پیر، 9 مارچ، 2015

لائینز ایریا میں ایک ٹائٹ رات

[۹۰ کی دہائی میں کراچی آپریشن کے پس منظر میں لکھا گیا افسانہ]


اس روز شام چھ بجے سے مورچہ بندیاں شروع ہوگئی تھیں۔ ابھی سورج غروب ہونے میں کوئی آدھا گھنٹہ باقی تھا۔ خبر گرم تھی کہ رات میں محاصرے اور تلاشی کے آڈر جاری کیے جاچکے ہیں۔ میں نمائش چوک کے قریب ایک زیر تعمیر عمارت کی چھت پر تھا۔ میری ۷ایم ایم کی رائفل کی نالی چھت کی منڈیر کے ایک سوراخ سے باہر جھانک رہی تھی اور سامنے کا تقریباً ایک میل تک کا علاقہ اس کی زد میں تھا۔

اس رات محاصرے اور گھر گھر تلاشی کو ہر حال میں روکنا تھا، اس بات کا شاید بہت کم لوگوں کو علم تھا کہ شہر میں پچھلے ماہ بھر کی وارداتوں کا مال آج علاقہ میں موجود تھا اور آج رات اس کے حصہ لگنے تھے۔ اس زیر تعمیر عمارت اور ساتھ کی اونچی چھتوں کے مکانات پر علاقے کے کئی اور لڑکوں نے مورچے سنبھالے ہوئے تھے۔ میرے خیال میں سب کے سب ہی اپنے تحفظ یا جوش و غصہ کی وجہ سے وہاں موجود تھے، شاید ان میں سے کسی کو بھی اس مال کے بارے میں علم نہیں تھا۔ کیا پتا کہ محاصرہ کیے جانے کی خبر صرف اس واسطے پھیلائی گئی تھی کہ آج کی رات تھوڑی ایکسٹرا چوکیداری ہوجائے اور تمام مال بحفاظت ٹھکانے لگ جائے۔ لیکن یہ محض میرا اندیشہ تھا مجھے اس زمانے میں اس بات پر یقین ہوگیا تھا کہ کسی بات پر مکمل یقین نہیں کرنا چاہیے۔

سورج غروب ہونے کے تھوڑی دیر بعد سامنے بندر روڈ پر مکمل سناٹا چھا چکاتھا۔ نمائش کی چورنگی کے اس پار پولیس چوکی کے ساتھ پیلی اسٹریٹ لائیٹ کے نیچے رینجرز کا ایک ٹرک کھڑا تھا اور ٹرک کے اوپر نصب مشین گن پر کھڑا سپاہی بھی کسی مشین کی طرح سرد اور سفاک نظر آرہا تھا۔ تھوڑی دیر بعد میرے اندر ایک بے چینی اٹھنے لگی۔ کیا پتا مال کا بٹوارا کس وقت شروع ہوجائے اور میں تقسیم کرنے والوں کا دفاع کرتا رہ جائوں۔

میں نے اِدھر اُدھر دیکھا۔ چھت پر کوئی اور نظر نہیں آیا میں خاموشی سے اپنی جگہ سے اٹھا اور زینے کی طرف بڑھنے لگا۔ ابھی زینے سے دو تین قدم ہی نیچے لیے ہوں گے کہ ایک سایہ اوپر کی طرف آتا ہوا نظر آیا۔ ہم دونوں ساکت ہوگئے، پھر یکایک اس نے اپنے دونوں ہاتھ سامنے کی طرف بلند کیے ان میں اس نے ایک مائوزر پکڑا ہوا تھا۔
’’رائفل گرا دے… نہیں تو بھیجا اڑا دوں گا…‘‘ وہ غرایا۔
باہر کی صورت حال، زینے کے اندھیرے، اس کے غرانے کے انداز اور کرتے کی سفید آستینوں نے کچھ ایسا ماحول بنا دیا کہ میں تھر تھر کانپ گیا۔ میری رائفل دھیرے سے زمین پر آرہی۔ اس نے ہاتھ سے مجھے پیچھے ہونے کا اشارہ کیا اور میں دو قدم الٹے لے کر واپس چھت پر آگیا۔

اوپر چھت پر آدھے چاند کی روشنی میں ہم دونوں ایک دوسرے کو ذرا ٹھیک سے دیکھ پائے۔ شکل اور حلیے سے وہ اپنا ہی آدمی معلوم ہورہا تھا میرا خوف کئی درجے کم ہوگیا۔ اس نے بھی چاروں طرف نظریں گھمائیں ’’یہاں چھت پر کوئی اور نہیں کیا؟‘‘ اس نے پوچھا۔ اب اس نے ایک ہاتھ مائوزر پر سے ہٹا لیا۔ پھر اس کی نال بھی آہستہ سے نیچے کی طرف آنے لگی۔
’’نہیں۔‘‘ میں نے نفی میں سر ہلایا۔ میری بھی اب کچھ جان میں جان آئی تھی اور میں نے اوپر کیے ہوئے ہاتھوں کو ڈھیلا چھوڑ دیا تھا۔
’’اگر اکیلے تھے تو مورچہ چھوڑ کر کیوں جارہے تھے۔‘‘ اس کے لہجے میں ابھی تک غراہٹ موجود تھی۔
’’ایک دو کو آواز دینے…‘‘ میرے اس جواب میں جان نہیں تھی لیکن اس نے کوئی تفتیش نہیں کی۔ ’’واپس جا کر بیٹھ جائو…‘‘ اس نے اس ہی کونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آرڈر دیا جہاں میں اس سے پہلے بیٹھا ہوا تھا۔ پھر وہ چھت کے دوسرے کونے کی طرف چلا گیا۔

میں نے واپس جا کر مورچہ سنبھال لیا اور کچھ دیر رائفل کی مکھی میں سے اپنی نظر کو رینجرز کے ٹرک کے مختلف حصوں پر اڑاتا رہا پھر اسے مشین گن پر کھڑے ہوئے سپاہی کی ناک پر بٹھا دیا۔ جس نے اسے اڑانے کی کوشش نہیں کی۔

تھوڑی دیر بعد میں نے پلٹ کر دیکھا تو اس شخص نے چھت کے دوسرے حصہ پر مورچہ بنایا ہوا تھا اور اس کی پیٹھ میری طرف تھی میں خاموشی سے اٹھا اور نیچے چلا گیا۔ نیچے جاتے ہوئے مجھے زینے پر کوئی شخص نہیں ملا۔ نہیں تو اس بار میں بھی اپنی رائفل بلند کرنے پر تیار تھا۔

گلیاں سنسان پڑیں تھیں۔ لڑکوں نے زیادہ تر گھروں کی چھتوں پر پوزیشنیں سنبھالی ہوئی تھیں۔ ایسے میں سنسان گلیوں سے گزرنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ میرے قدم سرعت کے ساتھ چاچا کے مکان کی طرف اٹھ رہے تھے۔ مجھے معلوم تھا کہ مال کا بٹوارہ وہاں نہیں ہوگا۔ لیکن اصل جگہ کا سراغ لگانے کے لیے وہاں جانا ضروری تھا۔

حسب معمول ان کے گھر کے دروازے کا ایک پٹ کھلا اور دوسرا بند تھا۔ اندر صحن میں کسی کی ویسپا کھڑی تھی۔ برآمدے میں ایک میز اور چند کرسیاں پڑیں ہوئیں تھیں۔ میز پر ایک کلاشن اور ٹی ٹی رکھی تھی اور ساتھ ہی راشد پدّا اور قادر کانٹا اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے صحن میں کھڑی ویسپا کے اوپر خلا میں تک رہے تھے۔ پدّے کے ہاتھ میں سگریٹ تھی جس کو جلا کر شاید وہ بھول چکا تھا۔
میں نے برآمدے میں جا کر پدّے کے ہاتھ سے سگریٹ مانگی۔ ’’پی رہا ہوں…‘‘ اس نے اپنے ہاتھ کو روک کر اعتراضاً مجھ سے کہا مگر پھر کچھ سوچتے ہوئے سگریٹ بڑھا دی۔ میں نے ایک کش لے کر اندر کمرے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔ ’’کہاں ہیں؟…‘‘
دونوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پدے نے گردن سے باہر کے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ جس کا شاید مطلب تھا… ابھی باہر گئے ہیں آتے ہی ہوں گے۔ میں نے اپنی رائفل برآمدے کے ایک پلر کے ساتھ کھڑی کردی اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
تھوڑی دیر میں قادر نے پوچھا ’’اور پیٹر سے مل لیے؟…‘‘ ۔
’’پیٹر کون؟…‘‘ میں نے پوچھا۔

لیکن ایکدم ان دونوں کی توجہ دروازے کی طرف مبذول ہو گئی۔ باہر سے کسی نے دروازے کا دوسرا پٹ بھی کھولا اور چاچا اندر داخل ہوئے اور ان کے پیچھے کوئی نوجوان بھی تھا۔ چاچا نے حسب معمول سفید ململ کا کرتا اور پاجامہ پہنا ہوا تھا۔ کرتے کے نیچے ان کی بنیان بھی نظر آرہی تھی جس کے سوراخ بھی ہمیشہ کی طرح کافی نمایاں تھے۔
ہم سب بنیان کے سوراخوں کو دیکھتے ہوئے شاید تعظیماً کھڑے ہوگئے۔ لیکن برآمدے میں آکر انھوں نے ہمیںبیٹھنے کو کہا۔ ان کے ساتھ جو نوجوان تھا، اس کو اب میں نے پہچانا اور ایک لمحے کے لیے دم بخود رہ گیا۔ یہ وہی تھا جس نے کچھ دیر پہلے مجھ پر مائوزر تانا تھا۔

سب کے ساتھ میں نے بھی اس سے ہاتھ ملایا اور پھر خاموش ہو کر سوچنے لگا کہ کیا پتا یہ مجھے پہچان پائے گا یا نہیں۔ پھر چاچا نے متعارف کرایا۔ ’’اس سے ملو… ا س کا نام پیٹر ہے…‘‘۔

نام سن کر میں چونکا، اور پھر میرے منھ سے سلام کی جگہ ’’ہیلو‘‘ نکل گیا۔ ’’وعلیکم ہیلو‘‘ اس نے نہیں کہا، خاموشی سے اس نے مجھے گھورا۔ ’’تو ڈیوٹی چھوڑ کر پھر بھاگ آیا۔۔۔۔‘‘۔ اب اس نے غرانا شروع کیا۔

لیکن یہاں صورت حال مختلف تھی۔ میرے چہرے پر اس طرح کی مسکراہٹ پھیل گئی جس میں بالکل بھی گہرائی نہیں ہوتی۔ میں ہنسا۔ ’’میں ایک پیٹر ۔۔۔۔اوہ!۔۔۔۔۔ ٹامی کتے کو رکھوالی کے لئے چھوڑ کر آیا ہوں۔‘‘

پیچھے میں نے راشد اور قادر کو مسکراتے ہوئے دیکھا۔ لیکن چاچا کا چہرا بالکل نہیں بدلا۔ ’’اندر آجائو…‘‘ انھوں نے کہا اور وہ اندر کمرے میں چلے گئے۔ ہم سب ان کے پیچھے آئے۔ اس کے بعد اس عمارت کی چھت والے واقعہ کی طرف پیٹر نے اشارہ نہیں کیا۔

اندر جا کر چاچا اپنے مخصوص صوفے پر بیٹھ گئے جس کے لکڑی کے ہتھوں پر لال مخمل کے کور چڑھے ہوئے تھے ، مخمل کے کپڑے پر اپنی انگلیاں آہستہ آہستہ پھیرتے ہوئے کہنے لگے ’’اچھا تو پھر آج حساب کتاب یہاں ہی کرلیتے ہیں۔‘‘ انھوں نے کہا۔ پھر مجھ سے مخاطب ہوئے۔ ’’واجد تمھارے ساتھ چار لڑکے ہیں؟‘‘ انھوں نے پوچھا۔
’’تین…‘‘ میں نے جواب دیا۔
اس پر وہ آہستہ سے مسکرائے۔ ’’موسیٰ کو نہیں…‘‘
میں نے نفی میں گردن ہلائی۔ پھر وہ خاموش ہوگئے۔ ’’پیٹر تمھارے…‘‘ انھوں نے اس سے مخاطب ہو کر کہا۔ پیٹر مسکرا دیا۔ انھوں نے خفیف سا سر کو جھٹکا دیا جیسے کہ خود ہی سمجھ گئے ہوں۔

پھر وہ خاموش ہو کر رک گئے۔ آج چاچا کے انداز میں ایک خاص مصنوعی بات تھی جو عام طور پر نہیں ہوتی تھی۔ اب انھوں نے ایک بہت ہموار آواز میں بولنا شروع کیا۔ ’’ایک بات شاید تم سب کو نہیں معلوم… مال کا بٹوارا کرنے کے لیے پالیسی بدل دی گئی ہے… اب بٹوارا اس طرح سے نہیں ہوگا جیسے ہوتا تھا…‘‘

ہم سب خاموش رہے۔
’’تمام سامان میں سے ایک رقم مقرر کردی گئی ہے جو کہ بانٹی جائے گی‘‘
’’کتنی ہے؟…‘‘ میرے منھ سے آپ ہی آپ آہستہ سے نکلا۔
’’پانچ لاکھ…‘‘ بالکل ہموار آواز میں جواب ملا۔
میں چپ ہوگیا اور کوشش کرکہ اپنے جذبات کے تمام آثار چہرے سے ہٹانے لگا۔ سامنے صوفے پر پیٹر خاموش بیٹھا تھا۔
چاچا لمحے بھر کے لیے خاموش ہوئے اور ایک تیز نگاہ ہم سب پر ڈالی جیسے کہ ہمارے ارادے بھانپنے کی کوشش کررہے ہوں۔ ’’کوئی سوال تو نہیں؟…‘‘ انھوں نے پوچھا۔
پیٹر پھر مسکرا رہا تھا۔

راشد کا منھ کھلا کا کھلا تھا۔ ’’تو کیا سب میں سے صرف پانچ لاکھ بٹیں گے؟‘‘
’’نہیں… پانچ صرف تم لوگوں کے لیے ہیں…‘‘ چاچا نے جواب دیا۔
’’تو کل کتنے بٹ رہے ہیں؟‘‘ راشد نے پوچھا۔
’’یہ میں نہیں بتا سکتا… اور یہ بھی سن لو اس پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی… یہ فیصلہ اٹل ہے… کمیٹی نے ڈیسائیڈ کیا ہے… اور میرے ہاتھ میں نہیں ہے ‘‘۔
’’لیکن کمیٹی نے ہمارے سامنے تو ڈیسائیڈ نہیں کیا…‘‘۔ پیٹر کے چہرے پر مسکراہٹ ابھی تک قائم تھی۔
چاچا نے کوئی جواب نہیں دیا۔
سب خاموش تھے۔ راشد نے بھی اپنے سوال روک دیے اور جیسے ہم سب ہی کسی واقعے کا انتظار کررہے ہوں۔ پیٹر ہنسنے لگا۔
’’تو پھر کچھ دنوں میں ایک ایک کلاشنکوف دو گے اور تین ہزار میں نوکری…‘‘ وہ اور زور سے ہنسا۔
ہم میں سے کوئی بھی اتنی ہمت نہیں کرسکتا تھا۔ چاچا نے اسے گھور کر دیکھا۔ پیٹر مسکرا رہا تھا اور اس کی مسکراہٹ میں بالکل بھی مصنوعی پن نہیں تھا۔ پھر کچھ دیر یوں ہی گزر گئی ۔

پھرچاچا صوفے پر بیٹھے بیٹھے کچھ ہلے۔ جیسا کہ وہ ہمیشہ ہلتے تھے۔ اور انھوں نے اپنا انداز کچھ نرم کردیا۔

’’تو پھر کس طرح ۔ــ‘‘ وہ اب اپنے معمول کے انداز کی طرف آتے جارہے تھے۔ ’’…یار مجھے خود بھی نہیں معلوم کہ صرف رقم کس طرح تقسیم کروں… اچھا تو پھر ایسا کرو تم لوگ خود بتائو۔‘‘ انھوں نے مذاق کیا۔

ہم سب خاموش رہے۔
’’اچھا رکو…‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ اٹھے اور اندر کی طرف گئے۔ جب واپس آئے تو ان کے ہاتھ میں ایک بڑا سا لفافہ تھا جس کا منھ کھلا ہوا تھا اور یوں لگتا تھا کہ جیسے اس کے اندر کچھ چھوٹے چھوٹے بنڈل پڑے ہوئے ہیں۔

اپنے صوفے پر بیٹھتے ہوئے انھوں نے کہا۔ ’’چلو بھئی ابھی کرے دیتے ہیں حساب کتاب۔‘‘ اور لفافے میں ہاتھ ڈال کر ایک اور بھورے رنگ کا لفافا نکالا جس میں شاید نوٹ تھے اور راشد اور قادر کی طرف اچھال دیا۔ لگتا تھا کہ چاچا پہلے سے اپنا حساب کتاب کرکے بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے بعد اس طرح انھوں نے ایک گڈّی مجھے دے دی اور ایک پیٹر کو۔ لیکن اس کے باوجود لفافے میں کچھ بچ گیا۔ انھوں نے لفافے کے منھ کو سیدھا کرکہ پلٹ دیا اور اس بنڈل کو صوفے کے ہتھے پر اپنے ہاتھ کے نیچے رکھ لیا۔

لگ رہا تھا کہ ابھی جتنا مال انھوں نے ہمیں بانٹا ہے شاید اس سے زیادہ لفافے میں بچا ہوا ہے۔ ہم سب کی نظریں اس پر تھیں۔
پھر مجھے آواز آئی کہ جیسے کسی نے پستول لوڈ کیا ہو اور میں نے دیکھا کہ پیٹر کے ہاتھ میں اس کا مائوزر تھا۔ اس کی نال چاچا کی کھوپڑی کی طرف تھی۔ چاچا کچھ کہتے کہتے رک گئے۔ ہم تینوں کو سانپ سونگھ گیا۔

پیٹر بڑے اسٹائل میں بولا ’’میاں یہ تین ہزار والی نوکری ان لڑکوں سے کرواناجو ابھی پہرہ دے رہے ہیں… ہم کو کیا سمجھ بیٹھے ہو؟…‘‘

ابھی چاچا کوئی جواب ہی دینے والا تھا کہ پیٹر زور سے گرجا۔ ’’خبردار جو مجھے جواب دینے کی کوشش کی…‘‘ اور وہ کھڑا ہوگیا۔ یکایک وہ بے انتہا غصے میں آچکا تھا۔

’’چلو آگے… دیوارکے ساتھ…‘‘ اس نے قادر اور راشد کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’’چلو!…‘‘ وہ چیخا۔
قادر اور راشد لڑ کھڑاتے ہوئے اٹھے۔ ان کے دونوں ہاتھ خود بخود ہی بلند ہوگئے تھے اور آہستہ آہستہ دیوار کی طرف بڑھے۔ میں اپنے واسطے حکم کا منتظر تھا۔

’’اس کا لفافہ اٹھا کر مجھے دو…‘‘ وہ اب مجھ سے بولا۔ میں نے چاچا کے ہاتھ کے نیچے سے وہ لفافا نکال کر اس کی طرف بڑھایا۔ راشد اور قادر دیوار کی طرف پیٹھ کیے دونوں ہاتھ ہوا میں اٹھائے کھڑے تھے۔ اس کو لفافہ پکڑاتے ہوئے میرا خوف قدرے کم ہوگیا۔ اس کا انداز میری طرف اتنا کڑوا نہیں تھا۔ ’’اپنا منھ دیوار کی طرف کرو…‘‘ وہ ان دونوں سے بولا…‘‘ اور مرغا بن جائو…‘‘

چاچا ابھی تک اپنے صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ’’ان کو باندھنے کا بندوبست کرو۔‘‘ وہ مجھ سے بولا۔ میں نے کسی رسی یا ڈوری کے لیے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں۔

’’مُرغا بنو…‘‘ وہ قادر اور راشد پر چیخا۔

اس وقت مجھے اس بات پر حیرت تھی کہ پیٹر نے مجھ پر کیسے بھروسا کرلیا تھا۔

میں ڈوری یا رسی ڈھونڈنے کے لیے باہر صحن میں چلا گیا۔ اب مجھے اس بات کا اندازہ ہورہا تھا کہ اگر اس وقت باہر سے کوئی لڑکا اچانک کسی کام سے آگیا تو بازی منٹوں میں پلٹ جائے گی۔ دل ہی دل میں میں پیٹر کی ہمت کی داد بھی دے رہا تھا۔ ہمت یا حماقت ان دونوں میں فرق مجھے اس وقت نہیں محسوس ہورہا تھا۔

برآمدے میں میری رائفل ابھی تک پلر سے ٹکی ہوئی کھڑی تھی۔ میں نے سب سے پہلے اسے اٹھایا۔ قریب ہی رکھے ہوئے ایک بکسے میں نائیلون کی ڈوری مل گئی۔ اندر جا کر میں نے جلدی جلدی ارشد اور قادر کو زمین پر اوندھا لٹا کر ان کے ہاتھ پائوں باندھے۔ چاچا اس وقت تک اپنے صوفے پر دونوں ہاتھ اوپر کیے ہوئے بیٹھے تھے۔ ان کے چہرے سے اس وقت کوئی تاثر عیاں نہیں ہورہا تھا۔

پیٹر نے اپنی جیب سے نکال کر مجھے ایک چابی دی اور کہا کہ ’’ویسپا کو باہر گلی میں نکالو۔ میں نے باہر نکلتے ہوئے برآمدے سے قادر کی کلاشن بھی اٹھا لی۔

باہر نکل کر میں نے ویسپا کو اسٹارٹ کیا اور پیٹر کا انتظار کرنے لگا۔ ابھی چند سیکنڈ ہی گزرے ہوں گے کہ مجھے اندر کمرے سے ایک زور دار فائر کی آواز آئی۔ میں بری طرح چونک گیا۔ کچھ دیر بعد پیٹر باہر آ کے دروازے کی کنڈی لگا کر آرہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا۔ ’’کیا ہوا؟…‘‘ ’’کچھ نہیں…‘‘ اس نے جواب دیا۔ وہ ویسپا کی پیچھے والی سیٹ پر آکر بیٹھ گیا اور اس نے کہا۔ ’’چلو…‘‘
قادر کی کلاشن پیٹر نے اٹھائی ہوئی تھی۔ میں نے اپنی 7mm کی رائفل ویسپا کی آگے والی جالی میں اڑائی ہوئی تھی۔ گلی کے نکڑ پر پہنچ کر میں نے اس سے پوچھا۔ ’’ہم کہاں جارہے ہیں…‘‘

اس نے دائیں طرف اشارہ کردیا۔ اس وقت وہ قدرے سکون میں لگ رہا تھا۔حالاںکہ میری سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے۔ سب سے بڑا خطرہ مجھے اس بات کا تھا کہ اگر کسی کو اب بھی خبر ہوگئی تو ہم لائنز ایریا سے زندہ نہیں نکل سکتے تھے۔ اور پھر وہ کمرے میں فائر کیوں ہوا تھا۔ کوئی مرا تھا یا محض ڈرانے کے لیے پیٹر نے کیا تھا۔ویسے ایک بات یقینی تھی کہ اگر چاچا زندہ رہ گئے تو یا تو ہم دونوں کو شہر چھوڑنا پڑے گا یا بھیس بدل کر کوئی شرافت کی نوکری کرنی پڑ جائے گی۔ پیٹر سے پوچھنا تو بے کار تھا کیوںکہ وہ کچھ نہیں بتاتا اور میں اس کو اتنا جانتا بھی نہیں تھا۔ وہ تو نجانے کیوں اس نے مجھے اپنے ساتھ ملا لیا تھا نہیں تو میں بھی اس کمرے میں بندھا پڑا ہوتا۔

پیٹر کے اشاروں پر میں اسکوٹر کو دائیں بائیں گلیوں میں موڑتا رہا۔ لائنز ایریا سے میں اچھا خاصا واقف تھا۔ لیکن لگتا تھا کہ پیٹر نے کسی شکاری کتے کی طرح ان راستوں کو سونگھا ہوا تھا۔ اس نے مجھے ایسی ایسی گلیوں سے نکلوایا جن کے بارے میں گمان بھی نہیں کرسکتا تھا کہ ان کا آخری سرا کہاں پہنچتا ہے۔ ہم لوگ آہستہ آہستہ گورا قبرستان والے سرے کی طرف بڑھ رہے تھے۔

اب لگتا تھا کہ علاقہ میں ٹینشن تھوڑا کم ہوگیا ہے کچھ لڑکے چھتوں سے نیچے اتر آئے تھے اور گلی کے کونوں پر کھڑے تھے اور آپس میں باتیں یا مذاق کررہے تھے۔اور ابھی تک انھوں نے اسلحہ اٹھایا ہوا تھا اور ایسے میں ویسپا کی اگلی جالی میں سیون ایم ایم کی رائفل اڑس کر گزرنا خاصا معمول پر تھا۔ اس واسطے اب میں نسبتاً سکون سے اسکوٹر چلا رہا تھا۔

مین روڈ سے چند گلیاں پہلے اس نے اسکوٹر کو ایک ۸۰ گز کے خالی پلاٹ کے سامنے رکوایا جس کے برابر ایک چار منزلہ عمارت کھڑی تھی۔ اس عمارت کے پچھلے حصہ سے ایک دروازہ اس پلاٹ میں کھلتا تھا۔ یہ دروازہ دو سیڑھیاں اوپر چڑھ کر تھا اور ان کے بیچ میں موٹر سائیکل یا اسکوٹر وغیرہ چڑھانے کے لیے ایک چڑھائی بنی ہوئی تھی۔ اس نے چڑھ کر چابی سے وہ دروازہ کھولا۔ اس کے بعد مجھے اشارہ کیا کہ میں اسکوٹر اوپر چڑھا لوں اور ایک طرف ہٹ کر کھڑا ہوگیا، اسکوٹر اوپر چڑھانے میں اس نے میری کوئی مدد نہیں کی۔

میرے اوپر آجانے کے بعد اس نے پیچھے سے دروازہ بند کیا۔ دروازے کے برابر سے ایک تاریک زینہ اوپر کی طرف چڑھتا تھا۔ زینے پر قدم رکھتے ہوئے مجھے پیچھے آنے کو کہا۔ وہ زینہ خاصا تنگ اور تاریک تھا اور اس پر چڑھنا کافی مشکل۔ شاید دوسری یا تیسری منزل پر ایک بند و تاریک دروازے کے سامنے وہ رک گیا اور اس پر آہستہ سے دستک دی۔ کچھ دیر تک کوئی جواب نہیں آیا۔ اس نے پھر سے ذرا زور سے دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے کسی عورت کی دبی دبی سی آواز آئی جیسے کہ نیند جاگی ہو۔ یہ سن کر پیٹر نے پھر دروازہ پیٹا۔

’’کون…‘‘ اس بار آواز اونچی تھی، لیکن لگتا تھا کہ اپنے خوف کو چھپانے کے لیے ذرا زور سے بولی ہو۔ پیٹر خاموش رہا۔ تھوڑی دیر میں اندر کے کمرے میں بتّی روشن ہوئی۔ ’’کون ہے…‘‘ اس بار اس عورت نے ذرا پختہ لہجے میں پوچھا۔

’’دروازہ کھولو…‘‘ پیٹر نے آہستہ سے جواب دیا۔

اب اندر سے چٹخنی کی آواز آئی اور کسی نے دروازے میں سے باہر جھانکا اور پھر پیٹر کو سامنے کھڑا دیکھ کر دروازے کا پورا پٹ کھول دیا۔ پیٹر اندر داخل ہوا اور مجھے اندر آنے کا اشارہ کیا۔ لگتا تھا کہ وہ عورت گہری نیند سے اٹھ کر ابھی آئی ہے۔ بال کھلے ہوئے شانوں پر بکھرے تھے اور شاید گرمی کی وجہ سے اس نے کھلے گلے کا جمپر پہنا ہوا تھا۔ پیٹر کے پیچھے اس نے شاید مجھے نہیں دیکھا تھا۔ مجھے دیکھ کر وہ ذرا چونکی اور اپنے کھلے گلے کو محسوس کرتے ہوئے اس کے چہرے سے ایک بے چینی کی جھلک گزری۔ پھر وہ دو قدم پیچھے ہٹی اور اندر کمرے میں چلی گئی۔ باہر آئی تو اس نے اپنا سر اور بدن ایک چادر میں ڈھانپا ہوا تھا۔

اس کی نظر مجھ پر دوبارہ پڑی اور وہ پیٹر سے کچھ کہتے کہتے رہ گئی۔

پیٹر نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ ’’یہ میرا دوست ہے…‘‘ اور پھر وہ رکا۔
’’واجد…‘‘ میں نے خود اپنا نام بتا دیا۔ کیوںکہ مجھے یقین نہیں تھا کہ اسے میرا نام بھی معلوم تھا یا نہیں۔
’’ہم لوگ ایک ایسی صورت حال میں پھنس گئے کہ ادھر ہی آنا پڑا… تمھاری چابی کام آگئی۔ وہ بات کرنے میں تھوڑا ہچکچا رہا تھا۔ ’’مجھے معلوم ہے تمھاری صورت حال… لیکن اصل میں…‘‘

پھر وہ مجھ سے مخاطب ہوا۔ ’’یہ… یہ یاسمین ہیں… یہ میری… ایک جاننے والی ہیں۔‘‘ اور اب وہ یاسمین کی طرف پلٹا۔
’’ اچھا یہ بتائو… اگر صبح تک ہم رک جائیں تو کوئی پرابلم تو نہیں ہوگی…‘‘
میں پیٹر کی ہچکچاہٹ پر حیران تھا۔

یاسمین نے آہستہ سے سر ہلایا۔ اس کی شروع کی پریشانی اب کچھ قابو میں آئی جارہی تھی۔ ’’ایک منٹ رکو…‘‘ اس نے کہا۔ اور مڑ کر اپنے کمرے کے دروازے کے برابر ایک بند دروازہ کھولنے لگی۔ اندر ایک چھوٹا سا ڈرانگ روم تھا۔ بیچ میں ایک لکڑی کی میز، ایک طرف ایک بڑا صوفا اور میز کے اس طرف دو چھوٹے صوفے رکھے تھے جن کے ہتھے لکڑی کے تھے۔ سامنے کی طرف ایک دروازہ اور کھڑکی تھی جو لگتا تھا کہ کسی بالکنی میں کھلتے ہوں گے۔ کھڑکی کے آگے میز پر ایک ٹی وی رکھا ہوا تھا۔

’’… بیٹھو…‘‘ اس نے کہا۔ اس کے لہجے میں روانی آتی جارہی تھی۔ میں اندر جا کر ایک چھوٹے صوفے پر بیٹھ گیا اور پیٹر سامنے والے لمبے صوفے پر۔ یاسمین باورچی خانے میں چلی گئی، جو کہ برابر میں تھا۔ کچھ دیر پیٹر خاموش رہا۔ اس کے بعد وہ اٹھ کر بالکنی والا دروازہ کھول کر باہر کی طرف چلا گیا۔

اب میں کمرے میں اکیلا بیٹھا ہوا تھا۔ ایک لمحے کے لیے آج کے تمام واقعات میری آنکھوں کے سامنے سے گزرنے لگے۔ کہاں میں شام کو اس بلڈنگ کی چھت پر مورچہ سنبھالے بیٹھا تھا۔ تھوڑی دیر بعد مال کے بٹوارے کا حصہ ملنے والا تھا، کہاں اب نجانے کس کے فلیٹ کے ڈرائنگ روم میں تھا، اور اس بارے میں بالکل علم نہیں رکھتا تھا کہ صبح تک میرا کیا حشر ہوجائے لیکن ایک بات کے بارے میں تو مجھے یقین تھا… وہ یہ کہ اب چاچا ہمارا جینا مشکل کردے گا۔

تھوڑی دیر بعد پیٹر کمرے میں آیا۔ اس کے چہرے پر تھوڑی بے چینی تھی۔ ’’ابھی تک بہت خاموشی ہے…کچھ ہوا نہیں۔۔‘‘ اس نے کھڑے رہ کر مجھ سے کہا۔ پھر وہ دوبارہ بالکنی میں جھانکنے لگا۔

تھوڑی دیر بعد یاسمین کمرے میں داخل ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک ٹرے تھی، جو اس نے لا کر میز پر رکھ دی۔ اس میں ایک پلیٹ میں کچھ نمکین بسکٹ تھے اور دوسری میں چیوڑہ۔ اس نے پیٹر سے پوچھا۔ ’’کیا کھانا کھالیا ہے تم لوگوں نے…‘‘

میں دل ہی دل میں اس کی مہمان نوازی پر بہت ممنون ہوا۔ آج کی تمام گرما گرمی میں مجھے بالکل یاد نہیں رہا تھا کہ میں نے کھانا کب کھایا تھا۔
’’کچھ ہے تو لے آئو نہیں تو اس سے کام چلا لیں گے…‘‘ پیٹر بولا۔ پھر وہ کچھ رکا۔ ’’اچھا اور وہ چیزیں ہیں؟…‘‘

اس نے سر کو ہلکے سے جھٹکا دیا اور واپس چلی گئی۔ ایک منٹ کچھ سوچنے کے بعد پیٹر بھی اس کے پیچھے چلا گیا۔ کچھ دیر تک ان کی آپس میں بات کرنے کی آواز آتی رہی۔ اس کے بعد پیٹر نے آکر مجھ سے پوچھا ’’سفید… یا رنگین؟‘‘

’’کیا…‘‘ میرے منھ سے آپ ہی آپ نکلا۔
’’سفید پیتے ہو… یا رنگین؟‘‘
’’اوہ… کوئی بھی۔‘‘ اس وقت شراب شاید آخری چیز تھی جس کی طرف میرا دھیان جاتا۔ میں نے سوچا۔
کچھ کہے بغیر وہ چلا گیا۔ جب واپس آیا تو اس کے ہاتھوں میں ایک لنڈن جن اور ٹھنڈے پانی کی بوتلیں تھیں۔ ’’برف؟‘‘ اس نے مجھ سے پوچھا۔
’’نہیں، ٹھیک ہے…‘‘ میں نے اپنے طور پر کچھ تکلف کرتے ہوئے کہا۔ وہ پھر چلا گیا۔ اب کے واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں دو گلاس تھے۔
’’برف ویسے تھی بھی نہیں۔‘‘ اس نے بیٹھتے ہوئے مسکرا کر کہا… اور یہاں پر صرف سفید مال ہی تھا…‘‘
میں جواب میں تھوڑا مسکرایا۔ کیا شخص ہے یہ بھی، میں نے اپنے دل میں سوچا۔

’’بوتل دیکھنا…‘‘ یہ کہہ کر اس نے جن کی بوتل اٹھائی اور میرے قریب رکھے ہوئے گلاس میں آہستہ آہستہ انڈیلنے لگا… اور رکا نہیں… ’’بس بس…‘‘ میں نے جیسے کہ نیند میں سے جاگ کر کہا جب وہ میرا گلاس تقریباً آدھا بھر چکا تھا۔

’’پانی؟…‘‘ اس نے پوچھا۔
میں نے مسکر ا کر گھبراتے ہوئے گردن ہلائی۔ اس نے میرا گلاس پانی سے بھر دیا۔ اس کے بعد اس نے اپنا گلاس بھی تقریباً آدھا جن سے بھر دیا اور پھر گلاس ہاتھ میں اوپر اٹھاتے ہوئے کہا ’’السلام علیکم…‘‘ اور پھر وہ رک گیا جیسے کہ میرا انتظار کررہا ہو۔

مجھے ایک لمحے کے بعد سمجھ میں آیا کہ اس کا کیا مطلب تھا۔ مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ یہ شخص واقعی مسلمان نہیں ہے۔ حالاںکہ میں شراب پیتا تھا لیکن مجھے لگا کہ اس نے میرے مذہب کا مذاق اڑایا ہے۔ لیکن وہ مذہبی بحث کا وقت نہیں تھا۔ میں نے اپنے گلاس کو آہستہ سے اٹھایا۔ گردن کو خفیف سا جھٹکا دیا اور پہلا گھونٹ لے لیا۔ اس نے ایک لمبے گھونٹ میں اپنا گلاس تقریباً آدھا کردیا۔ کچھ دیر رکنے کے بعد میں نے اس سے پوچھا۔ ’’تمھارا تعلق کہاں سے ہے؟‘‘

مجھے دیکھ کر وہ مسکرایا اور اس نے ایک چھوٹا گھونٹ لیا۔ ’’یہیں کہیں، اسی کسی گلی کوچے، شہر سے‘‘۔ میری طرف دیکھ کر اس نے جواب دیا اور پھر منھ پھیر کر باہر گیلری کی طرف دیکھنے لگا۔ ایک لمحے بعد وہ پلٹا اور پورا گلاس غڑپ کرگیا۔ مجھے لگا کہ اس کو شاید میرا یہ سوال پسند نہیں آیا تھا۔ پھر اس نے جن کی بوتل دوبارہ اٹھائی اور اپنا گلاس بھرا۔ پھر میرے گلاس کی طرف بوتل کا رخ کرکہ پوچھا…’’ اور نکال دوں…؟‘‘

میں نے اپنے گلاس سے اس وقت تک صرف ایک گھونٹ پیا تھا۔ وہ تقریباً بھرا ہوا ہی تھا۔ میں مسکرایا اور ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا۔ لگ رہا تھا کہ اسے ابھی سے چڑھنے لگی ہے۔

پھر جیسے کہ ایک دم سے خیال آیا ہو۔ وہ اٹھ کر باورچی خانے کی طرف چلا گیا۔ جب واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک گلاس تھا جس میں برف تھی۔ اس گلاس کو میز پر رکھ کر اس نے پھر اپنا گلاس اٹھا لیا اور مجھے اشارے سے کہا ’’پیو…‘‘

مجھے خیال آیا کہ تھوڑی دیر پہلے تو اس نے مجھ سے کہا تھا کہ برف نہیں ہے۔ اب یہ برف کہاں سے آگئی؟ لیکن اس بات کو میں نے نظر انداز کردیا۔

۔تھوڑی دیر ہم دونوں خاموش بیٹھے رہے پھر وہ بولا۔ ’’تمھیں کتنا حصہ چاہیے…‘‘
’’کیا…؟‘‘ مجھے اس کا سوال سمجھ میں نہیں آیا۔
لیکن ایک لمحے بعد مجھے خیال آیا کہ اس کا اشارہ آج کے مال کی طرف ہے۔ میں خاموش ہو کر سوچ میں پڑ گیا۔
اس نے زیادہ انتظار نہیں کیا۔ مذاق کے انداز میں اس نے پوچھا ’’کیا کچھ نہیں چاہیے…؟‘‘ ۔
’’تمھارے حصے میں کتنے پیسے تھے‘‘ پھر اس نے آہستہ سے سوال کیا۔
مجھے خیال آیا کہ ابھی تک اپنے مال کو گننے کی طرف میرا دھیان نہیں گیا تھا اور یہ بات شاید میری شکل سے بھی عیاں ہوگئی۔
’’باہر جا کر گن لو…‘‘ میں اس کی بات مانتا ہوا اٹھ کر باہر چلا گیا اور لفافے میں سے پیسے نکال کر انھیں گننے لگا۔ ساتھ ہی مجھے اس بات پر حیرت بھی تھی کہ اس نے کس طرح مجھ پر بھروسا کرکہ مجھے باہر جانے کو کہہ دیا۔

جب میں واپس آیا تو خاصا مایوس تھا۔ صوفے پر بیٹھنے کے بعد میں نے اسے جواب دیا ’’ستر…‘‘ مجھے خود یقین نہیں آرہا تھا کہ چاچا نے اتنے کم پیسے دیے تھے۔ ’’مجھے سوا تین ملے…‘‘ اس نے خاموش لہجے میں جواب دیا۔

مجھ میں اس وقت اتنی ہمت نہیں تھی کہ اس سے پوچھوں کہ یہ تمام پیسے وہ تھے جو اسے ملے تھے یا اس نے چاچا سے چھینے تھے یا یہ کہ اس نے قادر اور راشد کا مال بھی کھینچا تھا۔ ’’سوا میں تم کو دے دوں گا…‘‘ اس نے اتنے ہی خاموش لہجے میں کہا۔

ہم دونوں کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے۔ پھر یاسمین کمرے میں آگئی اور پیٹر سے کچھ دور لمبے صوفے پر بیٹھ گئی۔ برف والا گلاس اس کے تقریباً سامنے رکھا ہوا تھا۔ پیٹر نے اس میں جن انڈیلنا شروع کی اور ابھی تھوڑی ہی ڈالی ہوگی کہ یاسمین نے ہاتھ سے اشارہ کیا ’’…بس بس…‘‘

اب ہم تینوں کچھ دیر خاموش بیٹھے رہے۔ یاسمین نے اپنے گلاس سے ہلکی سی چسکی لی۔ اس کی آنکھیں ابھی تک بوجھل اور تھکی ہوئی تھیں۔
مجھے یہ صورت حال بہت عجیب لگ رہی تھی۔ اس بات سے میں ضرور خوش تھا کہ مجھے سوا لاکھ اور مل جائیں گے۔ لیکن آپ ہی آپ اس شخص نے کس طرح مجھے پیسے دینے کا اظہار کردیا؟ اور پھر یہ عورت کون تھی جو کہ رات گئے بن بلائے نوواردوں کے ساتھ بیٹھ کر شراب پی رہی تھی۔
کچھ دیر میں اس نے پیٹر سے کہا۔ ’’آج دن میں محلے سے حلیم آیا تھا… ابھی گرم ہورہا ہے…‘‘
’’حلیم؟… واہ‘‘ میں نے دل میں سوچا۔ پیٹر نے کوئی جواب دیا۔
’’وہیں جارہی ہو اب بھی… طارق روڈ پر جو بیوٹی سینٹر تھا…‘‘
’’ہاں…‘‘ یاسمین نے خفیف سا سر ہلایا۔
’’کچھ… بات بنی یا ابھی تک وہی صورت چل رہی ہے…‘‘
’’وہی…‘‘ یاسمین نے پھر خاموش لہجے میں جواب دیا۔
’’ویسے میں نے کاظم سے بات کرلی ہے… پچھلے ہفتے… ٹائم نہیں ملا نہیں تو تمھیں ایک آدھ دن میں کونٹیکٹ کرتا…‘‘

یاسمین کی خاموشی ہلکے غصے میں بدلی ۔ ’’ایک آدھ دن میں؟ ۔۔۔۔۔ دو مہینے سے خبر نہیں کہ تم زندہ ہو یا مر گئے۔۔۔۔۔۔۔ اور مجھ سے کہتے ہو کہ ایک آدھ دن میں کونٹیکٹ کرتے ۔۔۔۔۔۔۔‘‘۔

’’ارے تم کو معلوم ہے کہ میرا زندہ رہنا… موت سے کوئی زیادہ بڑھ کر نہیں ہے…‘‘ اس کا یہ جواب تھوڑا ڈرامائی تھا۔ پھر اس نے ایک لمبا گھونٹ لیا اور آہستہ سے مسکرایا۔’’ تمھیں معلوم ہے کہ خدا پر مجھے اس لیے یقین نہیں ہے۔ کیوںکہ میں مرتا نہیں ہوں…‘‘

مجھے پھر اس کی یہ بات تھوڑی بے تکی محسوس ہوئی۔ لیکن میں خاموش رہا اور یاسمین کی طرف سے کسی جواب کا انتظار کرنے لگا۔ وہ تھوڑی سی اور آزردہ نظر آئی، مجھے لگا کہ اس کی تھکی آنکھوں میں ایک آنسو ہلکے سے تیرا ہو۔ لیکن وہ خاموش رہی اور اس نے بھی اپنا گلاس اٹھا کر ایک گھونٹ لیا۔ کچھ دیر وہ بیٹھی رہی پھر اٹھ کر اندر باورچی خانے میں چلی گئی۔

واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں ایک اور ٹرے تھی جس میں دو خالی پلیٹیں، ایک چھوٹی پلیٹ میں نیبو، ہری مرچیں اور پودینہ اور ایک چینی کے برتن میں حلیم تھا۔ یہ ٹرے اس نے لاکر ہمارے سامنے رکھ دی اور خود صوفے پر اپنی جگہ بیٹھ گئی۔

پیٹر نے وہ ٹرے میری طرف بڑھا دی تاکہ پہلے میں نکالنا شروع کروں۔ میں نے ایک پلیٹ اٹھا کر اس میں تھوڑا حلیم نکالا۔
’’کیا بات ہوئی؟… کاظم سے؟‘‘ یاسمین نے پیٹر سے پھر پوچھا۔
’’اس نے کہہ دیا ہے کہ کوئی مسئلہ نہیں… زمزمہ پر جو اس کا پارلر ہے وہاں چلی جائو… اور شاید اس کے فلیٹ میں جگہ بھی ہو۔
’’فلیٹ کہاں ہے اس کا۔‘‘
’’تین تلوار کی طرف…‘‘
’’اور پیسے کتنے دے گا؟‘‘
’’یہاں سے بہتر ہی مل جائیں گے… اور پھر اس کے جاننے والے اتنے لوگ ہیں شاید کوئی مال دار پارٹی پھنس جائے۔‘‘

یاسمین نے مزید کوئی سوال نہیں پوچھا۔ ہم لوگ خاموشی سے حلیم کھاتے رہے۔ کھانے کے درمیان میں بہ مشکل اپنا گلاس آدھا کرپایا، میں کبھی بھی پینے پلانے میں ماہر نہیں رہا ہوں۔ پیٹر نے اپنا دوسرا گلاس بھی ختم کردیا۔ یاسمین بھی آہستہ آہستہ پیتی رہی۔ بیچ میں اٹھ کر وہ ایک پانی کی بوتل اور گلاس اور لے آئی تھی۔

کھانے کے دوران پیٹر حلیم کی تعریفیں کرتا گیا جو اتنا برا نہیں تھا۔ لیکن میرے حساب سے مرچیں زیادہ تھیں۔ کھانا ختم کرکہ پیٹر نے ڈھیر سارا …کم از کم تین گلاس پانی پیا۔ اتنی مرچوں کے بعد پیاس مجھے بھی لگ گئی تھی۔ یاسمین نے پلیٹیں سمیٹ کر ایک طرف کردیں لیکن اٹھائی نہیں۔

کچھ دیر پیٹر باہر گیلری کی طرف دیکھتا رہا، پھر یاسمین سے مخاطب ہوا ’’… اور کیا ہورہا ہے یار۔‘‘ یاسمین کا گلاس تقریباً ختم ہوچکا تھا پیٹر نے جن کی بوتل اٹھائی اور اس کے گلاس میں تھوڑی انڈیلی۔ گلاس میں ابھی بھی برف کی کچھ ڈلیان باقی تھیں۔ گلاس آدھا لبریز ہونے کے بعد پیٹر رک گیا اور پانی کی بوتل کی طرف ہاتھ بڑھانے لگا لیکن یاسمین نے اشارے سے روک دیا۔

’’تم اب بھی اکیلے نہیں پیتیں؟‘‘ اس نے یاسمین سے مسکرا کر پوچھا۔
یاسمین نے خاموشی سے گردن ہلائی۔ میرے دماغ میں حیرت کی بتیاں ایک بار پھر جل گئیں کہ یہ عورت نیٹ شراب بھی پیتی ہے۔ لیکن پیٹرنے اپنے اسٹائل کے مطابق اس بات کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔

’’ویسے ابھی تمھارے پاس مال تو بچا ہوا ہے… میں راجا سے کہہ دوں گا کہ کچھ اور اسٹاک ڈال دے…‘‘
یاسمین خاموش رہی۔ ہم لوگ خاموش بیٹھے رہے۔ میرا گلاس ختم ہوگیا۔ میں نے خود بھر لیا۔ پیٹر نے ایک اور پیگ بھی ختم کرلیا۔ یاسمین اپنے دوسرے کے اختتام پر پہنچی۔ ’’اور تمھارے ساتھ کیا چل رہا ہے؟‘‘ اس نے اب پیٹر سے پوچھا۔ اس کے انداز میں نشہ اترتا آرہا تھا۔ نیٹ جن نے اپنا کام تیزی سے دکھایا تھا۔

’’کچھ نہیں… وہی…‘‘ وہ دونوں مجھے اب خاصے نشے میں آتے ہوئے لگ رہے تھی۔ کچھ دیر دونوں خاموش رہے پھر پیٹر نے بات کا رخ ایک دم موڑ دیا۔ ’’چاچا سالے کا دماغ خراب ہوگیا… کہتا تھا سالا کہ ہم اب اس کی تین ہزار روپیہ جیسی نوکری پر آجائیں…‘‘
’’اچا!… تو پھر… تو پھر کیا ہوا…‘‘ یاسمین نے تھوڑے دھیان سے پوچھا۔
’’کچھ نہیں… سالے کو ٹائٹ کردیا…‘‘
’’کیا؟… کیا کردیا؟‘‘ یاسمین نے اس بار پریشانی سے پوچھا۔
’’ارے یار کچھ نیا نہیں کیا! … سالے کو اس بار ٹائٹ کردیا… آگے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘‘

یاسمین خاموش ہوگئی، جیسے کہ وہ بات سمجھ گئی ہو۔ اس کی آنکھوں میں ایک افسردگی آگئی۔ میری موجودگی سے اب وہ بالکل بے پرواہ لگ رہی تھی۔ ’’تم کیوں اس طرح ہوگئے ہو…‘‘ پھر اس نے پیٹر سے کہا۔ ’’منّور کی موت کے بدلے تم کب تک لو گے؟…‘‘ وہ تقریباً روہانسی تھی۔ اس نے بات کا رخ ماضی کے واقعات کی طرف موڑ دیا تھا، جن کے بارے میں مجھے کوئی علم نہ تھا۔

’’منّور کو مارنے والے کب کے مرچکے ہیں… لیکن اس کو ان چند لوگوں نے نہیں مارا، بلکہ ایک زمانے نے مارا ہے۔۔۔۔ پورے زمانے نے ۔۔۔۔‘‘ اس نے ہنس کر کہا۔ مجھے لگا کہ اب پیٹر کے شراب کا پیمانہ اتنا ہوچکا ہے کہ وہ اب سوائے مسکرانے کے اور کچھ نہیں کرسکتا ہے۔

یاسمین اس کا جواب سن کر خاموش رہی۔ جیسے کہ اس بار وہ اپنے جذبات کو اپنے پر حاوی نہیں ہونے دینا چاہتی تھی۔’’ تمھارا دماغ چل گیا ہے…‘‘ اس نے اتنا جواب دیا۔

’’اتنا تو نہیں چلا ہے جتنا تمھارا چلاہے۔‘‘ پیٹر نے ترنت جواب دیا۔ ’’چلو میرے پاس تو یہ سب کچھ کرنے کا بہانہ ہے… تمھارے پاس کیا ہے… تم نے کس واسطے اپنا دھندا چلایا ہوا ہے؟…‘‘

میں پیٹر کی اس بات پر چونکا۔ میرا خیال تھاکہ یاسمین کسی سخت ردعمل کا اظہار کرے گی۔ لیکن اس نے نہیں کیا۔ بلکہ بہت ہموار لہجے میں بولی۔ ’’میرے پیشے پر یوں طعنے نہ کسو… یاد ہے۔ اس کی وجہ سے پہلی بار تمھاری جان بچی تھی…‘‘ پھر وہ سکون میں آگئی۔ جیسے کہ پیٹر کے ساتھ اس کا تمام جھگڑا ختم ہوگیا ہے۔

پیٹر بھی خاموش رہا۔ مجھے ان دونوں کے درمیان بیٹھ کر خاصا عجیب لگ رہا تھا۔ لیکن یہ آج کے دن میں ہونے والی پہلی عجیب بات نہیں تھی۔ یاسمین کا گلاس ختم ہوگیا تھا۔ اس نے اس بار اپنے لیے خود پیگ بنایا اور اس میں تھوڑا پانی بھی ڈالا۔ پھر اس نے پیٹر کے لیے بھی پیگ بنایا۔
پیٹر باہر گیلری کی طرف دیکھنے لگا۔ ’’بڑی دیر ہوگئی… ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔‘‘ اس نے باہر دیکھتے دیکھتے کہا۔
میرا خیال تھا کہ آج رات کے چھاپے کی خبر ہم لوگوں نے خود پھیلائی تھی تاکہ تھوڑی حفاظت میں ہمارا کام ہوجائے۔
’’کیا رینجرز والے اندر علاقے میں آنے والے ہیں۔‘‘ میں نے ذرا مذاق کے انداز میں پوچھا۔
’’رینجرز…؟‘‘ اس نے یوں کہا کہ جیسے وہ کسی اور بات کے بارے میں سوچ رہا ہو۔ ’’ہاں ہوسکتا ہے، بعد میں ان کو بھی آنا پڑے۔‘‘
اب شراب کا اثر میرے دماغ میں سرایت کرچکا تھا اور شروع کی پریشانی اور خوف اب تحلیل ہوچکے تھے۔
’’تم نے تنظیم کب جوائن کی…‘‘ میں نے اس سے اب پوچھا۔
’’ابے یہ تو میرا دھندا ہے… تنظیم کہاں سے آئی…‘‘
’’تو دھندے میں تنظیم نہیں ہوسکتی…‘‘ میں نے مسکرا کر اسے جواب دیا۔
’’ہاں وہ تو ہوسکتی ہے…‘‘ وہ بھی ہنسا۔

پھر ہم یوں ہی تھوڑا مذاق کرتے رہے۔ میرا پیگ ختم ہوگیا۔ یاسمین کا بھی اختتام کے قریب آیا۔ ہماری باتوں میں اس نے حصہ تو نہیں لیا، لیکن اس کا دل تھوڑا بہل گیا۔ پیٹر تقریباً دو اور پی گیا۔ اب وہ پورے موڈ میں آگیا تھا اور بہت زور زور سے ہنس رہا تھا۔ لیکن اس کی زبان خاصی صاف تھی، نہیں تو میرا خیال تھا کہ اب تک اس کو مغلّظات پر اتر آنا چاہیے تھا۔

کچھ دیر بعد یاسمین اٹھنے گی۔ اس نے پیٹر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’تو پھر تمھارا کیا پروگرام ہے… مجھے بہت نیند آرہی ہے۔ میں سونے جارہی ہوں…‘‘
کیوں؟ اور نہیں پیو گی…‘‘ اس کے گلاس کی طرف پیٹر نے ہاتھ بڑھایا۔
’’نہیں… میں جارہی ہوں… تم آئو گے؟‘‘
’’نہیں… ابھی تو میں بیٹھا ہوں…‘‘ پیٹر نے بغیر کسی ردعمل کے کہا۔‘‘ تھوڑی دیر میں دیکھتا ہوں۔ ویسے بھی صبح تک مجھے جانا ہے…‘‘
یاسمین خاموش ہو کر چلی گئی۔ پیٹر نے اس کے جانے کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔ ہم لوگ پھر باتوں میں لگ گئے۔ بیچ میں ایک آدھ بار پیٹر نے اپنی حیرت کا اظہار کیا کہ ابھی تک کوئی شور ہنگامہ کیوں نہیں شروع ہوا۔ لیکن یہ نہیں بتایا کہ وہ کیوں یہ توقع کررہا ہے۔

رات کے تقریباً تین بج چکے تھے۔ پیٹر کا شراب کا پیمانہ کافی دیر پہلے لبریز ہوچکا تھا۔ اس لیے اس نے کافی دیر سے اپنا گلاس نہیں بھرا تھا۔ میں پینے پلانے میں اتنا ماہر نہیں تھا اس لیے مجھے اپنے پیمانے کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔ میرے گلاس آہستہ آہستہ آگے بڑھے جارہے تھے۔ لیکن پیٹر سے ابھی بھی میں کوسوں دور تھا۔

پھر یکایک باہر کے سناٹے کو پھاڑتی ہوئی کلاشن کوف کے ایک برسٹ کی آواز بلند ہوئی اور کچھ دیر تک جاری رہی۔ پھر وقفے وقفے سے اور برسٹ چلے، یہ لڑکوں کے لیے اشارے تھے۔ پھر جیسے پورا علاقہ فائرنگ کی آوازوں سے گونج اٹھا۔

پیٹر خوشی سے اچھل پڑا اور میں حیرت سے ۔ کیوںکہ میرا خیال تھا پیٹر یوں ہی تفریح میں کسی ہنگامے کا انتظار کررہا تھا۔ اب پتا چلا کہ یہ ذرا سیریس قسم کی تفریح تھی۔ ہم لوگ باہر گیلری میں چلے گئے۔ پیٹر نے چاچا کے مکان کی سمت اشارہ کیا زیادہ تر آواز ادھر سے آرہی تھی۔ یا تو ہماری واردات کی خبر اب محلے میں پھیلی تھی یا پیٹر کو معلوم تھاکہ وہاں کیا ہورہا ہے، یا ان لڑکوں کو جو فائرنگ کررہے تھے۔ پیٹر کچھ نہیں بول رہا تھا اور اس صورت حال میں، میں لڑکوں سے معلوم نہیں کرسکتا تھا۔

اب لگ رہا تھا کہ علاقے کے باہر سے رینجرز نے بھی فائرنگ شروع کردی تھی۔

ہم لوگ اندر آگئے۔ ابھی تک میں اسی کے احکام پر چل رہا تھا جیسے کہ میں نے اس کو اپنا لیڈر مان لیا ہے۔ پیٹر اب بہت خوش تھا۔ اس نے اپنے لیے ایک اور پیگ بنایا۔ میرا پیگ ابھی آدھا بھرا ہوا تھا۔ اس کی خوشی کی وجہ میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ ا اس نے جیسے اس وجہ کو سمجھانے کی خاطر بولنا شروع کیا۔

’’جب میں پہلی بار جیل گیا تھا… اس سے زیادہ برا وقت مجھ پر نہیں گزرا…‘‘ اس کا لہجہ ایک دم بہت سنجیدہ اور تکلیف بھرا ہوگیا۔ انھوں نے ہمارے اوپر کوئی لمبا چوڑا سازش اور بغاوت کا کیس بنایا تھا… ہماری پوری تنظیم ہی جیسے ایک دم اندر ہوگئی تھی…‘‘ تنظیم کا لفظ کہتے ہوئے وہ ہلکے سے مسکرایا بھی۔ ’’میں بھی ان میں شامل تھا… انھوں نے سب کو ایک ساتھ پکڑ لیا تھا۔ نہ ایک لڑکا زیادہ تھا، نہ ایک کم۔ جیسے کہ پوری نفری کا انھیں پہلے سے علم تھا۔

… پہلے دو ہفتے جب تک وہ میری انٹروگیشن کرتے رہے۔ انھوں نے مجھے سونے نہیں دیا۔ باقی خوف و ہراس ڈرانا دھمکانا اپنی جگہ مگر رات کو اکثر وہ مجھے اٹھا دیا کرتے تھے۔ آنکھوں میں تیز ٹارچیں ڈال کر منھ پر ٹھنڈا پانی چھڑک کر میرا نام لے کر پوچھتے تھے اعجاز… بتا… بتا… تیری بہن کا نام کیا ہے… بہن کا نام بتا…‘‘ مجھ سے وہ میری بہن کا نام پوچھتے تھے۔ سوچو تو ذرا۔ نہ جانے وہ کیا کرتے اس کے ساتھ… یقین کرو، میں رو دیتا تھا اور کہتا تھا… مجھے نہیں معلوم۔ مجھے نہں معلوم… میں نے اس کو ہمیشہ آپا کہا ہے… مجھے نہیں معلوم آپا کا اصل نام کیا ہے…‘‘ یہ کہہ کر پیٹر سسکیاں لے کر رونے لگا۔ چند منٹ تک اس کی آنکھوں سے آنسو آتے رہے۔

میں اس کو دم بخود دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر میں اس کی حالت بہتر ہوئی اور اس نے اپنا پیگ ختم کیا۔ ’’چلیں اب…‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ اٹھ گیا۔
میں بھی اس کے ساتھ اٹھا۔ ’’تمھارا نام پہلے اعجاز تھا…‘‘ میں نے اس سے پوچھا۔
’’میرا نام اب پیٹر ہے… اور بس۔‘‘ اس نے ذرا زور سے جواب دیا۔

باہر آکر اس نے یاسمین کے کمرے کے دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’اوہو مجھے اس کو چند نمبر وغیرہ دینے تھے… چلو بعد میں دے دوں گا…‘‘۔ پھر ہم لوگ سیڑھیوں سے نیچے اترے۔ میں ویسپا کی طرف بڑھا۔مگر اس نے روک دیا۔ ’’اسے چھوڑ دو۔ اس کو لے جا کر پھنس جائیں گے … میں بعد میں آکر اس کو اٹھا لوں گا…‘‘

باہر نکل کر وہ کہنے لگا ’’ آج میں نے چاچا سے بھی اس کی بہن کا نام پوچھا تھا… چاچا کی دو بہنیں ہیں… اس نے دونوں کے نام بتا دیے…‘‘ یہ کہہ کر پیٹر نے قہقہہ لگایا۔

علاقہ میں اب عجیب صورت حال تھی۔ فائرنگ رک گئی تھی۔ لڑکے گلیوں میں کھڑے ہوئے تھے اور ایک عجیب پریشانی اور گہماگہمی تھی۔ ہم لوگوں نے اپنی کلاشن اور سیون ایم ایم اٹھائی ہوئیں تھیں۔ لیکن لڑکے عموماً خالی ہاتھ تھے۔ پھر ایک بھگدڑ سی مچی اور لڑکے گھروں میں جانے اور ادھر ادھر ہونے لگے۔ ہم ایک کھڑی ہوئی ویگن کے پیچھے چھپ گئے۔ ایک دو منٹ میں رینجرز کے دو ٹرک تیزی کے ساتھ وہاں سے گزرے۔ یہ محاصرے اور تلاشی کا انداز نہیں تھا لگتا تھا انھیں کہیں پہنچنے کی جلدی ہے۔ ان کے جانے کے بعد پیٹر کہنے لگا

’’چلو اچھا ہے… اس کنفیوژن میں یہاں سے باہر نکلنا اتنا مشکل نہیں ہوگا… تمھارا اب کیا پروگرام ہے…‘‘ اس نے مجھ سے پوچھا۔

’’کچھ نہیں…‘‘

’’ٹھیک ہے پھر میں نکلتا ہوں…‘‘ یہ کہہ کر اس نے ہاتھ ڈال کر اپنے کرتے کے نیچے سے ایک لفافا نکال کر مجھے دیا۔ اس میں شاید آج کے پیسے تھے۔ میں جن کے بارے میں تقریباً بھول ہی چکا تھا۔ اس وقت میں نے انھیں نہیں گنا۔ گلی کے کونے پر پہنچ کر ہم دونوں اپنے اپنے راستے پر ہولیے۔

پیٹر نے ٹھیک اندازہ لگایا تھا۔ اس وقت ہمیں وہاں سے نکلنے میں زیادہ مشکل نہیں پیش آئی۔

اگلے روز میں نے اخبار دیکھا تو معلوم ہوا کہ اس رات واقعی چاچا کو کسی نے ٹائٹ کردیا تھا۔ اتنا ٹائٹ کہ مجھے دو تین ماہ کے لیے بالکل انڈر گرائونڈ جانا پڑا۔ لیکن پھر حالات بدلے اور جو لوگ مجھ پر شک کرسکتے تھے وہ منظر پر نہیں رہے۔ میں پھر منظر پر آگیا۔ لیکن پیٹر کی مجھے پھر کوئی خبر نہیں ملی۔ میں یاسمین کے فلیٹ پر بھی گیالیکن وہاں اب کوئی اور رہتا تھا۔

بدھ، 14 جنوری، 2015

پھول پتیوں کی مصور


رخسانہ سوچتی تھی کہ پھول پتیاں اس دنیا کی سب سے دلکش چیزیں ہیں۔ اس لئے وہ ہمیشہ پھول پتیوں کی مصوری کیا کرتی تھی۔ یا کبھی کبھار وہ اپنے پھولوں کے پس منظر میں کوئی تالاب، چند ایک پودے یا کوئی چڑیا بنادیتی لیکن اس کے علاوہ کچھ نہیں۔

سورج مکھی کے پھول وہ عام طور پر بہت بڑے بناتی تھی۔ ضرورت سے زیادہ بڑے۔ اتنے کہ تصویر میں بمشکل کوئی اور چیز نمایاں ہو پاتی۔ ان پھولوں کے نزدیک کوئی ایک کیڑے نماچیز بھی اُڑ رہی ہوتی۔ یہ چیز کسی بھونرے یا شہد کی مکھی سے مشابہت رکھتی۔ لیکن اصل میں یہ کون سا کیڑا ہوتا ،یہ بات صرف رخسانہ کو پتہ تھی۔

مگرسورج مکھی کے پھول وہ اس روز بناتی جس روز وہ صبح صادق کے وقت اٹھ جائے ، یا ساری رات اس نے جاگ کر گزاری ہو اور صبح صبح تازہ ہوا کے لئے کھڑکی کھول دے اور طلوعِ آفتاب کے منظر میں اس کی تمام توجہ جذب ہو جائے۔ اس روز وہ ضرور ایک سورج مکھی کے پھول کی تصویر کا آغاز کر دیتی، چاہے اسے ختم کرتے کرتے کئی ہفتے لگ جائیں یا چاہے بے شمار دوسری تصویروں کی طرح یہ بھی ادھوری پڑی رہ جائے۔

اس نے زندگی میں نہ جانے کتنی تصویروں کا آغاز کیا تھا۔ لیکن ان میں سے بہت کم کسی قابلِ قبول اختتام تک پہنچی تھیں۔ کچھ تو صرف اس کے تصوّر میں رونما ہو کر وہیں محفوظ رہ گئی تھیں۔ کچھ کو وقت ملنے پر اس نے کاغذ پر اتار لیا تھا، لیکن اس کے خیال میں ابھی وہ نا مکمل تھیں اور کچھ تو ضائع بھی ہو گئی تھیں۔ تھوڑے عرصے پہلے تک تو اس کی تمام الماری ایسی تصویروں سے بھری ہوئی تھی، لیکن پھر جعفر کے کئی بار کہنے پر اس نے بیشتر تصویروں کو ایک بکس میں بند کر کے اپنے پلنگ کے نیچے ڈال دیا تھا۔ اس طرح اس کی الماری میں جعفر کے لئے خاصی جگہ نکل آئی تھی ۔لیکن جعفر نے اس میں صرف لکڑی کا ایک چھوٹا سا بکس رکھ چھوڑا تھا اور چند ایک شلوار کرتے اور ایک جینز اور ٹی شرٹ۔لکڑی کے صندوق میں تالا پڑا رہتا تھا اور اس کی چابی صرف جعفر کے پاس رہتی۔ رخسانہ کو اس نے آج تک نہیں بتایا تھا کہ اس بکس میں کیا ہے اور جب وہ پوچھتی تو وہ جواب دیتا،"تجھ کو آم کھانے سے مطلب ہے یا پیڑ گننے سے"۔

رخسانہ کے اس چھوٹے سے فلیٹ کا کرایہ بھی اکثر جعفر ہی دیا کرتا تھا۔ اس نے آج تک اتنے میٹھےآم نہیں کھائے تھے ۔ اس لئے وہ یہ سن کر خاموش ہوجاتی۔

رخسانہ کا فلیٹ بلڈنگ کی چوتھی منزل پر تھا۔ اس کی بالکنی سے بے شمار بدوضع مکانوں اور فلیٹوں کا ایک سوکھا ہوا جنگل نظر آتا۔ فارغ وقت میں اکثر وہ اپنی بالکنی میں آکر کھڑی ہو جاتی اور اس جنگل کو تکتی رہتی۔ اور سوچتی کہ کس قسم کی بارش سے یہ جنگل ہرا ہو پائے گا؟ بالکنی میں کھڑے ہو کر دائیں طرف جھانکنے سے لالوکھیت دس نمبر کی چورنگی نظر آتی تھی جہاں سے شام کے وقت طغیانی میں بہتے ہوئے دریا کی مانند ٹریفک گزرتا تھا۔ رخسانہ اکثر بالکنی میں کھڑے ہو کر اس بہتے ہوئے دریا کو دیکھتی اور تصور کرتی رہتی کہ کیا پہاڑوں میں ندی نالے بھی اس طرح بہتے ہوں گے۔ اس نے آج تک ان نالوں کو صرف تصویروں میں دیکھا تھا، یا کبھی کبھار بنا بھی دیا تھا۔

اپنی تصویروں کو سمیٹنے اور ڈھنگ سے رکھنے کا خیال اسے عام طور پر ان دنوں میں آتا جب ننھی فرح کا اس کے ساتھ آکر رہنے کا زمانہ آتا۔ وہ کوشش کرتی کہ اپنی ڈرائنگ کی کاپیوں اور ادھوری اور مکمل تصویروں اور ان کو بنانے میں درکار رنگوں، روغنوں، برشوں اور پنسلوں کو سمیٹ کر فرح کی پہنچ سے دور کسی شیلف پر ڈال دے تاکہ وہ فرح کے کھیل کود سے بچے رہیں۔لیکن کئی بار ایسا ہوتا کہ فرح کے آجانے کے بعد بھی اس کے رنگ اور برش اور تصویریں یوں ہی اس کے دو کمروں کے فلیٹ میں اِدھراُدھر پڑی رہتیں اور فرح آکر اس کی تصویروں میں یوں رنگ بھرتی کہ رخسانہ انہیں دیکھتی رہ جاتی۔

رخسانہ کو فرح سے بے حد محبت تھی ۔ اپنی شادی ختم ہونے کے بعد جب اس نے فرح کی ماں کے گھر میں اوپر والا کمرہ کرائے پر لیا تھا تو اس وقت فرح صرف چھ ماہ کی تھی۔ شروع کے چند مہینے اس نے ہی فرح کو پالا پوسا تھا اور اس طرح دل بہلا کر اس نے اپنا وہ مشکل زمانہ گزارا تھا۔ بعد میں ان کے درمیان تعلق اور گہرا ہوتا گیا۔ فرح کی ماں رئیسہ اپنے دوسرے بچوں کو پالتی اور فرح کو رخسانہ تھوڑے عرصے بعد رخسانہ نے ایک اسکول میں نوکری بھی کر لی لیکن فرح سے قربت میں کوئی فرق نہیں آیا۔

رخسانہ کو اپنے خیالات کینوس پر اتارنے اور پنکھڑیوں اور پتیوں کو سیدھا اور تر چھا بنانے میں جو سکون ملتا، زندگی کے شاید ہی کسی اور کام میں ملتا ہوگا۔ اس بات کا احساس اسے اس زمانے میں ہوا جب اس نے اسکول میں نوکری کی تھی۔وہاں پر وہ ڈرائنگ ٹیچر مقرر ہوئی اور بچوں کو پڑھانے میں پہلی بار اس نے پھول پتیاں اتنے شوق سے بنانا شروع کیں۔

اپنے پرانے شوہر کے دوست مظہر سے اس کی ملاقات اب کبھی کبھار ہوتی تھی جس کے ساتھ تعلقات کے شک میں اس کی شادی ختم ہوئی تھی ۔لیکن وہ اس کو اپنی شادی کے ٹوٹنے کا سبب نہیں سمجھتی تھی۔ اپنی کلاس میں بچوں کے واسطے پھول اور پتیاں بناتے ہوئے کبھی کبھی اسے مظہر کا خیال آتا اور اس روز وہ اس سے مل آتی۔ کبھی کبھار وہ اس سے پیسے بھی مانگ لیتی ۔ کبھی مظہر دے دیتا، کبھی نہ دیا ۔ جیسے جیسے اسے پھول پتیاں بنانے میں مہارت حاصل ہوتی گئی، ویسے ہی اپنے اِدھراُدھرکے خرچے پورے کرنے کے طریقے بھی سیکھتی گئی۔

اب کبھی اپنی بالکنی سے باہر جھانکتے ہوئے وہ اس زمانے کے بار میں سوچتی تو مسکرا دیتی۔

رخسانہ کو اپنی کوئی تصویر بہت زیادہ اچھی نہیں لگتی تھی۔ اور نہ کوئی بہت زیادہ بری ۔تصویروں میں پھولوں کی ٹہنیاں ایک خاص خم کے ساتھ بنانا اسے اچھا لگتا تھا۔ لیکن اگر کسی کو سیدھا بھی بنا دے تو اس میں اسے ایک ایسی نئی بات نظر آتی تھی جو قدرت میں نہیں ملتی۔

جعفر کو اس کی کچھ تصویریں اچھی لگتیں۔ کچھ کے بارے میں وہ کہتا کہ انہیں نہ بنایا ہوتا تو اچھا ہوتا۔ کبھی وہ اس سے کہتا کہ اس کی تمام تصویریں ایک سی ہوتی ہیں اور اسے آج تک ان کے درمیان کوئی فرق سمجھ میں نہیں آیا۔ رخسانہ کبھی جعفر کی کسی بات کی طرف دھیان نہیں دیتی۔ وہ یہ تصویریں اپنے لئے بناتی تھی کسی کی رائے طلب کرنے کی خاطر نہیں۔ پھر وہ یوں ظاہر کرتی کہ جیسے تصویریں بنانا اس کا اپنا معاملہ ہے۔ اس میں جعفر کو دخل نہیں دینا چاہیئے۔ اس پر جعفر خاموش ہو جاتا۔ پھر عموماً اس کا مذاق اڑا کر بات کو ختم کرتا جو اسے پسند نہیں آتا۔

رخسانہ کبھی کبھی جعفر کے ایسے روکھے پن سے تنگ آجاتی۔ جب وہ آتا تو اس سے کہتی کہ وہ چلا جائے اور ساتھ میں اپنی تمام چیزیں بھی لے جائے۔ خاص طور پر وہ لکڑی کا صدوقچہ جو اس کی الماری میں رکھا رہتا ہے اور جگہ گھیرتا ہے ۔ اس صندوقچے کو کئی بار اس نے اٹھانے کی کوشش کی تھی مگر وہ بہت بھاری تھا ۔ اور جعفر کبھی اسے رخسانہ کی موجودگی میں نہیں کھولتا تھا ۔اس لئے رخسانہ کو ہمیشہ یہ فکر لگی رہتی کہ نہ جانے اس میں کیا چھپا رکھا ہے۔

خاص طور پر اس زمانے میں جب فرح اس کے پاس آکر رہتی۔ رخسانہ جعفر کو سختی سے گھر آنے سے منع کر دیتی۔ اور اس سے کہہہ دیتی کہ اگر کام بھی بھیجنا ہے تو کسی لڑکے کو پتہ، نمبر اور تمام تفصیل بتا کر بھیج دے۔یا اگر خود آنا چاہتا ہے تو زیادہ سے زیادہ دروازے پر آکر یہ تمام باتیں بتا جائے۔ رخسانہ کو لگتا تھا کہ فرح اگر جعفر سے ملے گی تو ملنے کے بعد وہ ضرور یہ سوال کرے گی کہ "خالہ یہ آپ کی اتنے ڈراؤنے آدمی سے دوستی کیوں ہے؟" اس بات کو وہ کیا جواب دے گی؟

جعفر دیکھنے میں واقعی خاصہ خوفناک سا تھا لیکن رخسانہ کو آج تک اس سے کبھی ڈر نہیں لگا تھا ۔ جس رات وہ اس کے ساتھ ہوتا وہ اس کے چہرے کو بہت غور سے دیکھتی اور پھر صبح اٹھ کر طرح طرح کے نئے پھول بنانے کے بارے میں سوچتی۔

رخسانہ کو اب جب بھی مظہر کا خیال آتا تو اسے مظہر کا کالا اور عجیب سا چہرہ یا د آتا ۔ اور یہ یاد کر کے اسے ایک ہلکا سا دکھ ہوتا کہ نہ جانے اب وہ کس حال میں ہوگا۔ لیکن اب وہ واپس نہیں آسکتا تھا۔ اس بات کا رنج اسے سب سے زیادہ رہتا اور اسی لئے جعفر سے کچھ عرصے ناراض رہنے کے بعد وہ اس کو پھر بلا لیتی تاکہ اس کے تخیل کی پھول پتیاں ہری بھری رہیں۔

مظہر کے ساتھ کیا ہوا تھا یہ اسے نہیں معلوم تھا اور نہ جعفر اسے کوئی بات بتاتا تھا۔ ایک زمانے میں جعفر کی مظہر کے ساتھ بہت دوستی تھی۔ بلکہ پہلی بارمظہر ہی نے اس سے تعارف کروایا تھا۔ اسے یاد تھا کہ پہلی بار جعفر کو دیکھنے کے بعد وہ دم بخود رہ گئی تھی۔ اور کئی دنوں تک اس کا چہرہ اس کے خیالات پر چھایا رہا تھا۔ اس کا خوفناک چہرہ جس کو دیکھ کر بچے بچیاں ڈر سکتے تھے ۔ نہ جانے رخسانہ کے لئے اس میں کیا کشش تھی۔

اب مظہر کو یاد کر کے وہ صرف ایسی پھول پتیاں بناتی جو بہت خوبصورت اور لال پیلی اور سبز ہوتیں۔ اور ان کے پس منظر میں کبھی کوئی اجڑا ہوا گاؤں کوئی جلا ہوا درخت یا شکار کی ہوئی کوئی شیرنی بنا دیتی تھی۔ لیکن پھر ان تصویروں کو جعفر سے چھپا لیتی کیونکہ اس کے خیال میں وہ ان کو دیکھ کر مذاق اڑاتا۔ خاص طور پر شیرنی یا کسی اور جنگلی جانور کی تصویر کو دیکھ کر، کیونکہ اس کے خیال میں وہ حیوانوں یا انسانوں کی تصویریں بہت بری بناتی تھی۔

رخسانہ کو معلوم تھا کہ جعفر کی چار نمبر میں اسنوکر کی دو دوکانیں ہیں اور شاید ویڈیو کی دوکان میں بھی اس کا حصہ ہے۔ اور یہ کہ اس کا زیادہ وقت اسی علاقے میں گزرتا ہے لیکن جن لوگوں کے پاس جعفر رخسانہ کو بھجواتا، وہ شہر کے جانے کن کن علاقوں میں رہتے تھے۔ رخسانہ نے کئی بار یہ پوچھا کہ جعفر کو کس طرح اتنے دور دراز کے گاہک ملتے ہیں لیکن اسے کوئی قابل تسلی جواب نہیں مل پایا تھا تقریباً تمام گاہکوں کے ساتھ پیسے کا حساب کتاب پہلے ہو چکا ہوتا تھا۔ رخسانہ کو بہت کم لوگ خوش ہو کر اوپر سے کچھ انعام دیتے اور مانگنے پر اکثر یہ کہتے تھے کہ اتنے پیسے لینے کے بعد اوپر سے اور رقم مانگتی ہے؟ اپنے لئے ادا کی جانے والی رقم کا سننے کے بعد رخسانہ کا جی چاہتا کہ اپنے حیرت سے کھلنے منہ کے اوپر ہاتھ رکھ دے۔ لیکن یہ وہ ان گاہکوں کے سامنے نہیں کر سکتی تھی۔ اپنے کام میں رخسانہ کو خود کبھی اتنی رقم نہیں ملتی اور نہ جعفر کبھی اس کو امیر ہوتا ہوا نظر آتا ۔ تو پھر اتنی ساری رقم کہاں جاتی ہے؟ اس بات کا بھی اسے کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملتا۔

جس زمانے میں رخسانہ جعفر سے ناراض ہوتی، یا جعفر بہت زیادہ مصروف ہوجاتا یا اسے کہیں جانا پڑجاتا، تو اس زمانے میں ایک لڑکے کے ذریعے اس کے پاس پیغام آتا تھا کہ اسے کس جگہ پر کس وقت پہچنا ہے اور کس سے ملنا ہے ۔ رخسانہ کام پر ہمیشہ جاتی تھی، چاہے وہ جعفر سے خوش ہو یا ناراض ۔ کیونکہ وہ اپنے کام کو جعفر کی دوستی سے علیحدہ سمجھتی تھی۔ وہ یہ بھی سمجھتی تھی کہ وہ لڑکا بھی جعفر کے لئے کام کرتا ہے اور یہ کہ جعفر کی جو آمدنی ہوتی ہے اس میں سے خاصہ حصہ وہ بینک میں رکھنے کے بجائے اس لکڑی کے صندوقچے میں رکھتا ہے جو رخسانہ کی الماری کے نچلے حصے میں رکھا رہتا ہے۔

رخسانہ نے کئی بارکوشش کی تھی کہ وہ اس صندوق کو ہلا جلا کر اس بات کا اندازہ لگائے کہ اس میں کیا ہے ۔ لیکن وہ اتنا بھاری تھا کہ اس سے بمشکل سرکتا ۔ پھر اس نے ناامید ہو کر یہ سعی چھوڑ دی تھی۔

پھر یوں ہوا کہ رخسانہ کو لگا کہ جیسے جعفر کہیں چلا گیا ہے، یا وہ لاپتہ ہو گیا ہے۔ دو ماہ تک صرف وہ لڑکا آتا رہا، نام پتے لے کر۔ جب وہ اس لڑکے سے پوچھتی کہ جعفر کہاں ہے تو وہ کوئی جواب نہیں دیتا۔ ایک بار سوال کرنے پر اس نے مسکراتے ہوئے راز کے انداز میں کہا،"پردہ ٔ غیب میں۔۔۔۔۔۔" پھر یوں ہنستا ہوا چلا گیا کہ جیسے اس طرح اس نے رخسانہ کی تذلیل کی ہے۔ رخسانہ کو بہت غصہ آیا اور آئندہ اس سے یہ سوال نہیں کیا۔

رخسانہ کو کبھی کبھی خواب میں نظرآتا کہ جیسے اس کا تن تھوڑا اکڑ کر کسی پودے کا تنا بن گیا ہے اور ہاتھ پاؤں سوکھ کر کالی بل کھاتی ہوئی ٹہنیاں بن گئے ہیں جنہیں دور سے دیکھنے پر لگتا کہ کوئی خوفناک مردانہ چہرہ ہے ،اور اس کی چھاتیوں پر رنگ برنگے خوبصورت پھول پتے نکل آئے ہیں۔ رخسانہ جس روز ایسا خواب دیکھتی، صبح اٹھ کر اسے بڑا عجیب لگتا۔

چند دنوں کے بعد اس لڑکے کا آنا بھی بند ہو گیا۔ اب رخسانہ بہت پریشان رہنے لگی کیونکہ اب پھول پتیاں بنانے کے با وجود اس کے خرچے پورے نہیں ہو پارہے تھے ۔ رخسانہ نے باہر نکل کر خود اپنے واسطے کبھی کام تلاش نہیں کیا تھا۔ اس لئے اب اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ کیا کرے۔ کئی باروہ سوچتی کہ کیوں نہ جعفر کے اس بھاری بھرکم صندوقچے کا تالا توڑ کر دیکھے کہ شاید اس میں سے کچھ پیسے وغیرہ نکل آئیں لیکن پھر یہ سوچ کر ہمت نہ کر پاتی کہ جعفر واپس آگیا تو اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرے گا۔

پھر ایک روز اس کے دروازے پر دستک ہوئی۔ باہر چھ آٹھ پولیس کے وردی والے سپاہی کھڑے ہوئے تھے۔ ابھی وہ ان کو دیکھ کر حیران ہی ہو رہی تھی کہ وہ اندر آ دھمکے۔ ان میں سے ایک نے ،جو ان سب کا افسر لگتا تھا، اونچی آواز میں اس سے پوچھا ۔" جعفر ادھر رہتا ہے؟"

رخسانہ نے گردن کو جھٹا دے کر نفی میں سر ہلادیا۔ پھر ایکدم وہ افسر گر جا۔" جھوٹ مت بول۔۔۔۔بتا جعفر کدھر ہے۔" اس کی گرجدار آواز سے رخسانہ تقریباً اچھل گئی۔ پھر اس نے رک کر ذرا اعتماد کے ساتھ جواب دیا ، "وہ تین مہینوں سے اِدھر نہیں آیا"۔

اس پر وہ پولیس والے اس کے گھر کی تلاشی لینے لگے اور پورے گھر میں اس کی تصویروں کو بکھیر دیا۔ لیکن اتفاقاً ان کی نظر لکڑی کے اس صندوقچے پر نہیں پڑی جو اس کی الماری کے نچلے خانے میں رکھا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ جعفر کی کوئی چیز اس کے فلیٹ میں اس وقت موجود نہیں تھی۔ تھوڑی دیر بعد اس افسر کےایک ماتحت نے، جس کے چہرے پر بہت خطرناک قسم کی موٹی موٹی موچھیں تھیں، رخسانہ کو گردن سے پکڑ لیا اور بے درددی سے اسے ہلاتے ہوئے بولا ، "بتا وہ کہاں ہے؟" رخسانہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔

کچھ دیر بعد وہ پولیس والے چلے گئے اور رخسانہ اپنے آنسو پونچھتی اور اپنی تصویریں جمع کرتی رہ گئی۔

چند دنوں بعد اس افسر کا بڑی بڑی مونچھوں والا ماتحت پولیس والا سادہ کپڑوں میں اس کے دروازے پر آیا اور اسے ایک پرچہ دیا ۔"اگر کام کرنا چاہتی ہے تو اس پتے پر چلی جا۔"وہ اپنی موٹی آواز میں غرایا۔

پھر وہی ہوا جس کی رخسانہ سے توقع کی جا سکتی تھی۔ اس کے کالے سے چہرے پر ان بڑی بڑی مونچھوں میں رخسانہ کو ایک پر اسرار خوبصورتی نظر آئی۔ وہ اسے دیکھ کر اپنے تمام غم بھول گئی اور مسکرا کر اسے اندر آنے کو کہا۔ وہ پولیس والا تھوڑا حیران ہوا لیکن اندر آگیا۔ اس کا نام محمد جمیل تھا۔

اس کے بعد جمیل نے مستقل طور پر اس کے پاس کام لانا شروع کر دیا۔ اور کبھی کبھی وہ اس کے پاس یوں ہی وقت گزارنے بھی آجاتا۔ محمد جمیل اس کی تصویروں میں بھی خاصی دلچسپی لینے لگا۔ اس بات سے رخسانہ خوش ہوتی۔

ایک روز اس کی تصویروں کو الماری میں ارینج کرتے ہوئے محمد جمیل نے لکڑی کے اس صندوقچے کی طرف اشارہ کیا جو کہ سب سے نچلے خانے میں رکھا تھا اور پوچھا، "اس میں کیا ہے؟"

اس پر رخسانہ نے ترنت خبر دار کیا،" اس کو کبھی مت چھیڑنا۔۔۔۔ اس میں میری پہلی شادی کا جہیز کا کچھ سامان ہے۔"

محمد جمیل مان گیا۔


منگل، 16 دسمبر، 2014

وہ لڑکی جو اخبار بیچتی ہے


ایک زمانہ تھا جب میں صبح پانچ بجے اٹھنا تصوّر بھی نہیں کر سکتا تھا، لیکن اب میری آنکھ پانچ بجے سے بھی پہلے کھل جاتی ہے۔ اور میں بستر میں پڑا پانچ بجنے کا انتظار کرتا رہتا ہوں۔ میری کھڑکی کے باہر کالا گھپ اندھیرا ہوتا ہے۔ مجھے اپنے بستر میں لیٹے لیٹے محسوس ہوتا رہتا ہے کہ باہر کا یہ اندھیرا کتنا سرد ہوگا۔ میں اس اندھیرے کو تکتا رہتا ہوں، مجھے اس میں طرح طرح کے کالی لکیروں سے کھینچے ہوے نقش و نگار اُبھرتے مٹتے نظر آتے رہتے ہیں۔ جیسے کوئی کالا جال بنتا ہو، اور پھر اس جال کو کالی انگلیوں سے چھیڑتا ہو۔

یوں کھڑکی سے باہر تکتے تکتے میں بستر سے اٹھ جاتا ہوں، اور دفتر جانے کے لئے تیار ہونے کے غیر دلچسپ کام میں ازخود جُت جاتا ہوں۔ میرا دماغ ایک بار پھر سونے چلا جاتا ہے۔

صبح چھے بجے کے لگ بھگ میں اپنی گاڑی کار پارکنگ میں کھڑی کرتا ہوں جو کہ ٹرین اسٹیشن سے بارہ تیرہ منٹ کے فاصلے پر ہے۔ جہاں سے میں نیویارک شہر جانے والی زمین دوز ٹرین پکڑتا ہوں۔ مجھے صبح سات بجے سے پہلے دفتر پہنچنا ہوتا ہے۔ اپنی کار سے اتر کر پیدل چلتا ہوا میں ٹرین اسٹیشن کی طرف آتا ہوں۔ اس وقت میرے دماغ میں طرح طرح کے خیالات ہوتے ہیں، یہ موسم اور حالات کے حساب سے بدلتے رہتے ہیں۔ میری نگاہیں نیویارک کی اسکائی لائین (skyline) پر ہوتی ہیں۔ اس اسکائی لائین میں کچھ عرصہ پہلے تک ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاور خاصے نمایاں تھے، لیکن ابھی چند ہفتے قبل وہ دونوں منہدم ہو چکے ہیں۔ انکی جگہ پیدا ہونے والا خلا اب خاصا نمایاں ہے، لیکن میری نگاہیں اس خلا پہ نہیں ٹہرتیں۔

ٹرین اسٹیشن کے پاس پہنچ کر مجھے وہ لڑکی نظر آتی ہے جو اخبار بیچ رہی ہوتی ہے۔ وہ مجھے دیکھ کر سر کو ہلکے سے جھٹکا دے کر ہیلو کہتی ہے اور اس کے بعد مسکراتی ہے۔ میں اپنے نرم ترین لہجے میں اُسے جواب دیتا ہوں اور اس سے پہلے کے تمام خیالات بھول جاتا ہوں۔

یہ تقریباً روز صبح کا معمول ہے۔ اس لڑکی کا تعلق جنوبی امریکہ کے کسی ملک سے ہے۔ اور وہ اسپانوی زبان بولتی ہے۔ میں نے ایک آدھ بار رک کر اس سے بات کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن وہ بہت کم انگریزی جانتی ہے۔ بس اتنی کہ اخبار بیچ لے۔ مجبور ہو کر مجھے اسٹیشن کی طرف دوڑنا پڑا ہے، کیونکہ ٹرین چھوٹ جانے کا خطرہ ہوتا ہے۔ ایک دفہ اس نے مجھے روک کر وقت پوچھنے کی کوشش کی، لیکن میں اسُ کو انگریزی میں بہ مشکل وقت بتا سکا، آخر لا چار ہو کر میں نے اپنی کلائی اسکی طرف بڑھا دی۔ اس نے میری کلائی پکڑ کر، اس پر بندھی ہوئی گھڑی سیدھی کی تاکہ وقت دیکھ پائے۔ پھر اس نے اپنی زبان میں کہا۔ ’’گراسیاس․․․‘‘۔

میں نے بھی نہایت میٹھے لہجے میں اسکا شکریہ ادا کرتے ہوئے ’’ تھینک یو ․․․‘‘ کہا۔ اور پھر نیویارک شہر جانے والی ٹرین کے زیرِزمین پلیٹ فارم کی جانب سرعت کے ساتھ بڑھ گیا۔

اب سے کچھ عرصہ پہلے تک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر جانے والی ٹرین لیتا تھا، جو مجھے دس منٹ میں وہاں پہنچا دیا کرتی تھی۔ لیکن اب مجھے 34th اسٹریٹ جانے والی ٹرین پکڑنی پڑتی ہے، جس میں بیس پچیس منٹ لگ جاتے ہیں۔ یہ ٹرین پہلے کی نسبت بہت ذیادہ بھری ہوئی ہوتی ہے، اور یہ مجھ کو اپنے دفتر سے ذیادہ دور بھی اتارتی ہے۔

ٹرین سرنگ میں دوڑتی چلی جاتی ہے، اور میں اس میں کھڑا اپنی بدنصیبی کو کوستا رہتا ہوں، کہ اب میرا سفر ذیادہ لمبا اور دشوار ہو گیا ہے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاوروں کو گرانے والا جو شخص بھی ہے، چاہے وہ اوسامہ بن لادن ہے یا کوئی اور، یقینً وہ بہت خبیث انسان ہے۔ اور اس کو اپنے کئے کی سزا ملنی چاہئے۔ شروع شروع میں جب وہ ٹاور گرے تھے تو مجھے ان میں مرنے والوں پر بہت افسوس تھا۔ ان کی تعداد کم از کم کئی ہزار ہو گی اور وہ بلا کسی قصور کے مارے گئے۔ ایک لمحے ایک اسٹاک بروکر عمارت کے پچھترویں (75th) منزل پر بیٹھا اپنے اسکرین کو دیکھ رہا ہو گا۔ دوسرے ہی لمحے اس نے حیران ہو کر چاروں طرف آگ دیکھی ہو گی۔ اور پھر وہ مر گیا ہو گا۔ اتنی جلدی کہ اسے تکلیف کا احساس بھی نہیں ہو پایا ہو گا۔ اگر موت کے بعد ذندگی واقعی کوئی چیز ہے تو اسے بڑا عجیب لگا ہو گا کی ایکدم سے مر کے دوبارہ کیسے ذندہ ہو گیا؟

شروع میں مجھے ان لوگوں کا اس طرح مر جانے پر بہت افسوس تھا، اور انکے گھر والوں سے بڑی ہمدردی۔ لیکن اب اس ہمدردی کا دائرہ خاصا وسیع ہو گیا ہے۔

تقریباً پونے سات بجے میں زیر ِزمین اسٹیشن سے باہر آتا ہوں اور اپنے دفتر کی طرف چلنا شروع کرتا ہوں۔ اب سردیاں آ چلی ہیں۔ اس لئے اس وقت پوری روشنی نہیں ہوتی۔ سڑکیں خالی ہوتی ہیں۔ اور اکا دُکا لوگ اپنے اورکوٹوں میں دبکے فٹ پاتھ پر نظر آتے ہیں۔ سڑکوں کے بیچ و بیچ مین ہول کورز (manhole covers) سے نکلتی ہوئی زیر ِزمین بوائیلرز (boilers) کی بھانپ ایک عجیب پراسرار سماں پیدا کرتی ہے۔ کہ جیسے زمین اندر سے سلہگ رہی ہو۔

اس منظر میں ایک ویرانی سی ویرانی ہوتی ہے، اسے محسوس کرنے والا شخص اپنے آپ کو بے انتہا تنہا پاتا ہے۔ میرے لئے یہ روز کی بات ہے۔ صبح کے سایوں میں لپٹی ہوی نیویارک کی عمارتیں باہر سے بے حد سرد نظر آتی ہیں۔ لیکن ان کی اس سردی سے میں پوری طرح آشنا ہوں، اس شہر کی پوری فضا کچھ ایسی ہے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے سانحے کے بعد میرا خیال تھا کہ یہاں کی فضا میں کچھ گرمی آ جائے گی۔ مگر میرا یہ خیال غلط نکلا، اب یہاں کی فضا تو پہلے سے بھی ذیادہ سرد ہو گئی ہے۔ پھر جب ذیادہ سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ شاید میرا یہ خیال بھی غلط ہو۔

دفتر پہنچ کر میں اپنے کاموں کے ہجوم میں گم ہو جاتا ہوں، اور اپنے آپ کو بھول جاتا ہوں۔ وہاں کا کچھ حساب کتاب ایسا ہے۔ وہاں تمام رشتے کاموں کی بنیاد پر بگڑتے یا سنورتے ہیں، انسانیت کے تقاضوں کی مداخلت خاصی کم ہے۔ یوں سوچتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ وہاں کام کرنے والے انسان کم اور انسان نما مشینیں ذیادہ ہیں۔ جن کو کسی ماہر انجینیر نے بنایا ہے، اور ان کی تمام حرکات و سکنات پہلے سے پروگرام کی جا چکی ہیں۔

یہاں اتنے عرصے سے کام کرتے ہوئے اب مجھے لگتا ہے کہ جیسے کسی غیر مرئی طاقت نے میری بھی پروگرامنگ کر دی ہے۔ کیونکہ مختلف چیزوں کے بارے میں میں اپنا ردِ عمل بھی مشینی پاتا ہوں۔ کام سے فارغ ہو کر جب دفتر سے نکلتا ہوں تو اکثر اس بات پر غور کرتا رہتا ہوں کہ کیا اب میرے اندر کا مشینی آدمی سونے چلا گیا ہے، یا وہ ابھی تک جاگ رہا ہے؟ اور کیا اب بھی میرے جذبات اور خواہشات کسی کمپیوٹر پروگرام کے اختیار میں ہیں؟

ایسے میں مجھے وہ لڑکی یاد آتی ہے۔ جو روز صبح اسٹیشن پر اخبار بیچتی ہے۔ روزآنہ ایک ہی کام کو دہرانا ایک مشینی عمل ہے۔ تو کیا روز صبح اسکا مجھے دیکھ کر مسکرانا بھی ایک مشینی عمل ہے؟ میں نے اس بات پر خاصا غور کیا ہے، مگر مجھے نہیں لگتا کہ ایسا ہے۔ کیونکہ اس کی آنکھوں کی چمک واقعی بہت پرُکشش اور بے ساختہ ہوتی ہے۔ اور کبھی جب وہ گم سم سی کھڑی ہو تو مجھے دیکھ کر مسکرانا بھول بھی جاتی ہے، جو کہ ایک عین انسانی بات ہے۔

یہ سب دیکھ کر مجھے لگتا ہے کہ اس کے وجہ شاید یہ ہے کہ اسکا پیشہ ادنیٰ درجے کا ہے یا شاید وہ بہت کم کماتی ہے۔ کیونکہ وہ نہیں سمجھ سکتی کہ ایک مشینی انداز کام میں کتنا فائدہ مند ہوتا ہے․․․․ لیکن ایسا ضروری بھی نہیں۔ ایک ادنیٰ پیشے کا کم پیسے کمانے والا شخص جو کہ ایک مشینی انداز سے کام کرتا ہو پوری ذندگی ان ہی حالات میں پڑا رہتا ہے۔ اس لئے کوئی ضروری نہیں کے ایسا ہو۔

دفتر سے فارغ ہو کر میں اپنی مخصوص بار میں جا کر دم لیتا ہوں۔ اور بئیر آڈر کرتا ہوں۔ یہاں اینجلینا (Angelina) کام کرتی ہے۔ اس سے میری اچھی خاصی واقفیت ہے۔ اصل میں شروع میں اسکی دوستی میری گرل فرینڈ مونیکا (Monica) سے تھی۔ لیکن آجکل موینکا میرے ساتھ نہیں ہوتی۔ مجھے بار میں اکیلا دیکھ کر اینجلینا ایک ہی سوال کرتی ہے کہ میری گرل فرینڈ کہاں ہے۔ اور میں اسے یہ ہی جواب دیتا ہوں کہ لاٹویا (Latvia) سے اسکی ماں آئی ہوئی ہے۔ اور وہ اپنی ماں کے ساتھ مصروف ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اینجلینا یہ سمجھتی ہے کہ میری مونیکا کے ساتھ کوئی انَ بنَ ہو گئی ہے، یا ہمارا تعلق منقطع ہو گیا ہے۔ لیکن ایسا نہیں۔

مونیکا کی جاب پر آجکل دو تین بڑے بڑے پراجیکٹ آئے ہوئے ہیں۔ شام تک دفتر سے فارغ ہوتے ہوتے اسے دیر بہت ہو جاتی ہے اور تھک بھی بہت جاتی ہے۔ اور پھر اسکی ماں بھی آئی ہوئی ہے۔ اس لئے وہ میرے ساتھ آ کر بار میں نہیں بیٹھتی۔ ہماری ملاقات اب کبھی کبھار کسی ویک اینڈ پر ہوتی ہے۔

اب میں بار میں اکیلا بیٹھ کر بئیر پیتا ہوں۔ یہاں پر آنے والی دوسری لڑکیوں کے ساتھ اپنا دل بہلاتا ہوں۔ میری لڑکیوں سے دوستی بہت جلدی ہو جاتی ہے۔ وہ میرے ساتھ گھل مل جاتی ہیں اور مجھے اپنی ذندگی کے بارے میں بتانے لگتی ہیں۔ میں بھی انھیں اپنے بارے میں بتاتا ہوں۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ میری پانچ بہنیں ہیں، وہ سب یورپ کے مختلف ملکوں میں رہتی ہیں۔ میں اپنی بہنوں کا اکلوتا بھائی ہوں اور وہ مجھے بہت چاہتی ہیں۔ پھر میں انھیں بتانے لگ جاتا ہوں کہ میں نے یورپ میں کہاں کہاں کی سیر کی ہے۔ وہ میری باتوں میں محو ہو کر دلکش انداز میں مسکراتی رہتی ہیں۔

اینجلینا یہ سمجتی ہے کہ مونیکا سے میرا تعلق اب ٹوٹ گیا ہے۔ اور میں ہر آنے جانے والی لڑکی پر ٹرائیاں مارتا رہتا ہوں۔ لیکن یہ بات اینجلینا کی خالی کھوپڑی کی ایک فضول ایجاد ہے۔ شاید وہ یہ چاہتی ہے کہ میں ان لڑکیوں کو چھوڑ کر اسکے ساتھ باتیں کروں۔ لیکن وہ تو میرے بارے میں سب کچھ جانتی ہے، اسکے ساتھ میں کیا خاک باتیں کروں گا۔ اور پھر ان لڑکیوں کے ساتھ گپ شپ تو میں ان دنوں میں بھی کرتا تھا جب مونیکا میرے ساتھ ہوتی تھی۔ میں ان کے ساتھ طرح طرح کی دلچسپ باتیں کرتا ہوں۔ اس طرح وقت بہت اچھا گزر جاتا ہے۔ اسکے آگے میری کوئی مراد نہیں ہوتی۔ نہ میں ان لڑکیوں کے ساتھ سونا چاہتا ہوں نہ ہی دیر تک بستر میں انکے برابر لیٹے رہنا چاہتا ہوں۔ مونیکا میری ان عادات سے اچھی طرح واقف ہے۔

اگر مجھے اسپانوی زبان آتی ہوتی تو میں ٹرین اسٹیشن کے باہر اخبار بیچنے والی لڑکی سے پوچھتا کہ اسکا تعلق کس ملک سے ہے۔ لیکن پھر میں اس سے یہ نہیں کہتا کہ حال ہی میں اسکے ملک کے کسی خوبصورت علاقے میں میری بہہن شفٹ ہو کر گئی ہے۔ بلکہ جو بات بھی کرتا اسکی بنیاد سچ پر ہوتی، یوں اس سے دوستی کا آغاز کرتا۔

نیویارک شہر کی کسی گمنام بار میں بیٹھے لڑکیوں کے ساتھ گپ مارتے مارتے میں اُکتا جاتا ہوں۔ ان لڑکیوں سے میری دوستی جلدی تو ہو جاتی ہے، لیکن انکے ساتھ ذیادہ وقت گزارنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کیونکہ کہانیاں گڑھ گڑھ کر سناتے سناتے میں خود بور ہو جاتا ہوں۔ اس شہر میں سچ کی بنیاد پر دوستیاں شاز و نادر ہوتی ہیں۔ اس لئے میں ان دوستیوں کو ایسے ہی کسی گمنام مے خانے میں چھوڑ جاتا ہوں۔ یہاں سے باہر مجھے ان کا خیال نہیں آتا۔

میں جب بار سے نکلتا ہوں تو الکوحل کا اثر مجھ پر اتنا ذیادہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ میں عادتاً ذیادہ نہیں پیتا۔ جب مونیکا میرے ساتھ ہوتی تھی تو وہ اکثر اپنے گھر کی راہ پر ہو لیتی تھی۔ اور میں اکیلا نیویارک کی اونچی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی عمارتوں کے درمیان بہت دیر تک ٹہلتا رہتا۔ اور تنہائی کا احساس عجیب طرح سے شکل بدل لیتا۔ مجھے لگتا کہ میں تنہا نہیں بلکہ یہ تمام پتھر اور سیمنٹ کی عمارتیں میری ہمراہ ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ میں انسانوں سے باتیں کرتا ہوں، اور یہ آسمانوں سے۔ صبح ہوتے ہی طرح طرح کے انسان ان عمارتوں کے کمروں میں آ وارد ہوتے ہیں، اور دن بھر کے کاموں کے بعد شام کو انہیں خالی چھوڑ کر اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں۔ میرے دن اور رات کی کہانی بھی کچھ ان جیسی ہے۔ فرق اتنا ہے کہ میرے دن کے مکین رات کو جاتے ہیں، اور رات کے مکین صبح سے پہلے چلے جاتے ہیں۔

اکثر رات کو سڑکوں پر آوارہ پھرتے پھرتے میں ان عمارتوں کے چند ایسے کمروں میں پہنچ جاتا ہوں جن کے بارے میں بہت کم لوگوں کو علم ہے۔ یہاں مئیر جولییانی (mayor juliani) کے ریاکارانہ اور غریب دشمن قوانین کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ جب میں کمرے میں داخل ہوتا ہوں تو مجھے بہت سی ایسی عورتیں نظر آتی ہیں جنہیں اس معاشرے نے صرف ایک کام کرنے پر مجبور کیا تھا، اور اب ان سے یہ پیشہ بھی چھینا جا رہا ہے۔

یہاں کی بھی کئی عورتوں سے اب میری دوستی ہو چلی ہے۔ یہ میرے ساتھ لیپ ڈانس (lap dance) کرتی ہیں۔ میں دیوار کے ساتھ لگی کسی کرسی پر بیٹھ جاتا ہوں۔ اور ایک عورت میری گود میں آ کر بیٹھتی ہے۔ دھیرے دھیرے وہ برہنہ ہوتی جاتی ہے۔ اور میں دیر تک اسکے جسم کے مختلف گوشوں سے لظف اندوز ہوتا رہتا ہوں، اور اس سے باتیں کرتا ہوں۔ لیکن یہ باتیں ان باتوں سے مختلف ہوتی ہیں جو میں بار میں لڑکیوں سے کرتا ہوں۔ ان سے میں سیاست پر باتیں کرتا ہوں، تاریخی واقعات، جنگوں یا کبھی کبھار کتابوں اور فلموں پر باتیں کرتا ہوں۔ مگر ان سے یہ دریافت نہیں کرتا کہ وہ یہ کام کیوں کرتی ہیں، یا کن واقعات نے انہیں اس کام پر مجبور کیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ مجھے ان میں سے کوئی بھی ذیادہ تعلیم یافتہ یا انٹیلیکچول قسم کی نہیں لگتی، جسے پڑھنے لکھنے سے شغف ہو۔ لیکن اس کے باوجود وہ میری باتیں بڑی دلچسپی سے سنتی ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ انکے پیشے نے انھیں سکھایا ہے، انہیں ایک مرد کو وقتی طور پر راحت پہنچانے کے تمام گرُ آتے ہیں۔

لیکن اکثر، یہاں سے باہر نکلنے کے بعد مجھے اسی لڑکی کا خیال آجاتا ہے، وہی جو روز صبح ٹرین اسٹیشن کے باہر اخبار بیچتی ہے۔ اور میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ آخر وہ لڑکی مجھے بار بار اس طرح کیوں یاد آتی ہے۔ شاید اس لئے کہ میں اسکی زبان نہیں جانتا ہوں اس لئے اس سے باتیں نہیں کر سکتا ہوں۔ یا شاید اس لئے کہ صبح کے وقت سردی بہت ہوتی ہے اور مستقل باہر کھڑے ہونے کے لئے اسے اپنے جسم کو موٹے موٹے جیکٹوں یا اورکوٹوں میں چھپانا پڑتا ہے۔ اور مجھے صرف اسکی دلکش مسکراہٹ نظر آتی ہے جو تمام وقت میرے خیالوں پر چھائی رہتی ہے۔

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنی دلکش مسکراہٹ اور موٹے اورکوٹ کے پیچھے وہ ایک عام سی محنت کش لڑکی ہو۔ جسکے دو بچے ہوں اور اسکا شوہر صبح سات بجے سے رات گیارہ بجے تک نیویارک سٹی کے کسی رستوران کے کچن میں برتن صاف کرتا ہو۔ میری رنگت دیکھ کر اسے اپنے ہی ملک کا کوئی نوجوان یاد آتا ہو۔ اور شاید وہ اس لئے مسکرا دیتی ہو کہ مجھے اندازہ نہیں ہو پائے کہ ذندہ رہنے کے لئے اسے کتنی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ شاید اسکی یہ جدوجہد اسکے لباس اور مسکراہٹ دونوں میں عبارت ہو اور مجھ میں اسکی خاطر ایک گہرا احترام پیدا ہو جاتا ہو۔

ُُ’’․․․شاید․․․․․‘‘ میں سوچتے ہوئے مسکراتا ہوں۔

ورلڈ ٹروڈ سینٹر کے ٹاور جب گرے تھے تو وہ مجھے کئی دنوں تک نظر نہیں آئی تھی۔ اسکے بعد جب اسنے آنا شروع کیا تھا تو وہ کئی دنوں تک نہیں مسکرائی تھی۔ ہو سکتا ہے کہ مرنے والوں میں اس کے جاننے والے ہوں جو کسی رستوران، نیوزاسٹینڈ یا کسی کافی شاپ میں کام کرتے ہوں․․․․․․ ۔


اس حادثے کے بعد جب حالات تھوڑے معمول پر آئے تھے، اور میں نے اپنی معمول کی جگہوں پر دوبارہ جانا شروع کیا تھا تو کئی دنوں تک میری اپنے دوستوں سے کسی اور موضوع پر بات نہیں ہوئی تھی۔ بار میں آنے والی لڑکیاں مجھے بتاتیں کہ وہ اس وقت کہاں تھیں اور ان پر کیا بیتی۔ اور وہ ان لوگوں کا ذکر کرتی تھیں جو اس واقعے کے بعد لاپتہ ہوگئے۔

لیپ ڈانس کے دوراں وہ عورتیں تھوڑی سرد ہوتی تھیں، میں انکے جسموں میں وہ لطافت نہیں پاتا تھا۔ پھر جب افغانستان میں جنگ شروع ہوئی تو ان کی یہ ہچکچاہٹ کم ہونے لگی جیسے کہ دوا نے ان پر اثر دکھانا شروع کر دیا ہو۔ ان کا یہ ردِعمل میں سمجھتا ہوں، وہ اپنے معاشرے اور تجربے کی اسیر ہیں۔


مونیکا سے میرا تعلق ختم ہو جائے تو چند دن کے بعد میں اسے بھول جاؤں گا۔ بار کی وہ لڑکیاں اگر مجھ سے بات کرنا چھوڑ دیں تو میں کسی اور بار میں دوستیاں کر لوں گا۔ کیونکہ یہ ہی اس معاشرے میں جینے کا اصول ہے۔

لیکن اگر اسٹیشن کے باہر اخبار بیچنے والی لڑکی نے آنا چھوڑ دیا تو میرے خیالات کے تسلسل میں ایک خلا پیدا ہو جائے گا۔ بالکل اسی طرح جیسے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ٹاوروں کے گرنے سے نیویارک شہر کے آسمان میں ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔ پھر اس خلا کو پر کرنے کے لئے شاید مجھے بھی کسی سے جنگ چھیڑنے کی ضرورت پڑ جائے ۔



ایک کیڑا

ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے نیچے زمین کی طے میں کئی سو فٹ نیچے ایک ٹرین آکر رکتی ہے اور اس میں سے ایک کیڑا باہر نکلتا ہے۔ لوگوں کے ہجوم میں گھرا ہوا۔ بازو سے بازو اور کہنیوں سے کہنیاں ٹکراتی ہیں۔ لیکن تمام کہنیوں پر موٹے کوٹوں کی کئی تہیں چڑھی ہوئی ہیں۔ کیڑا اپنے ساتھ چلتی ہوئی کسی گوری عورت کی نرم اور ملائم جلد کو چھوکر محسوس نہیں کرسکتا۔ اس بات کا اسے افسوس ہے۔

مگر اپنے طور پر کیڑا بہت جوش میں ہے۔ اس سے کہیں بڑی بھیڑ اور ہجوم اس نے اپنی زندگی میں کئی بار دیکھے ہیں۔ ’’یہ تو بچوں کی بات ہے……‘‘ کیڑا سوچتا ہے۔ اور وہ دھکے دیتا ہوا اس ہجوم میں آگے بڑھتا ہے…… اس کے ساتھ چلتے ہوئے لوگ ایسے دھکوں کے عادی نہیں۔ اسے جگہ دے دیتے ہیں یوں وہ آگے بڑھتا جاتا ہے۔ یہ ہی اس کی جیت ہے، یہیں پر اس کی فتح ہے۔ فخر سے اس کا دل اور تیز دھڑکنے لگتا ہے اور کیڑے کو زندگی بھر دھکے کھانے کا پھل ملتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔

کچھ دیر میں وہ عمارت سے باہر آجاتا ہے۔ تیز چلتی ہوئی ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا اسے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی خنجر اس کے چہرے کو چیر رہا ہو۔ کیڑے کو ایک لمحے کے لئے تکلیف کا شدید احساس ہوتا ہے۔ وہ اپنے دائیں بائیں دیکھتا ہے۔ اسے عمارت سے باہر نکلتی ہوئی کئی خوبصورت عورتیں نظر آتی ہیں۔ وہ سب تیزی سے اپنی اپنی منزلوں کی طرف جا رہی ہیں۔ کیڑا کچھ دیر انہیں یوں جاتا ہوا دیکھتا ہے،پھر وہ بھی تکلیف کو بھولتا ہوا اپنی راہ پر ہونے لگتا ہے۔

اب اس کا ذہن تمام خیالات سے خالی ہے سوائے خوش قسمتی کے ایک احساس کے کہ وہ وہاں، اس جگہ موجود ہے۔ اس کے اطراف کی دنیا میں کتنی روانی ہے، کتنی ہم آہنگی ہے۔ پھر اس کی توجہ اسٹاک مارکیٹ کی طرف مبذول ہوجاتی ہے، اور وہ راتوں رات کروڑ پتی ہونے کے خواب دیکھنے لگتا ہے۔

نیویارک شہر میں رہنے والا یہ ہے صرف ایک کیڑا۔ جس کے ہونے یا نہ ہونے سے شہر کی آب و تاب پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لیکن اس کیڑے کو ان باتوں کا احساس نہیں۔ دن کے کوئی گیارہ بجے ہیں۔ کیڑا اپنی کرسی پر بیٹھا کام میں بے انتہا مصروف ہے۔ اس کی میز پر رکھے ہوئے کمپیوٹر کے اسکرین پر متعدد اعداد و شمار نظر آرہے ہیں جو لمحے لمحے پر تبدیل ہوتے ہیں۔ کیڑے کو ان پر مستقل نظر رکھنی پڑتی ہے۔ اس کے ڈیسک پر رکھا ہوا ٹیلی فون متواتر بجتا رہتا ہے۔ اکثر اوقات بہ یک وقت اُسے کئی کام کرنے پڑتے ہیں۔ آس پاس کام کرنے والوں کا حال بھی یہ ہی ہے۔ کسی کے پاس رکنے کی مہلت نہیں۔ کام کے بے حد دباؤ کی وجہ سے چہروں پر سنجیدگی اور گہرا تناؤ ہے۔ کیڑے کے چہرے سے بھی یہ ہی تاثرات عیاں ہو رہے ہیں۔ ان کی وجہ سے وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اک برابری محسوس کرتا ہے۔ ایک لمحے کے لئے نظر اٹھا کر اپنے آگے بیٹھی ہوئی لڑکی کو تکتا ہے پھر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہوجاتا ہے۔

کیڑا اپنے کام میں ماہر ہے۔ اس کے ساتھ کام کرنے والے یہ بات جانتے ہیں۔ کچھ دیر میں آگے بیٹھی ہوئی لڑکی پاس آتی ہے اور کوئی سوال پوچھتی ہے۔

اب کیڑا اپنا تما م کام چھوڑ دیتا ہے اور اس کے سوال کا جواب دینے میں مگن ہوجاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنی قابلیت کو استعمال کرتے ہوئے اس پر ڈورے ڈالے۔ لیکن وہ لڑکی سوال کا جواب پاتے ہی اپنے کام کی طرف لوٹ جاتی ہے اور کیڑے کے ذہن میں پیدا ہونے والے کئی سوالات بن کھلے مرجھا جاتے ہیں۔

کچھ دیر بعد کیڑا اٹھتا ہے، کافی کا کپ ہاتھ میں لئے اس لڑکی کی جانب بڑھتا ہے۔ لیکن وہ لڑکی کام میں بے انتہا مشغول ہے۔ وہ اس کی طرف نہیں پلٹتی۔ کچھ دیر انتظار کرکے کیڑا اپنے دل میں اُسے ایک موٹی سی گالی دیتا ہے، اور یہ سوچتا ہوا کہ وہ اس لڑکی سے زیادہ پیسے کماتا ہے دوبارہ کام میں مشغول ہونے کی کوشش کرتا ہے۔

اب لنچ کا وقفہ ہے۔

کیڑا عمارت سے باہر نکلتا ہے۔ سورج نکل آیا ہے لیکن سردی اب بھی خاصی ہے۔ ٹھنڈ کے ایک تندتھپیڑے سے اس کی آنکھیں چمکتی ہیں اور جسم سکڑتا ہے۔ سڑک پر کچھ آگے ایک ریستوران نظر آتا ہے۔ اس میں کام کرنے والے اس ہی کے ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہاں کے متعلق خیال آتے ہی کیڑے کے ذہن میں پرانے احساسات جاگ اٹھتے ہیں۔’’ …… فحش ملک تھا وہ …… اور فحش ہوتے ہیں وہاں کے رہنے والے……‘‘ وہ غصےّ میں سوچتا ہے۔’’…… میں وہاں نہیں جاؤں گا……‘‘ کچھ آگے بڑھ کر وہ ایک سستے سے ٹھیلے سے اپنے واسطے کھانا خریدتا ہے اورتیزی سے اپنی ڈیسک کی طرف پلٹتا ہے۔ ڈیسک پر تنہا بیٹھ کر کھانا کھانے میں اُسے تحفّظ کا احساس ہوتا ہے۔ پھر اپنے وطن کے خیالات اس کے ذہن میں دوبارہ آنے لگتے ہیں۔ وہ ان میں گھر کر کچھ دیر کے لئے بے بس ہوجاتا ہے۔ وہاں کی تنگ اور پتلی گلیاں، چھوٹے چھوٹے کوارٹر، اور ان میں بسنے والے لاتعداد لوگ کچھ دیر تک اس کے تحفظ کے احساس پر تابڑ توڑ حملے کرتے رہتے ہیں۔ اور وہ اپنے آپ کو اس نئی دنیا میں بالکل تنہا اور بے بس محسوس کرتا ہے۔ پھر یکایک اس کے کمپیوٹر کے اسکرین پر بہت ہی غیر متوقع اعداد و شمار نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں اور ایک بار پھر اس کی تمام توجہ ان اعداد و شمار میں واقع ہونے والی تبدیلیوں کی لہروں میں تھپیڑے کھانے لگتی ہے۔

یوں وہ دن تمام ہوتا ہے۔ رات آٹھ بجے کیڑا اپنے کام سے فارغ ہوگیا ہے۔ آج کا دن اچھا گزرا۔ اس نے اپنے مالکوں کے واسطے بہت سود مند بیوپار کیا۔ اس بات کی اسے خوشی ہے۔ یہ سال اب تک اچھا گزر رہا ہے۔ کیڑا بہت اطمینان سے ہے۔ شاید اس سال وہ تھوڑے زیادہ پیسے بنا پائے۔ اس خیال نے تمام دن کی تھکن دور کر دی ہے۔ اب وہ اپنے آپ کو عیش و عشرت میں کھونا چاہتا ہے۔’’…… یہ ہے مزا یہاں کی زندگی کا……‘‘ وہ سوچتا ہے۔

اس رات کلب میں رش خاصا ہے۔ کمر سے کمر اور سینے سے سینہ ٹکراتا ہے۔ کیڑا ڈانس فلور پر رقص کرنے میں مگن ہے۔ کبھی وہ ایک لڑکی کے ساتھ رقص کرتا ہے کبھی دوسری۔ لیکن آج کوئی لڑکی بھی اس کے ساتھ ٹک نہیں رہی۔ ’’کیا آج میں کسی کو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب ہو پاؤں گا؟…… ‘‘ کیڑا سوچ رہا ہے۔

پھر کوئی اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہے۔ کیڑا پلٹ کر دیکھتا ہے کہ ایک مرد ہے۔ کیڑے کو اس کی حرکت بھلی نہیں محسوس ہوتی۔ وہ اس کا ہاتھ ہٹا کر ڈانس فلور پر اس سے دور ہٹ جاتا ہے۔ مگر کچھ دیر میں وہ شخص پھر اس کے قریب موجود ہوتا ہے۔ کیڑے کو اس سے سخت وحشت ہوئی ہے۔ وہ پھر دور ہٹنے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ شخص پیچھا نہیں چھوڑتا۔ کیڑے نے آج شراب بہت پی ہوئی ہے نشے اور کوفت سے کیڑا اس شخص کو پیچھے دھکا دیتا ہے۔ وہ شخص بھی اُسے دھکا دیتا ہے۔ چند لمحوں میں وہ دونوں ڈانس فلور پر گتھم گتھا ہوئے لڑ رہے ہوتے ہیں۔

فلور پر بھگدڑ مچ جاتی ہے۔ لوگ ادھر اُدھر بھاگتے ہیں۔ کلب کے محافظ ان کو الگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جلد ہی ان پر قابو پالیتے ہیں۔ کیڑے کو دو لحیم شحیم آدمیوں نے جکڑا ہوا ہے۔ وہ اسے کھینچتے ہوئے دروازے کی طرف لے جا رہے ہیں۔ کیڑا چیختا ہے شور مچاتا ہے لیکن وہ اس کی نہیں سنتے۔ تھوڑی دیر بعد وہ اُسے کلب کے دروازے کے باہر دھکا دے دیتے ہیں۔

اب کیڑا باہر سڑک پر اکیلا کھڑا ہے۔ رات کافی گزر چکی ہے۔ جاڑے کی ٹھنڈی ہوا اس کی ہڈیوں کے گودے کو جما رہی ہے۔ لیکن کیڑے کا دماغ ابھی بھی غصے سے گرم ہے۔’’…… بدمعاش کہیں کے……‘‘ وہ سوچ رہا ہے۔ پر دوسری طرف اسے اب بھی ایک اطمینان ہے کہ آج اس نے اپنے مالکوں کے واسطے بہت پیسے بنائے۔ وہ اپنے بھاری قدم اٹھاتا ہوا ایک ٹرین اسٹیشن کی طرف بڑھ رہا ہے۔

آگے سڑک کے کونے پر ایک عورت کھڑی ہے۔ کیڑا جب اس کے قریب پہنچتا ہے تو وہ عورت اسے دیکھ کر مسکراتی ہے اور ہلکے خرام میں اس کی طرف بڑھتی ہے۔ کیڑا ٹہر جاتا ہے۔

تھوڑی دیر میں کیڑا اس عورت کے ساتھ ایک کمرے میں موجود ہوتا ہے۔ اُسے یوں محسوس ہو رہا ہے جیسے وہ وقت کا بادشاہ ہے، اور کسی وقت بھی بڑی سے بڑی عیاشی کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔’’ اسے کہتے ہیں زندگی…… اور یہ ہے عیاشی…… ‘‘ وہ سوچ رہا ہے۔

وہاں سے فارغ ہوکر وہ گھر کی طرف نکلتا ہے۔

اس وقت وہ ٹرین میں سفر کر رہا ہے۔ رات کی اندھیری گہرائیوں میں اتر چکنے کے بعد اب نہ جانے کہاں گم ہوچکی ہے۔ ٹرین کے ڈبے میں اس کے علاوہ کوئی شخص موجود نہیں۔ ٹرین ایک اسٹیشن پر رکتی ہے، اور ڈبے میں ایک دیوہیکل شخص چڑھتاہے۔ کیڑے کو ڈبے میں اکیلا پاکر اس کی چہرے پر ایک مہیب مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے۔کیڑا اُسے دیکھ کر سر سے پیر تک کانپ جاتا ہے۔ اس کی نگاہیں راہِ فرار کی تلاش میں ادھر سے ادھر پھڑ پھڑائی ہیں۔ لیکن کوئی ایسا راستہ اب موجود نہیں۔

نیو یارک شہر کی سطح زمین سے کئی سوفٹ نیچے سفر کرنے والی اس ٹرین میں یہ ہے ایک کیڑا۔ صرف ایک کیڑا۔

جمعرات، 16 اکتوبر، 2014

جب وقت رک گیا

(۱)

روشن دان سے کچھ نیچے دیوار میں ایک دراڑ ہے۔ یہاں سے یہ چیونٹیاں نکلتی ہیں۔ اور پھر نیچے آکر زمین کے قریب ایک اور سوراخ میں غائب ہوجاتی ہیں۔

میرا قد کوئی پانچ فٹ آٹھ انچ ہے ، ہاتھ اٹھاؤں تو تقریباً پونے سات فٹ کی اونچائی تک پہنچتا ہے ، لیکن یہ دراڑ میری پہنچ سے بھی کوئی فٹ بھر اونچی ہے۔ روشن دان سے کوئی چھ انچ نیچے میں نے حساب لگایا ہے کہ اوپر سے نیچے تک یہ چیونٹیاں کوئی آٹھ فٹ کا سفر طے کرتی ہیں۔

وقت کا اندازہ لگانے کے لئے میرے پاس کوئی چیزنہیں جس سے معلوم ہو پائے کہ ایک چیونٹی کی اوسط رفتار کیاہوتی ہے۔ لیکن میرااندازہ ہے کہ انہیں اوپر سے نیچے تک پہنچنے میں کوئی دس منٹ لگتے ہوں گے۔ پھر سوچتا ہوں کہ ہوسکتا ہے کہ پانچ منٹ ہی لگتے ہوں ، پانچ یا دس کیا فرق پڑتا ہے۔ وقت کی اہمیت کہاں ہے۔

اگر وقت ڈوری کی طرح کی چیزہوتی تو میں اس کولمبا بچھا دیتا اور دوھرا کر کے اس کے کئی حصے کردیتا۔ جو حصے پسند آتے انہیں رکھتا باقی تمام پھینک دیتا۔ لیکن یہاں تو وقت ناپنے کے لئے گھڑی چاہیے یا کوئی ایسا آلہ جو ایک مستقل رفتار کے ساتھ چلے۔ ایسا کوئی آلہ میرے پاس موجود نہیں۔ کبھی کبھی میں اپنا ہاتھ ڈھیلا لٹکاکر گھڑی کے پنڈولم کی طرح ہلانے کی کوشش کرتا ہوں کہ اس سے وقت کا کوئی اندازہ ہوسکے لیکن پھر جلد ہی تھک جاتا ہوں اور وقت کے گزرنے پر اپنے ہاتھ کے پنڈولم کی پابندی ہٹا لیتا ہوں اور اسے آزاد چھوڑ دیتا ہوں۔ ’’میں آزاد نہیں تو کیا ،میں نے وقت کو توآزاد چھوڑا ہوا ہے ‘‘ میں سوچتا ہوں۔

کبھی کبھی اپنے ہاتھ کے پنڈولم کی مدد سے میں نے چیونٹیوں کی رفتار ناپنے کی کوشش کی ہے لیکن ہمیشہ یاتو چیونٹی پر سے نظراٹھ جاتی ہے یا پھر ہاتھ کی گنتی بھول گیا۔ صرف دو دفعہ یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ مکمل کر پایا ہوں۔ ایک بار 745بار میں ایک چیونٹی نیچے تک پہنچی تھی اور دوسری با ر 650 مرتبہ میں۔

اب میں نہیں کہہ سکتا کہ میرے ہاتھ کی رفتار بدل گئی تھی یا چیونٹیوں کی رفتار بدلتی رہتی ہے۔

چیونٹیاں اوپر سے نیچے تک ایک ہی قطار میں آتی ہیں۔ مجال ہے کہ کوئی اس سے نکل کر ادھر ادھر ہوجائے ، ان کو لائن میں رکھنے کے لئے نہ سپاہیوں کی ضرورت ہے اور نہ وارڈن کی کسی دھمکی کی۔ ایک جگہ سے ایک چیونٹی گزر جائے تو لازم ہے کہ باقی بھی ادھر ہی سے گزریں۔ یہ بات میں نے کئی دن کے مشاہدے کے بعد دریافت کی ہے۔

اب میں اس فکر میں لگا ہوں کہ اندازہ کر پاؤں کہ ایک وقت میں اس قطار میں کتنی چیونٹیاں آتی ہیں لیکن یہ بھی آسان کام نہیں۔ میرا خیال ہے کہ ایک انچ میں کوئی دس یا بارہ چیونٹیاں آتی ہیں۔ اس عدد کی بنیاد پر میں صرف اندازہ ہی لگا سکتا ہوں کہ پوری قطار میں کتنی آتی ہوں گی۔

یہ چیونٹیوں کی سائنس بھی کیا خوب علم ہے، اس کا اندازہ مجھے ابھی چند روز پہلے ہی ہوا ہے۔ میں اس علم کی جستجو میں اس کوٹھری کے تمام عذاب بھول گیا ہوں۔ بلکہ اب سوچتا ہوں کہ باقی کی قید بھی اسی کوٹھری میں گزرجائے تو مجھ پہ کتنارحم ہوگا۔

میں قیدی نمبر 1212 ہوں۔ مجھے اس جیل خانے میں اب کوئی بارہ سال ہونے کو آئے ہیں ، تین ہفتے پہلے میری مست آرائیں سے لڑائی ہوگئی تھی اور میں نے اسے چاقو لگا دیا تھا۔ اس کی سزا میں وارڈن نے مجھے چالیس دن کے لئے اس اندھیری کوٹھری میں بند کردیا۔ میرے حساب کے مطابق آج شاید 2 3واں دن ہے۔

ویسے تو میں کب کا دن گننا چھوڑ دیتا لیکن ان چیونٹیوں نے میرے تمام احساسات کو بے حد حساس بنا دیا ہے۔ یہ چیونٹیاں رکتی نہیں۔ یہاں تک کہ رات کے گھپ اندھیرے میں بھی میں نے دیوار پر ہاتھ رکھ کرمحسوس کیا تو یہ چیونٹیاں مجھے اپنی قطار میں چلتی ہوئی محسوس ہوئی ہیں۔ پھر میں اپنے ہاتھ کو وہیں چھوڑ دیتاہوں۔ اندھیرے میں ان کے راستے میں ایک ناگزیر رکاوٹ حائل ہوجاتی ہے۔ پر میں نے محسوس کیا ہے کہ کچھ میرے ہاتھ کے اوپر سے کچھ اطراف سے ہوتی ہوئی نیچے پہنچی ہیں اور ایک قطار کی صورت میں اپناسفر دوبارہ شروع کردیا ہے۔ اس سے مجھے پتہ چلا ہے کہ یہ اندھیرے میں نہ صرف دیکھ سکتی ہیں بلکہ قطار بھی بنا سکتی ہیں۔ ان کی یہ صلاحیت معلوم کرکے میں دنگ رہ گیا ہوں۔

انسانوں میں فوج کے سپاہیوں کے علاوہ شاید ہی کسی اور میں اتنا نظم و ضبط دیکھا گیاہے۔ لیکن فوجیوں میں بھی کیا نظم و ضبط ہوتاہے ان کے ہاتھوں سے بندوقیں لے لو پھر دیکھو کہ کون کس کا کہا مانتا ہے۔

میں نے پچھلے تین ہفتوں میں چیونٹیوں سے جتنا کچھ سیکھا ہے شاید ہی زندگی میں کسی اور چیز سے سیکھا ہوگا۔ جب اس کوٹھری سے باہر نکلوں گا تو ضرور ایک بدلا ہوا انسان ہوں گا۔ دوسرے اس بات کو تسلیم کریں یا نہ کریں لیکن مجھے پکا یقین ہے۔

وقت ناپنے کے لئے ایک مستقل رفتار سے ہلتی ہوئی چیز چاہئے۔ یہ بات میں نے ان چند ہفتوں میں دریافت کی ہے۔ اس کوٹھری میں ایک مستقل رفتار سے چلتی ہوئی چیز صرف یہ چیونٹیوں کی قطار ہے۔ اگر یہ رک گئی تو وقت رک جائے گا۔ پھر اس کوٹھری میں تمام چیزیں ساکت ہوجائیں گی۔ سوائے میرے ، میں وقت کو اپنی مرضی پر چلاؤں گا۔ جب میں ہلوں گا تو وقت چلے گا نہیں تو ساکت ہوجائے گا۔

روشن دان کے قریب سے نیچے آنے والی چیونٹیاں ایک مستقل رفتار کے ساتھ چلتی ہیں ان کی اس رفتار کے ساتھ میری زندگی کا نظم و ضبط وابستہ ہے۔ یہ زندگی کی علامت ہیں۔ جب میں صبح اٹھتا ہوں توکہتا ہوں کہ رات بھر میں اس قطار میں بارہ ہزار چیونٹیاں گزر گئی ہیں۔ کیونکہ میں نے پیمانہ بنایا ہے کہ ایک گھنٹے میں ایک ہزار چیونٹیاں گزرنی چاہئیں۔ جب میں سمجھتا ہوں کہ ایک ہزار چیونٹیاں گزر گئیں ہیں تو کہتا ہوں کہ ایک گھنٹہ گزر گیا۔ یا جب میں سمجھتا ہوں کہ ایک گھنٹہ گزر گیا ہے تو کہتا ہوں کہ دیوار پر ایک ہزار چیونٹیاں گزر گئیں ہیں۔

جب دیوار پر سے بارہ ہزار چیونٹیاں گزر جاتی ہیں تو میری کوٹھری کا دروازہ کھلتا ہے اور مجھے کھانا ڈالا جاتا ہے۔ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ اسے ان چیونٹیوں نے ہی کھانا لانے کے لئے تعینات کیا ہے۔ کبھی یوں لگتا ہے کہ یہ چیونٹیاں ہی باہر کی دنیا کا نظام چلاتی ہیں اور میں اس کائنات میں ان کا واحد پجاری ہوں اور باقی انسانیت تک پیغام پہنچانے والا ہوں۔

اب میں سوچتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں پیدا ہی اس پیغام کو پہنچانے کے لئے ہوا تھا کیونکہ بچپن ہی سے مجھے اپنے زندگی کا کوئی مصرف نظر نہیں آتا تھا۔ کبھی اپنے آپ کو ایک کام میں مگن پاتا تھا کبھی دوسرے۔ اسی طرح ایک بار میں کسی آزادی کے کام میں شامل ہوگیا تھا۔ نا جانے یہ آزادی کیا چیز ہوتی تھی۔ سارے وقت آزادی ، آزادی کہتا رہتا تھا اور چند اور لوگوں کے گروہ کے ساتھ گھوما کرتا تھا۔ آزادی کے علاوہ ہم دو لفظ اور استعمال کیا کرتے تھے...اب میں بھول رہا ہوں انہیں ... ہاں... حقوق اور دوسرا ... ہاں... جمہوریت ... پتہ نہیں کیا مطلب ہوا کرتا تھا ان سب لفظوں کا لیکن اس زمانے میں مجھے خوب یاد تھا اور بڑے زوروں میں ان کے استعمال میں مگن رہتا تھا۔

پھر ایک روز ہم کسی ہوٹل میں چائے پی رہے تھے کہ چند سادہ کپڑے والے لوگوں نے اپنے ساتھ چلنے کو کہا ، اس طرح میں جیل میں پہنچا۔ آج سے پورے بارہ سال پہلے۔ کس مصرف کے لئے یہ میں اس وقت بالکل نہیں جانتا تھا۔

اب جو سوچتا ہوں تو سمجھ میں آتا ہے کہ یہ سب کچھ ان چیونٹیوں نے کروایا۔ وہ سب آزادی ، جمہوریت وغیرہ کی باتیں ... اس لئے کہ میں جیل آؤں اور پھر جیل میں مجھے بارہ سال رکھا گیا تاکہ میں اس عظیم کام کے لئے تیار ہوجاؤں۔ پچھلے بارہ سال مجھے احساس رہتا تھا کہ میں کوئی عظیم کام کرنے والا ہوں ، اب سمجھ میں آیا کہ وہ عظیم کام کیا تھا۔ بارہ سال کی تیاری کے بعد میں اس کوٹھری میں لایا گیا تاکہ باقی انسانیت کے لئے سمجھ پاؤں کہ وقت کی اصل اہمیت کیا ہے اور اس کابہاؤ کن اصولوں پر مبنی ہے۔

اور پھر میں سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ بارہ سال کا عدد بہت مقدس ہے کیونکہ بارہ ہزار چیونٹیاں گزرتی ہیں تو دن سے رات ہوتی ہے اور رات سے دن ، چیونٹیوں کا علم سیکھنے سے پہلے مجھ سے بارہ سال تیاری کرائی گئی ، اور پھر مجھے کیوں چنا گیا اس عظیم کام کے واسطے …… اس لئے کہ میرا نمبر 1212 تھا اور ہاں گھڑی میں بارہ گھنٹے ہوتے ہیں …… یہ کس لئے ؟ اب سوچتا ہوں تو سمجھ میں آتا ہے۔

(۲)

اس رات خبر آئی کہ جیل کا انسپکشن ہونے والا ہے ، وارڈن نے راتوں رات تمام جیل کی صفائی کے آرڈر دیئے ، سپاہی قیدی نمبر 1212 کی کوٹھری میں بھی آئے اور پانی اور لمبے لمبے برشوں کی مدد سے تمام دیواریں اور فرش صاف کردیا۔

اگلے روز قیدی نمبر1212 کی کوٹھری سے آوازیں آئیں۔ ’’ وقت رک گیا ہے۔ ہا ...ہا...ہا... وقت رک گیا ہے... اب میں وقت چلاؤں گا ... اب... میں وقت چلاؤں گا... ہا... ہا ... ہا... یہ دیکھو وقت چلا... چلنا شروع ہوجاؤ... یہ دیکھو رک گیا... رک جاؤ... ‘‘

پھر شام کو دوبارہ آوازیں آئیں۔ ’’اب تک صرف دس ہزار چیونٹیاں گزری ہیں... ابھی دو ہزار باقی ہیں ... ابھی دو ہزار باقی ہیں... یہ چیونٹیاں رک کیسے گئیں ... چیونٹیاں رک کیسے گئیں۔‘‘

پھر اندر سے آوازیں آتی رہیں جیسے کوئی چیز دیوار سے ٹکرا رہی ہو۔ اور قیدی کہہ رہا تھا ’’ وقت چل رہا ہے ... چیونٹیاں چل رہی ہیں ... چیونٹیاں چل رہی ہیں ... وقت چالو ہوگیا ہے ... اب چیونٹیوں کی قطار نہیں ہے دھار ہے ... دھار ہے... ‘‘

رات کو جب سپاہی اس کو کھانا دینے گیا تو قیدی کا مردہ جسم زمین پر پڑا پایا اس کے سر سے بہت سا خون بہہ چکا تھا۔

بعد میں جب قیدی نمبر 1212 کی فائل لائی گئی تو پتہ چلا کہ یہ قیدی آزادی و جمہوریت کی کسی تحریک کے دوران پکڑا گیا تھا، اور تقریباً سولہ سال سے بغیر کسی کیس کے جیل میں قید تھا... قانون کے دفاع میں اخباروں میں کچھ خبریں آئیں کہ یہ وہ بدقسمت شخص تھا جسے وقت بھول گیا۔

اتوار، 14 ستمبر، 2014

الہ دین پارک میں فحاشی


خلق سیر و تفریح کے واسطے اپنی راہ خود نکال لیتی ہے۔ اور اس راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو بخوبی عبور کرلیتی ہے۔ اس بات کا میں قائل ہوگیا ہوں۔ کراچی میں جب الہ دین پارک کھلا تو اس کو صرف ’’ فیملیز ‘‘ کے لئے مخصوص کردیا گیا۔ یعنی صرف فیملی والے اس میں داخل ہوسکتے تھے۔ باقی سب کے لئے داخلہ ممنوع۔ گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ آپ اپنے گھر کی خواتین کو یہاں لا سکتے ہیں کوئی ان کے ساتھ بدتمیزی نہیں کرے گا۔ غالباً یہ اشارہ اس مفروضے پر مبنی تھا کہ جو مرد اپنے گھر کی عورتوں کے ساتھ آئیں گے، کسی دوسرے کی عورتوں کے ساتھ بدتمیزی نہیں کریں گے۔

عورتیں بغیر مردوں کے آسکتی تھیں۔ ان کو ’’فیملی‘‘ تصور کیا جاتا تھا۔ لیکن مرد عورتوں کو ساتھ لئے بغیر اندر داخل نہیں ہوسکتے تھے کیونکہ وہ فیملی نہ تھے۔ لہذا لڑکوں کے گروہ اور ایسے مرد جو دوسروں کی ’’فیملی‘‘ کے ساتھ میل جول قائم کرناچاہتے تھے باہرگیٹ پر کھڑے تماشا دیکھتے رہ جاتے۔ میں بھی ان میں سے ایک تھا۔ میں نے بھی کئی بار تماشا دیکھا تھا اور دل ہار کر اخبار کے دفتر کی راہ لی تھی۔ گیٹ والے کمبخت پریس کارڈ بھی تسلیم نہیں کرتے تھے۔

پھر ہماری قوم کی خواتین نے خوب اختراع نکالی۔ یہ بات مجھے دوستوں نے بتائی کہ وہاں چند لڑکیوں کے گروہ لڑکوں سے پیسے لے کر ان کو اندر لے جانے لگے ہیں۔ میں نے صرف اتنی ہی بات سنی۔ پھر میرے تخیل نے اس پر کام کرنا شروع کیا۔ اور طرح طرح کے مناظر تصور کئے۔ ضرو ر یہ چالو قسم کی لڑکیاں ہوں گی۔ ان خیالات کی روشنی میں میرا تخیل کئی دن تک جاگتا رہا۔ لیکن موقع نہیں مل پایا کہ جاکر خود بھی کچھ دیکھ پاؤں۔ اورنہیں تو اخبار کے لئے اچھی اسٹوری ہی بن سکتی تھی۔

پھر ایک روز شام کو کچھ وقت نکال کر میں نے الہ دین پارک کے گیٹ کا رخ کیا۔ میری نظریں زرا کم یا چست کپڑوں میں ملبوس لڑکیوں کے گروہوں کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ یا ہوسکتا ہے کہ کوئی ایسی لڑکی اکیلی ہی لڑکوں کے کسی گروپ سے بھاؤ تاؤ کرتی نظر آجائے۔ یا پھرطوائفوں کے انداز میں کولہے فحش طرح نکالے کھڑی ہو۔

لیکن ایسا کچھ نظر نہیں آیا۔ جو ایسی چند خواتین نظر بھی آئیں عموماً ان کے ساتھ بچے اور دوسرے گھر والے تھے۔ میرے خیال میں کوئی پیشہ ور عورت اس حد تک نہیں جاتی اس لئے میں نے ان عورتوں کو کسی فیملی کا رکن قرار دے دیا۔ اور مطلوبہ عورتوں یا لڑکیوں کے حلیہ کے متعلق اپنے قیاس پر نظر ثانی کرنے لگا۔

پھر مجھے تین لڑکیاں نظر آئیں۔ شکل و صورت کافی معمولی ، میک اپ بھی کچھ دبا دبا سا۔ عام سے کپڑوں میں ملبوس جن کے اطراف انہوں نے چادریں لپیٹی ہوئی تھیں یہ چادریں اگر ٹائٹ لپیٹی ہوتیں تو کچھ پتہ بھی چلتا، لیکن جس طرح انہوں نے چادریں لپیٹی ہوئی تھیں اس سے ان کے جسم کے خدوخال چھپے ہوئے تھے۔ پر چہروں سے کچھ عیاری اور مکاری ٹپک رہی تھی جس کو یہ چادریں نہیں چھپا پائی تھیں۔ جن چار لڑکوں سے وہ بات کررہی تھیں وہ ان کے تیوروں سے کچھ ڈرے سہمے لگتے تھے۔ انداز ان لڑکوں کا سنجیدہ تھا اور ایک دوسرے کو یوں دیکھتے تھے کہ جیسے بات چیت میں کمزور پڑ رہے ہوں۔ مجھے ان لوگوں کو دیکھ کر شبہ سا ہوا۔ جس چیز کو میں ڈھونڈ رہا تھا یہ لوگ اس سانچے میں تو نہیں بیٹھتے تھے لیکن مجھے تجسس ہوا اور میں ان کے کچھ قریب ہوگیا۔ پر جب ان کی باتیں کانوں میں آئیں تو آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔

ایک لڑکی کہہ رہی تھی ’’ ہمارے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے ... اگر چلنا ہے تو ہم سب کا ٹکٹ لینا ہوگا ... سب کو ایک ایک بوتل اور برگر اور دو سو روپے ... چلناہو تو چلو ... نہیں تو اور مل جائیں گے ہمیں لے جانے والے ... وقت برباد نہ کرو ‘‘

وہ لڑکے آپس میں ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ، پھر ایک نے کہا ’’ایک منٹ رکو ... ‘‘ وہ چاروں ایک طرف کو ہوگئے اور آپس میں گفت و شنید کرنے لگے ، پھر ان میں سے ایک پلٹا اورکہنے لگا ’’ دیکھو دو سو روپے لے لو ... لیکن برگر اور پیپسی کا ہم بندوبست نہیں کرسکتے۔ ‘‘

’’ نہیں کرسکتے ... تو ہم بھی تم کو اندر لے کر نہیں چل سکتے ‘‘ ایک سادہ سا جواب ملا۔ اور وہ لڑکیاں پلٹ کر جانے لگیں۔
’’ اچھا ، اچھا ... رکو ‘‘ اس لڑکے کے چہرے پر ایسی لا چاری اور آواز میں وہ مظلومیت تھی کہ مجھے بھی ترس آگیا۔

’ روپیہ یہاں باہر ... پہلے ... دیناہوں گے۔ ‘‘ حکم آیا۔ وہ لڑکیاں لین دین کھرے پیشہ وراندازمیں کررہی تھیں۔ صرف شکل و صورت اور حلیہ ہی پیشہ ور نہیں تھا۔ اس بات پر مجھے کچھ حیرت تھی۔ اور کچھ افسوس بھی تھا کیونکہ مجھے لگا تھا کہ معاشرے کی دوسری اقدار گرنے کے ساتھ ساتھ طوائفوں کے بننے ٹھننے کا رواج بھی گر گیا ہے۔ اس وقت اس بات کا میرے اوپر گہرا اثر ہوا تھا۔

جیسے وہ لوگ آگے بڑھے میں بھی ان کے ساتھ ہولیا ، اس امید پر کہ شاید مجھے بھی اندر گھسنے کا موقع مل جائے۔ لیکن اتنی ہمت نہیں ہو پائی کہ ان لڑکوں سے کہوں کہ میرا بھی ٹکٹ لے لیں کہ میں بھی ان کے خسارے میں شریک ہونا چاہتا ہوں۔ اور نہ ان لڑکیوں میں سے کسی سے کہہ پایا کہ وہ و اپس آکر مجھے بھی اپنے ساتھ لیتی چلیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حسب معمول گیٹ پر روک دیا گیا کیونکہ نہ میرے پاس ٹکٹ تھا اور نہ ساتھ میں ’’ فیملی ‘‘۔ اپنا سا منہ لے کر باہر کھڑا رہا اور ان کو اندر جاتا دیکھتا رہا۔

پھر پلٹ کر سڑک کے قریب آیا اور کھڑے ہوکر سوچنے لگا کہ اب کیا کروں ، دل تو چاہتا تھا کہ کسی طرح اندر پہنچ جاؤں لیکن اس سے زیادہ اب میں لڑکیوں کے کسی گروپ سے بات چیت اور بھاؤ تاؤ کرنے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اس وقت مجھے یہ چیز زیادہ دلچسپ لگ رہی تھی۔ پھر مجھے اپنے پیچھے سے آواز آئی۔ ’’ بھائی صاحب ... کیا اندر جانا ہے ؟ ‘‘ میں چونک کر پلٹا تو دیکھا کہ ایک عورت کھڑی ہے جو حلیہ سے کوئی کام والی یا مانگنے والی لگ رہی تھی۔۔ ’’ کیا ؟ ‘‘ میں نے پوچھا۔

’’ صاحب اگر آپ اندر جانا چاہتے ہوں ... تو میں آپ کو اپنے ساتھ لے جاسکتی ہوں۔‘‘

’’ یہ کون ہے اور اسے کیسے پتہ چلا ‘‘ میرے ذہن میں سب سے پہلے یہ خیال آیا اور مجھے ایک بار پھر احساس ہوا کہ میرے تخیل کی طوائفیں اب ناپید ہوچکی ہیں۔ ان کی جگہ اس باسی سادگی نے لے لی ہے جس کے منہ سے ایسی باتیں سن کر نا تو کسی قسم کی شہوت پیدا ہوتی ہے اورنہ ہی کراہیت آتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ تپتی دوپہر میں میدان میں اڑتی ہوئی خاک کا منظر دیکھ رہا ہوں، مجھ پر ایک بوریت سی طاری ہوئی اور خیالات کے سلسلے میں گم میرے منہ سے خودبخود ہی نکل گیا ’’ تم کو کیسے پتہ چلا ؟ ‘‘

اس نے اپنی تھوڑی کو نیچے کی طرف ہلکا سا جھٹکا دیا جیسے کہ اپنے آپ سے حیرت کا اظہار کررہی ہو۔ ’’ معافی دینا بھائی، میں سمجھی کہ آپ اندر جانا چاہتے ہو ‘‘ اس نے جواباً کہا اور اپنے راستے پر ہونے لگی۔

’’ ایک منٹ ... ‘‘ میں نے اس کو روکتے ہوئے کہا ’’ میرا مطلب یہ نہیں تھا‘‘۔ حلیے سے قطع نظر میں اسے یوں بھی نہیں جانے دینا چاہتا تھا۔ جس طرح سے میرا اپنی پھٹ پھٹی موٹر سائیکل پر گزر تھا اسی طرح اس عورت سے بات کرنے کو بھی گوارا کرلیا۔ ’’مطلب میرا یہ تھا تم مجھے اندر لے جاسکتی ہو ؟ ‘‘ وہ رک گئی۔ لیکن خاموش رہی۔

’’ لیکن تمہارا حلیہ ایسا ہے ... گیٹ والے ہمیں ساتھ جانے دیں گے کیا ؟ ‘‘
’’ میرا گھر قریب ہی ہے۔ میں دس منٹ میں آسکتی ہوں کپڑے بدل کر۔ ‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’ اچھا ‘‘ یہ کہہ کر میں رک گیا۔ جیسے کہ اس کے مزید کچھ کہنے کا انتظار کررہا ہوں۔ لیکن وہ کچھ نہیں بولی۔
’’ پیسے کتنے ہوں گے ؟ ‘‘ میں نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔ میرے لئے یہ کسی طوائف سے بات کرنے کا پہلا موقع تھا۔ کچھ خوف بھی تھا، کچھ شوق بھی تھا، کچھ مزا بھی آرہا تھا اور کچھ افسوس بھی محسوس ہورہا تھا۔ کیونکہ اس کا حلیہ اتناباسی اور غیر جاذب تھا۔
’’چار سو۔ ‘‘، اس نے جواب دیا اور میں چونک کر اپنے خیالات سے نکل آیا۔
’’چار سو! ... زیادہ ہیں یہ تو! ‘‘ میں احتجاج کے انداز میں بولا۔
’’ ایک ہی دام ہے بھائی ‘‘۔ اس نے جواب دیا مجھ کو یہ عورت بہت عجیب لگ رہی تھی۔ یہ کیسی طوائف ہے جو اپنے گاہک سے بھائی کہہ کر مخاطب ہوتی ہے۔ میں سوچ رہا تھا۔

’’ وہ لڑکیاں تو ابھی دو سو روپے لے رہی تھیں۔ ‘‘

’’ آپ کی مرضی ہے بھائی۔ میرا یہ دام ہے۔ وہ کالج کی لڑکیاں ہوں گی ان کے کوئی خرچے نہیں ہیں۔ میرا حساب کتاب الگ ہے۔ ‘‘ اس نے جواب دیا۔ مجھے وہ اپنے کام میں خاصی پکی نظر آئی۔

’’ اچھا ایساکرو دو سو روپے لے لو۔ باقی تم کو اندر برگر اور بوتل کھلا دوں گا۔ ‘‘ میں نے اس انداز میں کہا کہ جیسے مجھے یہ بھاؤ تاؤ آتا ہے۔
وہ ہلکے سے ہنسی۔ ’’ بھائی یہ سب چیزیں تم کالج کی لڑکیوں کے لئے کرو۔ میں کیا کروں گی بوتل اور برگر سے۔ میرا ریٹ تو چار سو روپے ہے۔ ‘‘ میں خاموش ہوکر سوچنے لگا۔

’’ جلدی بولو بھائی۔ ‘‘ وہ تھوڑی دیر میں بولی۔

’’ اچھا ، ٹھیک ہے ‘‘ میرے سامنے اب کوئی چارہ نہیں تھا۔

’’ پھر ٹھہرو۔ میں آتی ہوں دس منٹ میں۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ تیزی سے ایک جانب کو چل دی۔
اس کے جاتے ہی کئی سوالات میرے ذہن میں گردش کرنے لگے اگر یہ پیشہ ور عورت ہے تو زیادہ دیدہ زیب انداز میں کیوں نہیں آئی۔ اور پھر یہ ’’ بھائی ‘‘ کہہ کر کیوں مخاطب ہوتی ہے؟ یہ کیسی عجیب بات ہے ؟ اس سوال پر میرا دماغ سب سے زیادہ سوزش میں تھا۔

کچھ دیر بعد وہ واپس آگئی۔ نسبتاً معقول لباس پہن کر آئی تھی اور اب کراچی کے کسی نیم اوسط گھرانے کی عورت کہلائی جاسکتی تھی۔ واپس آنے کے بعد سب سے پہلے اس نے مجھ سے روپے وصول کئے۔ اس کے بعد ہم آگے بڑھے۔ میں نے گیٹ پر دونوں کے لئے ٹکٹ خریدے اور پھر ہم اتنی آسانی سے اندر داخل ہوگئے کہ میں تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ میری توقع کے خلاف گیٹ پر کوئی بھی غیر معمولی واقعہ پیش نہیں آیا۔ نہ کسی گارڈ نے اس عورت کو گھور کر دیکھا نا مجھ کو۔نہ ہی اس عورت نے کسی کو کوئی اشارہ کیا۔ ہم پارک میں داخل ہونے والے ایک عام سے جوڑے کی طرح تھے۔

وہ میرے ساتھ ساتھ چل رہی تھی جیسے کوئی بیوی اپنے میاں کے ساتھ چلتی ہو۔ بالکل فطری انداز میں۔ اور پھر اس کے اجلے کپڑے اور باسی سا چہرہ۔ کوئی شک بھی نہیں کرسکتا تھا کہ وہ گھریلو عورت کے سوا کوئی اور ہوسکتی ہے۔ میں اب سوچ رہا تھا کہ اس سے کیا بات کروں۔ اس کے میرے ساتھ چلنے کے انداز میں زرا بھی بناوٹ نہیں تھی۔

گیٹ سے کچھ اندر جانے کے بعد وہ مجھ سے دور ہٹ گئی۔ بالکل اسی فطری انداز میں جیسے اس نے پیسے لینے کے بعد میرے ساتھ چلنا شروع کیا تھا۔ اب کام پورا ہوچکا تھا اور اس کی محنت سوارت ہوچکی تھی۔ لیکن میں اس تجربے کو یوں اتنی جلدی بھی ختم نہیں ہونے دینا چاہتا تھا۔ اس میں ابھی اک تشنگی باقی تھی۔

وہ رک گئی اور اس نے گردن ہلا کر کہا ’’ ٹھیک ہے ... پھر میں چلتی ہوں۔ ‘‘
’’ ابھی کچھ دیر تو ٹھہرو۔ ابھی تو ہم داخل ہوئے ہیں کچھ دیر رک جاؤ۔ ‘‘ میں نے مسکرا کر دوستانہ انداز میں کہا۔ التجا میں اپنے لہجے میں ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا۔

وہ خاموش ہوگئی اور ساتھ چلنے لگی۔ کوئی دو سو قدم آگے چل کر اس نے پھر کہا۔ ’’ اچھا بھائی ... اب ٹھیک ہے ، تمہارا کام ہوگیا ہے۔ ‘‘
مجھے اس کے بھائی کہنے پر پھر تعجب ہوا۔ اور میں نے سوچا کہ یہ کیوں جانا چاہ رہی ہے۔ آگے مزید کام کی بات میں کیا کوئی دلچسپی نہیں اسے ؟ اس کے چہرے سے باسی پن اتر گیا تھا اور ایک سادہ و سپاٹ تاثر رہ گیا تھا جیسے وہ باسی پن سابقہ مرحلے نے اس کے چہرے پر طاری کیا ہو۔

’’ کچھ بوتل وغیرہ پی لو۔ اس کے بعد چلی جانا ‘‘ میں اس کو تھوڑی دیر ٹھہرا کر کچھ وقت چاہتا تھا۔ تاکہ مزید بات چیت ہوپائے۔ حالانکہ اس کام سے میں یہاں نہیں آیا تھا لیکن اب میرا ذہن اس راہ پر بہہ نکلا تھا۔

مجھے لگا کہ جیسے وہ میری اس تجویز سے تھوڑا سا گھبرائی ہو ’’ آپ کا کام ہوگیا ، بس اب میں چلتی ہوں ‘‘ وہ بولی۔
’’ ہاں میرا کام ہوگیا ، لیکن میں صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ کچھ دیر رک جاؤ ... کچھ ذرا کھا پی لو۔ پھر چلی جانا ، میں روکوں گا نہیں ، صر ف ایک شکریہ کے طور پر کہہ رہا ہوں ‘‘ میرے انداز میں ایک دوستانہ گزارش تھی۔

کچھ دیر کے لئے اس کے چہرے پر غیر یقینی اور غیر ارادگی کی پرچھائیاں گزر یں۔ پھر وہ مان گئی اور ہم کھانے پینے کے علاقے کی طرف چل پڑے۔ اس اثنا میں نہ وہ کچھ بولی اور نہ میری یہ ہمت ہو ئی کہ بات آگے بڑھاؤں۔ پھر مجھے ایسا لگاکہ جیسے وہ صرف برگر اور بوتل کے لالچ میں ٹھہر گئی ہو۔ کچھ دیر بعد ہم بیٹھے برگر کھا رہے تھے۔ ابھی تک اس نے کوئی بات نہیں کی تھی۔ میرا دل زور سے دھڑک رہا تھا۔ پھر ہمت کرکے میں نے آغاز کیا۔ ’’ تم کیا کام کرتی ہو ؟ ‘‘

اس نے ایک لمحے کو مجھے دیکھا اور پھر رکی کہ جیسے منہ کا نوالہ ختم کررہی ہو۔ ’’ بس محنت مزدوری کرتے ہیں۔ ‘‘ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئی۔
یہ عجیب مرحلہ تھا لیکن اس قسم کا پہلا تجربہ ہونے کے باوجود میں سوچ رہا تھا کہ یہ کس قسم کی عورت ہے جو آگے بات نہیں کررہی۔ میرے ذہن میں تو تصور یہ تھا کہ طوائفیں خود آدمی پر ڈورے ڈالتی ہیں اور قابو کرتی ہیں۔ پھر میں نے براہ راست بات کرنے کی کوشش کی۔

’’ تو کیا آدمی لوگ کو اس طرح اندر لانا بھی محنت مزدوری میں شامل ہے۔ ‘‘

اس نے میری طرف دیکھا اور زیرِ لب مسکراہٹ کے ساتھ آہستہ سے گردن کو جھٹکا دیا۔
’’ اچھا تو کیااس کے علاوہ بھی کیا تم آدمی لوگوں کے ساتھ محنت مزدوری وغیرہ کرتی ہو۔ ‘‘
میں نے دیکھا کہ وہ ایک منٹ کے لئے رکی کہ جیسے اس کی سمجھ میں آیا ہو کہ میری کیا مراد تھی۔ اس کا چہرہ سرخ ہوگیا ، اور وہ کچھ شرم اور احتجاج کے ساتھ بولی۔

’’ نہیں بھائی ایسا نہیں ہے۔ آپ غلط سمجھے ہیں۔ میری عزت ہے ، بال بچے ہیں ، میں یہ کام نہیں کرتی۔ آپ غلط سمجھے ہیں۔‘‘ اس کے بعد وہ اس طرح سکڑی کہ جیسے مجھ سے بہت زیادہ خائف ہوگئی ہو۔ ایک لمحے کے لئے مجھے ایسا بھی لگا کہ وہ برگر ادھورا چھوڑ کر چلی جائے گی۔ اس وجہ سے مجھے اپنا اندازبدلنا پڑا۔

’’ معاف کرنا۔ میرا مطلب تمہیں ڈرانا نہیں تھا۔ بس میرا خیال اس طرف چلا گیا تھا ... ‘‘
وہ خاموش رہی۔
’’ تو کیا بہت سی عورتیں یہاں پر یوں مردوں کو اندر لاتی ہیں ؟ ‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’ کچھ ... ‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’ تم ان کو جانتی ہو ؟ ‘‘
نہیں ... ‘‘ اس نے گردن ہلائی۔ ... ‘‘
’’ تو پھر تم نے یہ کام کیسے کرناشروع کیا ؟ ‘‘
’’ بھائی میں غریب عورت ہوں ... میرے بال بچے ہیں ... پیٹ پالنے کے لئے یہ بھی کرلیتی ہوں ... ‘‘
’’ خوب خیال آیا تمہیں اس کام کا ... ‘‘ میں نے ذرا مسکرا کر کہا۔
وہ بھی مسکرائی۔ اور پھر مجھے ایسا لگا کہ اس نے اپنی زبان پر سے پابندی ہٹا لی ہو۔

’’ میرا گھر ادھر قریب ہے۔ میں نے اکثر ادھر سے آتے جاتے دیکھاکہ کالج کی لڑکیاں لڑکوں سے پیسے لے کر انہیں اندر لے جاتی ہیں۔ میں بھی ان کو حیرت سے دیکھتی تھی ... کہ یہ بھی کمائی کا اچھا طریقہ ہے۔ آسان بھی ہے ... خطرہ بھی کم ہے۔ پھر ایک روز دن میں مجھے پیسے کم ملے۔ میں نے شام کو سوچا چلو ادھر ٹرائی کرتے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر ایک بار پھر شرم کی پرچھائیں اس کے چہرے پر سے گزری۔ ’’لیکن بھائی ہم شریف لوگ ہیں ... اس کے آگے ہم کچھ نہیں کرتے۔ ‘‘

میں دل ہی دل میں محظوظ بھی ہورہا تھا اور مجھے اس عورت کی عقل و فہم اور جراء ت پر حیرت بھی تھی۔ لیکن میرے ذہن کی شہوت ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی تھی۔ ’’ اچھا یہ بتاؤ کہ تم کسی ایسی عورت کو جانتی ہو ...جو ...‘‘

اس کی زبان کو پھر لگام لگ گئی۔ وہ اس سوال کے بوجھ تلے کچھ پریشان نظر آئی۔ پھر جیسے اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے کہا ’’ ان کالج کی لڑکیوں کو دیکھنا ... شاید تمہارا کام بن جائے ... ‘‘ اس نے ایک طرف کو اشارہ کیا جہاں سے وہ کالج کی لڑکیاں گزر رہی تھیں جنہیں میں نے پہلے گیٹ پر دیکھا تھا۔ ان لڑکیوں کے لئے اس عورت کے لہجے میں حقارت تھی۔ میں بھی ان لڑکیوں کو دیکھ کر چونک سا گیا۔ وہ لڑکے ابھی تک ان کے ہمراہ تھے۔

اب ہمارے برگر ختم ہوچکے تھے۔ اور اس نے پھر جانے کا اظہار کیا ’’ اچھا بھائی ...مہربانی آپ کی بہت بہت ... نہیں تو ہم غریب لوگوں کو یہ کہاں نصیب ہوتا ہے ...‘‘

مجھے لگا کہ وہ واقعی تہہ دل سے شکریہ ادا کررہی ہو۔ ’’ اچھا ...ٹھیک ہے ‘‘ میں نے کہا۔ ’’یہ تو بتاؤ تمہارا کیا نام ہے ؟ ‘‘
’’ شادا ‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’ اچھا ... شادا ... پھر کیا ہماری ملاقات ہوگی ؟ ‘‘
وہ مسکرائی۔ ’’ جب دوبارہ دل چاہے ... ادھر آجانا ... باہر۔‘‘
میں بھی مسکرا دیا۔ وہ چلی گئی۔

وہ لڑکیاں اور لڑکے قریب ہی چند کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ مجھے جستجو ہوئی کہ ان کی باتیں سنوں۔

ان کی بات چیت میں اب وہ پہلے والا بھاؤ تاؤ اور کھنچاؤ نہیں تھا، بلکہ اس میں دوستانہ پن اور شوخی آگئی تھی۔ بالکل عام سے کسی یونیورسٹی کالج کے طلبا لگ رہے تھے ، اور باتیں بھی کوئی خاص مختلف نہیں تھیں۔ بعد میں پردے کے پیچھے ان کے درمیان کیا کچھ ہو اس سے مجھے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اور نہ کسی بات پر مجھے کوئی تعجب ہوتا۔ میں ان کی باتیں سننے کا اس لئے شائق تھا کہ اب سے کچھ دیر پہلے میں نے ان کے درمیان لین دین ہوتے ہوئے دیکھ لیا تھا۔ اور اس پر مجھے تعجب تھا۔ میرے خیال میں یہ ہمارے اس معاشرے میں ہونے والی پوشیدہ تبدیلیوں کا ایک اظہار تھا۔

کچھ دیر میں ان کی باتیں سنتا رہا پھر بور ہوکر ایک اور طرف کو نکل گیا۔

لیکن اگلے روز میں اپنے ایوننگ اخبار میں یہ خبر لگانے سے خود کو بازنہیں رکھ سکا ... خبر کا خلاصہ کچھ یوں تھا :

’’ الہ دین پارک میں فحاشی ‘‘
’’ہمارے اسٹاف رپورٹر نے پتا چلایا ہے کہ الہ دین پارک شہر میں فحاشی کا مرکز بنتا چلا جارہا ہے۔ بدچلن عورتیں مردوں سے پیسے وصول کرکے اندر لے جاتی ہیں اور پارک میں بد فعلیاں عروج پکڑ رہی ہیں ...‘‘

اس خبر میں اصل حقائق کو بے پردہ نہ کرنے کی وجہ سے مجھے افسوس تھا لیکن اپنی نوکری اور ایک ایوننگ پیپر کے تقاضوں کے تحت میں بھی مجبور تھا۔

منگل، 22 جولائی، 2014

ندیم سالا


’’ندیم سالے کو نوکری مل گئی۔۔۔‘‘ اسماعیل نے سگریٹ کا ایک گہرا کش لیتے ہوئے کہا اور دیر تک دھوئیں کو اپنے سینے میں بھینچے رکھا۔ جیسے کہ میرے حیرت سے پھٹ پڑنے کا انتظار کر رہا ہو۔
’’اچھا۔۔۔واقعی۔۔۔‘‘ اور بہت جلد میں حیرت سے پھٹ پڑا۔’’۔۔۔کہاں؟‘‘
’’ریلوے میں ۔۔۔‘‘ اس نے ایک دم کہا۔
اور اس کے پھیپھڑوں میں سمایا ہوا دھواں ناک کے دونوں نتھنوں سے ایک موٹے دھارے کی مانند نکلا اور نیچے کاؤنٹر کے شیشے پر پھیل گیا۔ ’’ریلوے میں؟۔۔۔‘‘ میں نے اس کی بات دہرائی۔
’’ ریلوے میں ۔۔۔‘‘ اسماعیل سر ہلا کر ہلکے سے مسکرایا۔ ظاہر تھا کہ اس کو بھی ابھی تک یقین نہیں آیا تھا۔
’’کیسے،۔۔۔‘‘
’’اُسی نے دلوائی۔۔۔‘‘ اسماعیل نے دوکان کے شیشہ کے باہر اشارہ کیا۔ دوسرے ہاتھ سے رجسٹر اٹھا کر صفحے پلٹنے لگا۔
میرے ہاتھ میں جو وڈیو کیسٹ تھے میں نے کاؤنٹر پر رکھ دے۔
’’کس نے ؟۔۔۔ ‘‘ میں نے دوکان کے شیشے کے بارے سڑک کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
سڑک کے اس پار چوراہے کے قریب پولیس کی ایک موبائل آکر کھڑی ہوگئی تھی، اور پولیس کے دو باوردی سپاہی سڑک کے بیچوں بیچ کلاشنکوف لئے کھڑے تھے۔
میں نے دل ہی دل میں ایک موٹی سی گالی دی۔
’’وہی جونیلی کار میں جو آتی ہے۔۔۔‘‘ اسماعیل نے کہا۔
’’اور بلو فلمیں لے جاتی ہے۔۔۔‘‘ میں نے فقرہ مکمل کرتے ہوئے قہقہہ لگایا۔
’’واہ یار۔۔۔ زبردست۔۔۔ ندیم سالا بھی فنکار ہے۔۔۔ تو کیا۔۔۔ اس لڑکی کے باپ نے لگوائی نوکری؟۔۔۔ ‘‘ میں نے سوال پوچھا، اور پھر خود ہی اپنا جواب دیتے ہوئے بولا۔’’وہ سالا اس کے باپ کے پاس پہنچ گیا ہوگا۔۔۔ کہ تیری لڑکی ایسی فلمیں دیکھتی ہے۔۔۔ لگوا میری نوکری ۔۔۔ورنہ ؟۔۔۔ ہم دونوں مل کر ہنسے۔
اسماعیل نے ایک نظر ان وڈیوکیسٹوں کو دیکھا جو میں نے کاؤنٹر پر رکھے تھے اور اپنے رجسٹر کے کسی صفحے پر ان کی واپسی کا اندراج کرنے لگا۔
’’دکھانا ذرا۔۔۔‘‘ میں نے اس کے رجسٹر کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’دیکھو تو آخری بار وہ کون سی فلم لے کر گئی تھی۔۔۔‘‘
اسماعیل سر اٹھا کر مسکرایا’’دیکھ لو۔۔۔ مگر وہ سالا اس کی فلموں کی انٹری نہیں کرتا۔‘‘
میں نے ہنستے ہوئے سر ہلایا ’’بڑا بدمعاش ہے سالا۔۔۔‘‘ اور ایک نظر چوراہے کی طرف پھر دیکھا۔ پولیس والے کسی اسکوٹر والے کو روک رہے تھے میں نے اپنے دائیں ہاتھ سے کرتے کی جیب ٹٹولی، اپنی موٹر سائیکل کے کاغذات میں گھر بھول آیا تھا۔ مجھے ایک ہلکا سا دھچکا لگا۔
’’یہ۔۔۔ پھر پبلک کو تنگ کرنے آگئے۔‘‘ میں نے ان پولیس والوں کو ایک موٹی سی گالی دتے ہوئے میں نے کہا۔
اسماعیل نے ایک نظر چوراہے کی طرف ڈالی’’۔۔۔کیوں کیا کاغذات نہیں ہیں کیا؟۔۔۔‘‘ وہ دھیمے سے مسکرایا ’’۔۔۔بیٹھ جا اب۔۔۔ جلدی کیا ہے جانے کی ۔۔۔‘‘ اور اس نے ایک اسٹول کی طرف اشارہ کیا۔
بیٹھتے ہوئے میں نے کاؤنٹر پر سے ایک رجسٹر اٹھا لیا اور اس کے صفحے پلٹنے لگا۔ ’’دیکھا یار۔۔۔ کسی ایسی بندی کا پتہ دے جس کا باپ مجھے بھی نوکری دلائے۔۔۔‘‘ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔ اسماعیل اپنی کالی گھنی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا ہوا مسکرا یا۔
’’بیٹا دیکھتا رہے۔۔۔ کچھ نہیں ملے گا۔۔۔‘‘
’’اگر تجھے پتے چاہئے تو دو چار کے میں بھی دے سکتا ہوں لیکن ملے ملائے گا کچھ نہیں، نہ چھوکری ملے گی۔۔۔ اور نوکری؟۔۔۔ ہا ۔۔۔ ہا۔‘‘ وہ ہنسا۔’’بھول جا!۔‘‘
پھر اس کی زبان سے بے ساختہ نکلا۔’’ابے!۔۔۔ ‘‘ وہ شیشے کے باہر چوراہے کی طرف دیکھ رہا تھا۔
باہر پولیس والوں نے ندیم سالے کو روکا ہوا تھا۔ وہ اس کی تلاشی لے رہے تھے۔
’’ابے۔۔۔‘‘ میرے منہ سے بھی بے ساختہ نکلا۔’’۔۔۔ سنا تھا کہ بڑی بات تھی سالے کی ۔۔۔ اب تلاشی دے رہا ہے ۔۔۔اور وہ بھی اپنی ہی گلی میں۔۔۔‘‘ میں نے قہقہہ لگایا۔
’’زمانہ یہ ہی آگیا ہے۔۔۔ بڑے بدمعاشوں کی بھی کوئی عزت نہیں بچی ہے۔۔۔‘‘ اسماعیل بھی ہنسا۔
کچھ دیر بعد ندیم سالا گردن ہلاتا ہوا دوکان میں داخل ہوا۔ اس کی شکل سے اتنی مسکینی ٹپک رہی تھی کہ میری ہنسی چھوٹ گئی۔
مجھے ہنستا دیکھ کر تھوڑا کھسیانا ہوا، پھر میرے ساتھ ہنسنے کی کوشش کی۔ لیکن کچھ بن نہیں پائی۔ ’’اب چھوڑ دے سالے۔۔۔ اپنے ہی محلے میں ذلیل ہوگیا۔۔۔‘‘ اس نے کہا۔
لیکن میں اس موقع کو اتنے آرام سے چھوڑنے والا نہیں تھا۔ ’’ارے اس میں ذلیل ہونے کی کیا بات۔۔۔ وہ تو سب جانتے ہیں کہ تو بہت بڑا بدمعاش ہے۔۔۔ لیکن تیری شکل ایسی ہے کہ بہت ہی چھوٹے لیول کا چور اچکا لگتا ہے۔۔۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا۔‘‘ ۔۔۔ اس لئے ایک دم معمولی سپاہی بھی تجھے روک کر تیری تلاشی لے لیتا ہے۔
اس پر اسماعیل کو بھی ہنسی آگئی۔
ندیم سالے نے اپنی کالی ٹوپی اتاری، جس کا سامنے کا رخ پیچھے کی طرف کر کے لگایا ہوا تھا۔ ٹوپی کے نیچے اس کے لمبے سیاہ بال، پیچھے کی طرف ہو کر سر سے یوں چپکے ہوئے تھے کہ لگتا تھا جیسے نیچے ایک اور ٹوپی پہنی ہوئی ہے۔ دھوپ کی تپش اور ٹریفک کی دھوئیں کی وجہ سے ماتھا ایک دم کالا تھا اور یہ بتانا مشکل تھا کہ کہاں ماتھا ختم ہوتا ہے اور کدھر سے بال شروع ہوتے ہیں۔
’’ابے سالے یہ اپنے تھانے کے نہیں تھے۔۔۔ ناظم آباد تھانے کی پولیس ہے۔ سالی ہمارے علاقے میں آگئی ہے۔۔۔ اپنے تھانے کے ہوتے تو دیکھ لیتا سالوں کو۔۔۔‘‘ ندیم سالے نے اپنی بات رکھنے کے واسطے جواب دیا۔ ’’۔۔۔ یہ سالے۔۔۔ ان پولیس والوں کی بھی آپس میں بڑی بدمعاشی چلتی ہے۔۔۔ دیکھ لوں گا ان سالوں کو بھی۔۔۔‘‘ اس کے تیوروں سے پتہ چلتا تھا کہ اب وہ مزید ریکارڈ برداشت کرنے کے موڈ میں نہیں تھا۔ میں نے بھی موضوع تبدیل کیا۔
’’اب چھوڑ یار، ہوجاتا ہے اس طرح ۔بھول جا!۔۔۔ بتاؤ، سنا ہے تمہیں نوکری مل گئی ہے ریلوے میں؟۔۔۔‘‘
’’ہاں۔۔۔‘‘ ندیم نے آہستہ سے سر ہلایا۔
’’مبارک ہو بہت بہت۔۔۔ تو کب سے جوائن کر رہے ہو؟۔۔۔ دوکان پر بیٹھنا چھوڑ دو گے کیا؟۔۔۔‘‘
’’سالا پتہ نہیں۔۔۔‘‘ اس نے جواب دیا’’۔۔۔ ابھی پوسٹنگ کا پتہ نہیں۔۔۔‘‘
’’فکر نہیں کر۔۔۔ ہوجائے گی۔۔۔ مگر یہ بتا ۔۔۔ آج کل حالات اتنے ٹائٹ ہیں تجھے نوکری ملی کیسے؟۔۔۔‘‘
’’بس سالی۔۔۔ لگ گئی۔۔۔ جان پہچان نکل آئی کچھ۔۔۔‘‘ اس نے ذرا دھیمے انداز میں کہا۔
اسماعیل نے آہستہ سے مجھے آنکھ ماری، اور میں فوراً بولا۔
’’سنا ہے تیری کسی گاہک نے لگوائی ہے‘‘۔۔۔اور مسکراہٹ مجھ سے نہیں رکی۔
ندیم سالے نے ایک لمحے کے لئے پریشان ہوکر اسماعیل کی طرف دیکھا۔ اسماعیل خاموشی سے اپنے رجسٹر میں کوئی اینٹری کر رہا تھا۔ پھر میری طرف پلٹتے ہوئے اس نے کہا۔’’۔۔۔ ہنس لے۔۔۔ ہنس لے سالے۔۔۔ لیکن اپنا یہ ہی حساب کتاب ہے۔۔۔ اپنے کام تو چھوکریاں کرتی ہیں۔۔۔‘‘ اس نے اپنے دانت نکالے۔
’’ بہت خوب۔۔۔ بہت خوب۔۔۔ کیا بات ہے استاد تمہاری!۔۔۔‘‘ میرا مذاق اشتیاق میں بدل گیا۔ ’’لیکن یہ کام کرایا تونے کیسے؟۔۔۔‘‘
’’بس چھوڑ سالے ۔۔۔ تیرے بس کی بات نہیں ہے‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’اب یار بتا بھی۔۔۔ کچھ تیرے کارنامے پتہ تو چلیں۔۔۔‘‘ میں بضد رہا۔
لیکن ندیم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے اسماعیل کی طرف دیکھا جیسے کہ مدد طلب کر رہا ہوں۔ لیکن اسماعیل خاموش رہا۔ ندیم سالا کاؤنٹر کے پیچھے ایک اونچے اسٹول پر بیٹھ گیا۔ اور اپنی گہری اُودی رنگ کی قمیض کے اوپر کے دوبٹن کھول کر کالر کو گردن سے دور کرلیا۔ پھر اس نے پتلون کی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک رومال نکالا اور اُسے اس طرح تہیں دینے لگا کہ اس کی ایک پٹی بن جائے۔ پھر اپنے رومال کی پٹی کو اس نے قمیص کے کالر کے نیچے رکھ لیا۔
’’تو پوسٹنگ ہوگئی تو دوکان پر بیٹھنا چھوڑ دو گئے؟۔۔۔‘‘ میں نے پھر سوال کیا۔
’’دیکھو یار۔۔۔ سالا اب کیا ہوتا ہے۔‘‘ اس نے جواب دیا۔ اور یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑا ہوا۔ باہر ایک کار آکر رکی تھی جس کا صرف سفید بونٹ نظر آرہا تھا۔ لیکن ندیم شاید وہ کار پہچان گیا اور باہر جانے کے لئے دروازے کی طرف بڑھا۔
ندیم سالے کے دوکان سے نکلنے کے بعد میں نے ذرا آگے بڑھ کر دیکھا کہ کون ہے۔ تو گاڑی میں کوئی لڑکی بیٹھی ہوئی تھی جس کے بال کٹے ہوئے صرف گردن تک تھے۔ ندیم سالا کھڑا ہوا اس سے بات کر رہا تھا۔ پھر اس لڑکی نے ہاتھ بڑھا کر ندیم کو دو وڈیو کیسٹ دیئے۔ ندیم انہیں لے کر دوکان میں واپس داخل ہوا۔
’’کیوں بھئی!۔۔۔ کون ہے؟۔۔۔ ‘‘ میں نے ذرا مذاق کے انداز میں کہا۔ لیکن اس نے میری بات کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا۔ ان کیسٹوں کو کاؤنٹر پر رکھ کر پیچھے ریک پر لگے کیسٹوں پر اپنی نگاہیں دوڑانے لگا۔ پھر اس نے نیچے کی طرف سے ایک کیسٹ نکالا اور باہر چلا گیا۔ لیکن باہر جاکر بجائے اس کے کہ وہ کیسٹ اس لڑکی کو تھماتا، اس نے گاڑی کی دوسری طرف جاکر پیسنجر سیٹ کا دروازہ کھولا اور اندر بیٹھ گیا۔ اس لڑکی نے گاڑی تھوڑی ریورس کی اور پھر وہ چوراہے کی جانب روانہ ہوگئی۔
’’ابے!۔۔۔‘‘ میں چونک کر تھوڑا زور سے بولا۔ ’’یہ تو سالا اس کے ساتھ چلا گیا!۔۔۔ ابے!۔۔۔ کون ہے بھئی وہ!۔‘‘
اسماعیل نے اپنا ہاتھ اٹھا کر گھمایا اور کندھے اُچکائے۔’’کیا پتہ۔۔۔‘‘ اس نے کہا۔ پھر اس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ پھیلی، اور ایک دفعہ پھر ہاتھ گھما کر کہا ’’کیا پتہ۔۔۔ کوئی وی سی آر وغیرہ ٹھیک کرنے گیا ہوگا۔‘‘
’’ابے لیکن یہ دیکھنے میں اچھی بھلی لڑکیاں اس کو لے کیسے جاتی ہیں۔‘‘ میں نے استفہام کا اظہار کیا۔
’’ کیا پتہ۔۔۔‘‘ اسماعیل نے وہی جواب دیا۔’’اگر پتہ ہوتا تو میں خود یہ نہیں کرتا۔۔۔‘‘ وہ دانت نکال کر بولا۔
’’ابے لیکن۔۔۔‘‘ بات میری سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔۔۔’’یہ کرتا کیسے ہے یہ سارا۔۔۔‘‘
اسماعیل نے کوئی جواب نہیں دیا۔
چوراہے پر پولیس والے ابھی تک کھڑے ہوئے تھے۔ میں نے ندیم سالے کی طرف سے دھیان ہٹا دیا اور اسماعیل سے پھر مخاطب ہوا۔ ’’تو استاد۔۔۔ کچھ بندوبست وغیرہ ہوا؟۔۔۔ بڑے دن ہوگئے۔۔۔ کچھ گلاسوں میں برف ڈالے ہوئے۔۔۔‘‘
’’ابے مجھ سے کیا کہتا ہے۔۔۔ اس سے پوچھ۔۔۔‘‘ اسماعیل نے باہر کی طرف اشارہ کیا’’۔۔۔ وہ جو ابھی گاڑی میں چلا گیا اس لڑکی کے ساتھ۔۔۔‘‘
’’ابے یار۔۔۔‘‘ میں نے گردن ہلاتے ہوئے کہا۔’’اس سالے ندیم سالے کے پاس بھی دنیا میں ہر دو نمبر کے کام کی جگاڑ موجود ہے۔۔۔ سمجھ میں نہیں آتا یہ آدمی ۔۔۔‘‘
اسماعیل نے اپنا دائیاں ہاتھ پھر ایک سوالیہ انداز میں ہوا میں گھمایا، اور سر کو بائیں جانب ہلکے سے جھکا دیا جیسے دونوں کو آپس میں بیلنس کر رہا ہو۔
’’سالا خود تو پیتا نہیں لیکن بندوبست کرنا خوب جانتا ہے۔۔۔ جس چیز کا بندوبست کرانا ہو ندیم سالے سے کرالو۔۔۔‘‘ میں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔
اسماعیل پاکٹ سے سگریٹ نکال کر اسے جلا رہا تھا۔ پھر ہماری گفتگو دوسرے موضوعات کی جانب چلی گئی۔ آدھے گھنٹے بعد میں نے نظر گھمائی تو وہ کمبخت پولیس والے اس وقت تک کھڑے ہوئے تھے۔ میں تنگ سا آگیا، اور لاپروائی کی کیفیت مجھ پر طاری ہوئی۔
’’یار میں چلا۔۔۔ ‘‘ میں نے اسماعیل سے کہا۔’’۔۔۔ اگر ان پولیس والوں نے روکا تو پھر دیکھی جائے گی۔۔۔‘‘
باہر نکل کر میں نے موٹر سائیکل اسٹارٹ کی اور چوراہے کی طرف بڑھ گیا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر میں وہاں سے بخیر و عافیت اور بغیر کسی خرچے کے نکل آیا۔ تھوڑے آگے جاکر مڑ کر میں نے انہیں لعنت دکھائی۔ جو انہوں نے شاید نہیں دیکھی۔
اگلے چند روز تک میری ندیم سالے سے ملاقات نہیں ہوئی اور نہ میں نے اس کا کوئی ذکر سنا۔ پھر ایک روز میں اس کی دوکان میں کھڑا اسماعیل سے بات کر رہا تھا کہ اس کی موٹر سائیکل برابر والی دوکان کے سامنے آکر رکی اور وہ اتر کر دوکان میں داخل ہوا۔ اپنے انداز سے خاصا ہشاش بشاش اور خوش نظر آرہا تھا۔
میں نے اس سے پوچھا۔’’کیا بات ہے بڑے اسٹائیل میں ہو۔۔۔‘‘
’’کچھ نہیں یار۔۔۔ سالا۔۔۔‘‘ اس نے جواب دیا۔
میں دوبارہ اسماعیل سے بات کرنے کی طرف متوجہ ہوگیا۔ ندیم سالے نے کاؤنٹر کے پیچھے دراز کھولی اور اس میں کچھ تلاش کرنے لگا۔ پھر اندر سے ایک چھوٹی ڈائیری نکال کر ورق پلٹنے لگا۔ ڈائیری سے شاید کوئی فون نمبر اس نے اسماعیل کی سگریٹ کی ایک خالی ڈبیا کے اوپر کے حصہ پر اتارا۔ پھر سگریٹ کی ڈبیا میں سے اتنا حصہ پھاڑ کر ڈائیری سمیت اپنی جیب میں رکھ لیا۔ اور دوکان کے باہر چلا گیا۔
اسماعیل نے کچھ حیرت اور کچھ سوالیہ نظروں سے اُسے باہر جاتے دیکھا۔ میں چونکہ اس بات کے پس منظر سے واقف نہیں تھا، اس لئے خاموش رہا۔ البتہ مجھے احساس تھا کہ کوئی غیر متوقع بات یا تو ابھی ابھی ہوئی ہے۔ یا پھر ہونے جا رہی ہے۔
ہم لوگ پھر اپنی باتوں میں مشغول ہوگئے۔
کچھ دیر بعد ندیم سالا پھر دوکان میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر ایک اتنا گہرا اطمینان تھا کہ جس میں تمام بلاوجہ کی مسکراہٹیں آپ ہی آپ گھل کر غائب ہوجائیں۔
اسماعیل نے پھر سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔ ’’کیا؟۔۔۔ بیچ دیا؟۔۔۔‘‘
ندیم نے سر کو خفیف سا جھٹکا دیا۔
’’کتنے ملے؟۔۔۔’’اسماعیل نے اپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں میں دبا کر پوچھا، جیسے اپنے ہونٹوں کو خود سری کی کسی حرکت سے روک کر رکھ رہا ہو۔
’’ڈھائی سو۔۔۔‘‘ ندیم سالے نے نہایت معمولی لہجے میں جواب دیا۔
’’کیا؟۔۔۔ ڈھائی سو!واہ‘‘ اسماعیل سے اب اپنا قہقہہ نہیں رکا اور اپنی گردن ہلا کر زور سے ہنسنے لگا۔
’’کیا بیچا بھئی ۔۔۔ کیا بیچ دیا؟۔۔۔ ’’اب میں نے تیوری پر بل ڈال کر ندیم سالے سے سوال کیا۔ یہ معمہ میری سمجھ سے بالکل باہر ہوگیا تھا۔ اسماعیل اپنی گردن ہلا کر ہنستا رہا۔ ندیم نے بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ مگر میری سوالیہ نظریں اس پر سے نہیں ہٹیں۔ آخر اس نے آہستگی سے کہا۔
’’نمبر۔۔۔‘‘
’’نمبر؟۔۔۔کیسا نمبر؟۔۔۔‘‘
وہ کچھ دیر خاموش رہا۔ ’’سالا فون نمبر۔۔۔‘‘ اس نے یوں کہا جیسے کہ مجھے ہر بات ہجے کر کہ بتانی ضروری ہے۔
’’فون نمبر؟۔۔۔ کس کا فون نمبر؟۔۔۔ بیچ دیا؟۔۔۔ کیا مطلب؟۔ ‘‘ واقعی مجھے ہر بات ہجے کرکہ بتانی ضروری تھی۔
ندیم کے لہجے میں مجھے ایک بے زاری محسوس ہوئی۔ ’’ابے سالے۔۔۔‘‘ اس نے سر کو مختصر طور پر بلاتے ہوئے کہا۔’’فون نمبر میں کس کا بیچوں گا؟۔۔۔ سالا مولوی صاحب کا فون نمبر تو کوئی مجھ سے خریدے گا نہیں۔۔۔‘‘
اسماعیل کی پھر ہنسی چھوٹ گئی۔ اپنے بیوقوف ہونے کا ثبوت دینے کے لئے میں بھی ذرا سا ہنسا۔
’’ابے یار۔۔۔‘‘ میں نے ذرا بات بنانے کی کوشش کی۔ ’’لیکن کون، سی والی کا نمبر بیچا ذرا یہ تو بتا۔۔۔‘‘
’’اب چھوڑ۔۔۔ کیا کرے گا۔ تیرے کو اگر کبھی کسی کا نمبر چاہئے ہو تو بول دینا۔۔۔ تجھے ڈسکاؤنٹ دے دوں گا۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ مسکرایا۔ میں بھی یوں ہنسا کہ جیسے میری تمام مشکلیں آسان ہوگئیں ہوں۔ ’’بہت صحیح۔۔۔‘‘ میں نے کہا۔’’لیکن یار یہ۔۔۔ تم کرتے کیسے ہو۔۔۔ مطلب ۔۔۔ لڑکیوں کے نمبر۔۔۔اور پھر بیچ بھی لیتے ہو۔۔۔‘‘ میں گردن ہلا کر ہلکے سے ہنسا۔ ’’آخر کرتے کیسے ہو؟۔۔۔‘‘ میری ہنسی اب ایک بہت بڑے سوالیہ نشان میں تبدیل ہوگئی تھی۔
ندیم نے گردن گھما کر شیشے کے باہر سڑک کی طرف دیکھا۔ اس کا چہرہ ایک چوڑی مسکراہٹ سے آراستہ تھا۔’’۔۔۔ کچھ نمبر تو میں نے کئی بار بیچے ہیں ۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر اس کی مسکراہٹ ایک اطمینان میں تبدیل ہوگئی۔ باہر سڑک پر خاصا سکون تھا۔ چوراہے کے ساتھ کونے کو مکان میں جو اسکول تھا، وہاں ابھی چھٹی نہیں ہوئی تھی۔ بچوں کو گھر لے جانے والی چندسوزوکی وینیں کھڑی چھٹی ہونے کا انتظار کر رہی تھیں۔ کونے پر پولیس کی موبائل بھی کھڑی تھی۔ یا تو وہ خالی تھی، یا سپاہی اس میں بیٹھ کر چائے وغیرہ پی رہے تھے، اور ابھی تک سڑک پر نہیں اترے تھے۔ ندیم نے پلٹ کر اسماعیل کی طرف دیکھا۔ ’’یار اپنی دوکان میں سالا کوئی اے سی ویسی لگانا چاہئے گرمی بڑی ہوجاتی ہے۔‘‘ اوپر چھت پر پنکھا اک نیم مدھم رفتار میں چل رہا تھا۔ پھر وہ میری طرف پلٹا۔ لیکن اس کے کچھ کہنے سے پہلے میں خود بول پڑا۔
’’تو کیا نمبر بیچ بیچ کر اے سی لگواؤ گے؟‘‘۔۔۔ اس کا مزاق اڑاتے ہوئے میں بولا۔
’’اب سالی کوئی پکی نوکری تونہیں ہے۔۔۔ جو جگاڑ ہوجاتی ہے کرلیتے ہیں۔۔۔‘‘
’’پکی نوکری نہیں تو کیا، پکی سالیساں تو بہت سی ہیں۔۔۔‘‘ میں پھر ہنسا۔ لیکن ندیم نے ایک دم اپنا انداز سنجیدہ کرکے میری ہنسی روک دی۔ ’’ابے سالے تو سمجھتا نہیں ہے۔۔۔ لڑکیاں یا ان کے نمبر مل جانا کون سی بڑی بات ہے۔ لڑکیاں سالیاں بہت ملتی ہیں، ان کے نمبر بھی ملتے ہیں، وہ اچھی بھی ہوتی ہیں۔۔۔ لیکن آج تک کوئی لڑکی بہت زیادہ پسند نہیں آئی۔۔۔ اس لئے ان کے نمبر آگے بڑھا دیتا ہوں۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا لیکن اس کی آنکھوں میں ہنسی تھی۔
میں حیرت سے دنگ کھڑا تھا۔
’’لیکن سالے تو کس لئے فکر مند ہوتا ہے۔۔۔ تیری بینک کی نوکری پکی ہے۔۔۔ تیرے کو تھوڑی نمبر آگے پیچھے کرنے پڑتے۔۔۔ موج کر۔۔۔ اور اگر کسی کا نمبر چاہئے تو بتا دیجیو ۔۔۔ تجھے مفت سپلائی کردوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے پنکھے کی رفتار فل کر دی۔
میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا تھا کہ وہ مجھ سے سب کچھ سچ کہہ رہا تھا، یا ایسے ہی الّو بنا رہا تھا۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا، اس نے مجھ سے سوال کیا ’’یہ بتا تیری ریلوے میں کوئی لائن ہے؟‘‘
’’ریلوے میں؟۔۔۔ کیوں؟۔۔۔ ‘‘ میرے منہ سے خود بخود نکلا۔
’’ایک پوسٹنگ کرانی ہے۔۔۔‘‘ اس نے کہا۔
’’پوسٹنگ؟۔۔۔‘‘ اور میں نے ایک لمحے رک کر سوچا۔ وہ متواتر میری طرف دیکھ رہا تھا۔ لیکن اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا، باہر ایک کار آکر رکی۔ اس میں تین لڑکے بیٹھے ہوئے تھے۔ ندیم سالے کی توجہ میری طرف سے ہٹ کر اس کار کی طرف مبذول ہوگئی۔ پھر اس نے میری طرف دیکھ کر کہا۔ 
’’ایک منٹ رکو۔۔۔ میں پھر تم سے بعد میں بات کروں گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ دوکان سے باہر چلا گیا۔
اگلے چند روز تک میں گھر کے کچھ کاموں میں مصروف رہا۔ پھر ایک روز بھابی نے چند فلمیں لانے کی فرمائش کی۔
اس روز ویڈیو کی دوکان پر ندیم سالے کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ گاہک خاصے موجود تھے، اور اسماعیل ان سب کے لئے فلمیں ڈھونڈنے اور ان کا اندراج کرنے میں مصروف تھا۔ میں ایک طرف اسٹول پر بیٹھ گیا اور اسماعیل کا تھوڑا فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ پھر میں نے اس سے پوچھا۔ ’’ندیم سالا کدھر ہے آج۔۔۔‘‘ وہ اپنے رجسٹر میں کچھ لکھنے میں مصروف تھا۔ اس نے اپنا بائیاں ہاتھ اٹھا کر یوں اشارا کیا کہ جیسے میں کچھ دیر اور انتظار کروں، وہ بعد میں مجھ سے بات کرے گا۔
کچھ دیر میں جب رش تھوڑا چھٹا، تو وہ مجھ سے کہنے لگا۔ ’’ندیم سالے کی پوسٹنگ ہوگئی ۔۔۔وہ نہیں آئے گا۔‘‘
’’پوسٹنگ ہو گئی؟۔۔۔ کہاں؟۔۔۔ تو کیا دوکان پر نہیں آئے گا۔؟‘‘
اپنے ہونٹوں کے کناروں کو نیچے کی طرف جھکا کر اُس نے ایک لاعلمی کا اظہار کیا۔ لیکن پھر مسکراتا ہوا بولا۔ ’’پھاٹک پر۔۔۔‘‘
’’پھاٹک پر؟۔۔۔ کیا مطلب پھاٹک پر؟۔‘‘ بات میری سمجھ میں نہیں آئی۔۔۔
’’یونی ورسٹی کے قریب کسی ریلوے پھاٹک پر اس کی پوسٹنگ ہوئی ہے‘‘ ۔۔۔ اس نے جواب دیا۔۔۔
’’کیا مطلب ۔۔۔ کیا پھاٹک پر وہ اب چارپائی ڈال کر بیٹھے گا۔۔۔’’میری بری طرح ہنسی چھوٹ گئی۔ اسماعیل بھی ہنسا اور اس نے اپنا دایاں ہاتھ ہوا میں ایک سوالیہ انداز میں گھمایا۔
’’کیا پتا۔۔۔ لیکن کہہ رہا تھا کہ نوکری تو پکی ہے۔‘‘ اس نے کہا۔
’’لیکن۔۔۔ ‘‘ مجھے ابھی تک ہنسی پر قابو نہیں آیا تھا۔’’ کیا دن بھر صرف پھاٹک کھولے بند کرے گا۔۔۔‘‘
’’۔۔۔ اور رات کو بھی۔۔۔‘‘ اسماعیل نے میرا فقرہ مکمل کیا۔
’’۔۔۔اچھا۔۔۔ کروائی کسی طرح اس نے اپنی پوسٹنگ ۔۔۔‘‘ اسماعیل نے کوئی جواب نہیں دیا۔ پھر وہ بولا۔ ’’سالا بڑا فنکار ہے ۔۔۔ کیا پتا وہاں کوئی چارپائیوں کی ہیرا پھیری شروع کر دے۔۔۔ یا اپنی جگہ کسی اور کو بٹھا کر خود کچھ اور شروع کر دے۔۔۔‘‘
کچھ دیر بعد میں ہنستا ہوا دوکان سے نکلا۔ ویڈیو کے دونوں کیسٹوں کو ربربینڈ کے چوڑے اسٹریپ کی نیچے پھنسایا جو میری موٹر سائیکل کی پیٹرول کی ٹنکی پر لگا رہتا تھا۔ پھر کک لگا کر موٹر سائیکل کو اسٹارٹ کیا اور چوراہے کی جانب بڑھ گیا۔ آج وہاں پولیس کی موبائیل موجود نہیں تھی۔