا۔ اس بات پر مجھے کچھ حیرت تھی۔ اور کچھ افسوس بھی تھا کیونکہ مجھے لگا تھا کہ معاشرے کی دوسری اقدار گرنے کے ساتھ ساتھ طوائفوں کے بننے ٹھننے کا رواج بھی گر گیا ہے۔ اس وقت اس بات کا میرے اوپر گہرا اثر ہوا تھا۔
جیسے وہ لوگ آگے بڑھے میں بھی ان کے ساتھ ہولیا ، اس امید پر کہ شاید مجھے بھی اندر گھسنے کا موقع مل جائے۔ لیکن اتنی ہمت نہیں ہو پائی کہ ان لڑکوں سے کہوں کہ میرا بھی ٹکٹ لے لیں کہ میں بھی ان کے خسارے میں شریک ہونا چاہتا ہوں۔ اور نہ ان لڑکیوں میں سے کسی سے کہہ پایا کہ وہ و اپس آکر مجھے بھی اپنے ساتھ لیتی چلیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حسب معمول گیٹ پر روک دیا گیا کیونکہ نہ میرے پاس ٹکٹ تھا اور نہ ساتھ میں ’’ فیملی ‘‘۔ اپنا سا منہ لے کر باہر کھڑا رہا اور ان کو اندر جاتا دیکھتا رہا۔
پھر پلٹ کر سڑک کے قریب آیا اور کھڑے ہوکر سوچنے لگا کہ اب کیا کروں ، دل تو چاہتا تھا کہ کسی طرح اندر پہنچ جاؤں لیکن اس سے زیادہ اب میں لڑکیوں کے کسی گروپ سے بات چیت اور بھاؤ تاؤ کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس وقت مجھے یہ چیز زیادہ دلچسپ لگ رہی تھی۔ پھر مجھے اپنے پیچھے سے آواز آئی۔ ’’ بھائی صاحب ... کیا اندر جانا ہے ؟ ‘‘ میں چونک کر پلٹا تو دیکھا کہ ایک عورت کھڑی ہے جو حلیہ سے کوئی کام والی یا مانگنے والی لگ رہی تھی۔۔ ’’ کیا ؟ ‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ صاحب اگر آپ اندر جانا چاہتے ہوں ... تو میں آپ کو اپنے ساتھ لے جاسکتی ہوں۔‘‘
’’ یہ کون ہے اور اسے کیسے پتہ چلا ‘‘ میرے ذہن میں سب سے پہلے یہ خیال آیا اور مجھے ایک بار پھر احساس ہوا کہ میرے تخیل کی طوائفیں اب ناپید ہوچکی ہیں۔ ان کی جگہ اس باسی سادگی نے لے لی ہے جس کے منہ سے ایسی باتیں سن کر نا تو کسی قسم کی شہوت پیدا ہوتی ہے اورنہ ہی کراہیت آتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ تپتی دوپہر میں میدان میں اڑتی ہوئی خاک کا منظر دیکھ رہا ہوں، مجھ پر ایک بوریت سی طاری ہوئی اور خیالات کے سلسلے میں گم میرے منہ سے خودبخود ہی نکل گیا ’’ تم کو کیسے پتہ چلا ؟ ‘‘
اس نے اپنی تھوڑی کو نیچے کی طرف ہلکا سا جھٹکا دیا جیسے کہ اپنے آپ سے حیرت کا اظہار کررہی ہو۔ ’’ معافی دینا بھائی، میں سمجھی کہ آپ اندر جانا چاہتے ہو ‘‘ اس نے جواباً کہا اور اپنے راستے پر ہونے لگی۔
’’ ایک منٹ ... ‘‘ میں نے اس کو روکتے ہوئے کہا ’’ میرا مطلب یہ نہیں تھا‘‘۔ حلیے سے قطع نظر میں اسے یوں بھی نہیں جانے دینا چاہتا تھا۔ جس طرح سے میرا اپنی پھٹ پھٹی موٹر سائیکل پر گزر تھا اسی طرح اس عورت سے بات کرنے کو بھی گوارا کرلیا۔ ’’مطلب میرا یہ تھا تم مجھے اندر لے جاسکتی ہو ؟ ‘‘ وہ رک گئی۔ لیکن خاموش رہی۔
’’ لیکن تمہارا حلیہ ایسا ہے ... گیٹ والے ہمیں ساتھ جانے دیں گے کیا ؟ ‘‘
’’ میرا گھر قریب ہی ہے۔ میں دس منٹ میں آسکتی ہوں کپڑے بدل کر۔ ‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’ اچھا ‘‘ یہ کہہ کر میں رک گیا۔ جیسے کہ اس کے مزید کچھ کہنے کا انتظار کررہا ہوں۔ لیکن وہ کچھ نہیں بولی۔
’’ پیسے کتنے ہوں گے ؟ ‘‘ میں نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔ میرے لئے یہ کسی طوائف سے بات کرنے کا پہلا موقع تھا۔ کچھ خوف بھی تھا، کچھ شوق بھی تھا، کچھ مزا بھی آرہا تھا اور کچھ افسوس بھی محسوس ہورہا تھا۔ کیونکہ اس کا حلیہ اتناباسی اور غیر جاذب تھا۔
’’چار سو۔ ‘‘، اس نے جواب دیا اور میں چونک کر اپنے خیالات سے نکل آیا۔
’’چار سو! ... زیادہ ہیں یہ تو! ‘‘ میں احتجاج کے انداز میں بولا۔
’’ ایک ہی دام ہے بھائی ‘‘۔ اس نے جواب دیا مجھ کو یہ عورت بہت عجیب لگ رہی تھی۔ یہ کیسی طوائف ہے جو اپنے گاہک سے بھائی کہہ کر مخاطب ہوتی ہے۔ میں سوچ رہا تھا۔
’’ وہ لڑکیاں تو ابھی دو سو روپے لے رہی تھیں۔ ‘‘
’’ آپ کی مرضی ہے بھائی۔ میرا یہ دام ہے۔ وہ کالج کی لڑکیاں ہوں گی ان کے کوئی خرچے نہیں ہیں۔ میرا حساب کتاب الگ ہے۔ ‘‘ اس نے جواب دیا۔ مجھے وہ اپنے کام میں خاصی پکی نظر آئی۔
’’ اچھا ایساکرو دو سو روپے لے لو۔ باقی تم کو اندر برگر اور بوتل کھلا دوں گا۔ ‘‘ میں نے اس انداز میں کہا کہ جیسے مجھے یہ بھاؤ تاؤ آتا ہے۔
وہ ہلکے سے ہنسی۔ ’’ بھائی یہ سب چیزیں تم کالج کی لڑکیوں کے لئے کرو۔ میں کیا کروں گی بوتل اور برگر سے۔ میرا ریٹ تو چار سو روپے ہے۔ ‘‘ میں خاموش ہوکر سوچنے لگا۔
’’ جلدی بولو بھائی۔ ‘‘ وہ تھوڑی دیر میں بولی۔
’’ اچھا ، ٹھیک ہے ‘‘ میرے سامنے اب کوئی چارہ نہیں تھا۔
’’ پھر ٹھہرو۔ میں آتی ہوں دس منٹ میں۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ تیزی سے ایک جانب کو چل دی۔
اس کے جاتے ہی کئی سوالات میرے ذہن میں گردش کرنے لگے اگر یہ پیشہ ور عورت ہے تو زیادہ دیدہ زیب انداز میں کیوں نہیں آئی۔ اور پھر یہ ’’ بھائی ‘‘ کہہ کر کیوں مخاطب ہوتی ہے؟ یہ کیسی عجیب بات ہے ؟ اس سوال پر میرا دماغ سب سے زیادہ سوزش میں تھا۔
کچھ دیر بعد وہ واپس آگئی۔ نسبتاً معقول لباس پہن کر آئی تھی اور اب کراچی کے کسی نیم اوسط گھرانے کی عورت کہلائی جاسکتی تھی۔ واپس آنے کے بعد سب سے پہلے اس نے مجھ سے روپے وصول کئے۔ اس کے بعد ہم آگے بڑھے۔ میں نے گیٹ پر دونوں کے لئے ٹکٹ خریدے اور پھر ہم اتنی آسانی سے اندر داخل ہوگئے کہ میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ میری توقع کے خلاف گیٹ پر کوئی بھی غیر معمولی واقعہ پیش نہیں آیا۔ نہ کسی گارڈ نے اس عورت کو گھور کر دیکھا نا مجھ کو۔نہ ہی اس عورت نے کسی کو کوئی اشارہ کیا۔ ہم پارک میں داخل ہونے والے ایک عام سے جوڑے کی طرح تھے۔
وہ میرے ساتھ ساتھ چل رہی تھی جیسے کوئی بیوی اپنے میاں کے ساتھ چلتی ہو۔ بالکل فطری انداز میں۔ اور پھر اس کے اجلے کپڑے اور باسی سا چہرہ۔ کوئی شک بھی نہیں کرسکتا تھا کہ وہ گھریلو عورت کے سوا کوئی اور ہوسکتی ہے۔ میں اب سوچ رہا تھا کہ اس سے کیا بات کروں۔ اس کے میرے ساتھ چلنے کے انداز میں زرا بھی بناوٹ نہیں تھی۔
گیٹ سے کچھ اندر جانے کے بعد وہ مجھ سے دور ہٹ گئی۔ بالکل اسی فطری انداز میں جیسے اس نے پیسے لینے کے بعد میرے ساتھ چلنا شروع کیا تھا۔ اب کام پورا ہوچکا تھا اور اس کی محنت سوارت ہوچکی تھی۔ لیکن میں اس تجربے کو یوں اتنی جلدی بھی ختم نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔ اس میں ابھی اک تشنگی باقی تھی۔
وہ رک گئی اور اس نے گردن ہلا کر کہا ’’ ٹھیک ہے ... پھر میں چلتی ہوں۔ ‘‘
’’ ابھی کچھ دیر تو ٹھہرو۔ ابھی تو ہم داخل ہوئے ہیں کچھ دیر رک جاؤ۔ ‘‘ میں نے مسکرا کر دوستانہ انداز میں کہا۔ التجا میں اپنے لہجے میں ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔
وہ خاموش ہوگئی اور ساتھ چلنے لگی۔ کوئی دو سو قدم آگے چل کر اس نے پھر کہا۔ ’’ اچھا بھائی ... اب ٹھیک ہے ، تمہارا کام ہوگیا ہے۔ ‘‘
مجھے اس کے بھائی کہنے پر پھر تعجب ہوا۔ اور میں نے سوچا کہ یہ کیوں جانا چاہ رہی ہے۔ آگے مزید کام کی بات میں کیا کوئی دلچسپی نہیں اسے ؟ اس کے چہرے سے باسی پن اتر گیا تھا اور ایک سادہ و سپاٹ تاثر رہ گیا تھا جیسے وہ باسی پن سابقہ مرحلے نے اس کے چہرے پر طاری کیا ہو۔
’’ کچھ بوتل وغیرہ پی لو۔ اس کے بعد چلی جانا ‘‘ میں اس کو تھوڑی دیر ٹھہرا کر کچھ وقت چاہتا تھا۔ تاکہ مزید بات چیت ہوپائے۔ حالانکہ اس کام سے میں یہاں نہیں آیا تھا لیکن اب میرا ذہن اس راہ پر بہہ نکلا تھا۔
مجھے لگا کہ جیسے وہ میری اس تجویز سے تھوڑا سا گھبرائی ہو ’’ آپ کا کام ہوگیا ، بس اب میں چلتی ہوں ‘‘ وہ بولی۔
’’ ہاں میرا کام ہوگیا ، لیکن میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ کچھ دیر رک جاؤ ... کچھ ذرا کھا پی لو۔ پھر چلی جانا ، میں روکوں گا نہیں ، صر ف ایک شکریہ کے طور پر کہہ رہا ہوں ‘‘ میرے انداز میں ایک دوستانہ گزارش تھی۔
کچھ دیر کے لئے اس کے چہرے پر غیر یقینی اور غیر ارادگی کی پرچھائیاں گزر یں۔ پھر وہ مان گئی اور ہم کھانے پینے کے علاقے کی طرف چل پڑے۔ اس اثنا میں نہ وہ کچھ بولی اور نہ میری یہ ہمت ہو ئی کہ بات آگے بڑھاؤں۔ پھر مجھے ایسا لگاکہ جیسے وہ صرف برگر اور بوتل کے لالچ میں ٹھہر گئی ہو۔ کچھ دیر بعد ہم بیٹھے برگر کھا رہے تھے۔ ابھی تک اس نے کوئی بات نہیں کی تھی۔ میرا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ پھر ہمت کرکے میں نے آغاز کیا۔ ’’ تم کیا کام کرتی ہو ؟ ‘‘
اس نے ایک لمحے کو مجھے دیکھا اور پھر رکی کہ جیسے منہ کا نوالہ ختم کررہی ہو۔ ’’ بس محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔
یہ عجیب مرحلہ تھا لیکن اس قسم کا پہلا تجربہ ہونے کے باوجود میں سوچ رہا تھا کہ یہ کس قسم کی عورت ہے جو آگے بات نہیں کررہی۔ میرے ذہن میں تو تصور یہ تھا کہ طوائفیں خود آدمی پر ڈورے ڈالتی ہیں اور قابو کرتی ہیں۔ پھر میں نے براہ راست بات کرنے کی کوشش کی۔
’’ تو کیا آدمی لوگ کو اس طرح اندر لانا بھی محنت مزدوری میں شامل ہے۔ ‘‘
اس نے میری طرف دیکھا اور زیرِ لب مسکراہٹ کے ساتھ آہستہ سے گردن کو جھٹکا دیا۔
’’ اچھا تو کیااس کے علاوہ بھی کیا تم آدمی لوگوں کے ساتھ محنت مزدوری وغیرہ کرتی ہو۔ ‘‘
میں نے دیکھا کہ وہ ایک منٹ کے لئے رکی کہ جیسے اس کی سمجھ میں آیا ہو کہ میری کیا مراد تھی۔ اس کا چہرہ سرخ ہوگیا ، اور وہ کچھ شرم اور احتجاج کے ساتھ بولی۔
’’ نہیں بھائی ایسا نہیں ہے۔ آپ غلط سمجھے ہیں۔ میری عزت ہے ، بال بچے ہیں ، میں یہ کام نہیں کرتی۔ آپ غلط سمجھے ہیں۔‘‘ اس کے بعد وہ اس طرح سکڑی کہ جیسے مجھ سے بہت زیادہ خائف ہوگئی ہو۔ ایک لمحے کے لئے مجھے ایسا بھی لگا کہ وہ برگر ادھورا چھوڑ کر چلی جائے گی۔ اس وجہ سے مجھے اپنا اندازبدلنا پڑا۔
’’ معاف کرنا۔ میرا مطلب تمہیں ڈرانا نہیں تھا۔ بس میرا خیال اس طرف چلا گیا تھا ... ‘‘
وہ خاموش رہی۔
’’ تو کیا بہت سی عورتیں یہاں پر یوں مردوں کو اندر لاتی ہیں ؟ ‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’ کچھ ... ‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’ تم ان کو جانتی ہو ؟ ‘‘
نہیں ... ‘‘ اس نے گردن ہلائی۔ ... ‘‘
’’ تو پھر تم نے یہ کام کیسے کرناشروع کیا ؟ ‘‘
’’ بھائی میں غریب عورت ہوں ... میرے بال بچے ہیں ... پیٹ پالنے کے لئے یہ بھی کرلیتی ہوں ... ‘‘
’’ خوب خیال آیا تمہیں اس کام کا ... ‘‘ میں نے ذرا مسکرا کر کہا۔
وہ بھی مسکرائی۔ اور پھر مجھے ایسا لگا کہ اس نے اپنی زبان پر سے پابندی ہٹا لی ہو۔
’’ میرا گھر ادھر قریب ہے۔ میں نے اکثر ادھر سے آتے جاتے دیکھاکہ کالج کی لڑکیاں لڑکوں سے پیسے لے کر انہیں اندر لے جاتی ہیں۔ میں بھی ان کو حیرت سے دیکھتی تھی ... کہ یہ بھی کمائی کا اچھا طریقہ ہے۔ آسان بھی ہے ... خطرہ بھی کم ہے۔ پھر ایک روز دن میں مجھے پیسے کم ملے۔ میں نے شام کو سوچا چلو ادھر ٹرائی کرتے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر ایک بار پھر شرم کی پرچھائیں اس کے چہرے پر سے گزری۔ ’’لیکن بھائی ہم شریف لوگ ہیں ... اس کے آگے ہم کچھ نہیں کرتے۔ ‘‘
میں دل ہی دل میں محظوظ بھی ہورہا تھا اور مجھے اس عورت کی عقل و فہم اور جراء ت پر حیرت بھی تھی۔ لیکن میرے ذہن کی شہوت ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی تھی۔ ’’ اچھا یہ بتاؤ کہ تم کسی ایسی عورت کو جانتی ہو ...جو ...‘‘
اس کی زبان کو پھر لگام لگ گئی۔ وہ اس سوال کے بوجھ تلے کچھ پریشان نظر آئی۔ پھر جیسے اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے کہا ’’ ان کالج کی لڑکیوں کو دیکھنا ... شاید تمہارا کام بن جائے ... ‘‘ اس نے ایک طرف کو اشارہ کیا جہاں سے وہ کالج کی لڑکیاں گزر رہی تھیں جنہیں میں نے پہلے گیٹ پر دیکھا تھا۔ ان لڑکیوں کے لئے اس عورت کے لہجے میں حقارت تھی۔ میں بھی ان لڑکیوں کو دیکھ کر چونک سا گیا۔ وہ لڑکے ابھی تک ان کے ہمراہ تھے۔
اب ہمارے برگر ختم ہوچکے تھے۔ اور اس نے پھر جانے کا اظہار کیا ’’ اچھا بھائی ...مہربانی آپ کی بہت بہت ... نہیں تو ہم غریب لوگوں کو یہ کہاں نصیب ہوتا ہے ...‘‘
مجھے لگا کہ وہ واقعی تہہ دل سے شکریہ ادا کررہی ہو۔ ’’ اچھا ...ٹھیک ہے ‘‘ میں نے کہا۔ ’’یہ تو بتاؤ تمہارا کیا نام ہے ؟ ‘‘
’’ شادا ‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’ اچھا ... شادا ... پھر کیا ہماری ملاقات ہوگی ؟ ‘‘
وہ مسکرائی۔ ’’ جب دوبارہ دل چاہے ... ادھر آجانا ... باہر۔‘‘
میں بھی مسکرا دیا۔ وہ چلی گئی۔
وہ لڑکیاں اور لڑکے قریب ہی چند کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے جستجو ہوئی کہ ان کی باتیں سنوں۔
ان کی بات چیت میں اب وہ پہلے والا بھاؤ تاؤ اور کھنچاؤ نہیں تھا، بلکہ اس میں دوستانہ پن اور شوخی آگئی تھی۔ بالکل عام سے کسی یونیورسٹی کالج کے طلبا لگ رہے تھے ، اور باتیں بھی کوئی خاص مختلف نہیں تھیں۔ بعد میں پردے کے پیچھے ان کے درمیان کیا کچھ ہو اس سے مجھے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اور نہ کسی بات پر مجھے کوئی تعجب ہوتا۔ میں ان کی باتیں سننے کا اس لئے شائق تھا کہ اب سے کچھ دیر پہلے میں نے ان کے درمیان لین دین ہوتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ اور اس پر مجھے تعجب تھا۔ میرے خیال میں یہ ہمارے اس معاشرے میں ہونے والی پوشیدہ تبدیلیوں کا ایک اظہار تھا۔
کچھ دیر میں ان کی باتیں سنتا رہا پھر بور ہوکر ایک اور طرف کو نکل گیا۔
لیکن اگلے روز میں اپنے ایوننگ اخبار میں یہ خبر لگانے سے خود کو بازنہیں رکھ سکا ... خبر کا خلاصہ کچھ یوں تھا :
’’ الہ دین پارک میں فحاشی ‘‘
’’ہمارے اسٹاف رپورٹر نے پتا چلایا ہے کہ الہ دین پارک شہر میں فحاشی کا مرکز بنتا چلا جارہا ہے۔ بدچلن عورتیں مردوں سے پیسے وصول کرکے اندر لے جاتی ہیں اور پارک میں بد فعلیاں عروج پکڑ رہی ہیں ...‘‘
اس خبر میں اصل حقائق کو بے پردہ نہ کرنے کی وجہ سے مجھے افسوس تھا لیکن اپنی نوکری اور ایک ایوننگ پیپر کے تقاضوں کے تحت میں بھی مجبور تھا۔
منگل، 22 جولائی، 2014
ندیم سالا
’’ندیم سالے کو نوکری مل گئی۔۔۔‘‘ اسماعیل نے سگریٹ کا ایک گہرا کش لیتے ہوئے کہا اور دیر تک دھوئیں کو اپنے سینے میں بھینچے رکھا۔ جیسے کہ میرے حیرت سے پھٹ پڑنے کا انتظار کر رہا ہو۔
’’اچھا۔۔۔واقعی۔۔۔‘‘ اور بہت جلد میں حیرت سے پھٹ پڑا۔’’۔۔۔کہاں؟‘‘
’’ریلوے میں ۔۔۔‘‘ اس نے ایک دم کہا۔
اور اس کے پھیپھڑوں میں سمایا ہوا دھواں ناک کے دونوں نتھنوں سے ایک موٹے دھارے کی مانند نکلا اور نیچے کاؤنٹر کے شیشے پر پھیل گیا۔ ’’ریلوے میں؟۔۔۔‘‘ میں نے اس کی بات دہرائی۔
’’ ریلوے میں ۔۔۔‘‘ اسماعیل سر ہلا کر ہلکے سے مسکرایا۔ ظاہر تھا کہ اس کو بھی ابھی تک یقین نہیں آیا تھا۔
’’کیسے،۔۔۔‘‘
’’اُسی نے دلوائی۔۔۔‘‘ اسماعیل نے دوکان کے شیشہ کے باہر اشارہ کیا۔ دوسرے ہاتھ سے رجسٹر اٹھا کر صفحے پلٹنے لگا۔
میرے ہاتھ میں جو وڈیو کیسٹ تھے میں نے کاؤنٹر پر رکھ دے۔
’’کس نے ؟۔۔۔ ‘‘ میں نے دوکان کے شیشے کے بارے سڑک کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
سڑک کے اس پار چوراہے کے قریب پولیس کی ایک موبائل آکر کھڑی ہوگئی تھی، اور پولیس کے دو باوردی سپاہی سڑک کے بیچوں بیچ کلاشنکوف لئے کھڑے تھے۔
میں نے دل ہی دل میں ایک موٹی سی گالی دی۔
’’وہی جونیلی کار میں جو آتی ہے۔۔۔‘‘ اسماعیل نے کہا۔
’’اور بلو فلمیں لے جاتی ہے۔۔۔‘‘ میں نے فقرہ مکمل کرتے ہوئے قہقہہ لگایا۔
’’واہ یار۔۔۔ زبردست۔۔۔ ندیم سالا بھی فنکار ہے۔۔۔ تو کیا۔۔۔ اس لڑکی کے باپ نے لگوائی نوکری؟۔۔۔ ‘‘ میں نے سوال پوچھا، اور پھر خود ہی اپنا جواب دیتے ہوئے بولا۔’’وہ سالا اس کے باپ کے پاس پہنچ گیا ہوگا۔۔۔ کہ تیری لڑکی ایسی فلمیں دیکھتی ہے۔۔۔ لگوا میری نوکری ۔۔۔ورنہ ؟۔۔۔ ہم دونوں مل کر ہنسے۔
اسماعیل نے ایک نظر ان وڈیوکیسٹوں کو دیکھا جو میں نے کاؤنٹر پر رکھے تھے اور اپنے رجسٹر کے کسی صفحے پر ان کی واپسی کا اندراج کرنے لگا۔
’’دکھانا ذرا۔۔۔‘‘ میں نے اس کے رجسٹر کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’دیکھو تو آخری بار وہ کون سی فلم لے کر گئی تھی۔۔۔‘‘
اسماعیل سر اٹھا کر مسکرایا’’دیکھ لو۔۔۔ مگر وہ سالا اس کی فلموں کی انٹری نہیں کرتا۔‘‘
میں نے ہنستے ہوئے سر ہلایا ’’بڑا بدمعاش ہے سالا۔۔۔‘‘ اور ایک نظر چوراہے کی طرف پھر دیکھا۔ پولیس والے کسی اسکوٹر والے کو روک رہے تھے میں نے اپنے دائیں ہاتھ سے کرتے کی جیب ٹٹولی، اپنی موٹر سائیکل کے کاغذات میں گھر بھول آیا تھا۔ مجھے ایک ہلکا سا دھچکا لگا۔
’’یہ۔۔۔ پھر پبلک کو تنگ کرنے آگئے۔‘‘ میں نے ان پولیس والوں کو ایک موٹی سی گالی دتے ہوئے میں نے کہا۔
اسماعیل نے ایک نظر چوراہے کی طرف ڈالی’’۔۔۔کیوں کیا کاغذات نہیں ہیں کیا؟۔۔۔‘‘ وہ دھیمے سے مسکرایا ’’۔۔۔بیٹھ جا اب۔۔۔ جلدی کیا ہے جانے کی ۔۔۔‘‘ اور اس نے ایک اسٹول کی طرف اشارہ کیا۔
بیٹھتے ہوئے میں نے کاؤنٹر پر سے ایک رجسٹر اٹھا لیا اور اس کے صفحے پلٹنے لگا۔ ’’دیکھا یار۔۔۔ کسی ایسی بندی کا پتہ دے جس کا باپ مجھے بھی نوکری دلائے۔۔۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔ اسماعیل اپنی کالی گھنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا ہوا مسکرا یا۔
’’بیٹا دیکھتا رہے۔۔۔ کچھ نہیں ملے گا۔۔۔‘‘
’’اگر تجھے پتے چاہئے تو دو چار کے میں بھی دے سکتا ہوں لیکن ملے ملائے گا کچھ نہیں، نہ چھوکری ملے گی۔۔۔ اور نوکری؟۔۔۔ ہا ۔۔۔ ہا۔‘‘ وہ ہنسا۔’’بھول جا!۔‘‘
پھر اس کی زبان سے بے ساختہ نکلا۔’’ابے!۔۔۔ ‘‘ وہ شیشے کے باہر چوراہے کی طرف دیکھ رہا تھا۔
باہر پولیس والوں نے ندیم سالے کو روکا ہوا تھا۔ وہ اس کی تلاشی لے رہے تھے۔
’’ابے۔۔۔‘‘ میرے منہ سے بھی بے ساختہ نکلا۔’’۔۔۔ سنا تھا کہ بڑی بات تھی سالے کی ۔۔۔ اب تلاشی دے رہا ہے ۔۔۔اور وہ بھی اپنی ہی گلی میں۔۔۔‘‘ میں نے قہقہہ لگایا۔
’’زمانہ یہ ہی آگیا ہے۔۔۔ بڑے بدمعاشوں کی بھی کوئی عزت نہیں بچی ہے۔۔۔‘‘ اسماعیل بھی ہنسا۔
کچھ دیر بعد ندیم سالا گردن ہلاتا ہوا دوکان میں داخل ہوا۔ اس کی شکل سے اتنی مسکینی ٹپک رہی تھی کہ میری ہنسی چھوٹ گئی۔
مجھے ہنستا دیکھ کر تھوڑا کھسیانا ہوا، پھر میرے ساتھ ہنسنے کی کوشش کی۔ لیکن کچھ بن نہیں پائی۔ ’’اب چھوڑ دے سالے۔۔۔ اپنے ہی محلے میں ذلیل ہوگیا۔۔۔‘‘ اس نے کہا۔
لیکن میں اس موقع کو اتنے آرام سے چھوڑنے والا نہیں تھا۔ ’’ارے اس میں ذلیل ہونے کی کیا بات۔۔۔ وہ تو سب جانتے ہیں کہ تو بہت بڑا بدمعاش ہے۔۔۔ لیکن تیری شکل ایسی ہے کہ بہت ہی چھوٹے لیول کا چور اچکا لگتا ہے۔۔۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔‘‘ ۔۔۔ اس لئے ایک دم معمولی سپاہی بھی تجھے روک کر تیری تلاشی لے لیتا ہے۔
اس پر اسماعیل کو بھی ہنسی آگئی۔
ندیم سالے نے اپنی کالی ٹوپی اتاری، جس کا سامنے کا رخ پیچھے کی طرف کر کے لگایا ہوا تھا۔ ٹوپی کے نیچے اس کے لمبے سیاہ بال، پیچھے کی طرف ہو کر سر سے یوں چپکے ہوئے تھے کہ لگتا تھا جیسے نیچے ایک اور ٹوپی پہنی ہوئی ہے۔ دھوپ کی تپش اور ٹریفک کی دھوئیں کی وجہ سے ماتھا ایک دم کالا تھا اور یہ بتانا مشکل تھا کہ کہاں ماتھا ختم ہوتا ہے اور کدھر سے بال شروع ہوتے ہیں۔
’’ابے سالے یہ اپنے تھانے کے نہیں تھے۔۔۔ ناظم آباد تھانے کی پولیس ہے۔ سالی ہمارے علاقے میں آگئی ہے۔۔۔ اپنے تھانے کے ہوتے تو دیکھ لیتا سالوں کو۔۔۔‘‘ ندیم سالے نے اپنی بات رکھنے کے واسطے جواب دیا۔ ’’۔۔۔ یہ سالے۔۔۔ ان پولیس والوں کی بھی آپس میں بڑی بدمعاشی چلتی ہے۔۔۔ دیکھ لوں گا ان سالوں کو بھی۔۔۔‘‘ اس کے تیوروں سے پتہ چلتا تھا کہ اب وہ مزید ریکارڈ برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔ میں نے بھی موضوع تبدیل کیا۔
’’اب چھوڑ یار، ہوجاتا ہے اس طرح ۔بھول جا!۔۔۔ بتاؤ، سنا ہے تمہیں نوکری مل گئی ہے ریلوے میں؟۔۔۔‘‘
’’ہاں۔۔۔‘‘ ندیم نے آہستہ سے سر ہلایا۔
’’مبارک ہو بہت بہت۔۔۔ تو کب سے جوائن کر رہے ہو؟۔۔۔ دوکان پر بیٹھنا چھوڑ دو گے کیا؟۔۔۔‘‘
’’سالا پتہ نہیں۔۔۔‘‘ اس نے جواب دیا’’۔۔۔ ابھی پوسٹنگ کا پتہ نہیں۔۔۔‘‘
’’فکر نہیں کر۔۔۔ ہوجائے گی۔۔۔ مگر یہ بتا ۔۔۔ آج کل حالات اتنے ٹائٹ ہیں تجھے نوکری ملی کیسے؟۔۔۔‘‘
’’بس سالی۔۔۔ لگ گئی۔۔۔ جان پہچان نکل آئی کچھ۔۔۔‘‘ اس نے ذرا دھیمے انداز میں کہا۔
اسماعیل نے آہستہ سے مجھے آنکھ ماری، اور میں فوراً بولا۔
’’سنا ہے تیری کسی گاہک نے لگوائی ہے‘‘۔۔۔اور مسکراہٹ مجھ سے نہیں رکی۔
ندیم سالے نے ایک لمحے کے لئے پریشان ہوکر اسماعیل کی طرف دیکھا۔ اسماعیل خاموشی سے اپنے رجسٹر میں کوئی اینٹری کر رہا تھا۔ پھر میری طرف پلٹتے ہوئے اس نے کہا۔’’۔۔۔ ہنس لے۔۔۔ ہنس لے سالے۔۔۔ لیکن اپنا یہ ہی حساب کتاب ہے۔۔۔ اپنے کام تو چھوکریاں کرتی ہیں۔۔۔‘‘ اس نے اپنے دانت نکالے۔
’’ بہت خوب۔۔۔ بہت خوب۔۔۔ کیا بات ہے استاد تمہاری!۔۔۔‘‘ میرا مذاق اشتیاق میں بدل گیا۔ ’’لیکن یہ کام کرایا تونے کیسے؟۔۔۔‘‘
’’بس چھوڑ سالے ۔۔۔ تیرے بس کی بات نہیں ہے‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’اب یار بتا بھی۔۔۔ کچھ تیرے کارنامے پتہ تو چلیں۔۔۔‘‘ میں بضد رہا۔
لیکن ندیم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے اسماعیل کی طرف دیکھا جیسے کہ مدد طلب کر رہا ہوں۔ لیکن اسماعیل خاموش رہا۔ ندیم سالا کاؤنٹر کے پیچھے ایک اونچے اسٹول پر بیٹھ گیا۔ اور اپنی گہری اُودی رنگ کی قمیض کے اوپر کے دوبٹن کھول کر کالر کو گردن سے دور کرلیا۔ پھر اس نے پتلون کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک رومال نکالا اور اُسے اس طرح تہیں دینے لگا کہ اس کی ایک پٹی بن جائے۔ پھر اپنے رومال کی پٹی کو اس نے قمیص کے کالر کے نیچے رکھ لیا۔
’’تو پوسٹنگ ہوگئی تو دوکان پر بیٹھنا چھوڑ دو گئے؟۔۔۔‘‘ میں نے پھر سوال کیا۔
’’دیکھو یار۔۔۔ سالا اب کیا ہوتا ہے۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ اور یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ باہر ایک کار آکر رکی تھی جس کا صرف سفید بونٹ نظر آرہا تھا۔ لیکن ندیم شاید وہ کار پہچان گیا اور باہر جانے کے لئے دروازے کی طرف بڑھا۔
ندیم سالے کے دوکان سے نکلنے کے بعد میں نے ذرا آگے بڑھ کر دیکھا کہ کون ہے۔ تو گاڑی میں کوئی لڑکی بیٹھی ہوئی تھی جس کے بال کٹے ہوئے صرف گردن تک تھے۔ ندیم سالا کھڑا ہوا اس سے بات کر رہا تھا۔ پھر اس لڑکی نے ہاتھ بڑھا کر ندیم کو دو وڈیو کیسٹ دیئے۔ ندیم انہیں لے کر دوکان میں واپس داخل ہوا۔
’’کیوں بھئی!۔۔۔ کون ہے؟۔۔۔ ‘‘ میں نے ذرا مذاق کے انداز میں کہا۔ لیکن اس نے میری بات کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا۔ ان کیسٹوں کو کاؤنٹر پر رکھ کر پیچھے ریک پر لگے کیسٹوں پر اپنی نگاہیں دوڑانے لگا۔ پھر اس نے نیچے کی طرف سے ایک کیسٹ نکالا اور باہر چلا گیا۔ لیکن باہر جاکر بجائے اس کے کہ وہ کیسٹ اس لڑکی کو تھماتا، اس نے گاڑی کی دوسری طرف جاکر پیسنجر سیٹ کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گیا۔ اس لڑکی نے گاڑی تھوڑی ریورس کی اور پھر وہ چوراہے کی جانب روانہ ہوگئی۔
’’ابے!۔۔۔‘‘ میں چونک کر تھوڑا زور سے بولا۔ ’’یہ تو سالا اس کے ساتھ چلا گیا!۔۔۔ ابے!۔۔۔ کون ہے بھئی وہ!۔‘‘
اسماعیل نے اپنا ہاتھ اٹھا کر گھمایا اور کندھے اُچکائے۔’’کیا پتہ۔۔۔‘‘ اس نے کہا۔ پھر اس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ پھیلی، اور ایک دفعہ پھر ہاتھ گھما کر کہا ’’کیا پتہ۔۔۔ کوئی وی سی آر وغیرہ ٹھیک کرنے گیا ہوگا۔‘‘
’’ابے لیکن یہ دیکھنے میں اچھی بھلی لڑکیاں اس کو لے کیسے جاتی ہیں۔‘‘ میں نے استفہام کا اظہار کیا۔
’’ کیا پتہ۔۔۔‘‘ اسماعیل نے وہی جواب دیا۔’’اگر پتہ ہوتا تو میں خود یہ نہیں کرتا۔۔۔‘‘ وہ دانت نکال کر بولا۔
’’ابے لیکن۔۔۔‘‘ بات میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔۔۔’’یہ کرتا کیسے ہے یہ سارا۔۔۔‘‘
اسماعیل نے کوئی جواب نہیں دیا۔
چوراہے پر پولیس والے ابھی تک کھڑے ہوئے تھے۔ میں نے ندیم سالے کی طرف سے دھیان ہٹا دیا اور اسماعیل سے پھر مخاطب ہوا۔ ’’تو استاد۔۔۔ کچھ بندوبست وغیرہ ہوا؟۔۔۔ بڑے دن ہوگئے۔۔۔ کچھ گلاسوں میں برف ڈالے ہوئے۔۔۔‘‘
’’ابے مجھ سے کیا کہتا ہے۔۔۔ اس سے پوچھ۔۔۔‘‘ اسماعیل نے باہر کی طرف اشارہ کیا’’۔۔۔ وہ جو ابھی گاڑی میں چلا گیا اس لڑکی کے ساتھ۔۔۔‘‘
’’ابے یار۔۔۔‘‘ میں نے گردن ہلاتے ہوئے کہا۔’’اس سالے ندیم سالے کے پاس بھی دنیا میں ہر دو نمبر کے کام کی جگاڑ موجود ہے۔۔۔ سمجھ میں نہیں آتا یہ آدمی ۔۔۔‘‘
اسماعیل نے اپنا دائیاں ہاتھ پھر ایک سوالیہ انداز میں ہوا میں گھمایا، اور سر کو بائیں جانب ہلکے سے جھکا دیا جیسے دونوں کو آپس میں بیلنس کر رہا ہو۔
’’سالا خود تو پیتا نہیں لیکن بندوبست کرنا خوب جانتا ہے۔۔۔ جس چیز کا بندوبست کرانا ہو ندیم سالے سے کرالو۔۔۔‘‘ میں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
اسماعیل پاکٹ سے سگریٹ نکال کر اسے جلا رہا تھا۔ پھر ہماری گفتگو دوسرے موضوعات کی جانب چلی گئی۔ آدھے گھنٹے بعد میں نے نظر گھمائی تو وہ کمبخت پولیس والے اس وقت تک کھڑے ہوئے تھے۔ میں تنگ سا آگیا، اور لاپروائی کی کیفیت مجھ پر طاری ہوئی۔
’’یار میں چلا۔۔۔ ‘‘ میں نے اسماعیل سے کہا۔’’۔۔۔ اگر ان پولیس والوں نے روکا تو پھر دیکھی جائے گی۔۔۔‘‘
باہر نکل کر میں نے موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور چوراہے کی طرف بڑھ گیا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر میں وہاں سے بخیر و عافیت اور بغیر کسی خرچے کے نکل آیا۔ تھوڑے آگے جاکر مڑ کر میں نے انہیں لعنت دکھائی۔ جو انہوں نے شاید نہیں دیکھی۔
اگلے چند روز تک میری ندیم سالے سے ملاقات نہیں ہوئی اور نہ میں نے اس کا کوئی ذکر سنا۔ پھر ایک روز میں اس کی دوکان میں کھڑا اسماعیل سے بات کر رہا تھا کہ اس کی موٹر سائیکل برابر والی دوکان کے سامنے آکر رکی اور وہ اتر کر دوکان میں داخل ہوا۔ اپنے انداز سے خاصا ہشاش بشاش اور خوش نظر آرہا تھا۔
میں نے اس سے پوچھا۔’’کیا بات ہے بڑے اسٹائیل میں ہو۔۔۔‘‘
’’کچھ نہیں یار۔۔۔ سالا۔۔۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
میں دوبارہ اسماعیل سے بات کرنے کی طرف متوجہ ہوگیا۔ ندیم سالے نے کاؤنٹر کے پیچھے دراز کھولی اور اس میں کچھ تلاش کرنے لگا۔ پھر اندر سے ایک چھوٹی ڈائیری نکال کر ورق پلٹنے لگا۔ ڈائیری سے شاید کوئی فون نمبر اس نے اسماعیل کی سگریٹ کی ایک خالی ڈبیا کے اوپر کے حصہ پر اتارا۔ پھر سگریٹ کی ڈبیا میں سے اتنا حصہ پھاڑ کر ڈائیری سمیت اپنی جیب میں رکھ لیا۔ اور دوکان کے باہر چلا گیا۔
اسماعیل نے کچھ حیرت اور کچھ سوالیہ نظروں سے اُسے باہر جاتے دیکھا۔ میں چونکہ اس بات کے پس منظر سے واقف نہیں تھا، اس لئے خاموش رہا۔ البتہ مجھے احساس تھا کہ کوئی غیر متوقع بات یا تو ابھی ابھی ہوئی ہے۔ یا پھر ہونے جا رہی ہے۔
ہم لوگ پھر اپنی باتوں میں مشغول ہوگئے۔
کچھ دیر بعد ندیم سالا پھر دوکان میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر ایک اتنا گہرا اطمینان تھا کہ جس میں تمام بلاوجہ کی مسکراہٹیں آپ ہی آپ گھل کر غائب ہوجائیں۔
اسماعیل نے پھر سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’کیا؟۔۔۔ بیچ دیا؟۔۔۔‘‘
ندیم نے سر کو خفیف سا جھٹکا دیا۔
’’کتنے ملے؟۔۔۔’’اسماعیل نے اپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں میں دبا کر پوچھا، جیسے اپنے ہونٹوں کو خود سری کی کسی حرکت سے روک کر رکھ رہا ہو۔
’’ڈھائی سو۔۔۔‘‘ ندیم سالے نے نہایت معمولی لہجے میں جواب دیا۔
’’کیا؟۔۔۔ ڈھائی سو!واہ‘‘ اسماعیل سے اب اپنا قہقہہ نہیں رکا اور اپنی گردن ہلا کر زور سے ہنسنے لگا۔
’’کیا بیچا بھئی ۔۔۔ کیا بیچ دیا؟۔۔۔ ’’اب میں نے تیوری پر بل ڈال کر ندیم سالے سے سوال کیا۔ یہ معمہ میری سمجھ سے بالکل باہر ہوگیا تھا۔ اسماعیل اپنی گردن ہلا کر ہنستا رہا۔ ندیم نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ مگر میری سوالیہ نظریں اس پر سے نہیں ہٹیں۔ آخر اس نے آہستگی سے کہا۔
’’نمبر۔۔۔‘‘
’’نمبر؟۔۔۔کیسا نمبر؟۔۔۔‘‘
وہ کچھ دیر خاموش رہا۔ ’’سالا فون نمبر۔۔۔‘‘ اس نے یوں کہا جیسے کہ مجھے ہر بات ہجے کر کہ بتانی ضروری ہے۔
’’فون نمبر؟۔۔۔ کس کا فون نمبر؟۔۔۔ بیچ دیا؟۔۔۔ کیا مطلب؟۔ ‘‘ واقعی مجھے ہر بات ہجے کرکہ بتانی ضروری تھی۔
ندیم کے لہجے میں مجھے ایک بے زاری محسوس ہوئی۔ ’’ابے سالے۔۔۔‘‘ اس نے سر کو مختصر طور پر بلاتے ہوئے کہا۔’’فون نمبر میں کس کا بیچوں گا؟۔۔۔ سالا مولوی صاحب کا فون نمبر تو کوئی مجھ سے خریدے گا نہیں۔۔۔‘‘
اسماعیل کی پھر ہنسی چھوٹ گئی۔ اپنے بیوقوف ہونے کا ثبوت دینے کے لئے میں بھی ذرا سا ہنسا۔
’’ابے یار۔۔۔‘‘ میں نے ذرا بات بنانے کی کوشش کی۔ ’’لیکن کون، سی والی کا نمبر بیچا ذرا یہ تو بتا۔۔۔‘‘
’’اب چھوڑ۔۔۔ کیا کرے گا۔ تیرے کو اگر کبھی کسی کا نمبر چاہئے ہو تو بول دینا۔۔۔ تجھے ڈسکاؤنٹ دے دوں گا۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ مسکرایا۔ میں بھی یوں ہنسا کہ جیسے میری تمام مشکلیں آسان ہوگئیں ہوں۔ ’’بہت صحیح۔۔۔‘‘ میں نے کہا۔’’لیکن یار یہ۔۔۔ تم کرتے کیسے ہو۔۔۔ مطلب ۔۔۔ لڑکیوں کے نمبر۔۔۔اور پھر بیچ بھی لیتے ہو۔۔۔‘‘ میں گردن ہلا کر ہلکے سے ہنسا۔ ’’آخر کرتے کیسے ہو؟۔۔۔‘‘ میری ہنسی اب ایک بہت بڑے سوالیہ نشان میں تبدیل ہوگئی تھی۔
ندیم نے گردن گھما کر شیشے کے باہر سڑک کی طرف دیکھا۔ اس کا چہرہ ایک چوڑی مسکراہٹ سے آراستہ تھا۔’’۔۔۔ کچھ نمبر تو میں نے کئی بار بیچے ہیں ۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر اس کی مسکراہٹ ایک اطمینان میں تبدیل ہوگئی۔ باہر سڑک پر خاصا سکون تھا۔ چوراہے کے ساتھ کونے کو مکان میں جو اسکول تھا، وہاں ابھی چھٹی نہیں ہوئی تھی۔ بچوں کو گھر لے جانے والی چندسوزوکی وینیں کھڑی چھٹی ہونے کا انتظار کر رہی تھیں۔ کونے پر پولیس کی موبائل بھی کھڑی تھی۔ یا تو وہ خالی تھی، یا سپاہی اس میں بیٹھ کر چائے وغیرہ پی رہے تھے، اور ابھی تک سڑک پر نہیں اترے تھے۔ ندیم نے پلٹ کر اسماعیل کی طرف دیکھا۔ ’’یار اپنی دوکان میں سالا کوئی اے سی ویسی لگانا چاہئے گرمی بڑی ہوجاتی ہے۔‘‘ اوپر چھت پر پنکھا اک نیم مدھم رفتار میں چل رہا تھا۔ پھر وہ میری طرف پلٹا۔ لیکن اس کے کچھ کہنے سے پہلے میں خود بول پڑا۔
’’تو کیا نمبر بیچ بیچ کر اے سی لگواؤ گے؟‘‘۔۔۔ اس کا مزاق اڑاتے ہوئے میں بولا۔
’’اب سالی کوئی پکی نوکری تونہیں ہے۔۔۔ جو جگاڑ ہوجاتی ہے کرلیتے ہیں۔۔۔‘‘
’’پکی نوکری نہیں تو کیا، پکی سالیساں تو بہت سی ہیں۔۔۔‘‘ میں پھر ہنسا۔ لیکن ندیم نے ایک دم اپنا انداز سنجیدہ کرکے میری ہنسی روک دی۔ ’’ابے سالے تو سمجھتا نہیں ہے۔۔۔ لڑکیاں یا ان کے نمبر مل جانا کون سی بڑی بات ہے۔ لڑکیاں سالیاں بہت ملتی ہیں، ان کے نمبر بھی ملتے ہیں، وہ اچھی بھی ہوتی ہیں۔۔۔ لیکن آج تک کوئی لڑکی بہت زیادہ پسند نہیں آئی۔۔۔ اس لئے ان کے نمبر آگے بڑھا دیتا ہوں۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا لیکن اس کی آنکھوں میں ہنسی تھی۔
میں حیرت سے دنگ کھڑا تھا۔
’’لیکن سالے تو کس لئے فکر مند ہوتا ہے۔۔۔ تیری بینک کی نوکری پکی ہے۔۔۔ تیرے کو تھوڑی نمبر آگے پیچھے کرنے پڑتے۔۔۔ موج کر۔۔۔ اور اگر کسی کا نمبر چاہئے تو بتا دیجیو ۔۔۔ تجھے مفت سپلائی کردوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے پنکھے کی رفتار فل کر دی۔
میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ وہ مجھ سے سب کچھ سچ کہہ رہا تھا، یا ایسے ہی الّو بنا رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، اس نے مجھ سے سوال کیا ’’یہ بتا تیری ریلوے میں کوئی لائن ہے؟‘‘
’’ریلوے میں؟۔۔۔ کیوں؟۔۔۔ ‘‘ میرے منہ سے خود بخود نکلا۔
’’ایک پوسٹنگ کرانی ہے۔۔۔‘‘ اس نے کہا۔
’’پوسٹنگ؟۔۔۔‘‘ اور میں نے ایک لمحے رک کر سوچا۔ وہ متواتر میری طرف دیکھ رہا تھا۔ لیکن اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا، باہر ایک کار آکر رکی۔ اس میں تین لڑکے بیٹھے ہوئے تھے۔ ندیم سالے کی توجہ میری طرف سے ہٹ کر اس کار کی طرف مبذول ہوگئی۔ پھر اس نے میری طرف دیکھ کر کہا۔
’’ایک منٹ رکو۔۔۔ میں پھر تم سے بعد میں بات کروں گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ دوکان سے باہر چلا گیا۔
اگلے چند روز تک میں گھر کے کچھ کاموں میں مصروف رہا۔ پھر ایک روز بھابی نے چند فلمیں لانے کی فرمائش کی۔
اس روز ویڈیو کی دوکان پر ندیم سالے کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ گاہک خاصے موجود تھے، اور اسماعیل ان سب کے لئے فلمیں ڈھونڈنے اور ان کا اندراج کرنے میں مصروف تھا۔ میں ایک طرف اسٹول پر بیٹھ گیا اور اسماعیل کا تھوڑا فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ پھر میں نے اس سے پوچھا۔ ’’ندیم سالا کدھر ہے آج۔۔۔‘‘ وہ اپنے رجسٹر میں کچھ لکھنے میں مصروف تھا۔ اس نے اپنا بائیاں ہاتھ اٹھا کر یوں اشارا کیا کہ جیسے میں کچھ دیر اور انتظار کروں، وہ بعد میں مجھ سے بات کرے گا۔
کچھ دیر میں جب رش تھوڑا چھٹا، تو وہ مجھ سے کہنے لگا۔ ’’ندیم سالے کی پوسٹنگ ہوگئی ۔۔۔وہ نہیں آئے گا۔‘‘
’’پوسٹنگ ہو گئی؟۔۔۔ کہاں؟۔۔۔ تو کیا دوکان پر نہیں آئے گا۔؟‘‘
اپنے ہونٹوں کے کناروں کو نیچے کی طرف جھکا کر اُس نے ایک لاعلمی کا اظہار کیا۔ لیکن پھر مسکراتا ہوا بولا۔ ’’پھاٹک پر۔۔۔‘‘
’’پھاٹک پر؟۔۔۔ کیا مطلب پھاٹک پر؟۔‘‘ بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔۔۔
’’یونی ورسٹی کے قریب کسی ریلوے پھاٹک پر اس کی پوسٹنگ ہوئی ہے‘‘ ۔۔۔ اس نے جواب دیا۔۔۔
’’کیا مطلب ۔۔۔ کیا پھاٹک پر وہ اب چارپائی ڈال کر بیٹھے گا۔۔۔’’میری بری طرح ہنسی چھوٹ گئی۔ اسماعیل بھی ہنسا اور اس نے اپنا دایاں ہاتھ ہوا میں ایک سوالیہ انداز میں گھمایا۔
’’کیا پتا۔۔۔ لیکن کہہ رہا تھا کہ نوکری تو پکی ہے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’لیکن۔۔۔ ‘‘ مجھے ابھی تک ہنسی پر قابو نہیں آیا تھا۔’’ کیا دن بھر صرف پھاٹک کھولے بند کرے گا۔۔۔‘‘
’’۔۔۔ اور رات کو بھی۔۔۔‘‘ اسماعیل نے میرا فقرہ مکمل کیا۔
’’۔۔۔اچھا۔۔۔ کروائی کسی طرح اس نے اپنی پوسٹنگ ۔۔۔‘‘ اسماعیل نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر وہ بولا۔ ’’سالا بڑا فنکار ہے ۔۔۔ کیا پتا وہاں کوئی چارپائیوں کی ہیرا پھیری شروع کر دے۔۔۔ یا اپنی جگہ کسی اور کو بٹھا کر خود کچھ اور شروع کر دے۔۔۔‘‘
کچھ دیر بعد میں ہنستا ہوا دوکان سے نکلا۔ ویڈیو کے دونوں کیسٹوں کو ربربینڈ کے چوڑے اسٹریپ کی نیچے پھنسایا جو میری موٹر سائیکل کی پیٹرول کی ٹنکی پر لگا رہتا تھا۔ پھر کک لگا کر موٹر سائیکل کو اسٹارٹ کیا اور چوراہے کی جانب بڑھ گیا۔ آج وہاں پولیس کی موبائیل موجود نہیں تھی۔
منگل، 15 جولائی، 2014
کہانیوں کا ٹھیلا
’’آلو لے لو، بھنڈی لے لو، ٹماٹر لے لو۔۔۔‘‘۔ رحیم خان دن بھر یہ آواز لگاتا، اور کہانیاں سوچتا۔
’’بھنڈی کیا حساب ہے؟‘‘
’’بیس روپے کلو۔۔۔‘‘
’’بیس روپیہ؟ ۔۔۔ یا اللہ کیا مہنگائی کا زمانہ آگیا ہے ۔۔۔‘‘
’’بہن جی۔۔۔ کل بائیس روپے ہونے والی ہے۔۔۔ آج لے لو۔۔۔‘‘
’’ہیں؟۔۔۔ آج لے لو؟۔۔۔‘‘ عورت نے گھبرا کر اک غیر یقینی کی نگاہ اس پر ڈالی۔۔۔ اور رحیم خان نے ایک کہانی شروع کر دی۔
’’باجی، سنتے ہیں کہ پیچھے سے سپلائی ختم ہونے والی ہے۔ سیٹھ عابد کا نام تو سنا ہوگا آپ نے؟۔۔۔ اس کا چھوٹا بھائی۔۔۔ سیٹھ خالق مارکیٹ سے سارا مال اٹھا رہا ہے اور انڈیا بھیج رہا ہے اب ملک میں مہنگائی نہیں ہوگی تو کیا ہوگیا۔۔۔ اسی طرح سے چاول بھی سارا ایکسپورٹ ہوگا ۔۔۔ دالیں بھی سب چلی گئیں۔۔۔ تو اب بتایئے ملک میں کیا بچا؟۔۔۔ دو چیزیں بچی ہیں۔۔۔ ہوا ۔۔۔ اور مٹی۔۔۔ مٹی پر بیٹھو۔۔۔ اور ہوا کھاؤ۔۔۔ باجی ایک بات بتاؤ میں آپ کو ۔۔۔ اس ملک میں ہوا کبھی ختم نہیں ہوگی۔۔۔ اگر یہ ساری ہوا کہیں چلی بھی گئی تو یہاں کے رہنے والے سب مل کر اتنی ہوا چھوڑیں گے کہ کوئی کمی محسوس نہیں ہوگی۔۔۔‘‘
رحیم خان ایک نئی طرح کی کہانی میں مگن ہوگیا۔ اس کی باتیں سن کر وہ عورت ہلکے سے ہنسی۔ اور پھر وہ رحیم کے ذہن میں ابھرنے والی اس نئی کہانی کی تمہید کو کاٹتے ہوئے بولی۔
’’اچھا جلدی سے ایک کلو دینا ۔۔۔ دیکھو ذرا اچھی بھنڈیاں دو۔۔۔ لاؤ میں نکالتی ہوں۔۔۔‘‘
رحیم خان نے ایک تھیلی بڑھا دی۔ لیکن اس کی باتیں نہیں رکیں۔۔۔
’’۔۔۔ اور ہاں تیسری چیز۔۔۔ یہاں کے لوگ، یہ آدمی کہیں نہیں جانے والے۔۔۔ اب دیکھئے پچھلے دنوں ہمارے شہر میں کتنا قتل و خون ہوا۔۔۔ لیکن کوئی ذرا فرق پڑا۔۔۔ یہاں جتنے لوگ مرتے ہیں اس سے دگنے پیدا ہوتے ہیں۔۔۔ خدا نے بھی کیا ملک بنایا ہے۔۔۔
’’یہاں اپنے ملیر میں ایک بزرگ فقیر رہتا ہے۔ وہ سارے دن عبادت کرتا ہے اور رات میں لوگوں سے ملتا ہے۔۔۔ صرف رات میں۔۔۔ وہ کہتا ہے کہ قیامت کی یہ ہی نشانی ہے۔۔۔ قیامت اس وقت آئے گی جب اس دنیا کی آبادی اس قدر بڑھ جائے گی کہ تمام لوگ یا جوج ماجوج کی قوموں کی طرح اس دنیا پر چڑھ دوڑیں گے۔۔۔ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ خدا نے اسے اولاد کی پیدائش کے راز بتائیں ہیں اور اولاد کی پیدائش کو روکنے کے بھی، لیکن بی بی لوگ اس سے صرف اولاد کی پیدائش کے واسطے دوا لیتے ہیں۔۔۔ پیدائش کو روکنے کے لئے کوئی بھی نہیں آتا ۔ وہ کہتا ہے کہ خدا نے اس کو جو انصاف کرنے کی ذمہ داری دی ہے اس طرح اس میں حرج ہوتا ہے۔۔۔ اب بتاؤ بی بی اگر ترازو کا ایک ہی پلڑا بھاری ہوگا تو ترازو الٹ نہیں جائے گا کیا؟
وہ عورت خاصا محو ہوکر اس کی باتیں سن رہی تھی۔ اُسے سب سے زیادہ حیرت اس بات پر تھی کہ یہ سبزی والا اتنی دلچسپ باتیں کرتا ہے۔ پر وہ کچھ نہ بولی اور بے خیالی کے انداز میں بیس روپے رحیم خان کو بڑھائے۔
’’لیکن بی بی ایسی بات بھی نہیں۔۔۔ کوئی نہ کوئی عورت تو اس سے پیدائش کی دوا بھی ضرور لے کر جاتی ہوگی۔ ‘‘ رحیم خان نے راز کے انداز میں کہا۔ ’’ نہیں تو اس پیر کی دونوں طرح کی دوائیں کہاں جاتی ۔۔۔ یہ بات وہ پیر بتاتا نہیں ہے۔۔۔ میں نے بہت کوشش کرلی ہے۔۔۔‘‘
رحیم خان کے چہرے پر بہت بڑا سوالیہ نشان تھا۔ لیکن ایک زیر لب مسکراہٹ کے ساتھ اس عورت نے اپنے چہرے سے دلچسپی ہٹائی اور گھر میں چلی گئی۔ رحیم خان کچھ دیر کھڑا اس کو دیکھتا رہا، پھر اپنے قصہ کو بھول کر وہ بھی آگے بڑھ گیا۔
رحیم خان کو اپنے ٹھیلے پر یوں سبزی بیچتے ہوئے کوئی ڈیڑھ سال ہوئے تھے۔ اس سے پہلے وہ ایک بس میں کنڈکٹری کرتا۔ اس کی بس کھوکھرا پار سے لیمارکیٹ کے روٹ پر چلتی تھی۔ اس راستے کا ایک ایک موڑ اور گڈھا اسے آنکھ بند کرکے یاد ہوگیا تھا۔ وہ یہ بھی بتاسکتا تھا کہ کس گڈھے میں سے گزرتے ہوئے اس کی بس کی سسپنشن کی کمانیوں میں سے کیسی آواز آتی ہے اور بس کس طرح جھولتی ہے۔
اور اپنی اس جھولتی ہوئی بس میں کنڈکٹری کرتے ہوئے رحیم خان کے خیالات بھی پینگ لیتے رہتے تھے۔ اس کی بس میں طرح طرح کے لوگ سفر کرتے تھے۔ ان سے ٹکٹ لینے میں اور ان کو اسٹاپوں پر اتارنے اور چڑھانے میں رحیم خان جانے کیا کچھ سوچتا رہتا۔
اس زمانے میں اس کا سب سے دل پسند مشغلہ تھا کہ وہ اپنے پیسنجر کی شکل و صورت اور چال سے اس کا بات کا اندازہ لگائے کہ وہ کون ہے اور اس کے صبح شام کیسے بسر ہوتے ہیں۔ اکثر وہ ان سے یہ بات پوچھ بھی بیٹھتا۔ تاکہ اُسے معلوم رہے کہ اس کا اندازہ عموماً کتنا درست ہوتا ہے۔
پھر ایک روز کراچی کے ہنگاموں میں نوجواں کے ایک گروہ نے اس کی بس کو گھیرے میں لے کر نظر آتش کر دیا۔ اس روز اس کی بس کے ساتھ ساتھ اس کا دلپسند مشغلہ بھی شعلوں کی لپیٹ میں آگیا۔
اپنی بس کے جل جانے کے بعد رحیم خان بے روزگار ہوگیا۔ لیکن اس کو رہ رہ کر اسی گروہ کا خیال آتا جس نے اس کی بس کو آگ لگائی تھی۔ ایک ایک نوجوان کا چہرہ اس کی نظروں کے سامنے سے گزرتا اور وہ غور کرتا رہتا کہ وہ نوجوان کون تھا اور اس کی زندگی کیسے کیسے موڑوں سے گزری ہوگی۔
چند روز بے روزگار رہنے کے بعد وہ اپنے گاؤں واپس چلا گیا۔
گاؤں میں جو بھی اس سے ملتا کراچی کے ہنگاموں کے بارے میں سب سے پہلا سوال کرتا۔ کچھ دنوں تک تو رحیم خان یہ حالات خاصے جوش و خروش اور منظر نگاری کے ساتھ بیان کرتا رہا۔ پھر آہستہ آہستہ اس کا یہ جوش کچھ ماند پڑنے لگا۔ ان نوجوان کا ذکر کرتے ہوئے وہ تھوڑا ہچکچاتا اور سوچتا کہ کیوں نہ وہ ان لڑکوں کا ذکر کرے جنہیں وہ عام طور پر روز مرہ زندگی میں دیکھا کرتا تھا۔ جن کے چہروں پر زندگی ہمیشہ ہنستی کھیلتی رہتی تھی۔
یوں اپنے سامعین کی توجہ کراچی کے ہنگاموں سے ہٹانے کے لئے اس نے طرح طرح کی کہانیاں گڑھنا شروع کر دیں۔ ان کہانیوں میں بس کنڈکٹری کے دوران کے مشاہدات کو بھر پور طور سے استعمال کرتا۔ اس کے سننے والوں کی توجہ ان مختلف مناظر میں محو ہو کر رہ جاتی۔ اور ان کو یوں حیران پاکر رحیم خان کو بڑا مزا آتا۔ ایک دن اپنے دوست اجمل زئی سے باتیں کرتے ہوئے وہ کہنے لگا۔
’’ایک روز اورنگی ٹاؤن میں لڑکوں نے پولیس موبائل کو گھیرے میں لے کر اس پر قبضہ کرلیا۔۔۔ اب اس کے بجائے کہ وہ پولیس والوں کو گولی مارتے یا گاڑی کو آگ لگاتے۔۔۔ بتاؤ کہ انہوں نے کیا کیا؟۔۔۔ انہوں نے پولیس والوں کے سارے کپڑے اتار ڈالے اور ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انہیں ننگا سڑک پر ڈال دیا اور خود ان کے کپڑے پہن کر موبائل پر قبضہ کرلیا۔
ا ب وہ جہاں جاتے وہاں خوب کام دکھاتے۔ کے ای ایس سی کے اسٹیشن گئے اور رشوت لینے پر وہاں کے لوگوں کی خوب مار لگائی۔۔۔ وہاں سے نکل کر ایک پیٹرول پمپ میں مفت پیٹرول بھروایا۔ پھر انہیں ایک اور پولیس موبائل نظر آئی۔ اس میں صرف دوسپاہی تھے۔ ان کو جھانسا دے کر اس پر بھی قبضہ کرلیا اور پھر ان دونوں نے مل کر وہ حرکتیں کیں کہ سننے والوں کے ہنستے ہنستے پیٹ میں بل پڑگئے۔
کچھ ماہ بعد رحیم خان کے پاس کہانیوں کا مواد ختم ہونے لگا۔ فصل کٹ جانے کے بعد اس کے پاس کوئی مستقل روزگار بھی نہیں تھا۔ اس لئے اس نے ایک بار پھر کراچی جانے کا فیصلہ کیا۔
کراچی پہنچ کر تھوڑے عرصے تک وہ اپنے ایک دوست محمد ذیشان کی سبزی کی دوکان پر بیٹھا پھر اس نے ایک ٹھیلا لے لیا اور اس پر سبزی فروخت کرنے لگا۔
صبح آٹھ بجے وہ دوکان سے سبزی لے کر نکلتا اور جانے کن کن محلوں کے چکر لگاتا۔ یہ کام رحیم خان کے لئے بالکل نیا تھا اور اس کے دوست محمد ذیشان کو بھی ٹھیلا چلانے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ شروع کے چند ہفتے مختلف تجربوں اور اندازوں کی پیمائش میں نکل گئے۔ پھر رفتہ رفتہ وہ یہ کام سیکھتا گیا۔ اسے معلوم ہوگیا کہ صبح کتنی سبزی لے کر نکلنا چاہئے تاکہ شام ہوتے ہوتے تمام فروخت ہوجائے۔ کن علاقوں میں سبزی جلدی بکتی ہے اور کہاں دیر میں۔ کہاں کے لوگ عموماً کیا خریدتے ہیں اور کہاں کیا کیا دام مانگنے چاہئے۔ رفتہ رفتہ وہ یہ تمام گر سیکھتا گیا؟ یہ فکریں اس کے روز مرہ کا حصہ بنتی گئیں۔ اور پس پردہ اس کے خیالات دوبارہ کوئی مشغلہ ڈھونڈنے لگا۔
رحیم خان اب دن بھر اپنے ٹھیلے پر سبزیاں بیچتا اور جانے کیا کیا سوچتا رہتا۔ بسا اوقات یہ باتیں، صرف چند خیالات سے بڑھ کر کچھ نہیں ہوتیں ایک روز برسات کے بعد وہ ایک بڑی بی بی کے واسطے گاجر تول رہا تھا کہ وہ کہنے لگا۔
’’اماں آج کی بارش دیکھی؟۔۔۔ بجلی کسی زبردست تھی۔۔۔ لگتا تھا کہ ایک بہت بڑے فلیش کے ساتھ اللہ میاں فوٹو کھینچ رہے ہیں۔۔۔‘‘
کئی بار وہ اس طرح کی عجیب و غریب تشبیہات دیتا جس سے اس کے سننے والے چونکنے کے ساتھ ساتھ محظوظ بھی ہوجاتے۔ ایک روز ٹماٹر تولتے ہوئے وہ کہنے لگا۔ ’’اب دیکھئے باجی یہ ٹماٹر بھی کیا خدا کی نعمت ہے۔۔۔ میں کہتا ہوں کہ جس گھر میں ٹماٹر کم کھایا جاتا ہے وہاں بہت لڑائی جھگڑاہوتا ہے۔۔۔ اور جہاں عورت نے ٹماٹر بنا کر میز پر رکھے وہیں غصے کی جگہ پیار محبت نے لی۔۔۔‘‘
پھر آہستہ آہستہ اس کے یہ جملے، فقرے اور خیالات چھوٹے موٹے قصوں اور کہانیوں کا روپ لیتے گئے۔ اب وہ یہ کہنے کے بجائے کہ دستر خوان پر ٹماٹر کی موجودگی سے گھر کی فضا میں کیسی چاشنی اور محبت گھل جاتی ہے، وہ ٹماٹر کے بارے میں کوئی کہانی سنا دیتا۔ جیسے کہ ان ٹماٹروں کو کاشت کرنے والا کسان کون تھا اور کیوں وہ اس کسان کو اتنی قریبی طور پر جانتا ہے۔
رفتہ رفتہ اپنے ان قصے کہانیوں کی وجہ سے رحیم خان پہچانا بھی جانے لگا۔ کچھ لوگ اسے باتونی سبزی والا کہنے لگے، کچھ اُسے قصے کہانیوں والا کہنے لگے۔ ایک بڑھیا نے اس کا نام کہانیوں کا ٹھیلا رکھ دیا۔ یہ بڑھیا رحیم خان کی خاص گاہک تھی۔ جس روز اُسے سبزی لینا ہوتی وہ خاص طور پر رحیم خان کا انتظار کرتی اور اس کے سوا کسی اور سے سبزی نہ خریدتی۔ پھر سبزی لینے کے بعد کہتی۔ ’’اور کچھ سناؤ آج تم نے کیا دیکھا۔۔۔‘‘
اور رحیم خان کے جو جی میں آتا اس سے کہہ دیتا ۔۔۔ اس سے قطع نظر کہ وہ بات کتنی سچ ہوتی یا جھوٹ اور وہ بڑھیا رحیم خان کی باتیں سن کر یوں مطمئن ہوجاتی جسے دن بھر کی مشقت کے بعد اُسے اجرت ملی ہو۔ کبھی کبھی تو وہ صرف اس واسطے سبزی خرید لیتی کہ اس کا جی چاہ رہا ہوتا کہ وہ رحیم خان سے باتیں سنے اور اگر کبھی رحیم خان موڈ میں ہوتا تو وہ اس سے پیسے بھی نہیں لیتا۔
اس کے تمام گاہکوں کی طرح اس بڑھیا سے بھی رحیم خان کی باتیں سبزی بیچنے اور کوئی ادھر اُدھر کا قصہ یا کہانی سنانے سے بڑھ کر نہیں ہوتیں تھیں۔ جب وہ سبزی خریدتی رحیم خان کوئی بات شروع کر دیتا۔ سبزی بیچ چکنے کے بعد وہ قصہ ختم کرتا اور اپنی راہ پر ہولیتا۔ رحیم خان زیادہ دیر رک کر اپنا وقت برباد کرنے کا عادی نہیں تھا۔ نا ہی وہ بڑھیا اس کو زیادہ دیر روک کر رکھنے کی کوشش کرتی۔ ان کی یہ شناسائی بھی خوب تھی جو اس کے قصوں کے گرد گھومتی تھی۔ ویسے تو رحیم خان اپنے تمام گاہکوں سے ادھر اُدھر کی خوب باتیں کرتا تھا۔ لیکن اس بڑھیا کو اس کی باتوں سے خاص لگاؤ ہوگیا تھا۔
ایک روز وہ کہنے لگا ’’اماں ہمارے علاقے میں ایک زمیندار ہے اس کی صرف دو لڑکیاں ہیں۔۔۔ اس نے اپنی بڑی لڑکی کو لندن بھیجا پڑھائی کی واسطے، جب اس کی لڑکی پڑھ لکھ کر لندن سے واپس آئی۔ تو اس نے اپنی چھوٹی لڑکی کو بھیج دیا، پڑھنے کے واسطے، اور تو اور۔ ساتھ میں اس کی ماں کو بھی بھیج دیا۔ اب وہاں پر اس کی لڑکی بھی پڑھتی اور اس کی ماں بھی پڑھتی ہے۔۔۔ دیکھ اماں یہ بھی کیا خوب ہے ۔۔۔ اب سوچ اگر تو جائے لندن پڑھنے کے واسطے۔۔۔ تیری بھی جوانی واپس آجائے۔۔۔ یہ کہہ کر ہنستا ہوا وہ آگے بڑھ گیا۔
اس بڑھیا کا نام کوثر تھا۔ اس کا لڑکا چند ماہ پہلے کراچی کے فسادات میں کسی بھٹکی ہوئی گولی کی زد میں آکر اپاہج ہوگیا تھا اور اب اس کی زندگی کا زیادہ حصہ بستر پر گزرتا تھا۔ وہ بڑھیا اپنے لڑکے سمیت اب اپنی لڑکی کے گھر پر رہتی تھی۔ اور جس روز وہ رحیم خان سے سبزی خریدتی گھر میں آکر اپنے لڑکے کو سناتی کہ آج رحیم خان نے کیا کہا۔ اس کا لڑکا رحیم خان کی باتیں سن کر خاصا حیران ہوتا تھا اور کہتا ’’اماں یہ تمہارا سبزی والا بھی کتنی پاگل پنے کی باتیں کرتا ہے۔۔۔‘‘ لیکن اس کی ماں کہتی۔’’نہیں بیٹا تو نہیں جانتا ۔۔۔ بڑی دنیا دیکھی ہے اس نے۔۔۔‘‘ اور ماں بیٹے کی تکرار چلتی رہتی۔
اس روز رحیم خان کے جانے کے بعد وہ بڑھیا گھر میں آئی اور اس نے خوب مزے لے کر وہ قصہ سنایا۔ پھر کہنے لگی۔ میرے دونوں بچے تو پڑھ گئے اب میں کس کے ساتھ جاؤں گی پڑھنے۔‘‘
اس کا لڑکا بستر میں لیٹا لیٹا مسکرایا۔ ’’ضروری تھوڑی ہے کہ کسی کے ساتھ جانا۔۔۔ اکیلی بھی جاسکتی ہیں۔۔۔‘‘
’’اکیلی؟۔۔۔ کیوں اکیلی یوں؟۔۔۔ اپنے بچوں کو چھوڑ کر؟‘‘
’’ارے اماں! اس سبزی والے کی باتوں پر تم اتنا سیریس کیوں ہوجاتی ہو؟۔۔۔ جس کو جی چاہے لے جانا اپنے ساتھ۔۔۔‘‘ ’’ہاں بیٹا اب تم نے بات ٹھیک کی ہے۔۔۔ میں تجھے اپنے ساتھ لے جاؤں گی۔۔۔جب تو اچھا ہوجائے گا۔‘‘ اس نے امید بھری نگاہوں سے سامنے خلا میں تکتے ہوئے کہا۔
دن بھر سبزی بیچنے میں رحیم خان کا پالہ طرح طرح کے لوگوں سے پڑتا تھا۔ کچھ توایسے ہوتے جو اُسے ایک جملہ بولنے کا بھی موقع نہیں دیتے۔ جھٹ سبزی تلواتے پٹ قیمت ادا کرکے اسے چلاتا کرتے۔ کچھ ایسے ہوتے جو اس کی باتیں خاموشی سے سنتے لیکن بہت جلد ہی ان سے تنگ آجاتے اور کہتے ’’بھئی تم اتنی باتیں کرتے ہو سارے وقت۔۔۔ آخر تمہارا ٹھیلا کیسے چلتا ہے ۔۔۔‘‘
کبھی تو رحیم خان ان کی اس ہی بات سے کوئی بات پیدا کرلیتا۔۔۔ اور پھر ان کو مجبوراً اس کی باتوں پر مسکرانا پڑتا۔ پر کبھی ان کے تیور وہ بھاپ جاتا اور کہتا۔‘‘ میں تو دل کی سچائی سے کہتا ہوں۔۔۔ جو کچھ کہتا ہوں۔۔۔ آپ کو پسند نہیں تو ایسے ہی سہی۔‘‘
رحیم خان کی باتوں میں سچائی تو واقعی ہوتی تھی۔ لیکن اس کا اظہار یوں گھوم پھر کر ہوتا کہ اکثر لوگ اسے پہچان نہیں پاتے تھے۔
ایک روز وہ اس بڑھیا سے کہنے لگا۔۔۔ اماں ہم غریبوں کی زندگی سب سے زیادہ اچھی ہے۔۔۔ تھوڑی سے روٹی کھاؤ، پھر خوب سارا پانی پی کر پیٹ بھرلو۔۔۔ لیکن اب تو پانی بھی نہیں ملتا۔۔۔ سبزیوں پھر چھڑکنے کے لئے جو میں پانی رکھتا تھا اب وہ بھی نہیں ہوتا ہے۔۔۔ لوگ سوکھی سوکھی سبزیاں کھاتے ہیں۔۔۔ اور سوکھا سا منہ بناتے ہیں۔۔۔ اب تم ہی بتاؤ اماں میں تو ایک غریب سبزی والا ہوں۔۔۔ کیا کروں؟‘‘
سنا ہے کہ پانی کو جمع کرنے کے لئے حکومت ایک بہت بڑا ڈیم بنائے گی۔۔۔ اور لوگ ہیں تو اس کی مخالفت کرتے ہیں۔۔۔ میں کہتا ہوں بن جانے دو ڈیم۔۔۔ ایک نہیں حکومت ایسے دس ڈیم بنائے۔۔۔ ہم غریبوں کے حالات نہ اچھے ہونے والے ہیں، نہ برے۔۔۔
اماں تو بہت حیران ہوگی۔۔۔ لیکن میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جن علاقوں میں ٹینکر سے پانی آتا ہے وہاں میاں بیوی کے یہاں اولاد ہونا کم ہوگئی ہے۔۔۔ سچ کہتا ہوں۔۔۔ قسم۔ میرے برابر والی چھونپڑی میں جو آدمی رہتا ہے اس کی عورت گھر گھر جاکر کام کرتی ہے وہ بھی یہ ہی کہتی ہے۔۔۔ ٹینکر کا پانی۔۔۔ لعنت ہے۔۔۔ بہت بڑی لعنت۔۔۔ اس سے اچھے تو ہم غریب لوگ ہیں۔۔۔ ٹینکر کا پانی نہیں خرید سکتے تو کیا، ۔۔۔ اولاد تو پیدا کرسکتے ہیں۔۔۔‘‘
یہ کہہ کر حیم خان ہنستا ہوا آگے بڑھ گیا۔ وہ بڑھیا، ایک سادہ سی عورت، اسے کھڑی تکتی رہی۔ رحیم خان کی بیشتر باتیں اس کی سمجھ میں نہیں آتی تھیں، لیکن اس کے باوجود وہ اسے بہت دلچسپ معلوم ہوتی تھیں۔
رحیم خان کی باتیں سن کر کچھ لوگ سمجھتے کہ وہ بڑی سیاسی سوجھ بوجھ رکھتا ہے۔ کئی سیاسی کارکنوں نے اس پر کام بھی کیا تھا اور اس کو اپنے اپنے موقف پر قائل بھی کرنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔
رحیم خان ان کی باتیں تو بہت غور سے سنتا اور ان سے اتفاق بھی کرتا۔ لیکن پھر بہت جلد وہ ان تمام باتوں کو بھول جایا کرتا تھا اور اپنے خیالوں میں گم ہوجاتا ایسے ہی کسی سیاسی کارکن سے بات کرتے ہوئے اس نے کہا۔
’’بھائی ہم غریب لوگ ہیں۔۔۔ اگر ہم غریبوں کی مدد نہیں کریں گے۔۔۔ ان کے کام نہیں آئیں گے۔۔۔ تو کون دوسرا کرے گا۔۔۔ یہ کام ہمارا ہی ہے۔۔۔ بھائی صاحب ہم سب کو مل کر ایک پارٹی بنانی چاہئے۔ اس پارٹی میں صرف غریب ہوں۔ امیر کوئی نہ ہو۔۔۔ پھر ہماری پارٹی والے مل کر خوب محنت کریں اور ہم سب کے سب امیر ہوجائیں۔۔۔‘‘
’’ہاں بالکل صحیح کہہ رہے ہو ۔۔۔ ایسا ہی تو ہم کر رہی ہیں۔۔۔‘‘ اس سیاسی کارکن نے بات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔ لیکن رحیم خان بولا۔ ’’بھائی صاحب آپ جانتے ہیں۔۔۔ جب میں بس میں کنڈکٹری کرتا تھا تو ہم سب کنڈکٹروں نے مل کر اپنی ایک پارٹی بنانے کی کوشش کی تھی۔۔۔ معلوم ہے اس میں ایک کنڈکٹر تھا ساہیوال کا۔۔۔ جس کی بس کو آگ لگا دی تھی اور وہ اس میں جل کر مرگیا، اس کا کام تھا نعرے لگانا ۔۔۔ ایسے تو ہم سب کے سب کنڈکٹر تھے ہماری سب کی زور دار آوازیں تھیں لیکن جب شبیر نعرے لگاتا تھا تو ہم سب چپ ہوجایا کرتے تھے ۔۔۔ اور سب آس پاس کے لوگ متوجہ ہوجایا کرتے تھے۔۔۔ میں کہتا ہوں کہ اگر وہ ہوتا تو ہماری پارٹی ابھی تک چل رہی ہوتی۔۔۔‘‘
یہ کہہ کر کچھ کہے سنے بغیر رحیم کان نے اپنا ٹھیلا آگے بڑھا دیا۔ وہ سیاسی کارکن وہیں کھڑا سوچتا رہ گیا۔
یوں رحیم خان کبھی ایسے دہشت گرد کا ذکر کرتا جس نے تمام دنیا چھوڑ دی ہے اور اب وہ ایک باغ میں مالی ہے۔ یا کسی ایسے مولوی کا ذکر کرتا جس نے امام ہونے کے ساتھ ساتھ اب اسمگلنگ بھی شروع کر دی ہے۔ طرح طرح کی متضاد چیزوں کو وہ آپس میں ملا کر زندگی کے انتشار میں ایک ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرتا۔ اور یوں سوچ سوچ کر اسے سب کچھ بہت اچھا بھی لگنے لگتا۔
رفتہ رفتہ وہ بڑھیا اس کی تقریباً روزانہ کی خریدار بن گئی۔ اور رحیم خان کی باتیں صرف سننے کے بجائے اب وہ بھی اس سے باتیں کرنے لگی تھی۔ رحیم خان اسے دنیا جہان کے قصے سناتا، اور وہ جواب میں اپنے بیٹے کی کوئی بات بتائی۔
کبھی وہ اس کے بچپن، کا کوئی قصہ سناتی۔ کبھی بتاتی کہ اس نے اپنے لڑکے کے لئے کیسی کیسی لڑکیوں کے رشتے کو ٹھکرادیا۔ ایک روز وہ کہنے لگی ۔۔۔’’ اب دیکھ لینا تم۔۔۔ میرا لڑکا جلد ٹھیک ہوجائے گا اس کے بعد دیکھنا کیا نوکری ملتی ہے اس کو، ڈھیروں پیسہ نہیں کما لیا تو میرا نام نہیں۔۔۔‘‘
پھر کراچی کے حالات ایک بار پھر خراب ہوگئے اور رحیم خان کئی دن اپنا ٹھیلا نہیں نکال پایا۔ وہ بڑھیا روز اس کی راہ دیکھتی اور دعا کرتی کہ حالات تھوڑے بہتر ہوں تاکہ اس کا سبزی والا آئے اور وہ اسے اپنے لڑکے کے بارے میں وہ ساری باتیں سنا سکے جو حال میں اس نے سوچی تھیں۔
آخر کار جب حالات سدھرے تو رحیم خان نے ایک بار پھر اپنا ٹھلا نکالا۔ وہ بڑھیا اسے دیکھ کر خوشی سے پھولی نہ سمائی۔۔۔ ’’ارے تجھے پتا ہے کیا ہوا؟‘‘۔۔۔ اس نے چھوٹتے ہی کہا’’۔۔۔ پچھلے چار دنوں میں میرے لڑکے کی صحت چار گنا اچھی ہوگی۔۔۔کل تو وہ پورے آدھے گھنٹے تک چلا۔۔۔ ڈاکٹر کو پتا چلے گا تو بہت خوش ہوجائے گا۔۔۔‘‘
لیکن اس روز رحیم خان خاصی جلدی میں تھا۔ کئی دنوں سے اس نے کچھ نہیں کمایا تھا۔ وہ حساب چکا کر جلدی سے آگے بڑھ گیا۔ چند روز تک رحیم خان کا تمام دھیان جلدی جلدی سبزی بیچنے اور آگے بڑھنے کی طرف لگا رہا نہ اس کے ذہن میں کوئی کہانی آئی اور نہ اسے مہلت مل پائی کہ وہ کچھ سوچے۔ بڑھیا سے ہر روز چند منٹ کی ملاقات ہوجاتی لیکن وہ کچھ نہیں بولتا۔
وہ بڑھیا ہی الٹی سیدھی کوئی بات کرتی اور سبزی لے کر اس کو جاتا ہوا دیکھتی رہ جاتی۔ پھر بہت خوش ہوتی۔
کچھ دنوں بعد رحیم خان کا موڈ معمول پر آگیا اور اس نے اپنے گاہکوں کے ساتھ وہ باتیں دوبارہ شروع کر دیں۔ اس بڑھیا کے پاس کھڑا ہوکر بھی وہ دوچار منٹ گزار دیتا۔
ایک روز وہ کہنے لگا
’’اماں میں سوچتا ہوں سبزی کا کام چھوڑ دوں۔۔۔ کوئی بھروسا نہیں اس کام کا۔ پیچھے سے حالات بگڑ جاتے ہیں، منڈی سے سبزی لے کر آدمی نہیں آتے، ہر کسی کو ڈر خطر لگا رہتا ہے، سبزی بہت مہنگی ملتی ہے۔ گاہک خریدتے نہیں ہیں۔ ایک مصیبت ہے۔۔۔ میں سوچتا ہوں مچھلیوں کا کاروبار شروع کردوں۔۔۔ مچھلیوں کا۔۔۔ کھیت میں سبزی اگنا ختم ہوسکتی ہے، شہر میں آدمی سارے مرسکتے ہیں لیکن اماں۔۔۔ سمندر میں مچھلیاں کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔۔۔ اماں سوچتا ہوں کہ مچھلیاں بیچنا شروع کردوں۔۔۔ مچھلیاں۔‘‘
یہ کہتا ہوا وہ آگے بڑھ گیا۔
اس کے چند دنوں کے بعد شہر کے حالات پھر خراب ہوگئے۔ رحیم خان پھر کئی دنوں تک نہیں آ پایا۔ لیکن اس بار اس بڑھیا کا خیال اپنے سبزی والے کی طرف نہیں گیا۔ اس بار اس کے لڑکے کی طبیعت خراب تھی۔ حالات کے خراب ہونے کی وجہ سے صحیح دوا نہیں آرہی تھی، اور روز بہ روز اس کی طبیعت بگڑتی جا رہی تھی۔ یہاں تک کہ پانچ دنوں کے بعد جب علاقہ میں آمدورفت کا سلسلہ دوبارہ جاری ہوا تو اس کے گھر سے اس کے لڑکے کا جنازہ نکلا۔
اس روز جب رحیم خان کا ادھر سے گزر ہوا تو بڑھیا کی گلی میں ایک مجمع دیکھا۔ جب واقعہ معلوم ہوا تو ملنے کے لئے وہ اس کے دروازے پر گیا۔ کچھ دیر بعد وہ بڑھیا گھر سے نکلی۔ وہ غم سے نڈھال تھی۔ تھوڑی دیر وہ دونوں خاموش کھڑے رہے۔ پھر رحیم خان سے صرف اتنا کہا گیا۔ ’’مجھے یہ خبر سن کر جتنا افسوس ہوا ہے۔ تو نہیں جانتی۔‘‘ وہ بڑھیا کچھ دیر خاموش رہی پھر واپس گھر میں چلی گئی۔
رحیم خان اس کے بیٹے سے کبھی نہیں ملا تھا۔ لیکن اس کی موت نے اس کے دل پر بہت گہرا اثر کیا تھا۔ اگلے چند دنوں تک وہ بڑھیا کی گلی کی طرف جانے کی ہمت نہیں کرسکا۔ کئی دنوں کے بعد گیا تو اس بڑھیا کو باہر کھڑے پایا۔ بڑھیا نے اس سے سبزی خریدی۔ رحیم خان نے اُسے سبزی دی لیکن کوئی بات کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔
اگلے روز بھی رحیم خان نے خاموشی کے ساتھ اُسے سبزی دی۔ لیکن پھر کچھ ہمت کرکے کہنے لگا ’’اماں ۔۔۔ تونے تو بہت سے پیروں کے بارے میں سنا ہوگا ۔۔۔ لیکن میں ایک ایسے پیر کو جانتا ہوں۔ جس کا نام لوگوں نے سید ہنستا شاہ رکھ دیا ہے۔۔۔ وہ خود بھی ہنستا ہے اور دوسروں کو بھی ہنساتا ہے۔۔۔‘‘
’’تو پیروں کی بات کرتا ہے۔۔۔‘‘ وہ بڑھیا اس کی بات کاٹ کر بولی۔۔۔’’ جب میرا بیٹا زندہ تھا تو وہ بتاتا تھا کہ وہ ایک ایسے شخص کو جانتا ہے جو کئی پیروں کا مرید ہے۔ یعنی کہ کئی پیروں نے اس کو اپنا مرید بنایا ہوا ہے ۔۔۔ اور نہ صرف یہ۔۔۔ بلکہ سب اس کی بڑی آؤبھگت کرتے ہیں۔۔۔ کس لئے؟۔۔۔ اس لئے کہ سب یہ سمجھتے ہیں کہ اس مرید سے ان کی پیری چمکتی ہے۔۔۔ میں تو کہتی ہوں کہ یہ پیری ویری فضول باتیں ہیں۔۔۔ آدمی کو مرید بنا چاہئے۔۔۔ اور اس طرح کا مرید کہ سب پیر اس کو اپنے پاس بلائیں ۔۔۔ آدمی مرید بنے۔۔۔‘‘
’’ہاں۔۔۔ واقعی۔۔۔‘‘ رحیم خان نے حیران ہوکر سرہلایا۔اسے لگا کہ وہ بڑھیا اصل میں کچھ اور کہنا چاہ رہی ہے، لیکن وہ بات کیا ہے؟ وہ سمجھ نہیں سکا۔ پھر یکایک اسے بے تحاشا خوشی کا احساس ہوا۔ ’’اماں ایسے مریدوں کی وجہ سے تو ہے ورنہ قیامت کب کی آچکی ہوتی ‘‘ یہ کہتا ہوا وہ آگے بڑھ گیا۔
پیر، 7 جولائی، 2014
تمہارا افسانہ
اس کے کردار ، اس کا پلاٹ اور حاشیے کا تمہاری زندگی سے تو تعلق نہیں، لیکن تم سمجھتے ہو کہ اس میں زندگی کے ایسے حقائق اور انسانی جذبات و نفسیات کے وہ راز پوشیدہ ہیں جن کو پڑھ کر تم ایک گہری سوچ میں ڈوب جاؤ گے۔ اور شاید یہ سوچ تمہاری زندگی میں ایک نئی جہت کا آغاز کرے ...لیکن اس افسانے میں ایساکچھ نہیں ہے۔ ابھی تک تم نے صرف پہلا پیرا گراف پڑھا ہے۔ گاؤں کے اسکول کے ماسٹر کو وڈیرے کی لڑکی سے عشق ہوا ہے۔ ’’ یہ بھی کیا پرانی کہانی ہے ...کوئی نئے پلاٹ نہیں ملتے آج کل لکھنے والوں کو ...‘‘ تم اپنے ذہن میں سوچتے ہو اور کہانی سے نظریں اٹھا لیتے ہو۔ گیلری کے باہر بجلی کا کھمبا ہے جس سے تار گزر رہے ہیں۔ تاروں سے پھٹی پرانی پتنگیں اور پلاسٹک کی تھیلیاں لٹکی ہوئی ہیں۔
تمہاری نظریں واپس کہانی کی طرف آجاتی ہیں۔
لیکن وڈیرے کو اس جوڑی پر کوئی اعتراض نہیں۔ وہ ان کی شادی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے ، بلکہ شادی کے بعد گھر بسانے میں ماسٹر کی مالی مدد بھی کرنا چاہتا ہے۔ نہ ہی گاؤں میں کوئی ایسا شخص ہے جو فقرے کس رہا ہو یا وڈیرے کی عزت پر کوئی حرف آ رہا ہو کہ اس کی لڑکی ایک ماسٹر سے بیاہی جاتی ہے۔
’’ یہ کیسی کہانی ہے ...یہ کیساافسانوی گاؤں ہے ...‘‘ تم سوچتے ہو۔ آج کل کے لکھنے والے مجھ جیسے عام آدمی کے بارے میں کیوں نہیں لکھتے۔ عام زندگی کے ایسے واقعات کا ذکر کیوں نہیں کرتے جو ایک عام آدمی نظر انداز کرتا ہے۔ ‘‘
تم یہ سب کچھ سوچ رہے ہو۔ لیکن ضروری نہیں کہ لکھنے والا بھی تمہاری طرح سوچے۔ تمہاری زندگی ایک دم سادی اورسپاٹ گزری ہے۔ جہاں کہیں کسی رومان یا مہم جوئی کا موقع آیا تم نے اس سے نظریں چرالیں۔ اب تم چاہتے ہو کہ ایک عام آدمی کی عام زندگی میں طلسم ہوش ربا کی داستان کھل جائے۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔ عام آدمی کی عام زندگی میں کوئی ایسی بات نہیں ہوتی جس کے بارے میں کہانی لکھی جاسکے۔ اور اگر تمہیں ایسی ہی ناممکن باتوں پر یقین ہے تو برابر والے کمرے میں چلے جاؤ جہاں ٹی وی پر خبرنامہ آرہا ہے اور دعا کرو کہ ایسی خبریں سنائی جائیں جن کی تمہیں زندگی بھر سے تمنا ہے۔
لیکن اپنے بارے میں یہ تمام خیالات تمہارے ذہن سے نہیں گزرتے۔ تم اب بھی اس افسانے میں ایسے نکتے تلاش کررہے ہو جن کی مدد سے عام زندگی پر کوئی روشنی ڈالی جاسکے۔
افسانہ آگے بڑھتا ہے۔ اگلے چند صفحوں میں اس نئے جوڑے کی زندگی کی رنگین اور دلچسپ مصروفیات پر نظر ڈالی گئی ہے۔ تم کو پڑھنے میں مزا آتا ہے۔ لیکن اس سب میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایسی بات جو تمہیں چونکا دے۔ صرف ایک دلکش انداز بیان ہے۔ تمہیں اپنا مقصد حاصل ہوتا نظر نہیں آرہا۔ تم تھوڑی سی مایوسی محسوس کرتے ہو اور کچھ دیر کے لئے کہانی نیچے رکھ دیتے ہو۔
گیلری کے باہر کا منظر نہیں بدلاہے ، تم اٹھ کر گیلری میں چلے جاتے ہو اور باہر جھانکنے لگتے ہو۔ تمہارے کرائے کے فلیٹ سے، جو ایک مکان کی دوسری منزل پر واقع ہے ، خاصا علاقہ نظر آتا ہے۔ نیچے گلی میں وہی شور تماشا ہے جو روز ہوتا ہے۔ کونے کے ہوٹل کے تنور پر پٹھان روٹیاں لگا رہا ہے۔ گلی کے بیچ میں گٹر بہہ رہا ہے۔ جس کے پانی سے بچتا ہوا ایک ٹھیلے والا گزر رہا ہے۔ سامنے کے مکان کی چھت پر ایک لڑکی کھڑی ہے جس کی پیٹھ تمہاری طرف ہے اور جو شاید اپنی پچھلی گلی میں کسی سے بات کررہی ہے۔ تم خاصی دیر تک اسے دیکھتے رہتے ہو لیکن وہ نہیں پلٹتی۔ تم نے اکثر اس کو یوں ہی باتیں کرتے دیکھا ہے ، لیکن اس نے آج تک تمہیں نوٹ نہیں کیا۔ تم سوچتے ہو کہ کیا اس لڑکی کو بالکل پرواہ نہیں کہ محلے والے کیا کہتے ہوں گے۔
پھر تم بور ہو کر کمرے میں آجاتے ہو۔ ٹی وی سے ابھی تک خبرنامے کی آواز آرہی ہے تم کہانی دوبارہ اٹھانے کے بارے میں سوچتے ہو لیکن تمہارا موڈ نہیں ہوتا۔ تمہیں خیال آتا ہے کہ تم نے ابھی گلی میں اس کے بالکل برعکس ہوتے ہوئے دیکھا ہے جیسا کہ اس افسانے میں لکھا ہے۔ اگر معاشرے کے قواعد و ضوابط سے ہٹ کر کسی لڑکے اور لڑکی کی دوستی ہوتی ہے تو لوگ اسے آرام سے تسلیم نہیں کرتے۔ تم افسانہ نگار کی حقیقت سے واقفیت اور اس کی بے معنی رومانیت پر نظر ثانی کرتے ہو۔ پھر اپنے نقطہء نظر کو مزید مستحکم بنانے کے لئے خود اپنی زندگی کے بارے میں سوچنے لگتے ہو۔
تمہاری زندگی میں کبھی خوابوں میں دیکھی جانے والی باتیں سچ نہیں ثابت ہوئیں۔ نہ کبھی کسی کو تم سے محبت ہوئی ہے اور نہ کبھی تم کسی کی چاہت کے جال میں گرفتار ہوئے ہو۔ یہ سب باتیں ایک عام آدمی کی زندگی میں نہیں ہوتیں۔ ایک عام آدمی جس کی مالی حالت ایسی ہو کہ بس جیسے تیسے گزارا ہوجائے۔ جو نہ تو زیادہ کند ذہن ہو اور نہ ہی اتنا ذہین کہ اس کی ذہانت مجمع میں اسے نمایاں کرکے شرمندگی کا باعث بنے ۔۔۔ ایسا نہیں کہ کبھی کسی لڑکی کی طرف تم نے پلٹ کرنہیں دیکھا ہو ، یا کسی کو اپنا بنا لینے کے لئے تمہارا دل بے تحاشا نہیں چاہا ہو یہ سب ہوا ہے لیکن تم سمجھتے ہو کہ ان باتوں کی تکمیل ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں جو عزت سے زندگی گزارناچاہتا ہے۔ یہ تو بڑے لوگوں کے کھیل تماشے ہیں یا پھر ان بے وقوفوں کے جو سب کچھ گنوا دینے کے بعد بھی اپنی چھٹی حس پر پکاّ یقین رکھتے ہوں۔ تم سمجھتے ہو کہ تمہارا نقطہء نظر حقیقت کے بہت قریب ہے ...لیکن ایسا نہیں۔
تم کبھی کسی دل کے معاملے یا محبت کے رچاؤ میں اس لئے زیادہ نہیں الجھ پائے ہو کیونکہ تمہاری عجز اور انکساری نے تمہیں ہمیشہ صراط مستقیم پر رکھا ہے۔ اصل میں اس راہ پر تمہیں سکون ملتا ہے اور تمہارے لئے یہ سکون کسی رومان کی دلفریبی یا عام زندگی کی حقارت کے احساس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اللہ تمہیں اپنے اس احساس سکون کی امان میں رکھے۔ اب کہانی پڑھنے کا خیال تمہارے دماغ سے ہٹ جاتا ہے تم برابر والے کمرے میں چلے جاتے ہوجہاں ابھی تک خبرنامہ لگا ہوا ہے، لیکن کمرے میں جتنے لوگ ہیں کسی کی توجہ ٹی وی کی طرف نہیں۔ تمہاری بڑی لڑکی بیٹھی ہوئی کوئی ڈائجسٹ پڑھ رہی ہے۔ تمہاری بڑی بہن کا لڑکا، جو پچھلی گلی میں رہتا ہے ،کرسی پر بیٹھا ہے۔ اس کا سر کرسی کی پشت سے لگا ہوا ہے ، چہرہ چھت کی طرف ہے اور آنکھیں بند ہیں۔ تمہاری ماں بھی تخت پر بیٹھی اخبار پڑھ رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ سب خبرنامے کے بعد آنے والے کسی پروگرام کا انتظار کررہے ہیں۔ اس خیال کے آتے ہی تمہارے ذہن میں امید کی ایک کرن چمکتی ہے کہ شاید اس سے اگلا افسانہ زیادہ اچھا ہو۔
باورچی خانے سے تمہاری بیوی کی روٹی پکانے اور چھوٹے لڑکے کو ٹیسٹ کی تیاری کرانے کی آواز آرہی ہے، تمہارا لڑکا زور زور سے کوئی قرآنی آیت یاد کررہا ہے، گھر کے باقی لوگ کہاں ہیں اس کا تمہیں کچھ پتہ نہیں۔
تم بہت جلد اس منظر ، اپنے لڑکے اور خبرنامہ کی آوازوں سے گھبرا جاتے ہو اور کہانی کی طرف پلٹتے ہو۔ کہانی کے ورق پلٹتے ہوئے تم اس کے بارے میں اپنی تمام توقعات بھول چکے ہوئے ہو۔ اب یہ بھی تمہاری عام سی زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ افسانہ نگار جب اپنے دلکش اور رومانی انداز میں منظر کشی کرتا ہے تو تم کو اپنے ٹی وی کے کمرے کا سماں محسوس ہوتا ہے جب وہ اس ماسٹر اور وڈیرے کی لڑکی کے درمیان عشق و محبت کا ذکر کرتا ہے تو تمہیں لگتا ہے کہ تمہاری بیوی باورچی خانے میں بیٹھی روٹیاں پکا رہی ہے اور جب وہ کھیتوں کے لہلہانے اور چڑیوں کے چہچہانے کا ذکر کرتا ہے تو تم کو لگتا ہے کہ تمہارا چھوٹا لڑکا کوئی قرآنی آیت یاد کررہا ہے۔
لیکن تمہاری توقعات کے بر خلاف کہانی کا منظر اوراس کا بہاؤ بدل چکا ہے۔ ماسٹر کے گھر کے حالات بدل رہے ہیں۔ لیکن تم کو اس تبدیلی کا احساس نہیں ہے۔ ماسٹر کو وڈیرے کی لڑکی کے حسن اور معاشرے میں اس کی حیثیت سے عشق ہوا تھا اور وہ وڈیرے کی لڑکی ماسٹر کے متعلق ایک عظیم دانشور اور ایک سچا اور انسانیت سے محبت کرنے والے انسان کے تصورات لے کر آئی تھی۔ پھر ان کے درمیان رومان کا جادو ختم ہوتا چلا گیا تھا ، مگر تم کو اس بات کا احساس نہیں۔
ماسٹر اور اس کی بیوی کے درمیان رشتے کی نوعیت بدلنے کے ساتھ ساتھ کہانی کا منظر بدل جاتا ہے۔ چڑیوں کے گانے میں خوشی کے بجائے غم آجاتا ہے، پر تم کو اب بھی لگتا ہے کہ جیسے تمہارا چھوٹا لڑکا کوئی آیت یاد کررہا ہوگا۔ گاؤں کے لوگوں کا رویہ بھی بدل گیا ہے۔ شروع میں ان کے اظہار اور ملن میں جومسرت تھی وہ اب باقی نہیں رہی۔ لیکن تم کو اب بھی وہ اپنے گھر کے ٹی وی کے ناظرین کی طرح معلوم ہوتے ہیں۔
پھر ایک روز ماسٹر کی بیوی بھاگ جاتی ہے۔ تم اس قصے کو پڑھتے ہو لیکن بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی۔ تم کسی صورت بھی یہ تصور نہیں کرسکتے کہ تمہاری بیوی روٹیاں پکاتے پکاتے گھر چھوڑ کر بھاگ جائے۔ تم کو دو بارہ یہ کہانی فلمی محسوس ہونے لگتی ہے۔ ماسٹر کے دل کے غم اور اس کی ویرانی سے تمہیں کوئی ہمدردی نہیں ہوتی۔ وڈیرے کی لڑکی تم سے اتنی ہی دور ہوتی ہے جتنی تمہارے محلے میں کسی مکان کی چھت پر کھڑی ہوئی لڑکی۔
اب تم کو اس کہانی سے کوئی لگاؤ نہیں۔ تم اسے دوبارہ نیچے رکھ دیتے ہو۔
گیلری کے باہر کا منظر اب تک نہیں بدلا ہے ، تم دوبارہ وہاں جاکر کھڑے ہوجاتے ہو... لیکن یہ کیا... یہ باہر کیاہورہا ہے... تم دیوار کی جالیوں کے نیچے چھپ جاتے ہو۔
سامنے والے مکان کی چھت پر اس لڑکی کے ساتھ تم کو کسی اور کی پرچھائیں بھی نظر آتی ہے۔ تمہارا دل زور زور سے دھڑکنے لگتا ہے۔ اس شخص نے لڑکی کو اپنے آپ سے چپکایا ہوا ہے اور وہ اس کے ہونٹ چوس رہا ہے۔ ’’ یہ کیا فحاشی ہے... ‘‘ گیلری کی جالیوں کے پیچھے چھپے ہوئے تم زور سے اپنا گلا صاف کرتے ہو تا کہ وہ ان حرکتوں کو روکیں۔ لیکن وہ ایک لمحے کے لئے تمہاری گیلری کی طرف دیکھتے ہیں اور پھر دوبارہ ایک دوسرے میں مشغول ہوجاتے ہیں۔ تم کچھ دیر ان کے ہٹنے کا انتظار کرتے ہو پھر اپنا سا دل لئے کمرے میں واپس آجاتے ہو۔
اس وقت تمہارا دل سخت زخمی ہے۔ تمہیں محسوس ہورہا ہے کہ اب زندگی میں امید کی کوئی کرن باقی نہیں بچی۔ اس کہانی کے بارے میں سوچ کر تمہیں اپنا دل مزید ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا ہے تم اسے اور نہیں پڑھ سکتے۔
پھر تم کتاب اٹھا کر اس کے ورق پلٹ کر اگلی کہانی پر پہنچ جاتے ہو اس امید میں کہ شاید وہ تمہارے دل کے ان زخموں پر مرہم پٹی کرسکے۔ یہ کہانی ادھوری چھوڑ دیتے ہو۔