‏اردو، افسانہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏اردو، افسانہ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 22 اپریل، 2017

جانور کہیں کا


عبداللہ کے پیٹ سے دوبارہ آواز آئی۔

’’ چپ کر حرام زادے، اس وقت کچھ نہیں ہے میرے پاس، تیرے لئے‘‘۔ اس نے اپنے پیٹ سے کہا۔وہ میدان کے کونے میں، کوڑے کے ڈھیر پر کھڑا، ردّی کاغذ جمع کررہا تھا۔
اس نے دیکھا کہ کچھ آگے ایک ہیروئنچی بیٹھا پیشاب کررہا ہے۔
’’بھاگ حرام زادے۔ کتے کی اولاد... جہاں دیکھو بیٹھ کر پیشاب کرنے لگتا ہے... تیرے باپ کی زمین ہے کیا ؟‘‘ساتھ ہی ایک پتھر کھینچ کر ہیروئنچی کے مارا۔
ہیروئنچی پتھر سے بچ گیا ۔ لیکن گھبرا کر اس نے بھاگنے کی کوشش کی۔پر چونکہ پیشاب اس وقت جاری تھا، اس لئے زیاہ دور نہیں جا پایا۔ دو چار قدم آگے بڑھ کر دوبارہ بیٹھ گیا۔
عبداللہ کو اسُ کا پیشاب میں اٹھ کربھاگنا بہت مضحکہ خیز لگا۔ایک زور دا ر قہقہہ لگایا ’’ جانور کہیں کا...‘‘ اور دوُر سے دو تین پتھر اٹھا کر اور مارے۔ کوئی بھی نشانے پر نہیں لگا، ہیروئنچی وہیں بیٹھا پیشاب کرتا رہا۔ لیکن ہر پتھر پر کمر اس طرح موڑتا جیسے بچنے کی کوشش کررہا ہو۔ عبداللہ اس کی لہراتی کمر کا ناچ دیکھتا رہا اور ہنستا رہا۔
کچھ دیر میں ہیروئنچی اٹھ کر ازار بند باندھنے لگا۔ عبداللہ کو زور زور سے گالیاں دیں اور پتھر مارے۔ عبداللہ نے اپنا ردّی بھرا بورا اٹھایا اور بھاگا... ہیروئنچی نے اس کا پیچھا نہیں کیا۔
میدان سے نکل کر وہ سڑک پر آگیا۔ کونے پر ایک اور کوڑے کا ڈھیر تھا۔ وہاں کھڑا ہو کر کاغذ چننے لگا۔ کچھ دیر میں اس کا بورا بھر گیا۔ آج اس کا بورا خاصی جلدی بھر گیا تھا۔ خیال تھا کہ آج ایک پھیرا اور لگا پائے گا ، یعنی رات کی فلم پکی۔
اسی خیال میں مگن وہ تیز تیز سڑک پر چلا جارہا تھا کہ اس کی نظر ایک دکان پر پڑی۔ شیشے کے دروازے پر فلموں کے پوسٹر لگے تھے۔ ایک پوسٹر میں ہیرو اور ہیروئن ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے ہونٹ سے ہونٹ ملا رہے تھے۔ ایک اور پوسٹر مادھوری ڈکشٹ کا تھا۔ جس میں وہ سرخ لباس پہن کر رقص کررہی تھی۔ وہ مادھوری کی تصویر میں کھوگیا۔
یکا یک اسے بریک لگنے کی آواز آئی ، کوئی چیز اس سے آ کر ٹکرائی اور پھر اس نے اپنے آپ کو سڑک پر لڑکھتا ہوا پایا۔ شکر تھا کہ معمولی چوٹ آئی ۔ وہ اپنا جسم جھاڑتا ہوا اٹھا تو ایک موٹر سائیکل والا کھڑا اس پر چیخ رہا تھا۔
’’ اندھا ہوگیا ہے کیا ... راستہ دیکھ کر نہیں چلتا ‘‘
اب عبداللہ بے چارہ کیا کرتا ، وہ تو مادھوری دیکھ کر چل رہا تھا۔ لیکن وہ خاموش رہا اور موٹر سائیکل والا بک بک کرتا رہا۔
’’ مرنے کا اتنا شوق ہے تو کسی پل سے چھلانگ لگا دے ... جانور کہیں کا۔‘‘
’’ جانور کہیں کا ...‘‘ عبداللہ نے یہ الفاظ اپنے ذہن میں دہرائے۔ اسے خیال آیا کہ ابھی وہ اس ہیروئنچی کو یہی کہہ رہا تھا۔ ’’خیر ...اب دوبارہ میری باری ہے کسی کو یہ کہنے کی۔‘‘ اس نے اپنے دل میں سوچا۔
جب وہ مکانوں کی آخری قطار پر پہنچا جہاں سے کچی آبادی شروع ہوتی تھی اور جہاں اس کا گھر تھا ، تو اس نے اپنے چھوٹے بھائی کو گلی میں کھیلتے پایا ’’کمال ہے آج سلیم نیکر پہنے ہوئے ہے... آج ماں کو بڑا خیال آگیا۔‘‘ اس نے دل میں سوچا۔
دو قدم آگے چل کر وہ اپنی آباد ی کے میدان میں داخل ہوگیا۔ میدان میں ایک جانا پہچانا ٹرک کھڑا تھا، لیکن اس کی طرف زیادہ دھیا ن نہیں دیا۔ اپنی جھونپڑی کے دروازے پر پہنچا تواس نے دروازہ بند پایا، اور تب اس کی سمجھ میں آیا۔
’’ او ہو... یہ حرام زادہ پھر آیاہوا ہے۔‘‘
جھونپڑی کے اندر سے کسی مرد اور عورت کی باتیں کرنے کی آواز آرہی تھی۔ جس حرام زادے کی طرف عبداللہ کا خیال گیا تھا وہ اس کا سوتیلا باپ تھا جو ٹرک چلاتا تھا اور زیادہ وقت شہر سے باہر دور دراز کے چکر لگاتا تھا۔ اس کا اپنا باپ کون تھا یہ اسے نہیں معلوم تھا اور نہ ہی اس کے بارے میں اس نے کبھی سوچتا تھا۔
اب جب تک سوتیلا باپ اس کی ماں کے ساتھ رہے گا، اس کی ماں چھوٹے کی طرف توجہ زیادہ دے گی ۔ ’’ چلو اس میں بھی کیا برائی ہے۔ اس بورے کے پیسے تو میری جیب میں آئے۔‘‘ یہ سوچ کر وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا کباڑی کی دکان کی طرف چل دیا۔
بورے کی ردّی کے اسے پچاس روپے ملے۔ ابھی صرف دوپہر ہوئی تھی۔ شام تک وہ ایک اور بورا بھر سکتا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ دوسرے بورے کو بھی ماں سے بچالے۔ اس لالچ میں وہ دوبارہ نکل پڑا۔
شام کو جب میدان میں داخل ہوا تو اس کی ماں اور سوتیلا باپ باہر بیٹھے ہوئے تھے۔دل ہی دل میں اس نے اپنی قسمت کو گالی دی۔
اس کی ماں نے چیخنا شروع کیا ’’ شام کا یہ ٹائم ہوگیا ہے اور ابھی تک تو نے صرف ایک بورا بھرا ہے ...تو روز بروز کام چور ہوتا جارہا ہے‘‘ پھر اس نے سوتیلے باپ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’ دیکھ اس کو ... صرف گھر بیٹھا روٹیاں توڑتا ہے... کام کرنے بھیجو تو ایک بورا بھر کر لاتا ہے ،صبح سے۔‘‘
سوتیلے باپ نے بھی اسے سخت سست کہنا شروع کیں۔ عبداللہ اداس سا چہرہ بنائے کھڑا رہا۔یہ باتیں اس کے لئے معمولی تھیں۔ پھر سوتیلے باپ نے کہا۔
’’ اب کھڑا منہ کیا دیکھتا ہے۔ جا ،جا کر کباڑی کو بیچ کر آ۔ اس سے پہلے کہ وہ دکان بند کردے... جانور کہیں کا...‘‘
’’ جانور کہیں کا! ...جانور کہیں کا!‘‘ عبداللہ نے سنااور اس کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اب دوسری دفعہ کسی نے اس کے لئے یہ الفاظ استعمال کئے تھے اور ابھی تک اس کو کسی پر بدلہ اتارنے کا موقع نہیں ملا تھا۔
غصے کے مارے اس کے جی میں آیا کہ اپنے سوتیلے باپ پر چیخنا شروع ہوجائے۔ ’’جانور کہیں کا ... جانور کہیں کا‘‘ لیکن پھر اس کا وہاں رہنا مشکل ہوجاتا،کسی طرح اپنے غصے کو قابو میں رکھا اور تیزتیز قدم اٹھاتا ہوا کباڑی کی دکان کی طرف بڑھنے لگا۔
کباڑی نے اس کا بورا تولا اور صبح کی طرح اس کو پچاس روپے نکال کر دینے لگا۔ لیکن عبداللہ نے کہا ’’ ٹھیک سے تول ... یہ پورے ستر کا مال ہے۔‘‘
کباڑی بولا ’’ صبح بھی تو ایک بورا لے کر آیا تھا ، اس کے بھی تو پچاس روپے بنے تھے۔‘‘
’’ لیکن اس میں کاغذ زیادہ ہے ...تیرا ترازو خراب ہے ... اس کے ستر روپے بنیں گے۔‘‘
’’ ارے لڑکے زبردستی ہے کیا ؟‘‘
’’ ایک تو چور بازاری کرتا ہے، اور اوپر سے اڑی دکھاتا ہے ... تیرے سارے دھندے پتا ہیں مجھ کو... اس بستی میں کیاصرف کباڑ کی کمائی ہے تیری۔ سارے میں اعلان کردوں گا تیرے کالے دھندے کا۔‘‘ عبداللہ کباڑی پر بری طرح چیخ رہا تھا۔
کباڑی خاموش رہا اور اس کے بدلتے تیوروں کا اندازہ لگانے لگا۔
’’ پورے پیسے نکال …… ورنہ ……‘‘
کباڑی نے عبداللہ کے غصے کا مزید امتحان لینا مناسب نہیں سمجھا۔ ویسے بھی وہ ان لوگوں سے خاصا منافع کمالیتا تھا۔ خاموشی سے بیس روپے اور نکال کر عبداللہ کو دے دیئے۔
عبداللہ نے پورے ستر روپوں کو اپنی مٹھی میں دباتے ہوئے زور سے کہا ’’ جانور کہیں کا...‘‘ اور تیزی سے دکان سے باہر چلا گیا۔
عبداللہ کے کلیجے میں کچھ ٹھنڈک پڑی۔ لیکن ابھی بھی ایک ادھار اُسے چکانا تھا۔
واپس آکر اس نے ماں کے ہاتھ میں چالیس روپے رکھے۔ ماں نے اس سے کہا ’’ صرف چالیس روپے ملے ؟‘‘
’’ ہاں کاغذ ہلکا تھا …… بھاؤ بھی آج کل کم ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ میدان سے باہر نکل گیا۔
80 روپوں نے اس کی جیب کو خاصا گرم کیا ہوا تھا۔ اب سوال یہ تھا کہ تفریح کا کیا بہانہ نکالا جائے۔ ابھی وہ میدان سے نکل کر گلی کے کونے تک آیا تھا کہ پان والے کی دکان پر اُسے کریم کھڑا ہوا نظر آیا۔
’’ اور استاد کیا ہورہا ہے۔‘‘ عبداللہ نے کریم سے کہا۔
’’ کچھ نہیں یار۔ بس ایسے ہی کھڑا ہوں‘‘
’’ کیا پروگرام ہے آج شام کا ...کچھ کرنے کا موڈ ہے۔‘‘ عبداللہ نے پوچھا۔
’’ کیا کرسکتے ہیں ...صرف پانچ روپے ہیں جیب میں۔‘‘ کریم نے بور منہ بناکرجواب دیا۔
’’پانچ روپے ہیں... تو ایک سگریٹ پلاؤ ... باقی سارا حساب کتاب اپنے باس پر چھوڑ دو۔‘‘
کریم نے دو سستے برانڈ کے سگریٹ خریدے اور دونوں سگریٹ پینے لگے۔
’’ اور کوئی شغل میلہ چل رہا ہے آس پاس۔‘‘ عبداللہ نے پوچھا۔
’’ بنگالی پاڑے میں کوئی انگلش فلم لگی ہوئی ہے ...سنا ہے کافی ٹھیک ٹھاک سین ہیں اس میں ... یا اگر تھوڑی دور جانے کا پروگرام ہے تو ذرا آگے ہیجڑوں کا شو بھی چل رہا ہے.. جو چیز باس کو زیادہ گرم کرے۔‘‘
عبداللہ نے سکون کے انداز میں جواب دیا۔ ’’ دونوں کرتے ہیں۔‘‘
سب سے پہلے انہوں نے گٹکا خریدا اورکلے میں دبا کر بنگالی پاڑے کی طرف چلے۔
گٹکے کے نشے میں دونوں نے وہ انگریزی فلم دیکھی۔ کریم نے ٹھیک کہا تھاکافی گرما گرم سین تھے اس میں اورفائیٹنگ کا تو جواب نہیں۔
عبداللہ نے کہا۔ ’’ مزہ آگیا یار... کیا ہیروئن تھی ...یہ سالی ہمارے ملک کی عورتیں ایسی کیوں نہیں ہوتیں... یہ سالا ملک... عورتیں بھی جعلی ہیں یہاں کی‘‘ عبداللہ خاصے موڈ میں تھا۔
انہوں نے ڈبل پتی کے پان اور سگریٹ دوبارہ خریدے اور مجرے کی طرف چلے۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ اندر جانے کا ٹکٹ بیس روپے کا ہے۔ عبداللہ نے اپنی جیب ٹٹولی تو پتہ چلا کہ اس کے پاس صرف ستائیس روپے باقی بچے ہیں۔
اس نے گیٹ والے سے بڑی التجا کی ’’ بھائی دو ٹکٹ دے دے ۔ ستائیس روپے کے‘‘
’’ دو ٹکٹ تو چالیس کے آئیں گے...تیرا اور لاؤ۔‘‘
’’ اور نہیں ہیں ابھی ... کل لادوں گا۔‘‘
’’ کل لاؤ گے …… تو پھر شو بھی کل دیکھنا‘‘۔
’’ دیکھو تم سے تمیز سے کہہ رہا ہوں ...پھر بعد میں نہیں کہنا کہ میں نے آرام سے بات نہیں کی۔‘‘ عبداللہ کچھ انداز بدل کر بولا۔
’’ ابے لڑکے... چل بھاگ یہاں سے ...پیسے نہیں ہیں تو شو کیسے دیکھے گا۔‘‘ گیٹ والا عبداللہ کے رعب میں نہیں آیا۔
’’ اچھا یہ بات ہے ...جانور کہیں کا۔‘‘ عبد اللہ نے نہایت تحقیر سے کہا۔
پھر اگلے ہی لمحہ اس کا غصہ آپ ہی آپ اتر گیا۔ شو نہ دیکھ پانے کا دکھ بھی ختم ہوگیا۔ اس کو لگا کئی من بوجھ اس کے دل سے ہٹ گیا ہے۔ اور ادھار تمام چکُ گئے ہیں۔ اس نے خاموشی سے کریم سے کہا ’’ چل یار نکل، کل آئیں گے۔‘‘
عبداللہ دل میں بہت خوش تھا۔ ’’ واہ یار کیا فٹ کرکے بدلہ اتارا ہے‘‘ اب تمباکو کا نشہ اس پر اور زیادہ اثر انداز ہورہا تھا۔ ایک فقیرنی کواس نے آپ سے پانچ روپے دے دیئے۔ کریم نے جب اس کی طرف کچھ حیرت سے دیکھا تو اس نے جواب دیا۔ ’’ غریب لوگ ہیں... موج کرلیں گے ... ان کا بھی کبھی کبھی خیال کرلینا چاہئے۔‘‘
ابھی وہ موڑ مڑ کر تھوڑی ہی دور گئے ہوں گے کہ انہوں نے دیکھا کہ آگے ایک پولیس کی موبائل کھڑی ہوئی ہے اور پولیس والے تلاشی لے رہے ہیں۔ یہ عام سی بات تھی، عبداللہ نے اس کی طرف بالکل دھیان نہیں دیا۔
لیکن پھر اچانک اس نے دیکھا کہ پولیس موبائل کو دیکھ کر کریم الٹے قدم واپس بھاگ گیا۔ اس کی سمجھ میں بالکل نہیں آیا۔ ابھی وہ کریم کی طرف حیرت سے دیکھ ہی رہا تھا کہ پولیس والے اسُ تک آگئے۔ انہوں نے کریم کو بھاگتا ہوا دیکھ لیا تھا۔
’’ یہ کون تھا... ایک نے کریم کے بھاگنے کی سمت اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔
’’ کریم‘‘
’’ کریم ؟... تو کیسے جانتا ہے‘‘
’’ اس لئے کہ وہ میرے علاقے میں رہتا ہے۔‘‘
’’ تم کون ہو ؟‘‘
’’ عبداللہ ... لیکن ہوا کیا ہے ؟‘‘ عبداللہ نے سمجھنے کی کوشش کرتے ہوئے پوچھا۔
’’ ہوا کیا ہے ؟... ایک تو دہشت گردوں کے ساتھ پھرتے ہو اور اوپر سے پوچھتے ہو ہوا کیاہے ... بتاؤ کیا کررہے تھے تم لوگ اسُ طرف؟‘‘ پولیس والے نے گرج کر پوچھا۔
عبداللہ کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ ابھی وہ خوفزدہ نظرو ں سے پولیس والے کو تک ہی رہا تھا کہ ایک اور نے اس کی تلاشی شروع کردی۔ اور اس کی جیب میں جو بائیس روپے ملے، وہ نکال کر اپنی جیب میں رکھ لئے۔
اس پر عبداللہ ایک دم پریشان ہو کر چیخنے لگا۔ ’’ میرے پیسے واپس کرو ...میرے پیسے واپس کرو۔‘‘
لیکن پولیس والے نے جواب دیا۔ ’’ ابے ... ایک تو علاقے میں دہشت گردی کرتا ہے اور اوپر سے کہتا ہے تیرے پیسے ہیں یہ... خیریت چاہتا ہے تو دفعان ہوجا یہاں سے۔
عبداللہ خاموش ہو کر کھڑا ہوگیا۔
’’ جاتا ہے کہ لے جاؤں تھانے تجھے۔‘‘
عبداللہ ا ب بھی کھڑا رہا۔
’’ بھاگو یہاں سے... اس بارپولیس والا زور سے چلایا۔ عبداللہ پلٹا۔ اور ابھی اس نے دو تین قدم ہی لئے ہوں گے کہ اس پولیس والے نے اپنی کلاشنکوف کی نال اوپر کی اورایک فائر کیا۔
گولی عبداللہ کے سر میں سے ہوتی ہوئی نکل گئی۔ اس کی کھوپڑی کے پرخچے اڑُ گئے ۔ عبد اللہ اس وقت اس پولیس والے کے اتنے قریب تھا کہ خون کے چند چھینٹے پولیس والے کی آستین پر بھی آئے۔
پولیس والا پریشان ہوکر پیچھے کی طرف ہوا اور اپنی آستین جھاڑتے ہوئے اس نے کہا ، ’’ جانور کہیں کا... سالا...‘‘

جمعہ، 17 اپریل، 2015

کرسٹی کے ساتھ چند راتیں


یہ لوئر ایسٹ سائیڈ (Lower East side) کا علاقہ تھا۔ نیو یارک شہر کا اس زمانے کا ایک اور خطرناک محلہ۔ گلیوں کے کونوں پر سیاہ فاموں کے گروہ کھڑے منشیات فروخت کررہے تھے۔ ان کے ہیبت ناک حلیے اور مہیب نگاہیں رگوں میں خون خشک کئے دیتی تھیں۔ سڑک پر ادھر ادھر چمکیلے لباس میں عورتیں گھوم رہی تھیں جن کے ہاتھوں میں چھوٹے چھوٹے کالے یا لال رنگ کے پرس لٹک رہے تھے۔ ایک دو جگہ انہوں نے مجھے بھی ہاتھ دے کر روکنے کی کوشش کی۔

اور پھر پنکس (Punks)تھے۔ کچھ کے بال اودے اور کچھ کے نیلے یا ہرے ، کچھ نے ہونٹوں میں چھلے ّ ڈالے ہوئے ، کچھ نے آنکھ کے اوپر بھنوؤں پر۔ عجیب وحشت کا سماں تھا۔ ایک کونے میں ایک طوائف اونچی آواز میں ہنس رہی تھی۔اس کی زبان میں چھلا ّ پڑا ہوا تھا۔ تکلیف کے تصور سے میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔

یہ نیو یارک شہر کی ایک کلب ڈسٹرکٹ (Club district)تھی۔ یہاں نوجوان مردوں اور عورتو ں کے ہجوم کلبوں میں ایک دوسرے سے چمٹ کر رقص کرتے اور شراب سے زیادہ ہیروئن اور کوکین کے نشے میں وقتی نروان پاتے۔ اور جب یہ رہائی ان کی برداشت سے باہر ہوجاتی تو باہر نکل کر ایسی بدروحوں کی طرح پھرتے جو اپنی قبروں میں پلٹ کر واپس نہیں جاسکتیں اور قیامت تک زمین پر یونہی گھومیں گی۔

خاصا عرصہ ہوا میں نے اپنی قسمت کو کوسنا چھوڑ دیا تھا۔ اب صرف اپنی عقل و فہم ہی کو کوسا کرتا تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ عقل پر پتھر پڑ گئے تھے جو اس علاقے سے سواری اٹھانے آیا تھا؟

مگر ان دنوں حالات ایسے تھے کہ بیچ سمندر سے بھی کسی سواری کو اٹھانا ہوتا تو چلا جاتا۔ اب میں سوچ رہا تھا کہ اس علاقے سے نکل جاناچاہئے۔ رات بہت ہوچکی ہے۔ فرسٹ ایونیو پر بائیں ہاتھ مڑا تو میں نے دیکھا کہ ایک عورت نسبتاً معقول لباس اور حلیے میں بیچ سڑک پر دوڑی چلی جارہی ہے۔ اس سے تقریباً سو گز پیچھے عمارت کے ساتھ ساتھ ایک سایہ تیزی سے حرکت کررہا تھا۔ ’’ ہیلپ ...‘‘ اس عورت نے زور سے چیخ کر مجھے ہاتھ دیا۔ دھڑکتے دل کے ساتھ میں نے ٹیکسی اس کے قریب لا کر روک دی۔ وہ اندر آ بیٹھی اور میں نے ایکسلریٹر پر پاؤں کا دباؤ بڑھا دیا۔ وہ سایہ ہم تک نہیں پہنچ پایا۔

ہم اس علاقے سے نکل گئے۔ میرا دل اب بھی زور سے حرکت کررہا تھا۔ میں نے شیشے میں پچھلی سیٹ پر دیکھا تو وہ عورت ایسے گہرے سکون کے ساتھ بیٹھی تھی کہ جیسے اب دنیا میں ہر طرف امن و شانتی ہو۔ اس کی عمرتیس بتیس سال کے لگ بھگ تھی۔ جسم متناسب تھا ، نسل کے اعتبار سے گوری تھی۔ شکل و صورت کوئی خاص نہیں تھی لیکن ان دنوں میں تقریباً ہر گوری عورت پر مرمٹتاتھا۔ اس نے مجھے شیشے میں پیچھے دیکھتے ہوئے دیکھ لیا اور بولی۔

’’ شکریہ ... تمہارا ... بہت بہت شکریہ۔‘‘ وہ اب بھی ہلکا سا ہانپ رہی تھی۔
میں نے شکریئے کے جواب میں سر کو خفیف سا جھٹکا دیا۔
’’ نہیں تو کل میری خبر آتی ... شکریہ تمہارا۔ بہت ٹھیک وقت پر پہنچے تم ... کہاں سے تعلق ہے تمہارا ؟‘‘
’’ پاکستان سے ...‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’ اتنا تو میں بھی بتا سکتی ہوں۔ میرا مطلب ہے پاکستان میں کہاں سے تعلق ہے۔‘‘ اس سوال پر مجھے خاصی حیرت ہوئی۔ کیونکہ میرے اکثر پسنجر پاکستان کے نام سے ناواقف ہوا کرتے تھے۔ یہ مجھ سے پاکستان کے علاقے کا پوچھ رہی ہے۔
’’ لاہور‘‘ میں نے جواب دیا۔ ’’ تم کو پاکستان کے بارے میں اتنا پتہ ہے کیا ؟‘‘ لوئر ایسٹ سائیڈ کے اس منظر کو ایک دم بھول کر میں نے سوال کیا۔
’’ ہاں ...‘‘ وہ مسکرائی۔ ’’ ایک زمانے میں میراایک دوست ہوا کرتا تھا جس کا تعلق پاکستان سے تھا ... اس نے مجھے پاکستان کے مختلف علاقوں اور لوگوں کے بارے میں بہت کچھ بتایا تھا ...‘‘ یہ عورت ابھی ایک جان لیوا صورتحال سے نکل کر آئی تھی اور اب لمحے بھر میں اس کا انداز بالکل بدل چکا تھا۔ اتنی تیز تبدیلی پر مجھے حیرت تھی۔
’’ اچھا ... کہاں سے تعلق ہے تمہارے دوست کا‘‘
’’ ہے نہیں تھا ... اس کا تعلق کراچی سے تھا‘‘
یہ سن کر میں چپ ہوگیا۔ امریکا آنے کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا کہ کوئی گوری عورت مجھ سے زیادہ بات کرے ، اس لئے میں نے کچھ دیر بعد پھر سوال کیا ’’ تو کیا تم کبھی پاکستان گئی تھیں ؟‘‘
اس پر وہ کچھ خاموش ہوگئی ’’ نہیں ... لیکن اب میرا دل چاہتا ہے وہاں جانے کو۔‘‘
’’ تمہارا دوست واپس چلا گیا ؟‘‘
’’ ہاں ...‘‘

وہ خاموش ہوگئی۔ اس کے چہرے کا گہرا سکوت گہری فکر میں تبدیل ہوچکا تھا۔ کچھ دیر میں بھی خاموش رہا پھر میں نے دوبارہ گفتگو کا آغاز کیا۔ اب میں اس سے پاکستان کے متعلق باتیں کررہا تھا۔ کیسا ملک ہے ، یہاں کے لوگوں کے طور طریقے اور رہن سہن کیا ہیں۔ لیکن مجھے حیرت تھی کہ ان میں سے بیشتر باتیں اسے پتہ تھیں۔ اب ہم دونوں باتوں میں محو تھے اور کچھ دیر پہلے کے واقعہ کو بالکل بھول چکے تھے۔

’’ تم کو اتنی باتیں کیسے معلوم ہیں ؟‘‘ میں نے اس سے پوچھا۔
’’ تم کو بتایا تو تھا میں نے‘‘ اس نے خاموشی سے جواب دیا۔ اور پھر اس کا چہرہ، جو میری اتنی باتوں سے خاصا جاگ اٹھا تھا بجھ سا گیا۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا تھا اور صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کی۔
’’ تم کو ایکٹنگ کا شوق ہے ؟‘‘ انداز کی کسی ظاہری تبدیلی کے بغیر میں نے اس سے پوچھا۔ مجھ کو اب سے چند سال قبل کا لاہور کا زمانہ یاد آرہا تھا۔میں ان دنوں کالج سے فارغ ہوا تھا اور نوکری ڈھونڈ رہا تھا، لیکن نوکری سے زیادہ میری نظریں اڑوس پڑوس اورجان پہچان کی لڑکیوں پر ہو ہو تی تھیں۔
’’ کیا ...‘‘ اس نے تھوڑی مسکراہٹ اور تھوڑی حیرت سے کھلتے ہوئے ہونٹوں سے پوچھا۔
’’ کیا تم نے کبھی ایکٹنگ کرنے کے بارے میں سوچا ہے ؟‘‘ میں نے اس سے دوبارہ سوال کیا۔ میرا حربہ کامیاب ہوچکا تھا۔ وہ کچھ دیر خاموش رہی پھر پوچھا۔
’’ کیا مطلب ؟ ... تم مجھے کوئی رول دلا سکتے ہو ؟‘‘ اس کے لہجے سے شک عیاں تھا ، لیکن ساتھ ہی ساتھ ناممکن پر یقین لانے والی مسکراہٹ بھی کھیل رہی تھی۔
’’ میرا مطلب ہے کہ اگر تم کو پاکستان کی ثقافت کے بارے میں اتنا پتہ ہے ... اور اگر تم ایکٹنگ کرسکتی ہو ... تو پھر میں تم کو وہاں کے کسی ٹی وی سیریل میں رول دلا سکتا ہوں ...‘‘ میرے جو منہ میں آرہا تھا میں کہہ رہا تھا۔ مجھے اب شبانہ یاد آرہی تھی۔ لاہور میں ہمارے گھر سے دو چھتیں چھوڑ کر اس کی چھت تھی۔ نہ جانے کیا کیا باتیں کیا کرتا تھا میں اس کے ساتھ۔
’’ پتہ نہیں کہ تم میری بات پر یقین کرو یا نہ کرو ... لیکن ایک زمانے میں میری ٹیلی ویژن میں خاصی جان پہچان تھی ... ٹی وی کے سیریل ڈرامے فلمانے کے لئے ان کی ٹیمیں ادھر بھی آتی رہتی ہیں ... کوشش کرکے کوئی چھوٹا موٹا پارٹ تودلوا ہی سکتا ہوں ...‘‘ پھر میں نے سنجیدہ انداز میں آئینے میں اس کی طرف دیکھا۔
وہ میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔ صاف نظر آرہا تھا کہ اس نے میری کسی بات پر یقین نہیں کیا ہے۔
لمحے بھر کے لئے میرے دل میں شبانہ کے لئے اک ہلکا سا درد اٹھا ’کتنی بھولی تھی وہ بھی ، میں نے اس کے بارے میں سوچا۔ اور پھر دھیان اس عورت کی طرف آگیا جو میری ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھی۔ یقین کرے یا نہ کرے لیکن وہ میری باتوں سے محظوظ ضرور ہورہی تھی۔
میں نے اس سے پوچھا ’’ کیوں کیاہوا ... تمہیں یقین نہیں آرہا میری باتو ں پر ...‘‘
وہ کچھ دیر خاموش رہی پھر مسکرا کر بولی ... ’’ ریاض بھی بالکل تمہاری طرح تھا‘‘۔
ریاض شاید اس کے پرانے دوست کا نام ہوگا۔ میں نے سوچا۔ پھر میں نے اس کی بات مسترد کرتے ہوئے کہا۔ ’’ لیکن اس کا تو تعلق کراچی سے تھا۔‘‘ وہ ہلکا سا ہنس کر چپ ہوگئی۔
’’ تم کو یقین نہیں آرہا میری باتوں پر ...‘‘ میں اپنی بات پر قائم تھا۔ ’’تو موقع دو مجھے ان کو ثابت کرنے کا۔‘‘ وہ خاموش رہی اور میں اس سے بات کرتا چلا گیا۔ ’’ میں ہر کسی کو اس طرح کی آفر نہیں کرتا لیکن میں نے دیکھا کہ تم اتناکچھ جانتی ہو پاکستان کے بارے میں ، وہاں کے لوگوں اور ان کے رہن سہن کے بارے میں ، اور پھر تمہارے بات کرنے کا انداز اتنا دلکش ہے اور جب مسکراتی ہو تو یوں لگتا ہے کہ سورج مکھی کے پھول ہوا میں ڈول رہے ہیں۔‘‘ میں اس سے اس طرح کی باتیں کرتا چلا گیا۔

کچھ دیر بعد میری اس پر نظر پڑی تو وہ میری باتیں اک طرف تو گہرے لگاؤ کے ساتھ سن رہی تھی پھر دوسری طرف اس کے لبوں کی شرارت اورآنکھوں میں تیرتی ہوئی ہوشیاری مجھے اس بات کا پتہ دے رہی تھی کہ وہ میرے بچکانہ سے وار کو اچھی طرح سمجھ رہی ہے ، اور یہ کہ مجھ سے بڑا بے وقوف کوئی نہیں۔
میرے لئے یہ ایک نئی صورتحال تھی جس سے نمٹنے کا مجھے کوئی تجربہ نہیں تھا۔میں لاہور میں لڑکیوں کے معاملے میں خاصا کامیاب ہوا کرتا تھا۔ میرے دوست مجھے خوش قسمت سمجھتے تھے۔ ان کے سامنے اپنا سینہ خوب پھلائے رکھتا تھا لیکن اپنی کامیابی کا رازمیں نے کبھی کسی کو نہیں بتایا تھا۔ وہاں پر لڑکیاں پھنسانا اصل میں خاصا آسان ہوا کرتا تھا۔ لڑکیاں خود ہی بات کرنے کا کسی طرح اشارہ کرتی تھیں۔ پھر اس کے بعد کا کام مختلف انداز سے ان کی تعریفوں کے پل باندھ کر اپنے مطلب پر راضی کرناہوتا تھا۔ اور اس ہی کام میں اصل ہنر درکار ہوتا تھا۔ لڑکی کا مزاج جاننے کے بعد اس بات کا اندازہ لگانا کہ وہ کن باتوں سے رام ہوگی۔ بعض لڑکیاں اپنے حسن و ناز کی تعریفیں چاہتی تھیں کچھ یہ چاہتی تھیں کہ میں ان کے عشق میں گرفتار ہو کر ان کو خدا بنالوں، اور کچھ کو محض شادی کرنے کا یقین دلانا کافی ہوتا تھا۔ ان تمام مرحلوں میں اس بات کا خیال رکھنا ضروری تھا کہ میں خود اپنا دل ان سے نہیں لگا بیٹھوں۔ ورنہ بعد میں چھٹکارا حاصل کرنے میں مجھے بھی اذیتیں اٹھانی پڑتی تھیں۔

اب سوچتا ہوں تو یہ تمام باتیں دیوار پر لکھی ہوئی تحریر کی طرح سادہ و عیاں معلوم ہوتی ہیں۔ مگر اس زمانے میں یہ میرے شعور میں شامل نہیں تھیں۔ میں محض جبلّی خواہشات سے مجبور اک نوجوان تھا جس کی حاجات نے اپنی تکمیل کے لئے آپ ہی راہ نکالی تھی۔ اور معاشرے کا قانون یا ضمیر کی آواز اس راہ میں حائل نہیں ہوپائے تھے۔

لیکن نیویارک آنے کے بعد میری زندگی بالکل بدل گئی تھی۔ امریکا کی زندگی کے بارے میں جتنے خواب دیکھے تھے یا جو عیاشیاں تصور کی تھیں تقریباً سب کے سب ہی غلط ثابت ہوئے تھے۔میں برلکن میں ایک کمرے کے فلیٹ میں رہا کرتا تھا۔ اس فلیٹ میں مجھ جیسے چار لڑکوں کا گزر ہوتا تھا۔ میرے علاوہ ایک اور لڑکا غیر قانونی طور پر مقیم تھا، باقی دو کے پاس ورک پرمٹ تھے جو انہوں نے نہ جانے کن طریقوں سے حاصل کئے تھے۔ ان میں سے ایک لڑکا ٹیکسی چلاتا تھا ، اور اسی کی ٹیکسی رات کو میرے پاس ہوتی تھی۔

میری اس زندگی کو ابھی کوئی دس ماہ ہوئے تھے۔ رات بھر ٹیکسی چلاتا اور دن کو سوتا۔ فلیٹ میں رہنے والے لڑکوں سے میری صرف اس وقت ملاقات ہوتی تھی جب وہ کام سے لوٹتے تھے اور میں کام پر جارہا ہوتا تھا۔ ہفتے میں ساتوں دن کام کیا کرتا تھا۔ ہمارے فلیٹ میں کوئی لڑکا بھی ہفتے یااتوار کی چھٹی نہیں کرتا تھا۔ میرا بھی یہی معمول تھا۔ کام کا ناغہ صرف اسی صورت میں ہوتا جب ٹیکسی خراب ہوجائے، لیکن ایسا صرف دو تین بار ہی ہوا تھا۔

اور جہاں تک سیر و تفریح کا تعلق تھا۔ یہ چیزیں نیویارک کی اس زندگی میں نہیں گنی جاتی تھیں۔ فلیٹ کے لڑکوں کے ساتھ تھوڑا بہت ہنسی مذاق ہوجاتا، یا پھر کبھی کشمیر ہوٹل میں جاکر بیٹھ جایا کرتا جو نیویارک میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیوروں کا اڈہ تھا۔ رات کو وہاں خاصی چہل پہل ہوا کرتی تھی۔ لیکن امریکیوں سے میرابہت کم واسطہ پڑا تھا۔ میری ٹیکسی میں بیٹھنے والے مسافر اکثرامریکی ہی ہوا کرتے تھے ، پر میری آج تک ان سے کم بات چیت ہوئی تھی۔ چونکہ میں رات میں ٹیکسی چلاتا تھا اس لئے شروع رات میں تو بیشتر اوقات آفسوں میں کام کرنے والے لوگ ہوا کرتے تھے جو دن بھر کے کام کے بعد تھکن سے چور جلد از جلد اپنی منزل تک پہنچنا چاہتے تھے۔ یا پھر جب رات تھوڑی بڑھتی تو شراب خانوں یا کلبوں سے نکلنے والے شراب کے نشے میں دھت لوگ ہوا کرتے تھے ان میں سے بعض تو اتنا پیے ہوتے تھے کہ بہ مشکل اپنے گھر کا راستہ بتا پاتے لیکن بعض نشہ میں آنے کے بعد خاصے موڈ میں آجایا کرتے۔ اور زور زور سے باتیں کرتے۔ ان لوگوں سے خاصی دلچسپ باتیں ہوتیں۔ لیکن اس گفتگو میں وہ لوگ زیادہ بولتے تھے، اور مجھے ان کے نشے کے احترام میں زیادہ وقت خاموش رہنا پڑتا تھا۔

مگر آج صورتحال مختلف تھی۔ آج میں بول رہا تھا اور میری مسافر خاموش تھی۔ میں کوشش کررہا تھا کہ وہ میری باتوں پر یقین کرلے لیکن اس کے شکوک و شبہات بڑھتے جارہے تھے۔
امریکا میں عورتوں سے میرا واسطہ بہت کم پڑا تھا۔ عورتیں اکثر میری ٹیکسی میں بیٹھا کرتیں تھیں،لیکن کبھی کسی نے مجھ سے زیادہ بات نہیں کی تھی۔ اکثر کے چہروں سے لگتا کہ جیسے وہ مجھ سے خوف زدہ ہیں اور سفر جلد ختم ہونے کی دعا کررہی ہیں۔ میں اکثر سوچتا کہ اگر میں کسی دفتر یا دکان میں نوکری کررہا ہوتا تو شاید صورتحال مختلف ہوتی وہاں شاید کسی عورت سے واسطہ پڑتا۔ شاید کوئی لڑکی کاؤنٹر پر کام کرتی ہوتی یا شاید کوئی آفس سیکریٹری یا ٹیلی فون آپریٹر ہوتی۔
اس زندگی میں ہر چند روز کے بعدنفس کی طلب میرا جسم جھنجھوڑنے لگتی تھی۔ ان دنوں میں عورت کے لئے زیادہ بے چین ہوجاتا تھا۔ اکثر رات کو ٹائمز اسکوائر کے قریب چکر لگاتا۔ اس علاقے میں چمکیلے اور مختصر کپڑوں میں ملبوس طوائفیں گھومتی رہتی تھیں۔ گاڑی روکو تو خود ہی دوڑی چلی آتی تھیں۔ ان سے میری بات تو ہوتی تھی لیکن آج تک کچھ کرنے کی ہمت نہیں ہو پائی تھی۔ ایک تو ان کی قیمت میری پہنچ سے باہر ہوا کرتی اور پھر ان طوائفوں کو قریب سے دیکھ کر میری تمام خواہشات اورجذبات سرد پڑ جاتے۔ کہاں میں پکے پکائے اور خوبصورت مال کا عادی اور کہاں یہ سڑکوں پر پھرتی طوائفیں۔ ان سے تو بات کرنے میں ہی متلی آنے لگتی۔ یا اگر کوئی دیکھنے میں ٹھیک ہوتی تو دام آسمان پر ...
گزشہ ایک دو ماہ کے دوران میں نے کلبوں کے چکر بھی لگائے تھے، لیکن وہاں کسی نے مجھے گھاس نہیں ڈالی۔ شاید میں شکل سے ہی ٹیکسی ڈرائیور لگتا تھا۔
اور اب معاملہ یوں تھا کہ ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر ایک گوری عورت بیٹھی تھی جو مجھ سے بات کررہی تھی اور جسے میں اپنی باتوں کے فریب میں لانا چاہتا تھا۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ وہ سب کچھ سمجھ رہی تھی اور مجھے خطرہ تھا کہ وہ کسی بھی لمحے مجھ پر ہنسنا شروع کردے گی۔
’’ تمہیں باتیں کرنی خوب آتی ہیں‘‘ اس نے کہا۔ میں جواب میں خاموش ہوگیا۔
’’ کتنا عرصہ ہوا تم کو یہاں رہتے ہوئے ؟‘‘ اس نے سوال کیا۔
’’ دس ماہ‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’ واپس کب جاؤ گے ؟‘‘ یہ عجیب سا سوال تھا۔
’’ واپس ؟ ... پاکستان ...‘‘ میں نے اس طرح جواب دیا کہ گویا میرا واپس جانے کا کوئی ارادہ نہیں۔
’’ یہاں پڑھ رہے ہو ؟‘‘
’’ ہاں‘‘ اچھی باتوں اور عادتوں کے متعلق ہمیشہ ہاں کہنا چاہئے۔

میں نے اس سے اس کے بارے میں پوچھنے کا سوچا لیکن پھر مناسب نہیں سمجھا۔ وہ بھی خاموش ہوگئی، میں بھی خاموش تھا۔
منزل قریب آچکی تھی۔ اس کے اشارے پر میں نے ٹیکسی ایک طرف روک دی۔ وہ پرس سے پیسے نکالنے لگی۔ یہ آخری موقع تھا۔
’’ تمہاری شکل و صورت اور مسکراہٹ کے بارے میں ، میں نے جو کچھ کہا تھا ایک دم سچ تھا۔ یقین جانو بالکل ایسا ہی ہے۔‘‘
وہ اپنے پرس سے پیسے نکالتے نکالتے رک گئی اور چہرہ اٹھا کر مجھے دیکھنے لگی۔ میری بات اس کے دل کو لگی تھی۔ اس کے چہرے پر کچھ حیرت ، کچھ یقین ، کچھ افسردگی اور کچھ مسرت کے آثار تھے۔ ہو بہو شبانہ کی طرح ، یہ محسوس کرکے مجھے عجیب سا لگا۔ کہاں ہماری گھریلو لاہوری لڑکیاں اور کہاں یہ گوری امریکن میم۔ کیا ان کے دیکھنے کا انداز بھی اس قدر دیسی ہوتا ہے۔ مجھے خاصی حیرت تھی۔
’’ ہماری دوبارہ ملاقات کیسے ہوسکتی ہے ؟‘‘ میں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
’’ میرا نمبر لے لو ...‘‘ یہ کہہ کر اس نے پیسوں کے ساتھ ایک کاغذ پر اپنا نمبر لکھ کر دیا۔ دل میں آئی کہ اس کے پیسے واپس کردوں۔ لاہور میں ہوتا تو ایساہی کرتا۔ میں نے چاہا کہ کسی طرح اپنے اوپر جبر کرکے اس کے پیسے واپس کردوں لیکن راضی نہیں ہو پایا۔ بعد میں مجھے اس بات کا افسوس ہوا۔
وہ ٹیکسی سے اتر گئی اور فٹ پاتھ پر کھڑی ہوکر مجھے مد بھری نگاہوں سے دیکھنے لگی۔ میں نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا اور ایکسلریٹر پر پاؤں رکھ کر وہاں سے نکل گیا۔ مجھے پھر شبانہ یاد آگئی تھی اور بے تحاشا گھبراہٹ محسو س ہوئی تھی۔

امریکا میں اکیلے رہتے رہتے میں اکثر پرانے خیالوں میں گم ہوجایا کرتاتھا۔ جب کوئی دوست یا کوئی بات کرنے والا نہ ہو تا، تب میں پرانی یادوں کو تفریح کا ذریعہ بنایا تھا۔ کبھی میں اپنے گھر والوں کے بارے میں سوچتا اور پھر جب ان سے جدائی کے احساس سے دل ڈوبنے لگتا تو اپنے کالج کا زمانہ یاد کرنے لگتا۔ وہاں کے مزے ،مذاق ، عیاشیاں۔ پھر مجھے وہ لڑکیاں یاد آتیں جن کے ساتھ میرے تعلقات رہ چکے تھے، لیکن سب سے زیادہ مجھے شبانہ یاد آتی تھی۔ نہ جانے کیوں اس کا بھولا اور معصوم چہرہ اور میری ہر بات پر اس کا اندھا اعتماد۔ میں سوچتا کہ اگر میں اب تک لاہور میں ہوتا تو شاید اس سے شادی کرچکا ہوتا لیکن میں نے امریکا کے نشے میں اس کا دل توڑ دیا تھا۔ اب تقریباً ہر صبح میرا دل اس احساس کے تیز دھار خنجر کے ہاتھوں دو لخت ہوتا تھا۔

میں نے اس لڑکی کا نمبر تو لے لیا تھا لیکن اس کا نام نہیں پوچھا تھا۔ اپنی اس حماقت کا خیال مجھے بعد میں آیا۔ چلو اس بہانے کچھ اور تفریح کا موقع مل سکتا ہے۔ میں نے اپنے دل میں سوچا اور مسکرایا۔

اگلی رات کوتقریباً دس بجے کشمیر ہوٹل میں بیٹھاچائے پی رہا تھا۔ دن میں اپنے ایک روم میٹ سے بات ہوئی تھی اس نے بتایا تھا کہ فلوریڈا میں کوئی وکیل ہے جو کسی طرح سے ورک پرمٹ دلوا دیتا ہے۔ اسی مسئلے پر آج ہمیں کشمیر ہوٹل میں کسی سے ملنا تھا۔ ہم خاصی دیر سے انتظار کررہے تھے وہ شخص ابھی تک نہیں آیا تھا۔

کچھ دیر مزیدانتظار کے بعد وہ شخص آگیا اور ہم اس سے بات کرنے لگے۔ پتہ چلا کہ فلوریڈا میں کوئی وکیل یہ کام کرا رہا ہے۔ اس کام میں وہاں کے دو تین چکر لگانے پڑیں گے اور وکیل کی فیس وغیرہ سمیت کل خرچہ پانچ ہزار ڈالر کے لگ بھگ ہوگا۔ ہم لوگ اپنی باتوں میں مگن ہوگئے اور وقت خاصا نکل گیا۔ بعد میں گھڑی دیکھی تو کوئی سوا گیارہ بج رہے تھے۔ میں نے سوچا کہ اس لڑکی کو فون کروں لیکن پھر خیال آیا کہ شاید اب بہت دیر ہوگئی ہے۔ اور پھر مجھے اس کا نام بھی معلوم نہیں تھا۔

کشمیر ہوٹل سے نکل کر میں نے ٹیکسی کا اسٹیئرنگ سنبھالا۔ اس کا خیال ذہن میں بدستور تھا۔پھر دس منٹ بعد ہی میں نے اس کو فون کرنے کا فیصلہ کیا۔
کسی نے ریسیور اٹھایا تو مجھے لگا کہ جیسے اسی کی آواز ہے۔ اب میں کس طرح پوچھتا۔ پھر میں نے کہا۔
’’ کل میں نے اس پتے پر رات کو ایک بجے ایک خاتون کو ڈراپ کیا تھا‘‘
’’ اوہ تم ہو ...‘‘
’’ ہاں میں ... اچھا یہ بتاؤ‘‘ پھر میں تھوڑا رکا ’’ کل میں نے تم سے تمہارا نام بھی نہیں پوچھا ...‘‘
’’ کرسٹی ... اور تمہارا نام کیا ہے ؟‘‘
’’ جمشید‘‘
’’ جم ...‘‘ اس نے میرا نام لینے کی کوشش کی پہلی دفعہ یہ اس کو بہت مشکل لگ رہا تھا۔
’’ جمشید ... میں نے دھرایا‘‘ لیکن اگر تم چاہو تو مجھے جمی کہہ سکتی ہو ...‘‘
’’ جمشید ... نہیں جمشید زیادہ اچھا ہے۔‘‘

پھر ہماری باتیں شروع ہوگئیں۔ ہلکی پھلکی عام سی باتیں۔ وہ کون ہے کیا کرتی ہے۔ اس کی پسند کیا ہے۔ کیسے لوگ اسے اچھے لگتے ہیں ، اور کیسے برے وغیرہ۔ کل کی ڈرامے میں ایکٹنگ والی بات کا میں نے کوئی ذکر نہیں کیا اور نہ اس نے اس کے بارے میں کچھ پوچھا۔ پاکستان کے بارے میں بھی میں نے کوئی بات نہیں کی اور نہ اس نے۔ وہ بھی مجھ سے ہلکی پھلکی باتیں کرتی رہی۔
پھر آخر میں فون رکھنے سے پہلے میں نے کہا ’’ سنو ... وہ کل جو میں نے آخر میں تم سے کہا تھا ، وہ ایک دم سچ تھا۔ کہو تو دہرا دوں ...‘‘
اس طرف دو لمحے کے لئے خاموشی ہوگئی۔ لیکن اس کے کچھ کہنے سے پہلے میں نے کل کے جملے دھرانے شروع کردیئے۔ بیچ میں ادھر سے مجھے ہلکی سی ہنسی کی آواز بھی آئی۔ پھر میں جملے ختم کرکے رک گیا۔
’’ اتنی جلدی رک گئے ؟‘‘ وہ ذرا مذاق اڑانے والے انداز میں بولی۔
میں بھی ہلکے سے ہنسا ’’ نہیں میں نے سوچا کہ میں تو یوں بولتا جاؤں گا لیکن تمہیں پھر سونا ہوگا۔‘‘
دوبارہ اس کی ہنسی کی آواز آئی۔
’’ اچھا یہ بتاؤ ... ہم کب مل سکتے ہیں۔‘‘
’’ اوں ... سوچنا پڑے گا ...‘‘ اب اس کو میرے لئے کچھ مشکل پیدا کرنے میں مزا آرہا تھا۔ ’’ اگلے دو دن تو میں بہت بزی ہوں ... اس کے بعد فون کرنا ... دیکھیں گے۔‘‘

لڑکی رام ہوگئی تھی۔ فون رکھنے کے بعد میں خوشی سے پھولا نہ سمایا۔ جب میں امریکا آیا تھا تو اوروجہوں کے علاوہ ایک بہت بڑی وجہ یہاں کی عورتوں کے بارے میں میرا تصور تھا۔ ان کی شکل و صورت ، رنگ اور جسم، اس پر کپڑے پہننے کا انداز۔ ایسی کسی عورت کے ساتھ وقت گزارنا میری زندگی کا ایک بہت بڑا خواب تھا۔ وہ رات کامیابی کے احساس کی رات تھی۔ نیو یارک آنے کے بعد اب تک جو دھکے کھائے تھے ان کی تکلیفوں کے بوجھ کو میں نے ہلکا ہوتے ہوئے محسوس کیا۔ مجھے شبانہ کا خیال بھی نہیں آیا ، یہ بات بھی میرے لئے تسکین کا باعث تھی۔

میرے اگلے دو دن بھی خاصے مصروف گزرے۔ ٹیکسی میں چھوٹے موٹے کام کرانا تھے ، فلوریڈا میں وکیل سے رابطہ قائم کرنا تھا،دو دن تک اس لڑکی کا خیال تک نہیں آیا۔ تیسرے روز میں نے رات کے آٹھ بجے اسے فون کیا۔ وہ گھر پر تھی۔ کچھ دیر باتیں ہوتی رہیں ، پھر میں نے اس سے کہا کہیں ملتے ہیں۔ وہ مان گئی ، اگلے روز ہماری ملاقات طے ہوئی۔

اگلے روز آٹھ بجے میں نے اس کو گھر سے پِک کیا ، اور ہم اس کے بتائے ہوئے کسی ریستوران کی طرف چل دیئے۔ آج اس کی بات چیت کا انداز خاصا دوستانہ تھا ، جیسے وہ مجھ کو ایک عرصے سے جانتی ہو۔ کھانے کے درمیان اس نے پاکستان کا ذکر دوبارہ چھیڑ دیا۔ اب وہ مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ مجھے وہاں کی کون سی چیزیں پسند ہیں۔ کون سے شہر میں رہنا پسند کروں گا اور کہاں کہاں گھومنے جاؤں گا وغیرہ۔ میں نے اسے پورے ملک کا جغرافیہ سمجھایا اور بتایا کہ کس علاقے میں کیسے لوگ بستے ہیں اور کہاں کون سی زبان بولی جاتی ہے۔ یہ بھی حیرت کی بات تھی کہ جب سے میں امریکا آیا تھا کوئی شخص ایسا نہیں ملا تھا جو پاکستان کے بارے میں زیادہ جانتا ہو یا جاننے کی خواہش رکھتا ہو ، اور ادھر یہ لڑکی تھی جو اتنی معلومات رکھنے کے باوجود سوال پوچھے جارہی تھی۔ آخر اس کو ایسا کون سا تجسس ہے۔ میں سوچ رہا تھا۔

امریکہ آنے کے بعد کسی لڑکی کے ساتھ ڈیٹ پر جانے کا یہ پہلا موقع تھا۔اس وجہ سے میں کچھ بے اطمینانی محسوس کررہا تھا۔مجھے یہاں کے طور طریقے خصوصاً لڑکیوں کو برتنے کے آداب بالکل معلوم نہیں تھے۔ اپنی دانست میں جو مناسب سمجھ میں آرہا تھا وہ کررہا تھا۔ ریستوران میں کھانے کا مینو ہی میرے لئے خاصی الجھن کا باعث ہوا۔ کسی ایک چیز پر انگلی رکھ دی تھی اور اب جو آیا تھا کسی طرح کھا رہا تھا۔

کھانا کھا کر اس کے گھر کا رخ کیا۔ اب میری بے چینی بڑھ گئی۔ ایسی صورتحال سے نمٹنا میرے لئے بالکل اندھیرے میں ٹٹولنے کی طرح تھا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ آگے کیا ہوگا اور کس مرحلے پر مجھے کیا کرنا ہوگا۔ کرسٹی کا انداز بہت دوستانہ تھا۔ ایک طرف تو یہ بات اطمینان کا باعث تھی لیکن دوسری طرف مجھے مزید سوچنے پر مجبور کررہی۔ لاہور میں ، میں کبھی میں اتنی آسان صورتحال سے دو چار نہیں ہوا تھا۔ وہاں پر ہمیشہ یہ ہوتا تھا کہ میں لڑکی کو بہلا پھسلا کر اپنے مطلب پر راضی کرتا اور آخر وقت تک اس کی طرف سے ہلکی سی مخالفت یا احتجاج قائم رہتا تھا۔ اس رویئے میں ایک لذت الگ ہوتی تھی، اور یہ لذت،یہاں ، اس موقع سے غائب تھی۔
لیکن دوسری طرف ایک گوری امریکن کا اتنا زیادہ دوستانہ رویہ میرے لئے باعث فخر بھی تھا ، اور اس خوشی میں میرا دل جوش مار رہا تھا۔ دس ماہ بعد سہی لیکن اب ایک امریکی عورت مجھ کو اپنا ہیرو بنانے جارہی تھی۔
ہم ٹی وی کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئے ، اس نے فرج میں سے بیئر کی دو ٹھنڈی بوتلیں نکال لیں۔ کھانے کے درمیان ہم ویسے ہی کافی پی چکے تھے۔ ٹی وی کا ریمورٹ کنٹرول اس کے ہاتھ میں تھا۔ وہ تیزی سے چینل تبدیل کررہی تھی۔ لمحے بھر میں اس کا رویہ تبدیل ہوچکا تھا اب اس کے انداز میں اضطراب تھا۔ پھر وہ رک گئی۔
’’ آخر تم مجھ سے چاہتے کیا ہو ؟ ... اس نے سر کو جھنجلاتے ہوئے کہا۔ اس کے اظہار میں کچھ مجھ سے اور کچھ اپنے آپ سے احتجاج کے آثار نمایاں تھے۔ اس سے پہلے میں جس شک اور خوف میں مبتلا تھا، وہ اب ایک دم ختم ہوگیا۔ نہ جانے کس طرح میری جبلّی صلاحیتیں آپ ہی آپ راستہ دکھانے لگیں، مجھے لگا کہ جیسے اس صورتحال سے میں کئی بار دو چار ہوچکا ہوں۔
میں اس کے قریب سرک آیا اوراس کا ہاتھ تھام لیااور پھر آہستہ سے کہا ’’ میں تمہارے ساتھ وقت گزارنا چاہتا ہوں‘‘
اس کی جھنجلاہٹ اور اضطراب پر سکوت چھا گیا، وہ مجھے ایک دم سپاٹ نظروں سے دیکھنے لگی۔
’’ تم کو نہیں معلوم تم کتنی خوبصورت ہو ... مجھ سے پوچھو۔‘‘
پھر وہ بولی۔ ’’ اس سے پہلے بھی سب نے مجھ سے یہی کہا ہے۔ لیکن آج تک کوئی نہیں ٹھہرا ہے۔‘‘
میں نے اس کو اپنے قریب کیا اور بہت محبت کے ساتھ اسے چوما۔ وہ اپنے جسم کو میرے سپرد کرچکی تھی۔ ہم اس جگہ ٹی وی کے سامنے صوفے پر ایک دوسرے میں ڈوب گئے۔ ٹی وی چلتا رہا۔ اس کا چینل کسی نے تبدیل نہیں کیا۔ ہر مرحلے پر وہ میرے لئے آسانی پیدا کرتی چلی گئی۔ مجھے لگا وہ مجھے پوری طرح سے مطمئن کرناچاہتی تھی۔
تھوڑی دیر کے بعد ہم ایک دوسرے سے الجھے ہوئے اسی صوفے پر لیٹے ہوئے تھے۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔
’’ تم مجھ سے کہہ رہے تھے کہ مجھے ٹی وی میں پارٹ دلا سکتے ہو ...‘‘ اس کے انداز میں شرارت تھی۔
میں اس کو دیکھ کر مسکرایا ، پھر اس کے ہونٹوں کو چوما۔ ’’ ہاں بالکل ... تم سے زیادہ حسین ایکٹریس بھلا کوئی ہوسکتی ہے۔‘‘
ہم لوگ کچھ دیر یوں پڑے رہے۔ پھر مجھے اپنی ٹیکسی کی فکر ہوئی۔ وہ مجھے جانے نہیں دینا چاہتی تھی۔ لیکن یہ میری روزی کا مسئلہ تھا۔ تقریباً آدھ گھنٹے بعد میں وہاں سے نکل گیا۔

اس وقت میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ کچھ دیر پہلے میں نے امریکن انداز میں، ٹی وی کے سامنے صوفے پر ایک گوری عورت کے ساتھہ سویا تھا۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے اپنے تمام سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور اس ملک کی اصل زندگی میں قدم رکھنے کے لئے دروازہ وا ہو رہا ہے۔ اس زندگی میں ایک نیا مزا تھا۔ لاہور میں کسی لڑکی کے ساتھ پہلی رات کبھی اتنی آسانی سے نہیں گزری تھی۔ لڑکی کو بہلا پھسلا کر تیار کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا تھا۔ ایک آدھ بار تو صورتحال ہاتھ سے نکلتے نکلتے بچی تھی۔ اور پھر بعد میں ہمیشہ دل پر ایک بوجھ رہتا تھا کہ میں نے لڑکی کے ساتھ زبردستی کی۔ شروع میں مجھے کرسٹی کے ساتھ زبردستی نہ کرنے میں ایک کمی محسوس ہورہی تھی۔ جس کی وجہ سے میں کچھ غیر یقینی میں بھی مبتلا تھا۔ لیکن بعد میں احساس ہوا تھا کہ آسان اور کھلے کھیل میں لذت کسی حجاب یا پردے سے کہیں بڑھ کر ہے۔

چند دنوں بعد میں پھر اس کے گھر پہنچا ہوا تھا۔ اور ایک دفعہ پھر ہم ٹی وی کے سامنے صوفے پر ایک دوسرے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ پہلی دفعہ کی طرح اب بھی اس کا انداز کھلا ہوا تھا لیکن اس بار وہ مجھ سے زیادہ قسمیں، وعدے اور اپنی تعریفیں چاہتی تھی۔

اس کے بعد چند دنوں تک میں اسے فون کرتا رہا لیکن وہ نہیں ملی۔ ایک بار میں نے اس کے گھر کا چکر بھی لگایا لیکن وہ موجود نہیں تھی۔ آخر کار دس دن کے بعد وہ مجھے فون پر ملی۔ اس کے بات کرنے کا انداز بہت روکھا تھا، صرف میرے سوالوں کا جواب دے رہی تھی۔ میں نے پوچھا تو بتایا کہ چند دنوں کے لئے وہ اپنی ماں کے گھر پنسلوینیا چلی گئی تھی۔ آواز سے وہ خاصی تھکی تھکی بھی لگ رہی تھی۔ میں نے اس کی خیریت دریافت کرنے کی کوشش کی تو اس نے روکھے پن سے جواب دیا ’’ تمہیں کیوں اتنی پروا ہے میری؟ اس کے اس جواب سے میں کچھ شش و پنج میں پڑ گیا۔ میں نے اپنی محبت کا اظہار کیا اور اس کے حسن کی تعریفوں کے پل باندھے تو وہ میری باتوں سے بے زار سی ہونے لگی۔
’’ آخر کب تک تم مجھ سے وہی پرانی باتیں کرو گے۔ مجھے معلوم ہے کہ میں کتنی خوبصورت ہوں ... میری عمر ۳۴ برس ہوگئی ہے ... اور جوانی جاچکی ہے۔ کیوں تم مجھ سے یہ جھوٹ بولتے ہو ...‘‘

میں چونک گیا۔ مجھے اتنے تلخ جواب کی قطعی امیدنہیں تھی۔ لیکن میں نے اپنی عادت کے مطابق رویہ نہ بدلا۔ اور اپنی باتیں کرتا چلا گیا۔ وہ خاموش رہی۔ پھر میں نے اس سے ملنے کی خواہش ظاہر کی لیکن اس نے صاف انکار کردیا کہ وہ کم از کم دس دنوں تک نہیں مل سکتی۔ لیکن میں ناقبول کرنے والا شخص نہیں تھا۔ کچھ دیر بعد میں اس کے فلیٹ پر موجود تھا۔ اس نے اندر سے لگی زنجیر کے ساتھ دروازہ کھول کر جھانکا تو مجھے دیکھ کر چونک گئی۔ میں بھی اس کو دیکھ کر چونک گیا کیونکہ اس کی آنکھ کے نیچے ایک گہرا نیل تھا۔ اس نے دروازہ بند کردیا اور اندر سے بولی کہ میں چلا جاؤں۔ لیکن میں سننے والا کہاں تھا اور خاص طور پر اس کا نیل دیکھنے کے بعد۔ اس نے زیادہ تکرار نہیں کی اور مجھے اندر آنے دیا۔

اندر پہنچ کر میں نے اس کے نیل کی طرف اشارہ کرکے پوچھا ’’ یہ تمہیں کیا ہوا ہے...‘‘
’’ کچھ نہیں ، چوٹ لگ گئی تھی ...‘‘ اس نے ہاتھ سے اپنے نیل کو چھپاتے ہوئے کہا۔
لیکن میں نے آگے بڑھ کر اس کا چہرے اپنے ہاتھوں میں تھام لیا اور نیل کو چوما ’’...نہیں یہ کیا ہوا ہے تمہارے پھول سے چہرے کو‘‘
ایک لمحے کو محسوس ہوا کہ وہ میرے ہاتھوں میں پگھل گئی ہے۔ لیکن جلد اس نے اپنے آپ پر قابو پایا اور وہ مجھ سے دور ہوگئی۔ اس کا چہرہ اندرونی کرب سے چٹخا ہوا سا تھا۔ اس نے اپنے رنج پر قابو پاتے ہوئے تلخ لہجے میں کہا۔
’’ میرے بوائے فرینڈ نے مجھے مارا تھا ...‘‘ یہ کہہ کر وہ مجھ سے دور ہوگئی۔
مجھے جیسے ایک زور دار تھپڑ پڑا۔ ’’ کیا ...‘‘ میرے منہ سے نکلا ... تمہارا بوائے فرینڈ بھی ہے۔‘‘
اس نے سر کو خفیف سا جھٹکا دیا ’’ ...تھا‘‘
’’ لیکن ... تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔‘‘

وہ خاموش رہی۔ میری حالت بیان سے باہر تھی، لاہور میں آج تک میرے ساتھ ایسا نہیں ہوا تھا اور نہ کبھی میرے وہم و گمان میں ایسی بات آئی تھی۔ ٹانگوں میں کچھ کمزوری محسوس کرتے ہوئے میں اسی صوفے پر بیٹھ گیا۔

’’ کیوں ... ؟‘‘ میرے منہ سے پھر نکلا۔
’’ کیوں ؟ ...‘‘ اب وہ مجھ سے یہی سوال پوچھ رہی تھی۔ ’’کیوں ... کیا تم سوچ نہیں سکتے کہ کیوں؟‘‘
اس کی باتیں میری سمجھ سے باہر تھیں۔ میں ایک سوال بنا اس کے سامنے بیٹھا رہا۔ اب اس کے انداز میں میری ناسمجھی پر تھوڑا غصہ تھا۔
’’ کیا تم کو نظر نہیں آتا کہ مجھ جیسی عورت کو کس چیز کی ضرورت ہے ...‘‘
بات اب بھی میری سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ لیکن میں اٹھ کھڑا ہوا۔ ’’ میں نے سچے دل کے ساتھ سب کچھ کیا ... اور تم نے مجھے دھوکے میں رکھا۔‘‘
وہ خاموش رہی۔

اب میں نے کچھ اشارہ کیا کہ جیسے میں وہاں سے جاناچاہتا ہوں۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ’’ نہیں ... نہیں جاؤ ، ابھی ...‘‘ پھر وہ میرے قریب آتی گئی اور مجھ سے لپٹ گئی۔ اب وہ سسکیاں لے رہی تھی۔ ’’ مت جاؤ اس وقت۔‘‘ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ سب کیا ہورہا ہے۔ لیکن میری حالت ایسی تھی کہ میں وہاں نہیں رک سکتا تھا۔

اگلے چند روز تک میں نے اس سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔ پھر میں نے حقیقت کو سامنے رکھ کر سوچا کہ مجھے اس عورت سے اس کے جسم کے علاوہ اور کیا چاہئے تھا۔ مجھے یہ بھی اندازہ تھا کہ کوئی اور لڑکی اتنی آسانی سے دوبارہ نہیں ملے گی۔ تقریباً ایک ہفتے بعد میں اس کے گھر بغیر فون کئے پہنچا۔ وہ گھر پر تھی۔ دروازہ کھول کر وہ مسکرائی اور اندر آنے دیا۔ اس کا انداز نارمل تھا۔

’’ میں کھانا کھا رہی ہوں ... کچھ کھاؤ گے ؟‘‘

میں نے نفی میں سر ہلا دیا۔ وہ صوفے پر بیٹھی کھانا کھا رہی تھی اور ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ میں اس کے برابر بیٹھ گیا۔ کھانے کے درمیان وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتی رہی۔ اس دن کا واقعہ جیسے وہ بالکل بھول گئی تھی۔ پھر وہ میرے قریب ہوکر مجھ سے لگ کر بیٹھ گئی۔ میں نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ اب وہ کھانا کھا چکی تھی اور اپنا ایک ہاتھ میرے بالوں میں کنگھی کی طرح پھیر رہی تھی جیسے مجھے آرام پہنچانے کی کوشش کررہی ہو۔

لیکن میرا دل کچھ اس سے اوراس کے انداز سے اچاٹ ہوتا چلا جارہا تھا۔ وہ اپنا چہرہ میرے چہرے کے بہت قریب لے آئی اور آہستہ سے بولی۔ ’’ ڈارلنگ ...‘‘
میرے ذہن کی دھند ابھی تک پوری طرح صاف نہیں ہوئی تھی۔ ’’ کیا تم یہ سچ کہہ رہی ہو۔‘‘
’’ ہاں ... تم نہیں جانتے ،لیکن میں سچ کہہ رہی ہوں ...‘‘ پھر وہ رکی۔ ’’مائک کے ساتھ تو میرا تعلق ٹوٹنا ہی تھا ... تم نہیں ہوتے تب بھی ٹوٹتا ... بلکہ تمہاری وجہ سے جلدی ٹوٹ گیا۔ اچھا ہوا‘‘

اب وہ مجھے صوفے پر لٹا کر میرے اوپر آگئی تھی اور میرے چہرے کو اپنی چھاتیوں میں چھپا لیا تھا، جیسے مجھے تمام دنیا سے محفوظ رکھناچاہتی ہو۔ ایک بار مجھے اس کی ہلکی سی سسکی کی آواز بھی آئی۔ وہ اپنا پیٹ میرے پیٹ کے ساتھ آہستہ آہستہ رگڑ رہی تھی۔ پھر اس نے اپنا جسم اٹھا کر میری طرف دیکھا ، اس کی آنکھوں میں آنسو اور لبوں پر ایک التجا ئی مسکراہٹ تھی۔ ’’ تم میرے ساتھ آکر کیوں نہیں رہتے۔ میں تمہیں بہت خوش رکھ سکتی ہوں۔ میں تمہارے کلچر تمہاری ثقافت کو بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔ تمہیں کسی چیز کی تکلیف نہیں ہوگی۔‘‘

میں اس کو دیکھ کر مسکر ا رہا تھا۔ اب تمام باتیں میری سمجھ میں آتی جارہی تھیں ، لیکن کسی عورت کے جسم کے لئے یہ قیمت میں نے لاہور میں بھی ادا نہیں کی تھی جو یہاں کرتا۔

پھر اس نے دوسری ترکیب استعمال کی۔ ’’ تم ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور ہو ... تم کو یہاں کوئی کم عمر لڑکی نہیں ملے گی، جو اپنے آپ کو اس طرح تمہارے سپرد کردے۔ ان کے چاہنے والے ہزار ہیں۔ میں تمہیں جانتی ہوں ... تمہارے ساتھ پاکستان بھی جاسکتی ہوں ... کوئی دوسری عورت یہ نہیں کرے گی۔‘‘

وہ رات میں نے اس کے ساتھ ہی گزاری۔ صبح جب میں اٹھ کر جانے لگا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے جیسے کہ اسکا خیال ہو کہ میں پلٹ کر نہیں آؤں گا۔ میں جب اس کے فلیٹ سے نکلا تو اپنے تجربے پر مسکرا رہا تھا کہ جیسے میں نے دنیا دیکھ لی ہو۔ تمام دنیا کی عورتیں اب مجھے ایک جیسی لگ رہی تھیں۔ کیا نیویارک کی ، کیا لاہور کی ، کیا گوری، کیا کالی۔

لیکن کرسٹی نے ٹھیک ہی کہا تھا۔ اس کے بعد میں نے نیویارک کی سڑکوں پر کئی سال ٹیکسی چلائی پر میرے مطلب کی کوئی جوا ن لڑکی مجھے نہیں ملی۔ انہیں ہمیشہ کسی جوان اور امیر مرد کے ساتھ جاتے دیکھا۔






پیر، 9 مارچ، 2015

لائینز ایریا میں ایک ٹائٹ رات

[۹۰ کی دہائی میں کراچی آپریشن کے پس منظر میں لکھا گیا افسانہ]


اس روز شام چھ بجے سے مورچہ بندیاں شروع ہوگئی تھیں۔ ابھی سورج غروب ہونے میں کوئی آدھا گھنٹہ باقی تھا۔ خبر گرم تھی کہ رات میں محاصرے اور تلاشی کے آڈر جاری کیے جاچکے ہیں۔ میں نمائش چوک کے قریب ایک زیر تعمیر عمارت کی چھت پر تھا۔ میری ۷ایم ایم کی رائفل کی نالی چھت کی منڈیر کے ایک سوراخ سے باہر جھانک رہی تھی اور سامنے کا تقریباً ایک میل تک کا علاقہ اس کی زد میں تھا۔

اس رات محاصرے اور گھر گھر تلاشی کو ہر حال میں روکنا تھا، اس بات کا شاید بہت کم لوگوں کو علم تھا کہ شہر میں پچھلے ماہ بھر کی وارداتوں کا مال آج علاقہ میں موجود تھا اور آج رات اس کے حصہ لگنے تھے۔ اس زیر تعمیر عمارت اور ساتھ کی اونچی چھتوں کے مکانات پر علاقے کے کئی اور لڑکوں نے مورچے سنبھالے ہوئے تھے۔ میرے خیال میں سب کے سب ہی اپنے تحفظ یا جوش و غصہ کی وجہ سے وہاں موجود تھے، شاید ان میں سے کسی کو بھی اس مال کے بارے میں علم نہیں تھا۔ کیا پتا کہ محاصرہ کیے جانے کی خبر صرف اس واسطے پھیلائی گئی تھی کہ آج کی رات تھوڑی ایکسٹرا چوکیداری ہوجائے اور تمام مال بحفاظت ٹھکانے لگ جائے۔ لیکن یہ محض میرا اندیشہ تھا مجھے اس زمانے میں اس بات پر یقین ہوگیا تھا کہ کسی بات پر مکمل یقین نہیں کرنا چاہیے۔

سورج غروب ہونے کے تھوڑی دیر بعد سامنے بندر روڈ پر مکمل سناٹا چھا چکاتھا۔ نمائش کی چورنگی کے اس پار پولیس چوکی کے ساتھ پیلی اسٹریٹ لائیٹ کے نیچے رینجرز کا ایک ٹرک کھڑا تھا اور ٹرک کے اوپر نصب مشین گن پر کھڑا سپاہی بھی کسی مشین کی طرح سرد اور سفاک نظر آرہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد میرے اندر ایک بے چینی اٹھنے لگی۔ کیا پتا مال کا بٹوارا کس وقت شروع ہوجائے اور میں تقسیم کرنے والوں کا دفاع کرتا رہ جائوں۔

میں نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ چھت پر کوئی اور نظر نہیں آیا میں خاموشی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور زینے کی طرف بڑھنے لگا۔ ابھی زینے سے دو تین قدم ہی نیچے لیے ہوں گے کہ ایک سایہ اوپر کی طرف آتا ہوا نظر آیا۔ ہم دونوں ساکت ہوگئے، پھر یکایک اس نے اپنے دونوں ہاتھ سامنے کی طرف بلند کیے ان میں اس نے ایک مائوزر پکڑا ہوا تھا۔
’’رائفل گرا دے… نہیں تو بھیجا اڑا دوں گا…‘‘ وہ غرایا۔
باہر کی صورت حال، زینے کے اندھیرے، اس کے غرانے کے انداز اور کرتے کی سفید آستینوں نے کچھ ایسا ماحول بنا دیا کہ میں تھر تھر کانپ گیا۔ میری رائفل دھیرے سے زمین پر آرہی۔ اس نے ہاتھ سے مجھے پیچھے ہونے کا اشارہ کیا اور میں دو قدم الٹے لے کر واپس چھت پر آگیا۔

اوپر چھت پر آدھے چاند کی روشنی میں ہم دونوں ایک دوسرے کو ذرا ٹھیک سے دیکھ پائے۔ شکل اور حلیے سے وہ اپنا ہی آدمی معلوم ہورہا تھا میرا خوف کئی درجے کم ہوگیا۔ اس نے بھی چاروں طرف نظریں گھمائیں ’’یہاں چھت پر کوئی اور نہیں کیا؟‘‘ اس نے پوچھا۔ اب اس نے ایک ہاتھ مائوزر پر سے ہٹا لیا۔ پھر اس کی نال بھی آہستہ سے نیچے کی طرف آنے لگی۔
’’نہیں۔‘‘ میں نے نفی میں سر ہلایا۔ میری بھی اب کچھ جان میں جان آئی تھی اور میں نے اوپر کیے ہوئے ہاتھوں کو ڈھیلا چھوڑ دیا تھا۔
’’اگر اکیلے تھے تو مورچہ چھوڑ کر کیوں جارہے تھے۔‘‘ اس کے لہجے میں ابھی تک غراہٹ موجود تھی۔
’’ایک دو کو آواز دینے…‘‘ میرے اس جواب میں جان نہیں تھی لیکن اس نے کوئی تفتیش نہیں کی۔ ’’واپس جا کر بیٹھ جائو…‘‘ اس نے اس ہی کونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آرڈر دیا جہاں میں اس سے پہلے بیٹھا ہوا تھا۔ پھر وہ چھت کے دوسرے کونے کی طرف چلا گیا۔

میں نے واپس جا کر مورچہ سنبھال لیا اور کچھ دیر رائفل کی مکھی میں سے اپنی نظر کو رینجرز کے ٹرک کے مختلف حصوں پر اڑاتا رہا پھر اسے مشین گن پر کھڑے ہوئے سپاہی کی ناک پر بٹھا دیا۔ جس نے اسے اڑانے کی کوشش نہیں کی۔

تھوڑی دیر بعد میں نے پلٹ کر دیکھا تو اس شخص نے چھت کے دوسرے حصہ پر مورچہ بنایا ہوا تھا اور اس کی پیٹھ میری طرف تھی میں خاموشی سے اٹھا اور نیچے چلا گیا۔ نیچے جاتے ہوئے مجھے زینے پر کوئی شخص نہیں ملا۔ نہیں تو اس بار میں بھی اپنی رائفل بلند کرنے پر تیار تھا۔

گلیاں سنسان پڑیں تھیں۔ لڑکوں نے زیادہ تر گھروں کی چھتوں پر پوزیشنیں سنبھالی ہوئی تھیں۔ ایسے میں سنسان گلیوں سے گزرنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ میرے قدم سرعت کے ساتھ چاچا کے مکان کی طرف اٹھ رہے تھے۔ مجھے معلوم تھا کہ مال کا بٹوارہ وہاں نہیں ہوگا۔ لیکن اصل جگہ کا سراغ لگانے کے لیے وہاں جانا ضروری تھا۔

حسب معمول ان کے گھر کے دروازے کا ایک پٹ کھلا اور دوسرا بند تھا۔ اندر صحن میں کسی کی ویسپا کھڑی تھی۔ برآمدے میں ایک میز اور چند کرسیاں پڑیں ہوئیں تھیں۔ میز پر ایک کلاشن اور ٹی ٹی رکھی تھی اور ساتھ ہی راشد پدّا اور قادر کانٹا اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے صحن میں کھڑی ویسپا کے اوپر خلا میں تک رہے تھے۔ پدّے کے ہاتھ میں سگریٹ تھی جس کو جلا کر شاید وہ بھول چکا تھا۔
میں نے برآمدے میں جا کر پدّے کے ہاتھ سے سگریٹ مانگی۔ ’’پی رہا ہوں…‘‘ اس نے اپنے ہاتھ کو روک کر اعتراضاً مجھ سے کہا مگر پھر کچھ سوچتے ہوئے سگریٹ بڑھا دی۔ میں نے ایک کش لے کر اندر کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔ ’’کہاں ہیں؟…‘‘
دونوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پدے نے گردن سے باہر کے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ جس کا شاید مطلب تھا… ابھی باہر گئے ہیں آتے ہی ہوں گے۔ میں نے اپنی رائفل برآمدے کے ایک پلر کے ساتھ کھڑی کردی اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
تھوڑی دیر میں قادر نے پوچھا ’’اور پیٹر سے مل لیے؟…‘‘ ۔
’’پیٹر کون؟…‘‘ میں نے پوچھا۔

لیکن ایکدم ان دونوں کی توجہ دروازے کی طرف مبذول ہو گئی۔ باہر سے کسی نے دروازے کا دوسرا پٹ بھی کھولا اور چاچا اندر داخل ہوئے اور ان کے پیچھے کوئی نوجوان بھی تھا۔ چاچا نے حسب معمول سفید ململ کا کرتا اور پاجامہ پہنا ہوا تھا۔ کرتے کے نیچے ان کی بنیان بھی نظر آرہی تھی جس کے سوراخ بھی ہمیشہ کی طرح کافی نمایاں تھے۔
ہم سب بنیان کے سوراخوں کو دیکھتے ہوئے شاید تعظیماً کھڑے ہوگئے۔ لیکن برآمدے میں آکر انھوں نے ہمیںبیٹھنے کو کہا۔ ان کے ساتھ جو نوجوان تھا، اس کو اب میں نے پہچانا اور ایک لمحے کے لیے دم بخود رہ گیا۔ یہ وہی تھا جس نے کچھ دیر پہلے مجھ پر مائوزر تانا تھا۔

سب کے ساتھ میں نے بھی اس سے ہاتھ ملایا اور پھر خاموش ہو کر سوچنے لگا کہ کیا پتا یہ مجھے پہچان پائے گا یا نہیں۔ پھر چاچا نے متعارف کرایا۔ ’’اس سے ملو… ا س کا نام پیٹر ہے…‘‘۔

نام سن کر میں چونکا، اور پھر میرے منھ سے سلام کی جگہ ’’ہیلو‘‘ نکل گیا۔ ’’وعلیکم ہیلو‘‘ اس نے نہیں کہا، خاموشی سے اس نے مجھے گھورا۔ ’’تو ڈیوٹی چھوڑ کر پھر بھاگ آیا۔۔۔۔‘‘۔ اب اس نے غرانا شروع کیا۔

لیکن یہاں صورت حال مختلف تھی۔ میرے چہرے پر اس طرح کی مسکراہٹ پھیل گئی جس میں بالکل بھی گہرائی نہیں ہوتی۔ میں ہنسا۔ ’’میں ایک پیٹر ۔۔۔۔اوہ!۔۔۔۔۔ ٹامی کتے کو رکھوالی کے لئے چھوڑ کر آیا ہوں۔‘‘

پیچھے میں نے راشد اور قادر کو مسکراتے ہوئے دیکھا۔ لیکن چاچا کا چہرا بالکل نہیں بدلا۔ ’’اندر آجائو…‘‘ انھوں نے کہا اور وہ اندر کمرے میں چلے گئے۔ ہم سب ان کے پیچھے آئے۔ اس کے بعد اس عمارت کی چھت والے واقعہ کی طرف پیٹر نے اشارہ نہیں کیا۔

اندر جا کر چاچا اپنے مخصوص صوفے پر بیٹھ گئے جس کے لکڑی کے ہتھوں پر لال مخمل کے کور چڑھے ہوئے تھے ، مخمل کے کپڑے پر اپنی انگلیاں آہستہ آہستہ پھیرتے ہوئے کہنے لگے ’’اچھا تو پھر آج حساب کتاب یہاں ہی کرلیتے ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا۔ پھر مجھ سے مخاطب ہوئے۔ ’’واجد تمھارے ساتھ چار لڑکے ہیں؟‘‘ انھوں نے پوچھا۔
’’تین…‘‘ میں نے جواب دیا۔
اس پر وہ آہستہ سے مسکرائے۔ ’’موسیٰ کو نہیں…‘‘
میں نے نفی میں گردن ہلائی۔ پھر وہ خاموش ہوگئے۔ ’’پیٹر تمھارے…‘‘ انھوں نے اس سے مخاطب ہو کر کہا۔ پیٹر مسکرا دیا۔ انھوں نے خفیف سا سر کو جھٹکا دیا جیسے کہ خود ہی سمجھ گئے ہوں۔

پھر وہ خاموش ہو کر رک گئے۔ آج چاچا کے انداز میں ایک خاص مصنوعی بات تھی جو عام طور پر نہیں ہوتی تھی۔ اب انھوں نے ایک بہت ہموار آواز میں بولنا شروع کیا۔ ’’ایک بات شاید تم سب کو نہیں معلوم… مال کا بٹوارا کرنے کے لیے پالیسی بدل دی گئی ہے… اب بٹوارا اس طرح سے نہیں ہوگا جیسے ہوتا تھا…‘‘

ہم سب خاموش رہے۔
’’تمام سامان میں سے ایک رقم مقرر کردی گئی ہے جو کہ بانٹی جائے گی‘‘
’’کتنی ہے؟…‘‘ میرے منھ سے آپ ہی آپ آہستہ سے نکلا۔
’’پانچ لاکھ…‘‘ بالکل ہموار آواز میں جواب ملا۔
میں چپ ہوگیا اور کوشش کرکہ اپنے جذبات کے تمام آثار چہرے سے ہٹانے لگا۔ سامنے صوفے پر پیٹر خاموش بیٹھا تھا۔
چاچا لمحے بھر کے لیے خاموش ہوئے اور ایک تیز نگاہ ہم سب پر ڈالی جیسے کہ ہمارے ارادے بھانپنے کی کوشش کررہے ہوں۔ ’’کوئی سوال تو نہیں؟…‘‘ انھوں نے پوچھا۔
پیٹر پھر مسکرا رہا تھا۔

راشد کا منھ کھلا کا کھلا تھا۔ ’’تو کیا سب میں سے صرف پانچ لاکھ بٹیں گے؟‘‘
’’نہیں… پانچ صرف تم لوگوں کے لیے ہیں…‘‘ چاچا نے جواب دیا۔
’’تو کل کتنے بٹ رہے ہیں؟‘‘ راشد نے پوچھا۔
’’یہ میں نہیں بتا سکتا… اور یہ بھی سن لو اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی… یہ فیصلہ اٹل ہے… کمیٹی نے ڈیسائیڈ کیا ہے… اور میرے ہاتھ میں نہیں ہے ‘‘۔
’’لیکن کمیٹی نے ہمارے سامنے تو ڈیسائیڈ نہیں کیا…‘‘۔ پیٹر کے چہرے پر مسکراہٹ ابھی تک قائم تھی۔
چاچا نے کوئی جواب نہیں دیا۔
سب خاموش تھے۔ راشد نے بھی اپنے سوال روک دیے اور جیسے ہم سب ہی کسی واقعے کا انتظار کررہے ہوں۔ پیٹر ہنسنے لگا۔
’’تو پھر کچھ دنوں میں ایک ایک کلاشنکوف دو گے اور تین ہزار میں نوکری…‘‘ وہ اور زور سے ہنسا۔
ہم میں سے کوئی بھی اتنی ہمت نہیں کرسکتا تھا۔ چاچا نے اسے گھور کر دیکھا۔ پیٹر مسکرا رہا تھا اور اس کی مسکراہٹ میں بالکل بھی مصنوعی پن نہیں تھا۔ پھر کچھ دیر یوں ہی گزر گئی ۔

پھرچاچا صوفے پر بیٹھے بیٹھے کچھ ہلے۔ جیسا کہ وہ ہمیشہ ہلتے تھے۔ اور انھوں نے اپنا انداز کچھ نرم کردیا۔

’’تو پھر کس طرح ۔ــ‘‘ وہ اب اپنے معمول کے انداز کی طرف آتے جارہے تھے۔ ’’…یار مجھے خود بھی نہیں معلوم کہ صرف رقم کس طرح تقسیم کروں… اچھا تو پھر ایسا کرو تم لوگ خود بتائو۔‘‘ انھوں نے مذاق کیا۔

ہم سب خاموش رہے۔
’’اچھا رکو…‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ اٹھے اور اندر کی طرف گئے۔ جب واپس آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک بڑا سا لفافہ تھا جس کا منھ کھلا ہوا تھا اور یوں لگتا تھا کہ جیسے اس کے اندر کچھ چھوٹے چھوٹے بنڈل پڑے ہوئے ہیں۔

اپنے صوفے پر بیٹھتے ہوئے انھوں نے کہا۔ ’’چلو بھئی ابھی کرے دیتے ہیں حساب کتاب۔‘‘ اور لفافے میں ہاتھ ڈال کر ایک اور بھورے رنگ کا لفافا نکالا جس میں شاید نوٹ تھے اور راشد اور قادر کی طرف اچھال دیا۔ لگتا تھا کہ چاچا پہلے سے اپنا حساب کتاب کرکے بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد اس طرح انھوں نے ایک گڈّی مجھے دے دی اور ایک پیٹر کو۔ لیکن اس کے باوجود لفافے میں کچھ بچ گیا۔ انھوں نے لفافے کے منھ کو سیدھا کرکہ پلٹ دیا اور اس بنڈل کو صوفے کے ہتھے پر اپنے ہاتھ کے نیچے رکھ لیا۔

لگ رہا تھا کہ ابھی جتنا مال انھوں نے ہمیں بانٹا ہے شاید اس سے زیادہ لفافے میں بچا ہوا ہے۔ ہم سب کی نظریں اس پر تھیں۔
پھر مجھے آواز آئی کہ جیسے کسی نے پستول لوڈ کیا ہو اور میں نے دیکھا کہ پیٹر کے ہاتھ میں اس کا مائوزر تھا۔ اس کی نال چاچا کی کھوپڑی کی طرف تھی۔ چاچا کچھ کہتے کہتے رک گئے۔ ہم تینوں کو سانپ سونگھ گیا۔

پیٹر بڑے اسٹائل میں بولا ’’میاں یہ تین ہزار والی نوکری ان لڑکوں سے کرواناجو ابھی پہرہ دے رہے ہیں… ہم کو کیا سمجھ بیٹھے ہو؟…‘‘

ابھی چاچا کوئی جواب ہی دینے والا تھا کہ پیٹر زور سے گرجا۔ ’’خبردار جو مجھے جواب دینے کی کوشش کی…‘‘ اور وہ کھڑا ہوگیا۔ یکایک وہ بے انتہا غصے میں آچکا تھا۔

’’چلو آگے… دیوارکے ساتھ…‘‘ اس نے قادر اور راشد کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’’چلو!…‘‘ وہ چیخا۔
قادر اور راشد لڑ کھڑاتے ہوئے اٹھے۔ ان کے دونوں ہاتھ خود بخود ہی بلند ہوگئے تھے اور آہستہ آہستہ دیوار کی طرف بڑھے۔ میں اپنے واسطے حکم کا منتظر تھا۔

’’اس کا لفافہ اٹھا کر مجھے دو…‘‘ وہ اب مجھ سے بولا۔ میں نے چاچا کے ہاتھ کے نیچے سے وہ لفافا نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔ راشد اور قادر دیوار کی طرف پیٹھ کیے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھائے کھڑے تھے۔ اس کو لفافہ پکڑاتے ہوئے میرا خوف قدرے کم ہوگیا۔ اس کا انداز میری طرف اتنا کڑوا نہیں تھا۔ ’’اپنا منھ دیوار کی طرف کرو…‘‘ وہ ان دونوں سے بولا…‘‘ اور مرغا بن جائو…‘‘

چاچا ابھی تک اپنے صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ’’ان کو باندھنے کا بندوبست کرو۔‘‘ وہ مجھ سے بولا۔ میں نے کسی رسی یا ڈوری کے لیے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں۔

’’مُرغا بنو…‘‘ وہ قادر اور راشد پر چیخا۔

اس وقت مجھے اس بات پر حیرت تھی کہ پیٹر نے مجھ پر کیسے بھروسا کرلیا تھا۔

میں ڈوری یا رسی ڈھونڈنے کے لیے باہر صحن میں چلا گیا۔ اب مجھے اس بات کا اندازہ ہورہا تھا کہ اگر اس وقت باہر سے کوئی لڑکا اچانک کسی کام سے آگیا تو بازی منٹوں میں پلٹ جائے گی۔ دل ہی دل میں میں پیٹر کی ہمت کی داد بھی دے رہا تھا۔ ہمت یا حماقت ان دونوں میں فرق مجھے اس وقت نہیں محسوس ہورہا تھا۔

برآمدے میں میری رائفل ابھی تک پلر سے ٹکی ہوئی کھڑی تھی۔ میں نے سب سے پہلے اسے اٹھایا۔ قریب ہی رکھے ہوئے ایک بکسے میں نائیلون کی ڈوری مل گئی۔ اندر جا کر میں نے جلدی جلدی ارشد اور قادر کو زمین پر اوندھا لٹا کر ان کے ہاتھ پائوں باندھے۔ چاچا اس وقت تک اپنے صوفے پر دونوں ہاتھ اوپر کیے ہوئے بیٹھے تھے۔ ان کے چہرے سے اس وقت کوئی تاثر عیاں نہیں ہورہا تھا۔

پیٹر نے اپنی جیب سے نکال کر مجھے ایک چابی دی اور کہا کہ ’’ویسپا کو باہر گلی میں نکالو۔ میں نے باہر نکلتے ہوئے برآمدے سے قادر کی کلاشن بھی اٹھا لی۔

باہر نکل کر میں نے ویسپا کو اسٹارٹ کیا اور پیٹر کا انتظار کرنے لگا۔ ابھی چند سیکنڈ ہی گزرے ہوں گے کہ مجھے اندر کمرے سے ایک زور دار فائر کی آواز آئی۔ میں بری طرح چونک گیا۔ کچھ دیر بعد پیٹر باہر آ کے دروازے کی کنڈی لگا کر آرہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا۔ ’’کیا ہوا؟…‘‘ ’’کچھ نہیں…‘‘ اس نے جواب دیا۔ وہ ویسپا کی پیچھے والی سیٹ پر آکر بیٹھ گیا اور اس نے کہا۔ ’’چلو…‘‘
قادر کی کلاشن پیٹر نے اٹھائی ہوئی تھی۔ میں نے اپنی 7mm کی رائفل ویسپا کی آگے والی جالی میں اڑائی ہوئی تھی۔ گلی کے نکڑ پر پہنچ کر میں نے اس سے پوچھا۔ ’’ہم کہاں جارہے ہیں…‘‘

اس نے دائیں طرف اشارہ کردیا۔ اس وقت وہ قدرے سکون میں لگ رہا تھا۔حالاںکہ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے۔ سب سے بڑا خطرہ مجھے اس بات کا تھا کہ اگر کسی کو اب بھی خبر ہوگئی تو ہم لائنز ایریا سے زندہ نہیں نکل سکتے تھے۔ اور پھر وہ کمرے میں فائر کیوں ہوا تھا۔ کوئی مرا تھا یا محض ڈرانے کے لیے پیٹر نے کیا تھا۔ویسے ایک بات یقینی تھی کہ اگر چاچا زندہ رہ گئے تو یا تو ہم دونوں کو شہر چھوڑنا پڑے گا یا بھیس بدل کر کوئی شرافت کی نوکری کرنی پڑ جائے گی۔ پیٹر سے پوچھنا تو بے کار تھا کیوںکہ وہ کچھ نہیں بتاتا اور میں اس کو اتنا جانتا بھی نہیں تھا۔ وہ تو نجانے کیوں اس نے مجھے اپنے ساتھ ملا لیا تھا نہیں تو میں بھی اس کمرے میں بندھا پڑا ہوتا۔

پیٹر کے اشاروں پر میں اسکوٹر کو دائیں بائیں گلیوں میں موڑتا رہا۔ لائنز ایریا سے میں اچھا خاصا واقف تھا۔ لیکن لگتا تھا کہ پیٹر نے کسی شکاری کتے کی طرح ان راستوں کو سونگھا ہوا تھا۔ اس نے مجھے ایسی ایسی گلیوں سے نکلوایا جن کے بارے میں گمان بھی نہیں کرسکتا تھا کہ ان کا آخری سرا کہاں پہنچتا ہے۔ ہم لوگ آہستہ آہستہ گورا قبرستان والے سرے کی طرف بڑھ رہے تھے۔

اب لگتا تھا کہ علاقہ میں ٹینشن تھوڑا کم ہوگیا ہے کچھ لڑکے چھتوں سے نیچے اتر آئے تھے اور گلی کے کونوں پر کھڑے تھے اور آپس میں باتیں یا مذاق کررہے تھے۔اور ابھی تک انھوں نے اسلحہ اٹھایا ہوا تھا اور ایسے میں ویسپا کی اگلی جالی میں سیون ایم ایم کی رائفل اڑس کر گزرنا خاصا معمول پر تھا۔ اس واسطے اب میں نسبتاً سکون سے اسکوٹر چلا رہا تھا۔

مین روڈ سے چند گلیاں پہلے اس نے اسکوٹر کو ایک ۸۰ گز کے خالی پلاٹ کے سامنے رکوایا جس کے برابر ایک چار منزلہ عمارت کھڑی تھی۔ اس عمارت کے پچھلے حصہ سے ایک دروازہ اس پلاٹ میں کھلتا تھا۔ یہ دروازہ دو سیڑھیاں اوپر چڑھ کر تھا اور ان کے بیچ میں موٹر سائیکل یا اسکوٹر وغیرہ چڑھانے کے لیے ایک چڑھائی بنی ہوئی تھی۔ اس نے چڑھ کر چابی سے وہ دروازہ کھولا۔ اس کے بعد مجھے اشارہ کیا کہ میں اسکوٹر اوپر چڑھا لوں اور ایک طرف ہٹ کر کھڑا ہوگیا، اسکوٹر اوپر چڑھانے میں اس نے میری کوئی مدد نہیں کی۔

میرے اوپر آجانے کے بعد اس نے پیچھے سے دروازہ بند کیا۔ دروازے کے برابر سے ایک تاریک زینہ اوپر کی طرف چڑھتا تھا۔ زینے پر قدم رکھتے ہوئے مجھے پیچھے آنے کو کہا۔ وہ زینہ خاصا تنگ اور تاریک تھا اور اس پر چڑھنا کافی مشکل۔ شاید دوسری یا تیسری منزل پر ایک بند و تاریک دروازے کے سامنے وہ رک گیا اور اس پر آہستہ سے دستک دی۔ کچھ دیر تک کوئی جواب نہیں آیا۔ اس نے پھر سے ذرا زور سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے کسی عورت کی دبی دبی سی آواز آئی جیسے کہ نیند جاگی ہو۔ یہ سن کر پیٹر نے پھر دروازہ پیٹا۔

’’کون…‘‘ اس بار آواز اونچی تھی، لیکن لگتا تھا کہ اپنے خوف کو چھپانے کے لیے ذرا زور سے بولی ہو۔ پیٹر خاموش رہا۔ تھوڑی دیر میں اندر کے کمرے میں بتّی روشن ہوئی۔ ’’کون ہے…‘‘ اس بار اس عورت نے ذرا پختہ لہجے میں پوچھا۔

’’دروازہ کھولو…‘‘ پیٹر نے آہستہ سے جواب دیا۔

اب اندر سے چٹخنی کی آواز آئی اور کسی نے دروازے میں سے باہر جھانکا اور پھر پیٹر کو سامنے کھڑا دیکھ کر دروازے کا پورا پٹ کھول دیا۔ پیٹر اندر داخل ہوا اور مجھے اندر آنے کا اشارہ کیا۔ لگتا تھا کہ وہ عورت گہری نیند سے اٹھ کر ابھی آئی ہے۔ بال کھلے ہوئے شانوں پر بکھرے تھے اور شاید گرمی کی وجہ سے اس نے کھلے گلے کا جمپر پہنا ہوا تھا۔ پیٹر کے پیچھے اس نے شاید مجھے نہیں دیکھا تھا۔ مجھے دیکھ کر وہ ذرا چونکی اور اپنے کھلے گلے کو محسوس کرتے ہوئے اس کے چہرے سے ایک بے چینی کی جھلک گزری۔ پھر وہ دو قدم پیچھے ہٹی اور اندر کمرے میں چلی گئی۔ باہر آئی تو اس نے اپنا سر اور بدن ایک چادر میں ڈھانپا ہوا تھا۔

اس کی نظر مجھ پر دوبارہ پڑی اور وہ پیٹر سے کچھ کہتے کہتے رہ گئی۔

پیٹر نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’یہ میرا دوست ہے…‘‘ اور پھر وہ رکا۔
’’واجد…‘‘ میں نے خود اپنا نام بتا دیا۔ کیوںکہ مجھے یقین نہیں تھا کہ اسے میرا نام بھی معلوم تھا یا نہیں۔
’’ہم لوگ ایک ایسی صورت حال میں پھنس گئے کہ ادھر ہی آنا پڑا… تمھاری چابی کام آگئی۔ وہ بات کرنے میں تھوڑا ہچکچا رہا تھا۔ ’’مجھے معلوم ہے تمھاری صورت حال… لیکن اصل میں…‘‘

پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوا۔ ’’یہ… یہ یاسمین ہیں… یہ میری… ایک جاننے والی ہیں۔‘‘ اور اب وہ یاسمین کی طرف پلٹا۔
’’ اچھا یہ بتائو… اگر صبح تک ہم رک جائیں تو کوئی پرابلم تو نہیں ہوگی…‘‘
میں پیٹر کی ہچکچاہٹ پر حیران تھا۔

یاسمین نے آہستہ سے سر ہلایا۔ اس کی شروع کی پریشانی اب کچھ قابو میں آئی جارہی تھی۔ ’’ایک منٹ رکو…‘‘ اس نے کہا۔ اور مڑ کر اپنے کمرے کے دروازے کے برابر ایک بند دروازہ کھولنے لگی۔ اندر ایک چھوٹا سا ڈرانگ روم تھا۔ بیچ میں ایک لکڑی کی میز، ایک طرف ایک بڑا صوفا اور میز کے اس طرف دو چھوٹے صوفے رکھے تھے جن کے ہتھے لکڑی کے تھے۔ سامنے کی طرف ایک دروازہ اور کھڑکی تھی جو لگتا تھا کہ کسی بالکنی میں کھلتے ہوں گے۔ کھڑکی کے آگے میز پر ایک ٹی وی رکھا ہوا تھا۔

’’… بیٹھو…‘‘ اس نے کہا۔ اس کے لہجے میں روانی آتی جارہی تھی۔ میں اندر جا کر ایک چھوٹے صوفے پر بیٹھ گیا اور پیٹر سامنے والے لمبے صوفے پر۔ یاسمین باورچی خانے میں چلی گئی، جو کہ برابر میں تھا۔ کچھ دیر پیٹر خاموش رہا۔ اس کے بعد وہ اٹھ کر بالکنی والا دروازہ کھول کر باہر کی طرف چلا گیا۔

اب میں کمرے میں اکیلا بیٹھا ہوا تھا۔ ایک لمحے کے لیے آج کے تمام واقعات میری آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگے۔ کہاں میں شام کو اس بلڈنگ کی چھت پر مورچہ سنبھالے بیٹھا تھا۔ تھوڑی دیر بعد مال کے بٹوارے کا حصہ ملنے والا تھا، کہاں اب نجانے کس کے فلیٹ کے ڈرائنگ روم میں تھا، اور اس بارے میں بالکل علم نہیں رکھتا تھا کہ صبح تک میرا کیا حشر ہوجائے لیکن ایک بات کے بارے میں تو مجھے یقین تھا… وہ یہ کہ اب چاچا ہمارا جینا مشکل کردے گا۔

تھوڑی دیر بعد پیٹر کمرے میں آیا۔ اس کے چہرے پر تھوڑی بے چینی تھی۔ ’’ابھی تک بہت خاموشی ہے…کچھ ہوا نہیں۔۔‘‘ اس نے کھڑے رہ کر مجھ سے کہا۔ پھر وہ دوبارہ بالکنی میں جھانکنے لگا۔

تھوڑی دیر بعد یاسمین کمرے میں داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹرے تھی، جو اس نے لا کر میز پر رکھ دی۔ اس میں ایک پلیٹ میں کچھ نمکین بسکٹ تھے اور دوسری میں چیوڑہ۔ اس نے پیٹر سے پوچھا۔ ’’کیا کھانا کھالیا ہے تم لوگوں نے…‘‘

میں دل ہی دل میں اس کی مہمان نوازی پر بہت ممنون ہوا۔ آج کی تمام گرما گرمی میں مجھے بالکل یاد نہیں رہا تھا کہ میں نے کھانا کب کھایا تھا۔
’’کچھ ہے تو لے آئو نہیں تو اس سے کام چلا لیں گے…‘‘ پیٹر بولا۔ پھر وہ کچھ رکا۔ ’’اچھا اور وہ چیزیں ہیں؟…‘‘

اس نے سر کو ہلکے سے جھٹکا دیا اور واپس چلی گئی۔ ایک منٹ کچھ سوچنے کے بعد پیٹر بھی اس کے پیچھے چلا گیا۔ کچھ دیر تک ان کی آپس میں بات کرنے کی آواز آتی رہی۔ اس کے بعد پیٹر نے آکر مجھ سے پوچھا ’’سفید… یا رنگین؟‘‘

’’کیا…‘‘ میرے منھ سے آپ ہی آپ نکلا۔
’’سفید پیتے ہو… یا رنگین؟‘‘
’’اوہ… کوئی بھی۔‘‘ اس وقت شراب شاید آخری چیز تھی جس کی طرف میرا دھیان جاتا۔ میں نے سوچا۔
کچھ کہے بغیر وہ چلا گیا۔ جب واپس آیا تو اس کے ہاتھوں میں ایک لنڈن جن اور ٹھنڈے پانی کی بوتلیں تھیں۔ ’’برف؟‘‘ اس نے مجھ سے پوچھا۔
’’نہیں، ٹھیک ہے…‘‘ میں نے اپنے طور پر کچھ تکلف کرتے ہوئے کہا۔ وہ پھر چلا گیا۔ اب کے واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں دو گلاس تھے۔
’’برف ویسے تھی بھی نہیں۔‘‘ اس نے بیٹھتے ہوئے مسکرا کر کہا… اور یہاں پر صرف سفید مال ہی تھا…‘‘
میں جواب میں تھوڑا مسکرایا۔ کیا شخص ہے یہ بھی، میں نے اپنے دل میں سوچا۔

’’بوتل دیکھنا…‘‘ یہ کہہ کر اس نے جن کی بوتل اٹھائی اور میرے قریب رکھے ہوئے گلاس میں آہستہ آہستہ انڈیلنے لگا… اور رکا نہیں… ’’بس بس…‘‘ میں نے جیسے کہ نیند میں سے جاگ کر کہا جب وہ میرا گلاس تقریباً آدھا بھر چکا تھا۔

’’پانی؟…‘‘ اس نے پوچھا۔
میں نے مسکر ا کر گھبراتے ہوئے گردن ہلائی۔ اس نے میرا گلاس پانی سے بھر دیا۔ اس کے بعد اس نے اپنا گلاس بھی تقریباً آدھا جن سے بھر دیا اور پھر گلاس ہاتھ میں اوپر اٹھاتے ہوئے کہا ’’السلام علیکم…‘‘ اور پھر وہ رک گیا جیسے کہ میرا انتظار کررہا ہو۔

مجھے ایک لمحے کے بعد سمجھ میں آیا کہ اس کا کیا مطلب تھا۔ مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ یہ شخص واقعی مسلمان نہیں ہے۔ حالاںکہ میں شراب پیتا تھا لیکن مجھے لگا کہ اس نے میرے مذہب کا مذاق اڑایا ہے۔ لیکن وہ مذہبی بحث کا وقت نہیں تھا۔ میں نے اپنے گلاس کو آہستہ سے اٹھایا۔ گردن کو خفیف سا جھٹکا دیا اور پہلا گھونٹ لے لیا۔ اس نے ایک لمبے گھونٹ میں اپنا گلاس تقریباً آدھا کردیا۔ کچھ دیر رکنے کے بعد میں نے اس سے پوچھا۔ ’’تمھارا تعلق کہاں سے ہے؟‘‘

مجھے دیکھ کر وہ مسکرایا اور اس نے ایک چھوٹا گھونٹ لیا۔ ’’یہیں کہیں، اسی کسی گلی کوچے، شہر سے‘‘۔ میری طرف دیکھ کر اس نے جواب دیا اور پھر منھ پھیر کر باہر گیلری کی طرف دیکھنے لگا۔ ایک لمحے بعد وہ پلٹا اور پورا گلاس غڑپ کرگیا۔ مجھے لگا کہ اس کو شاید میرا یہ سوال پسند نہیں آیا تھا۔ پھر اس نے جن کی بوتل دوبارہ اٹھائی اور اپنا گلاس بھرا۔ پھر میرے گلاس کی طرف بوتل کا رخ کرکہ پوچھا…’’ اور نکال دوں…؟‘‘

میں نے اپنے گلاس سے اس وقت تک صرف ایک گھونٹ پیا تھا۔ وہ تقریباً بھرا ہوا ہی تھا۔ میں مسکرایا اور ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔ لگ رہا تھا کہ اسے ابھی سے چڑھنے لگی ہے۔

پھر جیسے کہ ایک دم سے خیال آیا ہو۔ وہ اٹھ کر باورچی خانے کی طرف چلا گیا۔ جب واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک گلاس تھا جس میں برف تھی۔ اس گلاس کو میز پر رکھ کر اس نے پھر اپنا گلاس اٹھا لیا اور مجھے اشارے سے کہا ’’پیو…‘‘

مجھے خیال آیا کہ تھوڑی دیر پہلے تو اس نے مجھ سے کہا تھا کہ برف نہیں ہے۔ اب یہ برف کہاں سے آگئی؟ لیکن اس بات کو میں نے نظر انداز کردیا۔

۔تھوڑی دیر ہم دونوں خاموش بیٹھے رہے پھر وہ بولا۔ ’’تمھیں کتنا حصہ چاہیے…‘‘
’’کیا…؟‘‘ مجھے اس کا سوال سمجھ میں نہیں آیا۔
لیکن ایک لمحے بعد مجھے خیال آیا کہ اس کا اشارہ آج کے مال کی طرف ہے۔ میں خاموش ہو کر سوچ میں پڑ گیا۔
اس نے زیادہ انتظار نہیں کیا۔ مذاق کے انداز میں اس نے پوچھا ’’کیا کچھ نہیں چاہیے…؟‘‘ ۔
’’تمھارے حصے میں کتنے پیسے تھے‘‘ پھر اس نے آہستہ سے سوال کیا۔
مجھے خیال آیا کہ ابھی تک اپنے مال کو گننے کی طرف میرا دھیان نہیں گیا تھا اور یہ بات شاید میری شکل سے بھی عیاں ہوگئی۔
’’باہر جا کر گن لو…‘‘ میں اس کی بات مانتا ہوا اٹھ کر باہر چلا گیا اور لفافے میں سے پیسے نکال کر انھیں گننے لگا۔ ساتھ ہی مجھے اس بات پر حیرت بھی تھی کہ اس نے کس طرح مجھ پر بھروسا کرکہ مجھے باہر جانے کو کہہ دیا۔

جب میں واپس آیا تو خاصا مایوس تھا۔ صوفے پر بیٹھنے کے بعد میں نے اسے جواب دیا ’’ستر…‘‘ مجھے خود یقین نہیں آرہا تھا کہ چاچا نے اتنے کم پیسے دیے تھے۔ ’’مجھے سوا تین ملے…‘‘ اس نے خاموش لہجے میں جواب دیا۔

مجھ میں اس وقت اتنی ہمت نہیں تھی کہ اس سے پوچھوں کہ یہ تمام پیسے وہ تھے جو اسے ملے تھے یا اس نے چاچا سے چھینے تھے یا یہ کہ اس نے قادر اور راشد کا مال بھی کھینچا تھا۔ ’’سوا میں تم کو دے دوں گا…‘‘ اس نے اتنے ہی خاموش لہجے میں کہا۔

ہم دونوں کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے۔ پھر یاسمین کمرے میں آگئی اور پیٹر سے کچھ دور لمبے صوفے پر بیٹھ گئی۔ برف والا گلاس اس کے تقریباً سامنے رکھا ہوا تھا۔ پیٹر نے اس میں جن انڈیلنا شروع کی اور ابھی تھوڑی ہی ڈالی ہوگی کہ یاسمین نے ہاتھ سے اشارہ کیا ’’…بس بس…‘‘

اب ہم تینوں کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے۔ یاسمین نے اپنے گلاس سے ہلکی سی چسکی لی۔ اس کی آنکھیں ابھی تک بوجھل اور تھکی ہوئی تھیں۔
مجھے یہ صورت حال بہت عجیب لگ رہی تھی۔ اس بات سے میں ضرور خوش تھا کہ مجھے سوا لاکھ اور مل جائیں گے۔ لیکن آپ ہی آپ اس شخص نے کس طرح مجھے پیسے دینے کا اظہار کردیا؟ اور پھر یہ عورت کون تھی جو کہ رات گئے بن بلائے نوواردوں کے ساتھ بیٹھ کر شراب پی رہی تھی۔
کچھ دیر میں اس نے پیٹر سے کہا۔ ’’آج دن میں محلے سے حلیم آیا تھا… ابھی گرم ہورہا ہے…‘‘
’’حلیم؟… واہ‘‘ میں نے دل میں سوچا۔ پیٹر نے کوئی جواب دیا۔
’’وہیں جارہی ہو اب بھی… طارق روڈ پر جو بیوٹی سینٹر تھا…‘‘
’’ہاں…‘‘ یاسمین نے خفیف سا سر ہلایا۔
’’کچھ… بات بنی یا ابھی تک وہی صورت چل رہی ہے…‘‘
’’وہی…‘‘ یاسمین نے پھر خاموش لہجے میں جواب دیا۔
’’ویسے میں نے کاظم سے بات کرلی ہے… پچھلے ہفتے… ٹائم نہیں ملا نہیں تو تمھیں ایک آدھ دن میں کونٹیکٹ کرتا…‘‘

یاسمین کی خاموشی ہلکے غصے میں بدلی ۔ ’’ایک آدھ دن میں؟ ۔۔۔۔۔ دو مہینے سے خبر نہیں کہ تم زندہ ہو یا مر گئے۔۔۔۔۔۔۔ اور مجھ سے کہتے ہو کہ ایک آدھ دن میں کونٹیکٹ کرتے ۔۔۔۔۔۔۔‘‘۔

’’ارے تم کو معلوم ہے کہ میرا زندہ رہنا… موت سے کوئی زیادہ بڑھ کر نہیں ہے…‘‘ اس کا یہ جواب تھوڑا ڈرامائی تھا۔ پھر اس نے ایک لمبا گھونٹ لیا اور آہستہ سے مسکرایا۔’’ تمھیں معلوم ہے کہ خدا پر مجھے اس لیے یقین نہیں ہے۔ کیوںکہ میں مرتا نہیں ہوں…‘‘

مجھے پھر اس کی یہ بات تھوڑی بے تکی محسوس ہوئی۔ لیکن میں خاموش رہا اور یاسمین کی طرف سے کسی جواب کا انتظار کرنے لگا۔ وہ تھوڑی سی اور آزردہ نظر آئی، مجھے لگا کہ اس کی تھکی آنکھوں میں ایک آنسو ہلکے سے تیرا ہو۔ لیکن وہ خاموش رہی اور اس نے بھی اپنا گلاس اٹھا کر ایک گھونٹ لیا۔ کچھ دیر وہ بیٹھی رہی پھر اٹھ کر اندر باورچی خانے میں چلی گئی۔

واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں ایک اور ٹرے تھی جس میں دو خالی پلیٹیں، ایک چھوٹی پلیٹ میں نیبو، ہری مرچیں اور پودینہ اور ایک چینی کے برتن میں حلیم تھا۔ یہ ٹرے اس نے لاکر ہمارے سامنے رکھ دی اور خود صوفے پر اپنی جگہ بیٹھ گئی۔

پیٹر نے وہ ٹرے میری طرف بڑھا دی تاکہ پہلے میں نکالنا شروع کروں۔ میں نے ایک پلیٹ اٹھا کر اس میں تھوڑا حلیم نکالا۔
’’کیا بات ہوئی؟… کاظم سے؟‘‘ یاسمین نے پیٹر سے پھر پوچھا۔
’’اس نے کہہ دیا ہے کہ کوئی مسئلہ نہیں… زمزمہ پر جو اس کا پارلر ہے وہاں چلی جائو… اور شاید اس کے فلیٹ میں جگہ بھی ہو۔
’’فلیٹ کہاں ہے اس کا۔‘‘
’’تین تلوار کی طرف…‘‘
’’اور پیسے کتنے دے گا؟‘‘
’’یہاں سے بہتر ہی مل جائیں گے… اور پھر اس کے جاننے والے اتنے لوگ ہیں شاید کوئی مال دار پارٹی پھنس جائے۔‘‘

یاسمین نے مزید کوئی سوال نہیں پوچھا۔ ہم لوگ خاموشی سے حلیم کھاتے رہے۔ کھانے کے درمیان میں بہ مشکل اپنا گلاس آدھا کرپایا، میں کبھی بھی پینے پلانے میں ماہر نہیں رہا ہوں۔ پیٹر نے اپنا دوسرا گلاس بھی ختم کردیا۔ یاسمین بھی آہستہ آہستہ پیتی رہی۔ بیچ میں اٹھ کر وہ ایک پانی کی بوتل اور گلاس اور لے آئی تھی۔

کھانے کے دوران پیٹر حلیم کی تعریفیں کرتا گیا جو اتنا برا نہیں تھا۔ لیکن میرے حساب سے مرچیں زیادہ تھیں۔ کھانا ختم کرکہ پیٹر نے ڈھیر سارا …کم از کم تین گلاس پانی پیا۔ اتنی مرچوں کے بعد پیاس مجھے بھی لگ گئی تھی۔ یاسمین نے پلیٹیں سمیٹ کر ایک طرف کردیں لیکن اٹھائی نہیں۔

کچھ دیر پیٹر باہر گیلری کی طرف دیکھتا رہا، پھر یاسمین سے مخاطب ہوا ’’… اور کیا ہورہا ہے یار۔‘‘ یاسمین کا گلاس تقریباً ختم ہوچکا تھا پیٹر نے جن کی بوتل اٹھائی اور اس کے گلاس میں تھوڑی انڈیلی۔ گلاس میں ابھی بھی برف کی کچھ ڈلیان باقی تھیں۔ گلاس آدھا لبریز ہونے کے بعد پیٹر رک گیا اور پانی کی بوتل کی طرف ہاتھ بڑھانے لگا لیکن یاسمین نے اشارے سے روک دیا۔

’’تم اب بھی اکیلے نہیں پیتیں؟‘‘ اس نے یاسمین سے مسکرا کر پوچھا۔
یاسمین نے خاموشی سے گردن ہلائی۔ میرے دماغ میں حیرت کی بتیاں ایک بار پھر جل گئیں کہ یہ عورت نیٹ شراب بھی پیتی ہے۔ لیکن پیٹرنے اپنے اسٹائل کے مطابق اس بات کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔

’’ویسے ابھی تمھارے پاس مال تو بچا ہوا ہے… میں راجا سے کہہ دوں گا کہ کچھ اور اسٹاک ڈال دے…‘‘
یاسمین خاموش رہی۔ ہم لوگ خاموش بیٹھے رہے۔ میرا گلاس ختم ہوگیا۔ میں نے خود بھر لیا۔ پیٹر نے ایک اور پیگ بھی ختم کرلیا۔ یاسمین اپنے دوسرے کے اختتام پر پہنچی۔ ’’اور تمھارے ساتھ کیا چل رہا ہے؟‘‘ اس نے اب پیٹر سے پوچھا۔ اس کے انداز میں نشہ اترتا آرہا تھا۔ نیٹ جن نے اپنا کام تیزی سے دکھایا تھا۔

’’کچھ نہیں… وہی…‘‘ وہ دونوں مجھے اب خاصے نشے میں آتے ہوئے لگ رہے تھی۔ کچھ دیر دونوں خاموش رہے پھر پیٹر نے بات کا رخ ایک دم موڑ دیا۔ ’’چاچا سالے کا دماغ خراب ہوگیا… کہتا تھا سالا کہ ہم اب اس کی تین ہزار روپیہ جیسی نوکری پر آجائیں…‘‘
’’اچا!… تو پھر… تو پھر کیا ہوا…‘‘ یاسمین نے تھوڑے دھیان سے پوچھا۔
’’کچھ نہیں… سالے کو ٹائٹ کردیا…‘‘
’’کیا؟… کیا کردیا؟‘‘ یاسمین نے اس بار پریشانی سے پوچھا۔
’’ارے یار کچھ نیا نہیں کیا! … سالے کو اس بار ٹائٹ کردیا… آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘‘

یاسمین خاموش ہوگئی، جیسے کہ وہ بات سمجھ گئی ہو۔ اس کی آنکھوں میں ایک افسردگی آگئی۔ میری موجودگی سے اب وہ بالکل بے پرواہ لگ رہی تھی۔ ’’تم کیوں اس طرح ہوگئے ہو…‘‘ پھر اس نے پیٹر سے کہا۔ ’’منّور کی موت کے بدلے تم کب تک لو گے؟…‘‘ وہ تقریباً روہانسی تھی۔ اس نے بات کا رخ ماضی کے واقعات کی طرف موڑ دیا تھا، جن کے بارے میں مجھے کوئی علم نہ تھا۔

’’منّور کو مارنے والے کب کے مرچکے ہیں… لیکن اس کو ان چند لوگوں نے نہیں مارا، بلکہ ایک زمانے نے مارا ہے۔۔۔۔ پورے زمانے نے ۔۔۔۔‘‘ اس نے ہنس کر کہا۔ مجھے لگا کہ اب پیٹر کے شراب کا پیمانہ اتنا ہوچکا ہے کہ وہ اب سوائے مسکرانے کے اور کچھ نہیں کرسکتا ہے۔

یاسمین اس کا جواب سن کر خاموش رہی۔ جیسے کہ اس بار وہ اپنے جذبات کو اپنے پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔’’ تمھارا دماغ چل گیا ہے…‘‘ اس نے اتنا جواب دیا۔

’’اتنا تو نہیں چلا ہے جتنا تمھارا چلاہے۔‘‘ پیٹر نے ترنت جواب دیا۔ ’’چلو میرے پاس تو یہ سب کچھ کرنے کا بہانہ ہے… تمھارے پاس کیا ہے… تم نے کس واسطے اپنا دھندا چلایا ہوا ہے؟…‘‘

میں پیٹر کی اس بات پر چونکا۔ میرا خیال تھاکہ یاسمین کسی سخت ردعمل کا اظہار کرے گی۔ لیکن اس نے نہیں کیا۔ بلکہ بہت ہموار لہجے میں بولی۔ ’’میرے پیشے پر یوں طعنے نہ کسو… یاد ہے۔ اس کی وجہ سے پہلی بار تمھاری جان بچی تھی…‘‘ پھر وہ سکون میں آگئی۔ جیسے کہ پیٹر کے ساتھ اس کا تمام جھگڑا ختم ہوگیا ہے۔

پیٹر بھی خاموش رہا۔ مجھے ان دونوں کے درمیان بیٹھ کر خاصا عجیب لگ رہا تھا۔ لیکن یہ آج کے دن میں ہونے والی پہلی عجیب بات نہیں تھی۔ یاسمین کا گلاس ختم ہوگیا تھا۔ اس نے اس بار اپنے لیے خود پیگ بنایا اور اس میں تھوڑا پانی بھی ڈالا۔ پھر اس نے پیٹر کے لیے بھی پیگ بنایا۔
پیٹر باہر گیلری کی طرف دیکھنے لگا۔ ’’بڑی دیر ہوگئی… ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔‘‘ اس نے باہر دیکھتے دیکھتے کہا۔
میرا خیال تھا کہ آج رات کے چھاپے کی خبر ہم لوگوں نے خود پھیلائی تھی تاکہ تھوڑی حفاظت میں ہمارا کام ہوجائے۔
’’کیا رینجرز والے اندر علاقے میں آنے والے ہیں۔‘‘ میں نے ذرا مذاق کے انداز میں پوچھا۔
’’رینجرز…؟‘‘ اس نے یوں کہا کہ جیسے وہ کسی اور بات کے بارے میں سوچ رہا ہو۔ ’’ہاں ہوسکتا ہے، بعد میں ان کو بھی آنا پڑے۔‘‘
اب شراب کا اثر میرے دماغ میں سرایت کرچکا تھا اور شروع کی پریشانی اور خوف اب تحلیل ہوچکے تھے۔
’’تم نے تنظیم کب جوائن کی…‘‘ میں نے اس سے اب پوچھا۔
’’ابے یہ تو میرا دھندا ہے… تنظیم کہاں سے آئی…‘‘
’’تو دھندے میں تنظیم نہیں ہوسکتی…‘‘ میں نے مسکرا کر اسے جواب دیا۔
’’ہاں وہ تو ہوسکتی ہے…‘‘ وہ بھی ہنسا۔

پھر ہم یوں ہی تھوڑا مذاق کرتے رہے۔ میرا پیگ ختم ہوگیا۔ یاسمین کا بھی اختتام کے قریب آیا۔ ہماری باتوں میں اس نے حصہ تو نہیں لیا، لیکن اس کا دل تھوڑا بہل گیا۔ پیٹر تقریباً دو اور پی گیا۔ اب وہ پورے موڈ میں آگیا تھا اور بہت زور زور سے ہنس رہا تھا۔ لیکن اس کی زبان خاصی صاف تھی، نہیں تو میرا خیال تھا کہ اب تک اس کو مغلّظات پر اتر آنا چاہیے تھا۔

کچھ دیر بعد یاسمین اٹھنے گی۔ اس نے پیٹر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’تو پھر تمھارا کیا پروگرام ہے… مجھے بہت نیند آرہی ہے۔ میں سونے جارہی ہوں…‘‘
کیوں؟ اور نہیں پیو گی…‘‘ اس کے گلاس کی طرف پیٹر نے ہاتھ بڑھایا۔
’’نہیں… میں جارہی ہوں… تم آئو گے؟‘‘
’’نہیں… ابھی تو میں بیٹھا ہوں…‘‘ پیٹر نے بغیر کسی ردعمل کے کہا۔‘‘ تھوڑی دیر میں دیکھتا ہوں۔ ویسے بھی صبح تک مجھے جانا ہے…‘‘
یاسمین خاموش ہو کر چلی گئی۔ پیٹر نے اس کے جانے کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ ہم لوگ پھر باتوں میں لگ گئے۔ بیچ میں ایک آدھ بار پیٹر نے اپنی حیرت کا اظہار کیا کہ ابھی تک کوئی شور ہنگامہ کیوں نہیں شروع ہوا۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کیوں یہ توقع کررہا ہے۔

رات کے تقریباً تین بج چکے تھے۔ پیٹر کا شراب کا پیمانہ کافی دیر پہلے لبریز ہوچکا تھا۔ اس لیے اس نے کافی دیر سے اپنا گلاس نہیں بھرا تھا۔ میں پینے پلانے میں اتنا ماہر نہیں تھا اس لیے مجھے اپنے پیمانے کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔ میرے گلاس آہستہ آہستہ آگے بڑھے جارہے تھے۔ لیکن پیٹر سے ابھی بھی میں کوسوں دور تھا۔

پھر یکایک باہر کے سناٹے کو پھاڑتی ہوئی کلاشن کوف کے ایک برسٹ کی آواز بلند ہوئی اور کچھ دیر تک جاری رہی۔ پھر وقفے وقفے سے اور برسٹ چلے، یہ لڑکوں کے لیے اشارے تھے۔ پھر جیسے پورا علاقہ فائرنگ کی آوازوں سے گونج اٹھا۔

پیٹر خوشی سے اچھل پڑا اور میں حیرت سے ۔ کیوںکہ میرا خیال تھا پیٹر یوں ہی تفریح میں کسی ہنگامے کا انتظار کررہا تھا۔ اب پتا چلا کہ یہ ذرا سیریس قسم کی تفریح تھی۔ ہم لوگ باہر گیلری میں چلے گئے۔ پیٹر نے چاچا کے مکان کی سمت اشارہ کیا زیادہ تر آواز ادھر سے آرہی تھی۔ یا تو ہماری واردات کی خبر اب محلے میں پھیلی تھی یا پیٹر کو معلوم تھاکہ وہاں کیا ہورہا ہے، یا ان لڑکوں کو جو فائرنگ کررہے تھے۔ پیٹر کچھ نہیں بول رہا تھا اور اس صورت حال میں، میں لڑکوں سے معلوم نہیں کرسکتا تھا۔

اب لگ رہا تھا کہ علاقے کے باہر سے رینجرز نے بھی فائرنگ شروع کردی تھی۔

ہم لوگ اندر آگئے۔ ابھی تک میں اسی کے احکام پر چل رہا تھا جیسے کہ میں نے اس کو اپنا لیڈر مان لیا ہے۔ پیٹر اب بہت خوش تھا۔ اس نے اپنے لیے ایک اور پیگ بنایا۔ میرا پیگ ابھی آدھا بھرا ہوا تھا۔ اس کی خوشی کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ ا اس نے جیسے اس وجہ کو سمجھانے کی خاطر بولنا شروع کیا۔

’’جب میں پہلی بار جیل گیا تھا… اس سے زیادہ برا وقت مجھ پر نہیں گزرا…‘‘ اس کا لہجہ ایک دم بہت سنجیدہ اور تکلیف بھرا ہوگیا۔ انھوں نے ہمارے اوپر کوئی لمبا چوڑا سازش اور بغاوت کا کیس بنایا تھا… ہماری پوری تنظیم ہی جیسے ایک دم اندر ہوگئی تھی…‘‘ تنظیم کا لفظ کہتے ہوئے وہ ہلکے سے مسکرایا بھی۔ ’’میں بھی ان میں شامل تھا… انھوں نے سب کو ایک ساتھ پکڑ لیا تھا۔ نہ ایک لڑکا زیادہ تھا، نہ ایک کم۔ جیسے کہ پوری نفری کا انھیں پہلے سے علم تھا۔

… پہلے دو ہفتے جب تک وہ میری انٹروگیشن کرتے رہے۔ انھوں نے مجھے سونے نہیں دیا۔ باقی خوف و ہراس ڈرانا دھمکانا اپنی جگہ مگر رات کو اکثر وہ مجھے اٹھا دیا کرتے تھے۔ آنکھوں میں تیز ٹارچیں ڈال کر منھ پر ٹھنڈا پانی چھڑک کر میرا نام لے کر پوچھتے تھے اعجاز… بتا… بتا… تیری بہن کا نام کیا ہے… بہن کا نام بتا…‘‘ مجھ سے وہ میری بہن کا نام پوچھتے تھے۔ سوچو تو ذرا۔ نہ جانے وہ کیا کرتے اس کے ساتھ… یقین کرو، میں رو دیتا تھا اور کہتا تھا… مجھے نہیں معلوم۔ مجھے نہں معلوم… میں نے اس کو ہمیشہ آپا کہا ہے… مجھے نہیں معلوم آپا کا اصل نام کیا ہے…‘‘ یہ کہہ کر پیٹر سسکیاں لے کر رونے لگا۔ چند منٹ تک اس کی آنکھوں سے آنسو آتے رہے۔

میں اس کو دم بخود دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر میں اس کی حالت بہتر ہوئی اور اس نے اپنا پیگ ختم کیا۔ ’’چلیں اب…‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ گیا۔
میں بھی اس کے ساتھ اٹھا۔ ’’تمھارا نام پہلے اعجاز تھا…‘‘ میں نے اس سے پوچھا۔
’’میرا نام اب پیٹر ہے… اور بس۔‘‘ اس نے ذرا زور سے جواب دیا۔

باہر آکر اس نے یاسمین کے کمرے کے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’اوہو مجھے اس کو چند نمبر وغیرہ دینے تھے… چلو بعد میں دے دوں گا…‘‘۔ پھر ہم لوگ سیڑھیوں سے نیچے اترے۔ میں ویسپا کی طرف بڑھا۔مگر اس نے روک دیا۔ ’’اسے چھوڑ دو۔ اس کو لے جا کر پھنس جائیں گے … میں بعد میں آکر اس کو اٹھا لوں گا…‘‘

باہر نکل کر وہ کہنے لگا ’’ آج میں نے چاچا سے بھی اس کی بہن کا نام پوچھا تھا… چاچا کی دو بہنیں ہیں… اس نے دونوں کے نام بتا دیے…‘‘ یہ کہہ کر پیٹر نے قہقہہ لگایا۔

علاقہ میں اب عجیب صورت حال تھی۔ فائرنگ رک گئی تھی۔ لڑکے گلیوں میں کھڑے ہوئے تھے اور ایک عجیب پریشانی اور گہماگہمی تھی۔ ہم لوگوں نے اپنی کلاشن اور سیون ایم ایم اٹھائی ہوئیں تھیں۔ لیکن لڑکے عموماً خالی ہاتھ تھے۔ پھر ایک بھگدڑ سی مچی اور لڑکے گھروں میں جانے اور ادھر ادھر ہونے لگے۔ ہم ایک کھڑی ہوئی ویگن کے پیچھے چھپ گئے۔ ایک دو منٹ میں رینجرز کے دو ٹرک تیزی کے ساتھ وہاں سے گزرے۔ یہ محاصرے اور تلاشی کا انداز نہیں تھا لگتا تھا انھیں کہیں پہنچنے کی جلدی ہے۔ ان کے جانے کے بعد پیٹر کہنے لگا

’’چلو اچھا ہے… اس کنفیوژن میں یہاں سے باہر نکلنا اتنا مشکل نہیں ہوگا… تمھارا اب کیا پروگرام ہے…‘‘ اس نے مجھ سے پوچھا۔

’’کچھ نہیں…‘‘

’’ٹھیک ہے پھر میں نکلتا ہوں…‘‘ یہ کہہ کر اس نے ہاتھ ڈال کر اپنے کرتے کے نیچے سے ایک لفافا نکال کر مجھے دیا۔ اس میں شاید آج کے پیسے تھے۔ میں جن کے بارے میں تقریباً بھول ہی چکا تھا۔ اس وقت میں نے انھیں نہیں گنا۔ گلی کے کونے پر پہنچ کر ہم دونوں اپنے اپنے راستے پر ہولیے۔

پیٹر نے ٹھیک اندازہ لگایا تھا۔ اس وقت ہمیں وہاں سے نکلنے میں زیادہ مشکل نہیں پیش آئی۔

اگلے روز میں نے اخبار دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس رات واقعی چاچا کو کسی نے ٹائٹ کردیا تھا۔ اتنا ٹائٹ کہ مجھے دو تین ماہ کے لیے بالکل انڈر گرائونڈ جانا پڑا۔ لیکن پھر حالات بدلے اور جو لوگ مجھ پر شک کرسکتے تھے وہ منظر پر نہیں رہے۔ میں پھر منظر پر آگیا۔ لیکن پیٹر کی مجھے پھر کوئی خبر نہیں ملی۔ میں یاسمین کے فلیٹ پر بھی گیالیکن وہاں اب کوئی اور رہتا تھا۔

بدھ، 14 جنوری، 2015

پھول پتیوں کی مصور


رخسانہ سوچتی تھی کہ پھول پتیاں اس دنیا کی سب سے دلکش چیزیں ہیں۔ اس لئے وہ ہمیشہ پھول پتیوں کی مصوری کیا کرتی تھی۔ یا کبھی کبھار وہ اپنے پھولوں کے پس منظر میں کوئی تالاب، چند ایک پودے یا کوئی چڑیا بنادیتی لیکن اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

سورج مکھی کے پھول وہ عام طور پر بہت بڑے بناتی تھی۔ ضرورت سے زیادہ بڑے۔ اتنے کہ تصویر میں بمشکل کوئی اور چیز نمایاں ہو پاتی۔ ان پھولوں کے نزدیک کوئی ایک کیڑے نماچیز بھی اُڑ رہی ہوتی۔ یہ چیز کسی بھونرے یا شہد کی مکھی سے مشابہت رکھتی۔ لیکن اصل میں یہ کون سا کیڑا ہوتا ،یہ بات صرف رخسانہ کو پتہ تھی۔

مگرسورج مکھی کے پھول وہ اس روز بناتی جس روز وہ صبح صادق کے وقت اٹھ جائے ، یا ساری رات اس نے جاگ کر گزاری ہو اور صبح صبح تازہ ہوا کے لئے کھڑکی کھول دے اور طلوعِ آفتاب کے منظر میں اس کی تمام توجہ جذب ہو جائے۔ اس روز وہ ضرور ایک سورج مکھی کے پھول کی تصویر کا آغاز کر دیتی، چاہے اسے ختم کرتے کرتے کئی ہفتے لگ جائیں یا چاہے بے شمار دوسری تصویروں کی طرح یہ بھی ادھوری پڑی رہ جائے۔

اس نے زندگی میں نہ جانے کتنی تصویروں کا آغاز کیا تھا۔ لیکن ان میں سے بہت کم کسی قابلِ قبول اختتام تک پہنچی تھیں۔ کچھ تو صرف اس کے تصوّر میں رونما ہو کر وہیں محفوظ رہ گئی تھیں۔ کچھ کو وقت ملنے پر اس نے کاغذ پر اتار لیا تھا، لیکن اس کے خیال میں ابھی وہ نا مکمل تھیں اور کچھ تو ضائع بھی ہو گئی تھیں۔ تھوڑے عرصے پہلے تک تو اس کی تمام الماری ایسی تصویروں سے بھری ہوئی تھی، لیکن پھر جعفر کے کئی بار کہنے پر اس نے بیشتر تصویروں کو ایک بکس میں بند کر کے اپنے پلنگ کے نیچے ڈال دیا تھا۔ اس طرح اس کی الماری میں جعفر کے لئے خاصی جگہ نکل آئی تھی ۔لیکن جعفر نے اس میں صرف لکڑی کا ایک چھوٹا سا بکس رکھ چھوڑا تھا اور چند ایک شلوار کرتے اور ایک جینز اور ٹی شرٹ۔لکڑی کے صندوق میں تالا پڑا رہتا تھا اور اس کی چابی صرف جعفر کے پاس رہتی۔ رخسانہ کو اس نے آج تک نہیں بتایا تھا کہ اس بکس میں کیا ہے اور جب وہ پوچھتی تو وہ جواب دیتا،"تجھ کو آم کھانے سے مطلب ہے یا پیڑ گننے سے"۔

رخسانہ کے اس چھوٹے سے فلیٹ کا کرایہ بھی اکثر جعفر ہی دیا کرتا تھا۔ اس نے آج تک اتنے میٹھےآم نہیں کھائے تھے ۔ اس لئے وہ یہ سن کر خاموش ہوجاتی۔

رخسانہ کا فلیٹ بلڈنگ کی چوتھی منزل پر تھا۔ اس کی بالکنی سے بے شمار بدوضع مکانوں اور فلیٹوں کا ایک سوکھا ہوا جنگل نظر آتا۔ فارغ وقت میں اکثر وہ اپنی بالکنی میں آکر کھڑی ہو جاتی اور اس جنگل کو تکتی رہتی۔ اور سوچتی کہ کس قسم کی بارش سے یہ جنگل ہرا ہو پائے گا؟ بالکنی میں کھڑے ہو کر دائیں طرف جھانکنے سے لالوکھیت دس نمبر کی چورنگی نظر آتی تھی جہاں سے شام کے وقت طغیانی میں بہتے ہوئے دریا کی مانند ٹریفک گزرتا تھا۔ رخسانہ اکثر بالکنی میں کھڑے ہو کر اس بہتے ہوئے دریا کو دیکھتی اور تصور کرتی رہتی کہ کیا پہاڑوں میں ندی نالے بھی اس طرح بہتے ہوں گے۔ اس نے آج تک ان نالوں کو صرف تصویروں میں دیکھا تھا، یا کبھی کبھار بنا بھی دیا تھا۔

اپنی تصویروں کو سمیٹنے اور ڈھنگ سے رکھنے کا خیال اسے عام طور پر ان دنوں میں آتا جب ننھی فرح کا اس کے ساتھ آکر رہنے کا زمانہ آتا۔ وہ کوشش کرتی کہ اپنی ڈرائنگ کی کاپیوں اور ادھوری اور مکمل تصویروں اور ان کو بنانے میں درکار رنگوں، روغنوں، برشوں اور پنسلوں کو سمیٹ کر فرح کی پہنچ سے دور کسی شیلف پر ڈال دے تاکہ وہ فرح کے کھیل کود سے بچے رہیں۔لیکن کئی بار ایسا ہوتا کہ فرح کے آجانے کے بعد بھی اس کے رنگ اور برش اور تصویریں یوں ہی اس کے دو کمروں کے فلیٹ میں اِدھراُدھر پڑی رہتیں اور فرح آکر اس کی تصویروں میں یوں رنگ بھرتی کہ رخسانہ انہیں دیکھتی رہ جاتی۔

رخسانہ کو فرح سے بے حد محبت تھی ۔ اپنی شادی ختم ہونے کے بعد جب اس نے فرح کی ماں کے گھر میں اوپر والا کمرہ کرائے پر لیا تھا تو اس وقت فرح صرف چھ ماہ کی تھی۔ شروع کے چند مہینے اس نے ہی فرح کو پالا پوسا تھا اور اس طرح دل بہلا کر اس نے اپنا وہ مشکل زمانہ گزارا تھا۔ بعد میں ان کے درمیان تعلق اور گہرا ہوتا گیا۔ فرح کی ماں رئیسہ اپنے دوسرے بچوں کو پالتی اور فرح کو رخسانہ تھوڑے عرصے بعد رخسانہ نے ایک اسکول میں نوکری بھی کر لی لیکن فرح سے قربت میں کوئی فرق نہیں آیا۔

رخسانہ کو اپنے خیالات کینوس پر اتارنے اور پنکھڑیوں اور پتیوں کو سیدھا اور تر چھا بنانے میں جو سکون ملتا، زندگی کے شاید ہی کسی اور کام میں ملتا ہوگا۔ اس بات کا احساس اسے اس زمانے میں ہوا جب اس نے اسکول میں نوکری کی تھی۔وہاں پر وہ ڈرائنگ ٹیچر مقرر ہوئی اور بچوں کو پڑھانے میں پہلی بار اس نے پھول پتیاں اتنے شوق سے بنانا شروع کیں۔

اپنے پرانے شوہر کے دوست مظہر سے اس کی ملاقات اب کبھی کبھار ہوتی تھی جس کے ساتھ تعلقات کے شک میں اس کی شادی ختم ہوئی تھی ۔لیکن وہ اس کو اپنی شادی کے ٹوٹنے کا سبب نہیں سمجھتی تھی۔ اپنی کلاس میں بچوں کے واسطے پھول اور پتیاں بناتے ہوئے کبھی کبھی اسے مظہر کا خیال آتا اور اس روز وہ اس سے مل آتی۔ کبھی کبھار وہ اس سے پیسے بھی مانگ لیتی ۔ کبھی مظہر دے دیتا، کبھی نہ دیا ۔ جیسے جیسے اسے پھول پتیاں بنانے میں مہارت حاصل ہوتی گئی، ویسے ہی اپنے اِدھراُدھرکے خرچے پورے کرنے کے طریقے بھی سیکھتی گئی۔

اب کبھی اپنی بالکنی سے باہر جھانکتے ہوئے وہ اس زمانے کے بار میں سوچتی تو مسکرا دیتی۔

رخسانہ کو اپنی کوئی تصویر بہت زیادہ اچھی نہیں لگتی تھی۔ اور نہ کوئی بہت زیادہ بری ۔تصویروں میں پھولوں کی ٹہنیاں ایک خاص خم کے ساتھ بنانا اسے اچھا لگتا تھا۔ لیکن اگر کسی کو سیدھا بھی بنا دے تو اس میں اسے ایک ایسی نئی بات نظر آتی تھی جو قدرت میں نہیں ملتی۔

جعفر کو اس کی کچھ تصویریں اچھی لگتیں۔ کچھ کے بارے میں وہ کہتا کہ انہیں نہ بنایا ہوتا تو اچھا ہوتا۔ کبھی وہ اس سے کہتا کہ اس کی تمام تصویریں ایک سی ہوتی ہیں اور اسے آج تک ان کے درمیان کوئی فرق سمجھ میں نہیں آیا۔ رخسانہ کبھی جعفر کی کسی بات کی طرف دھیان نہیں دیتی۔ وہ یہ تصویریں اپنے لئے بناتی تھی کسی کی رائے طلب کرنے کی خاطر نہیں۔ پھر وہ یوں ظاہر کرتی کہ جیسے تصویریں بنانا اس کا اپنا معاملہ ہے۔ اس میں جعفر کو دخل نہیں دینا چاہیئے۔ اس پر جعفر خاموش ہو جاتا۔ پھر عموماً اس کا مذاق اڑا کر بات کو ختم کرتا جو اسے پسند نہیں آتا۔

رخسانہ کبھی کبھی جعفر کے ایسے روکھے پن سے تنگ آجاتی۔ جب وہ آتا تو اس سے کہتی کہ وہ چلا جائے اور ساتھ میں اپنی تمام چیزیں بھی لے جائے۔ خاص طور پر وہ لکڑی کا صدوقچہ جو اس کی الماری میں رکھا رہتا ہے اور جگہ گھیرتا ہے ۔ اس صندوقچے کو کئی بار اس نے اٹھانے کی کوشش کی تھی مگر وہ بہت بھاری تھا ۔ اور جعفر کبھی اسے رخسانہ کی موجودگی میں نہیں کھولتا تھا ۔اس لئے رخسانہ کو ہمیشہ یہ فکر لگی رہتی کہ نہ جانے اس میں کیا چھپا رکھا ہے۔

خاص طور پر اس زمانے میں جب فرح اس کے پاس آکر رہتی۔ رخسانہ جعفر کو سختی سے گھر آنے سے منع کر دیتی۔ اور اس سے کہہہ دیتی کہ اگر کام بھی بھیجنا ہے تو کسی لڑکے کو پتہ، نمبر اور تمام تفصیل بتا کر بھیج دے۔یا اگر خود آنا چاہتا ہے تو زیادہ سے زیادہ دروازے پر آکر یہ تمام باتیں بتا جائے۔ رخسانہ کو لگتا تھا کہ فرح اگر جعفر سے ملے گی تو ملنے کے بعد وہ ضرور یہ سوال کرے گی کہ "خالہ یہ آپ کی اتنے ڈراؤنے آدمی سے دوستی کیوں ہے؟" اس بات کو وہ کیا جواب دے گی؟

جعفر دیکھنے میں واقعی خاصہ خوفناک سا تھا لیکن رخسانہ کو آج تک اس سے کبھی ڈر نہیں لگا تھا ۔ جس رات وہ اس کے ساتھ ہوتا وہ اس کے چہرے کو بہت غور سے دیکھتی اور پھر صبح اٹھ کر طرح طرح کے نئے پھول بنانے کے بارے میں سوچتی۔

رخسانہ کو اب جب بھی مظہر کا خیال آتا تو اسے مظہر کا کالا اور عجیب سا چہرہ یا د آتا ۔ اور یہ یاد کر کے اسے ایک ہلکا سا دکھ ہوتا کہ نہ جانے اب وہ کس حال میں ہوگا۔ لیکن اب وہ واپس نہیں آسکتا تھا۔ اس بات کا رنج اسے سب سے زیادہ رہتا اور اسی لئے جعفر سے کچھ عرصے ناراض رہنے کے بعد وہ اس کو پھر بلا لیتی تاکہ اس کے تخیل کی پھول پتیاں ہری بھری رہیں۔

مظہر کے ساتھ کیا ہوا تھا یہ اسے نہیں معلوم تھا اور نہ جعفر اسے کوئی بات بتاتا تھا۔ ایک زمانے میں جعفر کی مظہر کے ساتھ بہت دوستی تھی۔ بلکہ پہلی بارمظہر ہی نے اس سے تعارف کروایا تھا۔ اسے یاد تھا کہ پہلی بار جعفر کو دیکھنے کے بعد وہ دم بخود رہ گئی تھی۔ اور کئی دنوں تک اس کا چہرہ اس کے خیالات پر چھایا رہا تھا۔ اس کا خوفناک چہرہ جس کو دیکھ کر بچے بچیاں ڈر سکتے تھے ۔ نہ جانے رخسانہ کے لئے اس میں کیا کشش تھی۔

اب مظہر کو یاد کر کے وہ صرف ایسی پھول پتیاں بناتی جو بہت خوبصورت اور لال پیلی اور سبز ہوتیں۔ اور ان کے پس منظر میں کبھی کوئی اجڑا ہوا گاؤں کوئی جلا ہوا درخت یا شکار کی ہوئی کوئی شیرنی بنا دیتی تھی۔ لیکن پھر ان تصویروں کو جعفر سے چھپا لیتی کیونکہ اس کے خیال میں وہ ان کو دیکھ کر مذاق اڑاتا۔ خاص طور پر شیرنی یا کسی اور جنگلی جانور کی تصویر کو دیکھ کر، کیونکہ اس کے خیال میں وہ حیوانوں یا انسانوں کی تصویریں بہت بری بناتی تھی۔

رخسانہ کو معلوم تھا کہ جعفر کی چار نمبر میں اسنوکر کی دو دوکانیں ہیں اور شاید ویڈیو کی دوکان میں بھی اس کا حصہ ہے۔ اور یہ کہ اس کا زیادہ وقت اسی علاقے میں گزرتا ہے لیکن جن لوگوں کے پاس جعفر رخسانہ کو بھجواتا، وہ شہر کے جانے کن کن علاقوں میں رہتے تھے۔ رخسانہ نے کئی بار یہ پوچھا کہ جعفر کو کس طرح اتنے دور دراز کے گاہک ملتے ہیں لیکن اسے کوئی قابل تسلی جواب نہیں مل پایا تھا تقریباً تمام گاہکوں کے ساتھ پیسے کا حساب کتاب پہلے ہو چکا ہوتا تھا۔ رخسانہ کو بہت کم لوگ خوش ہو کر اوپر سے کچھ انعام دیتے اور مانگنے پر اکثر یہ کہتے تھے کہ اتنے پیسے لینے کے بعد اوپر سے اور رقم مانگتی ہے؟ اپنے لئے ادا کی جانے والی رقم کا سننے کے بعد رخسانہ کا جی چاہتا کہ اپنے حیرت سے کھلنے منہ کے اوپر ہاتھ رکھ دے۔ لیکن یہ وہ ان گاہکوں کے سامنے نہیں کر سکتی تھی۔ اپنے کام میں رخسانہ کو خود کبھی اتنی رقم نہیں ملتی اور نہ جعفر کبھی اس کو امیر ہوتا ہوا نظر آتا ۔ تو پھر اتنی ساری رقم کہاں جاتی ہے؟ اس بات کا بھی اسے کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملتا۔

جس زمانے میں رخسانہ جعفر سے ناراض ہوتی، یا جعفر بہت زیادہ مصروف ہوجاتا یا اسے کہیں جانا پڑجاتا، تو اس زمانے میں ایک لڑکے کے ذریعے اس کے پاس پیغام آتا تھا کہ اسے کس جگہ پر کس وقت پہچنا ہے اور کس سے ملنا ہے ۔ رخسانہ کام پر ہمیشہ جاتی تھی، چاہے وہ جعفر سے خوش ہو یا ناراض ۔ کیونکہ وہ اپنے کام کو جعفر کی دوستی سے علیحدہ سمجھتی تھی۔ وہ یہ بھی سمجھتی تھی کہ وہ لڑکا بھی جعفر کے لئے کام کرتا ہے اور یہ کہ جعفر کی جو آمدنی ہوتی ہے اس میں سے خاصہ حصہ وہ بینک میں رکھنے کے بجائے اس لکڑی کے صندوقچے میں رکھتا ہے جو رخسانہ کی الماری کے نچلے حصے میں رکھا رہتا ہے۔

رخسانہ نے کئی بارکوشش کی تھی کہ وہ اس صندوق کو ہلا جلا کر اس بات کا اندازہ لگائے کہ اس میں کیا ہے ۔ لیکن وہ اتنا بھاری تھا کہ اس سے بمشکل سرکتا ۔ پھر اس نے ناامید ہو کر یہ سعی چھوڑ دی تھی۔

پھر یوں ہوا کہ رخسانہ کو لگا کہ جیسے جعفر کہیں چلا گیا ہے، یا وہ لاپتہ ہو گیا ہے۔ دو ماہ تک صرف وہ لڑکا آتا رہا، نام پتے لے کر۔ جب وہ اس لڑکے سے پوچھتی کہ جعفر کہاں ہے تو وہ کوئی جواب نہیں دیتا۔ ایک بار سوال کرنے پر اس نے مسکراتے ہوئے راز کے انداز میں کہا،"پردہ ٔ غیب میں۔۔۔۔۔۔" پھر یوں ہنستا ہوا چلا گیا کہ جیسے اس طرح اس نے رخسانہ کی تذلیل کی ہے۔ رخسانہ کو بہت غصہ آیا اور آئندہ اس سے یہ سوال نہیں کیا۔

رخسانہ کو کبھی کبھی خواب میں نظرآتا کہ جیسے اس کا تن تھوڑا اکڑ کر کسی پودے کا تنا بن گیا ہے اور ہاتھ پاؤں سوکھ کر کالی بل کھاتی ہوئی ٹہنیاں بن گئے ہیں جنہیں دور سے دیکھنے پر لگتا کہ کوئی خوفناک مردانہ چہرہ ہے ،اور اس کی چھاتیوں پر رنگ برنگے خوبصورت پھول پتے نکل آئے ہیں۔ رخسانہ جس روز ایسا خواب دیکھتی، صبح اٹھ کر اسے بڑا عجیب لگتا۔

چند دنوں کے بعد اس لڑکے کا آنا بھی بند ہو گیا۔ اب رخسانہ بہت پریشان رہنے لگی کیونکہ اب پھول پتیاں بنانے کے با وجود اس کے خرچے پورے نہیں ہو پارہے تھے ۔ رخسانہ نے باہر نکل کر خود اپنے واسطے کبھی کام تلاش نہیں کیا تھا۔ اس لئے اب اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کرے۔ کئی باروہ سوچتی کہ کیوں نہ جعفر کے اس بھاری بھرکم صندوقچے کا تالا توڑ کر دیکھے کہ شاید اس میں سے کچھ پیسے وغیرہ نکل آئیں لیکن پھر یہ سوچ کر ہمت نہ کر پاتی کہ جعفر واپس آگیا تو اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرے گا۔

پھر ایک روز اس کے دروازے پر دستک ہوئی۔ باہر چھ آٹھ پولیس کے وردی والے سپاہی کھڑے ہوئے تھے۔ ابھی وہ ان کو دیکھ کر حیران ہی ہو رہی تھی کہ وہ اندر آ دھمکے۔ ان میں سے ایک نے ،جو ان سب کا افسر لگتا تھا، اونچی آواز میں اس سے پوچھا ۔" جعفر ادھر رہتا ہے؟"

رخسانہ نے گردن کو جھٹا دے کر نفی میں سر ہلادیا۔ پھر ایکدم وہ افسر گر جا۔" جھوٹ مت بول۔۔۔۔بتا جعفر کدھر ہے۔" اس کی گرجدار آواز سے رخسانہ تقریباً اچھل گئی۔ پھر اس نے رک کر ذرا اعتماد کے ساتھ جواب دیا ، "وہ تین مہینوں سے اِدھر نہیں آیا"۔

اس پر وہ پولیس والے اس کے گھر کی تلاشی لینے لگے اور پورے گھر میں اس کی تصویروں کو بکھیر دیا۔ لیکن اتفاقاً ان کی نظر لکڑی کے اس صندوقچے پر نہیں پڑی جو اس کی الماری کے نچلے خانے میں رکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ جعفر کی کوئی چیز اس کے فلیٹ میں اس وقت موجود نہیں تھی۔ تھوڑی دیر بعد اس افسر کےایک ماتحت نے، جس کے چہرے پر بہت خطرناک قسم کی موٹی موٹی موچھیں تھیں، رخسانہ کو گردن سے پکڑ لیا اور بے درددی سے اسے ہلاتے ہوئے بولا ، "بتا وہ کہاں ہے؟" رخسانہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

کچھ دیر بعد وہ پولیس والے چلے گئے اور رخسانہ اپنے آنسو پونچھتی اور اپنی تصویریں جمع کرتی رہ گئی۔

چند دنوں بعد اس افسر کا بڑی بڑی مونچھوں والا ماتحت پولیس والا سادہ کپڑوں میں اس کے دروازے پر آیا اور اسے ایک پرچہ دیا ۔"اگر کام کرنا چاہتی ہے تو اس پتے پر چلی جا۔"وہ اپنی موٹی آواز میں غرایا۔

پھر وہی ہوا جس کی رخسانہ سے توقع کی جا سکتی تھی۔ اس کے کالے سے چہرے پر ان بڑی بڑی مونچھوں میں رخسانہ کو ایک پر اسرار خوبصورتی نظر آئی۔ وہ اسے دیکھ کر اپنے تمام غم بھول گئی اور مسکرا کر اسے اندر آنے کو کہا۔ وہ پولیس والا تھوڑا حیران ہوا لیکن اندر آگیا۔ اس کا نام محمد جمیل تھا۔

اس کے بعد جمیل نے مستقل طور پر اس کے پاس کام لانا شروع کر دیا۔ اور کبھی کبھی وہ اس کے پاس یوں ہی وقت گزارنے بھی آجاتا۔ محمد جمیل اس کی تصویروں میں بھی خاصی دلچسپی لینے لگا۔ اس بات سے رخسانہ خوش ہوتی۔

ایک روز اس کی تصویروں کو الماری میں ارینج کرتے ہوئے محمد جمیل نے لکڑی کے اس صندوقچے کی طرف اشارہ کیا جو کہ سب سے نچلے خانے میں رکھا تھا اور پوچھا، "اس میں کیا ہے؟"

اس پر رخسانہ نے ترنت خبر دار کیا،" اس کو کبھی مت چھیڑنا۔۔۔۔ اس میں میری پہلی شادی کا جہیز کا کچھ سامان ہے۔"

محمد جمیل مان گیا۔


منگل، 16 دسمبر، 2014

وہ لڑکی جو اخبار بیچتی ہے


ایک زمانہ تھا جب میں صبح پانچ بجے اٹھنا تصوّر بھی نہیں کر سکتا تھا، لیکن اب میری آنکھ پانچ بجے سے بھی پہلے کھل جاتی ہے۔ اور میں بستر میں پڑا پانچ بجنے کا انتظار کرتا رہتا ہوں۔ میری کھڑکی کے باہر کالا گھپ اندھیرا ہوتا ہے۔ مجھے اپنے بستر میں لیٹے لیٹے محسوس ہوتا رہتا ہے کہ باہر کا یہ اندھیرا کتنا سرد ہوگا۔ میں اس اندھیرے کو تکتا رہتا ہوں، مجھے اس میں طرح طرح کے کالی لکیروں سے کھینچے ہوے نقش و نگار اُبھرتے مٹتے نظر آتے رہتے ہیں۔ جیسے کوئی کالا جال بنتا ہو، اور پھر اس جال کو کالی انگلیوں سے چھیڑتا ہو۔

یوں کھڑکی سے باہر تکتے تکتے میں بستر سے اٹھ جاتا ہوں، اور دفتر جانے کے لئے تیار ہونے کے غیر دلچسپ کام میں ازخود جُت جاتا ہوں۔ میرا دماغ ایک بار پھر سونے چلا جاتا ہے۔

صبح چھے بجے کے لگ بھگ میں اپنی گاڑی کار پارکنگ میں کھڑی کرتا ہوں جو کہ ٹرین اسٹیشن سے بارہ تیرہ منٹ کے فاصلے پر ہے۔ جہاں سے میں نیویارک شہر جانے والی زمین دوز ٹرین پکڑتا ہوں۔ مجھے صبح سات بجے سے پہلے دفتر پہنچنا ہوتا ہے۔ اپنی کار سے اتر کر پیدل چلتا ہوا میں ٹرین اسٹیشن کی طرف آتا ہوں۔ اس وقت میرے دماغ میں طرح طرح کے خیالات ہوتے ہیں، یہ موسم اور حالات کے حساب سے بدلتے رہتے ہیں۔ میری نگاہیں نیویارک کی اسکائی لائین (skyline) پر ہوتی ہیں۔ اس اسکائی لائین میں کچھ عرصہ پہلے تک ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاور خاصے نمایاں تھے، لیکن ابھی چند ہفتے قبل وہ دونوں منہدم ہو چکے ہیں۔ انکی جگہ پیدا ہونے والا خلا اب خاصا نمایاں ہے، لیکن میری نگاہیں اس خلا پہ نہیں ٹہرتیں۔

ٹرین اسٹیشن کے پاس پہنچ کر مجھے وہ لڑکی نظر آتی ہے جو اخبار بیچ رہی ہوتی ہے۔ وہ مجھے دیکھ کر سر کو ہلکے سے جھٹکا دے کر ہیلو کہتی ہے اور اس کے بعد مسکراتی ہے۔ میں اپنے نرم ترین لہجے میں اُسے جواب دیتا ہوں اور اس سے پہلے کے تمام خیالات بھول جاتا ہوں۔

یہ تقریباً روز صبح کا معمول ہے۔ اس لڑکی کا تعلق جنوبی امریکہ کے کسی ملک سے ہے۔ اور وہ اسپانوی زبان بولتی ہے۔ میں نے ایک آدھ بار رک کر اس سے بات کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن وہ بہت کم انگریزی جانتی ہے۔ بس اتنی کہ اخبار بیچ لے۔ مجبور ہو کر مجھے اسٹیشن کی طرف دوڑنا پڑا ہے، کیونکہ ٹرین چھوٹ جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایک دفہ اس نے مجھے روک کر وقت پوچھنے کی کوشش کی، لیکن میں اسُ کو انگریزی میں بہ مشکل وقت بتا سکا، آخر لا چار ہو کر میں نے اپنی کلائی اسکی طرف بڑھا دی۔ اس نے میری کلائی پکڑ کر، اس پر بندھی ہوئی گھڑی سیدھی کی تاکہ وقت دیکھ پائے۔ پھر اس نے اپنی زبان میں کہا۔ ’’گراسیاس․․․‘‘۔

میں نے بھی نہایت میٹھے لہجے میں اسکا شکریہ ادا کرتے ہوئے ’’ تھینک یو ․․․‘‘ کہا۔ اور پھر نیویارک شہر جانے والی ٹرین کے زیرِزمین پلیٹ فارم کی جانب سرعت کے ساتھ بڑھ گیا۔

اب سے کچھ عرصہ پہلے تک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر جانے والی ٹرین لیتا تھا، جو مجھے دس منٹ میں وہاں پہنچا دیا کرتی تھی۔ لیکن اب مجھے 34th اسٹریٹ جانے والی ٹرین پکڑنی پڑتی ہے، جس میں بیس پچیس منٹ لگ جاتے ہیں۔ یہ ٹرین پہلے کی نسبت بہت ذیادہ بھری ہوئی ہوتی ہے، اور یہ مجھ کو اپنے دفتر سے ذیادہ دور بھی اتارتی ہے۔

ٹرین سرنگ میں دوڑتی چلی جاتی ہے، اور میں اس میں کھڑا اپنی بدنصیبی کو کوستا رہتا ہوں، کہ اب میرا سفر ذیادہ لمبا اور دشوار ہو گیا ہے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاوروں کو گرانے والا جو شخص بھی ہے، چاہے وہ اوسامہ بن لادن ہے یا کوئی اور، یقینً وہ بہت خبیث انسان ہے۔ اور اس کو اپنے کئے کی سزا ملنی چاہئے۔ شروع شروع میں جب وہ ٹاور گرے تھے تو مجھے ان میں مرنے والوں پر بہت افسوس تھا۔ ان کی تعداد کم از کم کئی ہزار ہو گی اور وہ بلا کسی قصور کے مارے گئے۔ ایک لمحے ایک اسٹاک بروکر عمارت کے پچھترویں (75th) منزل پر بیٹھا اپنے اسکرین کو دیکھ رہا ہو گا۔ دوسرے ہی لمحے اس نے حیران ہو کر چاروں طرف آگ دیکھی ہو گی۔ اور پھر وہ مر گیا ہو گا۔ اتنی جلدی کہ اسے تکلیف کا احساس بھی نہیں ہو پایا ہو گا۔ اگر موت کے بعد ذندگی واقعی کوئی چیز ہے تو اسے بڑا عجیب لگا ہو گا کی ایکدم سے مر کے دوبارہ کیسے ذندہ ہو گیا؟

شروع میں مجھے ان لوگوں کا اس طرح مر جانے پر بہت افسوس تھا، اور انکے گھر والوں سے بڑی ہمدردی۔ لیکن اب اس ہمدردی کا دائرہ خاصا وسیع ہو گیا ہے۔

تقریباً پونے سات بجے میں زیر ِزمین اسٹیشن سے باہر آتا ہوں اور اپنے دفتر کی طرف چلنا شروع کرتا ہوں۔ اب سردیاں آ چلی ہیں۔ اس لئے اس وقت پوری روشنی نہیں ہوتی۔ سڑکیں خالی ہوتی ہیں۔ اور اکا دُکا لوگ اپنے اورکوٹوں میں دبکے فٹ پاتھ پر نظر آتے ہیں۔ سڑکوں کے بیچ و بیچ مین ہول کورز (manhole covers) سے نکلتی ہوئی زیر ِزمین بوائیلرز (boilers) کی بھانپ ایک عجیب پراسرار سماں پیدا کرتی ہے۔ کہ جیسے زمین اندر سے سلہگ رہی ہو۔

اس منظر میں ایک ویرانی سی ویرانی ہوتی ہے، اسے محسوس کرنے والا شخص اپنے آپ کو بے انتہا تنہا پاتا ہے۔ میرے لئے یہ روز کی بات ہے۔ صبح کے سایوں میں لپٹی ہوی نیویارک کی عمارتیں باہر سے بے حد سرد نظر آتی ہیں۔ لیکن ان کی اس سردی سے میں پوری طرح آشنا ہوں، اس شہر کی پوری فضا کچھ ایسی ہے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے سانحے کے بعد میرا خیال تھا کہ یہاں کی فضا میں کچھ گرمی آ جائے گی۔ مگر میرا یہ خیال غلط نکلا، اب یہاں کی فضا تو پہلے سے بھی ذیادہ سرد ہو گئی ہے۔ پھر جب ذیادہ سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ شاید میرا یہ خیال بھی غلط ہو۔

دفتر پہنچ کر میں اپنے کاموں کے ہجوم میں گم ہو جاتا ہوں، اور اپنے آپ کو بھول جاتا ہوں۔ وہاں کا کچھ حساب کتاب ایسا ہے۔ وہاں تمام رشتے کاموں کی بنیاد پر بگڑتے یا سنورتے ہیں، انسانیت کے تقاضوں کی مداخلت خاصی کم ہے۔ یوں سوچتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ وہاں کام کرنے والے انسان کم اور انسان نما مشینیں ذیادہ ہیں۔ جن کو کسی ماہر انجینیر نے بنایا ہے، اور ان کی تمام حرکات و سکنات پہلے سے پروگرام کی جا چکی ہیں۔

یہاں اتنے عرصے سے کام کرتے ہوئے اب مجھے لگتا ہے کہ جیسے کسی غیر مرئی طاقت نے میری بھی پروگرامنگ کر دی ہے۔ کیونکہ مختلف چیزوں کے بارے میں میں اپنا ردِ عمل بھی مشینی پاتا ہوں۔ کام سے فارغ ہو کر جب دفتر سے نکلتا ہوں تو اکثر اس بات پر غور کرتا رہتا ہوں کہ کیا اب میرے اندر کا مشینی آدمی سونے چلا گیا ہے، یا وہ ابھی تک جاگ رہا ہے؟ اور کیا اب بھی میرے جذبات اور خواہشات کسی کمپیوٹر پروگرام کے اختیار میں ہیں؟

ایسے میں مجھے وہ لڑکی یاد آتی ہے۔ جو روز صبح اسٹیشن پر اخبار بیچتی ہے۔ روزآنہ ایک ہی کام کو دہرانا ایک مشینی عمل ہے۔ تو کیا روز صبح اسکا مجھے دیکھ کر مسکرانا بھی ایک مشینی عمل ہے؟ میں نے اس بات پر خاصا غور کیا ہے، مگر مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہے۔ کیونکہ اس کی آنکھوں کی چمک واقعی بہت پرُکشش اور بے ساختہ ہوتی ہے۔ اور کبھی جب وہ گم سم سی کھڑی ہو تو مجھے دیکھ کر مسکرانا بھول بھی جاتی ہے، جو کہ ایک عین انسانی بات ہے۔

یہ سب دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ اس کے وجہ شاید یہ ہے کہ اسکا پیشہ ادنیٰ درجے کا ہے یا شاید وہ بہت کم کماتی ہے۔ کیونکہ وہ نہیں سمجھ سکتی کہ ایک مشینی انداز کام میں کتنا فائدہ مند ہوتا ہے․․․․ لیکن ایسا ضروری بھی نہیں۔ ایک ادنیٰ پیشے کا کم پیسے کمانے والا شخص جو کہ ایک مشینی انداز سے کام کرتا ہو پوری ذندگی ان ہی حالات میں پڑا رہتا ہے۔ اس لئے کوئی ضروری نہیں کے ایسا ہو۔

دفتر سے فارغ ہو کر میں اپنی مخصوص بار میں جا کر دم لیتا ہوں۔ اور بئیر آڈر کرتا ہوں۔ یہاں اینجلینا (Angelina) کام کرتی ہے۔ اس سے میری اچھی خاصی واقفیت ہے۔ اصل میں شروع میں اسکی دوستی میری گرل فرینڈ مونیکا (Monica) سے تھی۔ لیکن آجکل موینکا میرے ساتھ نہیں ہوتی۔ مجھے بار میں اکیلا دیکھ کر اینجلینا ایک ہی سوال کرتی ہے کہ میری گرل فرینڈ کہاں ہے۔ اور میں اسے یہ ہی جواب دیتا ہوں کہ لاٹویا (Latvia) سے اسکی ماں آئی ہوئی ہے۔ اور وہ اپنی ماں کے ساتھ مصروف ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اینجلینا یہ سمجھتی ہے کہ میری مونیکا کے ساتھ کوئی انَ بنَ ہو گئی ہے، یا ہمارا تعلق منقطع ہو گیا ہے۔ لیکن ایسا نہیں۔

مونیکا کی جاب پر آجکل دو تین بڑے بڑے پراجیکٹ آئے ہوئے ہیں۔ شام تک دفتر سے فارغ ہوتے ہوتے اسے دیر بہت ہو جاتی ہے اور تھک بھی بہت جاتی ہے۔ اور پھر اسکی ماں بھی آئی ہوئی ہے۔ اس لئے وہ میرے ساتھ آ کر بار میں نہیں بیٹھتی۔ ہماری ملاقات اب کبھی کبھار کسی ویک اینڈ پر ہوتی ہے۔

اب میں بار میں اکیلا بیٹھ کر بئیر پیتا ہوں۔ یہاں پر آنے والی دوسری لڑکیوں کے ساتھ اپنا دل بہلاتا ہوں۔ میری لڑکیوں سے دوستی بہت جلدی ہو جاتی ہے۔ وہ میرے ساتھ گھل مل جاتی ہیں اور مجھے اپنی ذندگی کے بارے میں بتانے لگتی ہیں۔ میں بھی انھیں اپنے بارے میں بتاتا ہوں۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ میری پانچ بہنیں ہیں، وہ سب یورپ کے مختلف ملکوں میں رہتی ہیں۔ میں اپنی بہنوں کا اکلوتا بھائی ہوں اور وہ مجھے بہت چاہتی ہیں۔ پھر میں انھیں بتانے لگ جاتا ہوں کہ میں نے یورپ میں کہاں کہاں کی سیر کی ہے۔ وہ میری باتوں میں محو ہو کر دلکش انداز میں مسکراتی رہتی ہیں۔

اینجلینا یہ سمجتی ہے کہ مونیکا سے میرا تعلق اب ٹوٹ گیا ہے۔ اور میں ہر آنے جانے والی لڑکی پر ٹرائیاں مارتا رہتا ہوں۔ لیکن یہ بات اینجلینا کی خالی کھوپڑی کی ایک فضول ایجاد ہے۔ شاید وہ یہ چاہتی ہے کہ میں ان لڑکیوں کو چھوڑ کر اسکے ساتھ باتیں کروں۔ لیکن وہ تو میرے بارے میں سب کچھ جانتی ہے، اسکے ساتھ میں کیا خاک باتیں کروں گا۔ اور پھر ان لڑکیوں کے ساتھ گپ شپ تو میں ان دنوں میں بھی کرتا تھا جب مونیکا میرے ساتھ ہوتی تھی۔ میں ان کے ساتھ طرح طرح کی دلچسپ باتیں کرتا ہوں۔ اس طرح وقت بہت اچھا گزر جاتا ہے۔ اسکے آگے میری کوئی مراد نہیں ہوتی۔ نہ میں ان لڑکیوں کے ساتھ سونا چاہتا ہوں نہ ہی دیر تک بستر میں انکے برابر لیٹے رہنا چاہتا ہوں۔ مونیکا میری ان عادات سے اچھی طرح واقف ہے۔

اگر مجھے اسپانوی زبان آتی ہوتی تو میں ٹرین اسٹیشن کے باہر اخبار بیچنے والی لڑکی سے پوچھتا کہ اسکا تعلق کس ملک سے ہے۔ لیکن پھر میں اس سے یہ نہیں کہتا کہ حال ہی میں اسکے ملک کے کسی خوبصورت علاقے میں میری بہہن شفٹ ہو کر گئی ہے۔ بلکہ جو بات بھی کرتا اسکی بنیاد سچ پر ہوتی، یوں اس سے دوستی کا آغاز کرتا۔

نیویارک شہر کی کسی گمنام بار میں بیٹھے لڑکیوں کے ساتھ گپ مارتے مارتے میں اُکتا جاتا ہوں۔ ان لڑکیوں سے میری دوستی جلدی تو ہو جاتی ہے، لیکن انکے ساتھ ذیادہ وقت گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ کہانیاں گڑھ گڑھ کر سناتے سناتے میں خود بور ہو جاتا ہوں۔ اس شہر میں سچ کی بنیاد پر دوستیاں شاز و نادر ہوتی ہیں۔ اس لئے میں ان دوستیوں کو ایسے ہی کسی گمنام مے خانے میں چھوڑ جاتا ہوں۔ یہاں سے باہر مجھے ان کا خیال نہیں آتا۔

میں جب بار سے نکلتا ہوں تو الکوحل کا اثر مجھ پر اتنا ذیادہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ میں عادتاً ذیادہ نہیں پیتا۔ جب مونیکا میرے ساتھ ہوتی تھی تو وہ اکثر اپنے گھر کی راہ پر ہو لیتی تھی۔ اور میں اکیلا نیویارک کی اونچی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی عمارتوں کے درمیان بہت دیر تک ٹہلتا رہتا۔ اور تنہائی کا احساس عجیب طرح سے شکل بدل لیتا۔ مجھے لگتا کہ میں تنہا نہیں بلکہ یہ تمام پتھر اور سیمنٹ کی عمارتیں میری ہمراہ ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میں انسانوں سے باتیں کرتا ہوں، اور یہ آسمانوں سے۔ صبح ہوتے ہی طرح طرح کے انسان ان عمارتوں کے کمروں میں آ وارد ہوتے ہیں، اور دن بھر کے کاموں کے بعد شام کو انہیں خالی چھوڑ کر اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ میرے دن اور رات کی کہانی بھی کچھ ان جیسی ہے۔ فرق اتنا ہے کہ میرے دن کے مکین رات کو جاتے ہیں، اور رات کے مکین صبح سے پہلے چلے جاتے ہیں۔

اکثر رات کو سڑکوں پر آوارہ پھرتے پھرتے میں ان عمارتوں کے چند ایسے کمروں میں پہنچ جاتا ہوں جن کے بارے میں بہت کم لوگوں کو علم ہے۔ یہاں مئیر جولییانی (mayor juliani) کے ریاکارانہ اور غریب دشمن قوانین کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ جب میں کمرے میں داخل ہوتا ہوں تو مجھے بہت سی ایسی عورتیں نظر آتی ہیں جنہیں اس معاشرے نے صرف ایک کام کرنے پر مجبور کیا تھا، اور اب ان سے یہ پیشہ بھی چھینا جا رہا ہے۔

یہاں کی بھی کئی عورتوں سے اب میری دوستی ہو چلی ہے۔ یہ میرے ساتھ لیپ ڈانس (lap dance) کرتی ہیں۔ میں دیوار کے ساتھ لگی کسی کرسی پر بیٹھ جاتا ہوں۔ اور ایک عورت میری گود میں آ کر بیٹھتی ہے۔ دھیرے دھیرے وہ برہنہ ہوتی جاتی ہے۔ اور میں دیر تک اسکے جسم کے مختلف گوشوں سے لظف اندوز ہوتا رہتا ہوں، اور اس سے باتیں کرتا ہوں۔ لیکن یہ باتیں ان باتوں سے مختلف ہوتی ہیں جو میں بار میں لڑکیوں سے کرتا ہوں۔ ان سے میں سیاست پر باتیں کرتا ہوں، تاریخی واقعات، جنگوں یا کبھی کبھار کتابوں اور فلموں پر باتیں کرتا ہوں۔ مگر ان سے یہ دریافت نہیں کرتا کہ وہ یہ کام کیوں کرتی ہیں، یا کن واقعات نے انہیں اس کام پر مجبور کیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مجھے ان میں سے کوئی بھی ذیادہ تعلیم یافتہ یا انٹیلیکچول قسم کی نہیں لگتی، جسے پڑھنے لکھنے سے شغف ہو۔ لیکن اس کے باوجود وہ میری باتیں بڑی دلچسپی سے سنتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ انکے پیشے نے انھیں سکھایا ہے، انہیں ایک مرد کو وقتی طور پر راحت پہنچانے کے تمام گرُ آتے ہیں۔

لیکن اکثر، یہاں سے باہر نکلنے کے بعد مجھے اسی لڑکی کا خیال آجاتا ہے، وہی جو روز صبح ٹرین اسٹیشن کے باہر اخبار بیچتی ہے۔ اور میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ آخر وہ لڑکی مجھے بار بار اس طرح کیوں یاد آتی ہے۔ شاید اس لئے کہ میں اسکی زبان نہیں جانتا ہوں اس لئے اس سے باتیں نہیں کر سکتا ہوں۔ یا شاید اس لئے کہ صبح کے وقت سردی بہت ہوتی ہے اور مستقل باہر کھڑے ہونے کے لئے اسے اپنے جسم کو موٹے موٹے جیکٹوں یا اورکوٹوں میں چھپانا پڑتا ہے۔ اور مجھے صرف اسکی دلکش مسکراہٹ نظر آتی ہے جو تمام وقت میرے خیالوں پر چھائی رہتی ہے۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنی دلکش مسکراہٹ اور موٹے اورکوٹ کے پیچھے وہ ایک عام سی محنت کش لڑکی ہو۔ جسکے دو بچے ہوں اور اسکا شوہر صبح سات بجے سے رات گیارہ بجے تک نیویارک سٹی کے کسی رستوران کے کچن میں برتن صاف کرتا ہو۔ میری رنگت دیکھ کر اسے اپنے ہی ملک کا کوئی نوجوان یاد آتا ہو۔ اور شاید وہ اس لئے مسکرا دیتی ہو کہ مجھے اندازہ نہیں ہو پائے کہ ذندہ رہنے کے لئے اسے کتنی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ شاید اسکی یہ جدوجہد اسکے لباس اور مسکراہٹ دونوں میں عبارت ہو اور مجھ میں اسکی خاطر ایک گہرا احترام پیدا ہو جاتا ہو۔

ُُ’’․․․شاید․․․․․‘‘ میں سوچتے ہوئے مسکراتا ہوں۔

ورلڈ ٹروڈ سینٹر کے ٹاور جب گرے تھے تو وہ مجھے کئی دنوں تک نظر نہیں آئی تھی۔ اسکے بعد جب اسنے آنا شروع کیا تھا تو وہ کئی دنوں تک نہیں مسکرائی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ مرنے والوں میں اس کے جاننے والے ہوں جو کسی رستوران، نیوزاسٹینڈ یا کسی کافی شاپ میں کام کرتے ہوں․․․․․․ ۔


اس حادثے کے بعد جب حالات تھوڑے معمول پر آئے تھے، اور میں نے اپنی معمول کی جگہوں پر دوبارہ جانا شروع کیا تھا تو کئی دنوں تک میری اپنے دوستوں سے کسی اور موضوع پر بات نہیں ہوئی تھی۔ بار میں آنے والی لڑکیاں مجھے بتاتیں کہ وہ اس وقت کہاں تھیں اور ان پر کیا بیتی۔ اور وہ ان لوگوں کا ذکر کرتی تھیں جو اس واقعے کے بعد لاپتہ ہوگئے۔

لیپ ڈانس کے دوراں وہ عورتیں تھوڑی سرد ہوتی تھیں، میں انکے جسموں میں وہ لطافت نہیں پاتا تھا۔ پھر جب افغانستان میں جنگ شروع ہوئی تو ان کی یہ ہچکچاہٹ کم ہونے لگی جیسے کہ دوا نے ان پر اثر دکھانا شروع کر دیا ہو۔ ان کا یہ ردِعمل میں سمجھتا ہوں، وہ اپنے معاشرے اور تجربے کی اسیر ہیں۔


مونیکا سے میرا تعلق ختم ہو جائے تو چند دن کے بعد میں اسے بھول جاؤں گا۔ بار کی وہ لڑکیاں اگر مجھ سے بات کرنا چھوڑ دیں تو میں کسی اور بار میں دوستیاں کر لوں گا۔ کیونکہ یہ ہی اس معاشرے میں جینے کا اصول ہے۔

لیکن اگر اسٹیشن کے باہر اخبار بیچنے والی لڑکی نے آنا چھوڑ دیا تو میرے خیالات کے تسلسل میں ایک خلا پیدا ہو جائے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاوروں کے گرنے سے نیویارک شہر کے آسمان میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔ پھر اس خلا کو پر کرنے کے لئے شاید مجھے بھی کسی سے جنگ چھیڑنے کی ضرورت پڑ جائے ۔